اسلامی بینکنگ کے امکانات کا جائزہ

بینکنگ کے درست تصور کو سمجھ لینے کے بعد اب ہم اس کی اسلامیت کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔اس بحث کو ہم درج ذیل امور میں تقسیم کرتے ہیں۔

1-بینکنگ کی شرعی حیثیت

جیسا کہ ابتدائے مضمون میں ذکر کیا گیا تھا کہ بینکنگ کی اسلام کاری ممکن ہونے کے دعوی دوسرائط کی تکمیل پر منحصر ہے اول (fractional reserve banking) کا شرعاً جائزہونا ،دوئم بینکاری کو سود کے بجائے بیع میں تبدیل کرلینا ۔مجوزین بینکاری نظام کے غلط تصور قائم کرنے کی وجہ سے صرف ْغیر سودی بینکاری ٗ کے امکانات کی ثانوی بحث میں الجھے رہتے ہیں ،گویا ان کے نزدیک بینکنگ کی واحد خرابی اس کا سود استعمال کرنا ہے اور جواز بینکاری کی ساری بحث کو وہ اسی ایک مسئلہ پر مرتکز کردیتے ہیں ۔اس ناقص فہم کے باعث وہ (fractional reserve banking) کی پوری بحث پس پشت ڈال دیتے ہیں جبکہ بینکنگ کی اسلام کاری ممکن ہونے کی بحث میں بینک کا  سودی یا غیر سودی ہونا ثانوی مسئلہ ہے بنیادی بحث یہ ہے کہ بینک جوزرتخلیق کرتا ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ۔آگے بڑھنے سے قبل درج بالا گفتگو سے اخذ ہونے والے تین اہم مقدمات اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہئے :

1۔جب تک اکانومی میں ایک ایسا ایجنٹ موجود رہے گا جو بیک وقت لوگوں سے رقم (deposit)وصول بھی کرے اور ادھار (financing)بھی دے ،اس وقت تک فرضی زر کی تخلیق کا عمل جاری رہے گا اور یہ ایجنٹ (یا ادارہ) لازماً (جعلی) قرض کی رسید(promise of payment) آلہ مبادلہ (means of payment )کی حیثیت دے کر اصل زر کے خاتمے کا باعث بنے گا ظاہر ہے اگر بینک ڈپازٹس جو(promise of payments کی رسید ہوتے ہیں) کو بطور آلہ مبادلہ استعمال کرنے کی اجازت نہ ہوتو اس صورت میں بینک کی قرض دینے کی صلاحیت ختم ہوجائے گی اور وہ محض ایک ایسے ادارے کے حیثیت اختیار کرلے گا جہاں لوگ اپنی امانت حفاظتی نقطہ نگاہ سے جمع کراتے ہوں ۔مگر ایسے کسی ادارے کو کسی بھی تعریف(یہاں تک کہ مجوزین کی تعریف) کی روسے بینک نہیں کہا جاسکتا ۔چنانچہ ثمن حقیقی پر مبنی مالیاتی نظام میں بیت المال وغیر ہ ہوسکتے ہیں مگر بینک نہیں ہوسکتے ۔

2۔ لہذا بینکنگ صرف اور صرف ایک ایسے مالیاتی نظام ہی میں ممکن ہے جہاں ثمن حقیقی یا اصل زر کے بجائے قرض پر مبنی زر(promise of payment )بطور آلہ مبادلہ (means of payment) استعمال ہو اور ایک ایسامالیاتی نظام جہاں ثمن حقیقی یا اصل زر بطور قانون رائج ہو وہاں بینک کا وجود کالعدم ہوجائے گا ۔یعنی وجود بینکنگ کے لئے لازم ہے کہ قرض لوگوں کا ذاتی معاملہ نہ رہے بلکہ اسے بطور آلہ مبادلہ استعمال کیا جائے۔دوسرے لفظوں میں یوں کہاجاسکتا ہے کہ یہ ناممکن ہے کہ اکانومی میں ایک شخص قرض دینے اورڈپازٹس وصول کرنے کاکام بھی کررہاہو مگر قرض کی رسید بطور آلہ مبادلہ استعمال نہ ہورہی ہو۔

3-یہی وجہ ہے کہ بینکنگ کو شرکت ومضارت کے اصولوں پر چلانا ناممکن ہے جس کی بنیادی وجہ ہے کہ شرکت ومضارطت کے معاہدات میں تخلیق زر کی صورت قطعاًپیدا نہیں ہوتی ،کیونکہ یہ نجی معاہدات ہوتے ہیں نہ کہ آلہ مبادلہ کے طور پر استعمال ہونے والی مالی دعوے ۔شرکت ومضاربت کے اصولوں پر بینکاری ممکن ہونے کا وہم صرف انہی حضرات کو ہوسکتا ہے جو بینک کو غلط طور پر زری ثالث سمجھ بیٹھے ہوں۔

ان بنیادی مقدمات کو ذہن نشین کرلینے کے بعد نظام بینکاری کی شرعی حیثیت سمجھ لینا بالکل آسان ہوجاتا ہے ۔

اس گفتگوکے دوتناظر ممکن ہیں۔ایک یہ کہ بینک ڈپازٹس کی شکل میں جو زر تخلیق کرت اہے وہ جعلی قرض کی رسید ہوتا ہے دوئم یہ زر کسی حقیقی اثاثے کی بنیاد پر قائم شدہ قرض ہوتا ہے (دوسری صورت محض بحث کے  لئے قرض کی گئی ہے کیونکہ  (fractional reserve banking) میں بہر حال امر محال ہے۔

بینک زر بطور حقیقی قرض کی رسید: قرض کی رسید کو بطور آلہ مبادلہ استعمال کرنے کا عدم جواز علماء کرام کے لئے کوئی نئی بحث اور اسکے دلائل ذکرکرنا تحصیل حاصل کے زمرے میں شمار ہوگا لہذا خوف طوالت کی بنا پر اس سے سہو نظر کرتے ہیں اس ضمن میں موطا امام مالکؒ میں یحیی سے روایت شدہ درج ذیل واقعہ کی رہنمائی کے لئے کافی ہے:

  • مروان بن حکم کے دور میں جب مرکز سے رقم (درہم ودینار) پہنچنے میں تاخیر ہوئی تو صوبے کے گورنر نے لوگوں کو بازار کی اشیاء خریدنے کے لئے رسیدیں جاری کردیں جنہیں لوگوں نے خریدنا اور بیچنا شروع کردیا ۔حضرت زید بن ثابت نے مروان سے کہاکہ تم سود کو حلال کررہے ہو؟ مروان نے کہاکہ میں اس چیز سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں آپ نے فرمایا کہ پھر یہ رسیدیں کیا ہیں جنہں لوگ خرید اور بیچ رہے ہیں ؟ اس کے بعد مروان نے وہ رسیدیں لوگوں سے واپس لے لیں۔ اس روایت میں اہم بات یہ ہے کہ حضرت زید بن ثابت نے ان رسیدوں (promise of payment) کے استعمال کو سود کہا جنہیں لوگ اشیاء کی خرید وفروخت کے لئے استعمال کررہے تھے ۔معلوم ہوا کہ کہ قرض کی رسید (دین) کوبطور آلہ مبادلہ استعمال کرنا شرعاًناجائز ہے یعنی قرض(دین) جس مال(عین) کی رسید ہو مبادلے سے قبل اس مال پر قبضہ کئے بغیر رسیدوں ہی کو بطور آلہ مبادلہ استعمال کرنا درست نہیں ۔اسی اصول کو یوں بھی بیان کیا  جاتا ہے کہ قرض کی خریدوفروخت ناجائز ہے ۔شرع قرض کو ایک نجی معاہدے کی حیثیت دیتی ہے اور معاہدے کو نجی حیثیت سے نکا ل کر بطور آلہ مبادلہ استعمال کرنا درست نہیں اور بینکاری (بشمول اسلامی بینکاری) درحقیقت اسی عمل کی آفاقیت کا دوسرا نام ہے۔

بنیک زر بطور جعلی قرض کی رسید: اس صورت پر درج ذیل بالا کے علاوہ دومزید اشکالات پید اہوتے ہیں:

1۔کیا شرعاً ایسا وعدہ کرنا جائز ہے جسے پورا کرنا عملاً ممکن ہواور وعدہ کرنے والا اس حقیقت سے واقف بھی ہو؟اگر یہ جائز ہے تو کیا صرافوں کا ایسا کرنا بھی جائز تھا ؟ اس سلسلے میں مجوزین کے نظریہ زر کے مطابق دوسری اہم بات یہ ہے کہ بینک کا زردرحقیقت افراط زر کا باعث بھی بنتا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کی قوت خرید اور اثاثوں کی مالیت میں کمی واقع ہوجاتی ہے اور اس کا اثر ہرخاص وعام پر بلکہ غریب عوام پر ذیادہ پڑتا ہے ۔یوں قوت خرید زر استعمال کرنے والے ایجنٹ زر تخلیق کرنے والے ایجنٹ (حکومت وبینک) کی طرف منتقل ہوجاتی ہے ۔سوال یہ ہے کہ کیا س طریقے سے لوگوں کی مال ودولت شرعاً جائز ہے ؟قرآن مجید میں ارشاد ہوا:

 لَا تَأْكُلُوٓاْ أَمْوَٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٍۢ  منکم(نساء:29)

آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے مت کھاؤ،بلکہ باہمی رضا مندی سے لین دین ہونا چاہئے

ظاہر ہے فرضی زرتخلیق کرکے لوگوں کے مال ہتھیالینے کا شمار تجار ت میں نہیں ہوسکتا پس اس طرح مال کھانا باطل طریقوں سے لوگوں کے مال کھانے کے زمرے میں شامل ہوگا۔

2۔آخر اس بات کی کیا شرعی وعقلی دلیل ہے کہ ایک ایجنٹ (بینک یا حکومت) کو تخلیق زر کی کھلی اجازہ داری دے دی جائے اور وہ محض زر تخلیق کرکے قم بناتا پھر ے ظاہر ہے بینک جو زرتخلیق کرتا ہے ایک طرف وہ اسے قرض پر دیکر نفع کماتا ہے تو دوسری طرف ان (جعلی) قرضوں کو بطور اثاثہ بنا کر ان کا مالک بن بیٹھتا ہے ۔اگر ایسا کرنا ٹھیک ہے تو سب لوگوں کو اس چیز کی قانونی اجازت ملنی چاہئے کہ وہ اپنے اپنے نوٹ چھاپ کر(یاسرکاری نوٹوں کی فوٹوکاپیاں بنا کر) استعمال کریں۔

3۔ دفاع بینکاری کے لا یعنی عذر:

جب بینکنگ کے درست تصور کی حقیقت واضح کردی جائے تو مجوزین بے سروپاویلوں اور عذروں کی بنیاد پر اسکا جواز پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن میں چند ایک کا ذیل میں مختصر تجزیہ کیا جاتا ہے۔

تمام لوگ کبھی بینک سے اصل زرنکلوانے نہیں آتے لہذا بینکنگ درست ہوئی:   اس عذر کا اصل بحث سے کچھ لینا دینا ہی نہیں دھوکہ آخر دھوکہ ہے چاہئے کوئی اس کی شکایت کرے یا نہ کرے اگر کوئی شخص مہارت کے ساتھ لوگوں کی جیب کاٹتا رہے اور کسی کو معلوم نہ ہو نیز کوئی اس کے خلاف مقدمہ بھی درج نہ کرائے تو اس سے یہ کہاں ثابت وہا کہ اس طرح چوری کرنا درست عمل ہے ؟

بینک  یہ سب حکومت کی اجازت سے کرتا ہے: یہ عذر بھی غیر متعلق ہے کیونکہ حکومت کا کسی فعل کو جائز کہہ دینا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ شرعاً بھی جائز ہے اگر ایسا ہوتا تو یورپ میں شراب کی خریدوفروخت اور زنا حکومت اور قانون  کی اجازت سے کئے جاتے ہے تو کیا یہ سب بھی جائز ہونگے؟ اسی طرح مسلم ممالک میں سودی لین دین بھی حکومت کی اجازت ہی سے ہوتا ہے ۔اصل بات یہ ہے کہ حکومت کو شریعت کی پابندی کرنا ہے نہ شرع کو حکومت کی

سوفیصد reserve بینکنگ کے ساتھ بینکاری جائز ہوگی:   یہ کہنے والے حضرات درحقیقت بینکاری کو سمجھے نہیں ،اوپر یہ واضح کیا گیا کہ جب تک اکانومی میں ایک ایسا ایجنٹ موجود رہتا ہے جو بیک وقت رقوم وصول کرنے اور قرض دینے کاکام کرتا ہے اس قت تک فرضی زر کی تخلیق کا عمل جاری رہے گا۔یہ عمل صرف اس وقت ختم ہوگا جب اصل زر کے علاوہ اور کوئی شے بطور آلہ مبادلہ استعمال نہ کی جائے ۔ظاہر ہے اگر بینک سوفیصد reserve بینکنگ کے اصول پر کام کرنے لگیں تو وہ سرے سے بینک رہیں گے ہی نہیں کیونکہ اس صورت میں ان کی قرض دینے کی صلاحیت سلب ہوجائے گی ۔پھر فرض کریں اگر اس اصول کے مطابق بینکاری کی بھی جانے لگے تو یقین مانئے صفحہ ہستی سے ختم ہونے والا سب سے پہلا کاروبار بینکاری ہی ہوگا کیونکہ اس صورت میں ہر گز یہ بھی نفع بخش نہ رہے گا۔بینکوں کی آسمان سے باتیں کرتی عماریں ،خوبصورت عمارتیں،خوبصورت فرنیچر ان کے ملازمین کی لاکھوں روپے کی تنخواہیں وغیرہ درحقیقت وہ ثمرات ہیں جن کا حصول سوفیصد (reserve) بینکنگ میں ہی ممکن رہتا ہے۔آخری بات یہ کہ فی الوقت دینا میں اس اصول کے مطابق بینکاری (بشمول اسلامی بینکاری) کی ہی کہاں جاری ہے کہ ہم اس فرضی اور غیر موجود امکان کو بنیاد بنا کر حاضر ومجود کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کریں؟

بینک زر کا استعمال عموم بلویٰ کی بنا پر ناگزیز ضرورت بن چکاہے: مجوزین کا یہ ایک عمومی حربہ ہے کہ اولاً دلائل پیش کرتے ہیں مگر جب ان کے تمام دلائل کو علمی طور پر رد کردیا جائے تو پھر ضرورت کی دہائی دینا شروع کردیتے ہیں۔اسلامی بینکاری کے حق میں نظریہ ضرورت کا تجزیہ راقم نے اپنے مضمون سودی بینکاری کے فلسفہ متبادل کا جائزہ میں تفصیل سے پیش کیا ہے قارئین اسے وہاں ملاخط فرما سکتے ہیں۔فرض کریں یہ مان لیا کہ بینک زر ایک ایسی برائی ہے جو عام ہوچکی ہے مگر اس کے بعد سوال یہ ہے کہ اسلامی بینکاری کے نام پر برائی کے فروغ  میں حصے دار بن جانا کہاں کی عقل مندی ہے؟ درحقیقت ضرورت کے تحت حرام کو حلال کرنے کا مقصد ایسے ماحول کو ختم کردینا ہوتا ہے جو حرام کو ضرورت بناتا ہے نہ یہ کہ اس ماحول کو ہمیشہ کے لئے قائم ودوائم رکھنا۔دوسری بات یہ کہ کسی حرام فعل کا عام ہوجانا اس کے حلال ہوجانے کی دلیل نہیں بن جاتی اگر ایسا ہوتا تو پھر سب سے پہلے تو سود ہی کو حلال ہوجانا چاہے کہ موجودہ دور میں اس سے ذیادہ عام اور کوئی دوسری وبا نہیں

جزوی اصلاح کی کوشش می خرابی کیاہے؟درج بالا بحث کے بعد اسلامی بینکاری کے حق میں ایک عذر یہ بھی پیش کردیا جاتا ہے کہ اس میں شک  موجودہ نظام باطل مگر غالب نظام ہے نیز فی الحال ہمارے پاس اتنی قوت نہیں کہ ہم اسے تہس نہس کرسکیں لہذا اگر پورے شر سے بچنے کے لئے موجودہ نظام کی جتنی اصلاح فی الحال ممکن ہو وہ کرلی جائے تو اس میں کیاخرابی ہے؟ ظاہر ہے بڑے برے شر کے مقابلے میں چھوٹے شر کو اپنانا شرع کا بھی حکم ہے اور عقل کا تقاضا بھی۔               

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked