ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری

ہم ایک انقلابی اسلامی جماعت ہیں۔ انقلابی جماعتوں کا مخصوص دائرہ عمل نظاماتی غلبہ کا حصول اور استحکام ہوتا ہے۔ تغلب کی تنظیم کو ریاست کہتے ہیں۔ جب اسلامی ریاست قائم اور مستحکم ہو تو تمام اہل دین قوت حاصل کر لیتے ہیں، مزکی بھی، مدرس بھی، مصلحین بھی، مبلغین بھی۔ اسلامی انقلابی جماعت تمام اہل دین کا ایک آلہ کار ہے، نظاماتی غلبہ حاصل کرنے کے لیے تمام اہلِ دین کا ہتھیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ الاسلام حضرت شبیر احمد عثمانی  نے ١٩٥٣ء میں مولانا مودودی کو اسلام کی تلوار کہا تھا۔

ہم نہ کوئی گروہ ہیں نہ کوئی فقہی مسلک نہ کوئی سلسلہ بلکہ ہم تمام اہل دین کو نظاماتی سطح پر بااختیار اور بااقتدار بنانے کی جدوجہد پچھلے ٧٦ سال سے مستقل کر رہے ہیں۔ ہم سب کے خادم ہیں ، مدرسین کے بھی، مزکیوں کے بھی،مربیوں کے بھی ،مصلحین کے بھی، بریلویوں ، دیوبندیوں ، شیعوں، سنیوںاور اہل حدیث ہم سب کے خادم ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخواہ کے ہمارے سابق امیر مولانا معین الدین نے کہا تھا:

جماعت سے عالم کی یہ کیسی ان بن

سمجھتے ہو کیوں پہرہ داروں کو رہزن

تمام اہل دین کے نظاماتی غلبہ کا حصول انتخابات میں شمولیت کا اولین ہدف ہونا چاہیے۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا کہ نظاماتی غلبہ کی ترتیب کو ریاست کہتے ہیں۔ نظاماتی غلبہ حاصل کرنا ہے تو ہمیں موجودہ دور کی ریاست کی ترتیب نو اور تشکیل نو لازم آتی ہے۔

نظاماتی غلبہ محض موجودہ ریاستی نظام میں دخول سے نہیں حاصل ہو سکتا گو کہ ریاستی دخول (entryism) کی حکمت عملی کو اپنا کر تحفظ دین کا کام کیا جا سکتا ہے اور ہماری مصلحین کی جماعتیں بالخصوص جمعیت علمائے اسلام اس فریضہ کو بخوبی انجام دے رہی ہیں اور اس کے نظاماتی دخول کے نتیجہ میں مساجد اور مدارس اور تدریس اسلامی کا نظام بڑی حد تک استعماری دست برد سے محفوظ ہے لیکن اس سے اہل دین کو نظاماتی اقتدار حاصل نہیں ہوتا اور وہ ریاستی نظام میں ایک اقلیتی شریک بنے رہنے پر مجبور رہتے ہیں اور نظاماتی اقتدار ی عمل میں ان کی شمولیت ان کو اس ہی نظام اقتدار کا جزو بنا دیتی ہے۔سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کے اجزائے ترکیبی حسب ذیل ہیں۔

            ١۔ کارپوریشن

            ٢۔سود اور سٹہ کے بازار (financial markets)

            ٣۔فوج

            ٤۔سول عسکری تنظیمیں بالخصوص پولیس

            ٥۔ریاستی انتظامیہ

            ٦۔میڈیا

            ٧۔عدلیہ

            ٨۔مقننہ

ان تمام ادارتی صف بندیوں کا وظیفہ سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل کو فروغ دینا، اسے منظم کرنا اور مطابقت رکھنے والی انفرادیت اور معاشرت کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔

ان تنظیموں کی ادارتی کارفرمائی کے نتیجہ لازماً اسلامی انفرادیت اور معاشرت کمزور پڑتی ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ انفرادیت اور معاشرت نفس کی بندگی کو مقدم گردانتی ہے اور نفس کا بندہ، اللہ کی بندگی اختیار کرنے کو نامعقول عمل سمجھتا ہے۔ ہم سرمایہ دارانہ ریاستی جبر کا شکار اور سرمایہ دارانہ معاشرت میں پھنسے ہوئے اللہ کے بندے بھی نفس کی بندگی پر مجبور کر دیے جاتے ہیں اور سرمایہ دارانہ اقتداری ادارہ ان کے لیے خدا کی بندگی اختیار کرنے کو مشکل سے مشکل بناتا چلا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked