مروجہ سودی بینکاری کو ْمسلمانٗ بنانے کی مہم پچھلی دودہائیوں  سے اپنے عروج پر ہے اور نہ صرف یہ کہ مجوزین اسلامی بینکاری بلکہ ان کے ناقدین کی ایک اکثریت نے بھی یہ فرض کرلیا ہے کہ اس مہم کے ذریعے نظام بینکاری کو کسی نہ کسی درجے (ذیادہ یاکم کے اختلاف کے ساتھ ) اسلامی بنا ہی لیا گیا ہے ۔اگر اصولاً یہ مقدمات درست مان لئے جائیں کہ

(1) اپنے مقاصد اور طریقہ کار (procedure) دونوں اعتبار سے بینک کی اسلام کاری ممکن ہے نیز

(2) اسلامی بینکاری درست سمت میں رواں دواں ہیں تو ان کے منطقی لازمے کے طور پر جو بحث ابھرے گی وہ اس نظام میں مزید اصلاح کی کوشش کرنے ہی کی ہوگی نہ کہ اس جدوجہد کو لاحاصل قرارد ے کر ترک کردینے کی۔

چنانچہ اسلامی بینکار ی کی اسلامیت کے ضمن مین مجوزین اور ناقدین کی ایک اکثریت کے درمیان اختلاف کی بنیاد یہ  نہیں کہ بینکاری اصولاً اسلامی ہونہیں سکتی بلکہ یہ رہی ہے کہ مروجہ اسلامی بیناکری کتنی اسلامی ہے مجوزین کے نزدیک مروجہ اسلامی بینکاری میں موجودہ اسلامیت کی مقدار  اس نظام کو اسلامی بینکاری کہنے کے لئے بہت کافی ہے جبکہ ناقدین کے خیال میں مروجہ نظام میں ابھی تک مطلوبہ اسلامیت پیدا نہیں کی جاسکی ۔گویا ناقدین بھی اس مفروضے کو قبول کرتے ہیں کہ جوکچھ بھی خرابی ہے وہ مروجہ اسلامی بینکاری میں ہے لہذا کوئی ایسی غیر مروجہ اسلامی بنیکاری بھی ممکن ہے جو ان خرابیوں سے پاک ہوگی ۔مجوزین اور ناقدین اسلامی بینکاری کی ایک اکثریت کے درمیان نہ قدر مشترک اس لئے پائی جاتی ہے کہ دونوں گروہ درج بالا مفروضہ مقدمات کو قبول کرتے ہیں۔

اس کے برخلاف ناقدین کا دوسرا گروہ وہ ہے جس کے خیال میں بینکاری اپنے مقاصد اور عمل دونوں لحاظ سے غیر اسلامی شے ہے اور اس کی اسلامیت ناممکن ہے ۔چونکہ اس گروہ اور مجوزین کے مقدمات ہی میں بنیادی فرق ہے ۔لہذاان دونوں کے درمیان کوئی قدر مشترک نہیں اور دونوں کی بحث کا حاصل مروجہ اسلامی بینکاری کی اصلاح نہیں بلکہ اس جدوجہد کی بقاوعدم کا ہے یعنی مجوزین کے نزدیک اسے جاری رہنا چاہئے جبکہ ناقدین کے خیال میں یہ جدوجہد احیائے اسلام کے لئے سم قاتل کی حیثیت رکھتی ہے لہذا اسے لازماً ترک کرنا ہوگا ۔ناقدین اسلامی بینکاری کے دونوں گروہوں کا مجوزین سے اختلاف کرنے میں نوعیت اختلاف کا فرق درحقیقت اس بناء پر ہے کہ اسلامی بینکاری کا تنقیدی مطالعہ کرتے وقت تین سطحوں پر گفتگو کرنا ممکن ہے :

اسلامی وسودی بینکاری کا تطبیقی جائزہ: یعنی یہ سمجھنے کی کوشش کرنا کہ آیا اسلامی بینک اور سودی بینکوں کے مقاصد میں کیسا تعلق ہے ،کیا دونوں کسی ایک ہی نظام زندگی (سرمایہ داری) کے مقاصد حاصل کرنے کے دومختلف وسائل ہیں یا ان کے مقاصد میں کوئی تفریق موجود ہے ۔اس بحث میں اسلامی بینکاری کو جزوی طورپر نہیں بلکہ ایک بڑے نظام مہائے زندگی کے ایک پرزے کے طور پر جانچ کریہ دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آیا اس طریقے کا رسے مقاصد الشریعہ کا حصول ممکن ہے بھی یانہیں ۔گویا یہاں گفتگو کا محور جزو نہں بلکہ کل ہوتا ہے۔

اسلامی بینکاری کے امکانات کا جائزہ : یعنی یہ تجزیہ کرنا کہ آیا موجودہ نظام بینکاری کو اسلامیانے کا کوئی طریقہ ممکن بھی  ہے یا نہیں ۔اس تجزیئے میں یہ بحث کی جاتی ہے کہ بینکنگ اصلاً کیا ہے ؟کیا واقعی بینک ایک زری ثالث (financial intermediary) ہوتا ہے جیسا کہ مجوزین اسلامی بینکاری کا خیال ہے ؟ اگر اس کی حقیقت اس کے علاوہ کچھ اور ہے تو کیا اسے اسلامی بنانا ممکن ہے ؟

اسلامی بینکاری کے طریقہ کاروبار کا فقہی جائزہ: اس سطح پر جزواً جزواً یہ دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اسلامی بینک جوزری سروسز پراڈکٹس(Financial products and services) مہیا کررہے ہیں وہ قواعد شریعہ کی شرائط پر پورا اترتی ہیں یا نہیں۔اس تجزیئے  مین اسلامی مروجہ بینکاری نظام کا اس اعتبار سے تطبیقی موازنہ بھی کیا جاتا ہے  کہ آیا واقعی اسلامی بینک موجودہ بینکاری نظام سے علیحدہ کوئی کام کربھی رہے ہیں یا محض نئی بوتل میں پرانی شراب والا معاملہ ہے ۔گویا یہاں بحث کا مرکزی نکتہ جزو ہوتا ہے ۔ناقدین کی وہ اکثریت جو اپنے مقاصد میں مجوزین کے مماثل ہے درحقیقت پہلی دونوں سطحوں سے سہو نظر (by pass) کرتے ہوئے اپنی تنقیدکی بنیاد اس تیسری سطح پر رکھتی ہے گویا مجوزین اور ناقدین کی اس اکثریت کے درمیان مشترک تنقید کی اول دونوں سطحوں کو نظر انداز کرنا ہے ۔

اسلامی بینکاری بطور ایک کل یعنی اس کے مقاصد کے شرعا باطل ہونے کی بحث پر راقم الحروف نے دوالگ مضامین تحریر کئے ہیں جن کی تفصیلات وہاں دیکھی جاسکتی ہیں۔زیر نظر مضمون کا نفص موضوع اسلامی بینکاری پر تنقید کی دوسری سطح پر بحث کرنا ہے یعنی یہاں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ آیا اپنے عمل کے  اعتبار سے بینک کی اسلام کاری ممکن ہے یانہیں؟ ہم دیکھیں گے کہ مجوزین (اور ناقدین کی ایک اکثریت) بینکنگ کے جس تصور کو بنیاد بنا کر اس کی اسلام کاری ممکن سمجھتے ہیں (یا اس پر تنقید کرتے ہیں) درحقیقت وہ تصور بینکنگ  ہی سرے سے غلط ہے ،گویا ان کی دلائل کی عمارت ہی بے بنیاد ہے ۔مجوزین کے خیال میں بینک محض ایک زری ثالث(financial intermediary) ہے جس کا کام بچتوں اور سرمایہ کاری میں تعلق پیدا کرنا ہوتا ہے۔ان کے خیال میں موجودہ بینکنگ کی اصل خرابی یہ ہے کہ اس تعلق کے قیام کے لئے وہ سود کا راستہ اختیار کرتی ہے لہذا اگر اس کے طریقہ کار کی اصلاح کرکے اس تعلق کو سود کے بجائے شرکت ومضاربت وغیرہ کے اصولوں پر قائم کردیا جائے تو بینک کا کلمہ پڑھانا ممکن ہے ۔مگر ہم دیکھیں گے کہ بینکنگ کا یہ تصور درست نہیں اور نہ ہی بینکنگ کو شرکت وغیرہ کے اصولوں پر چلانا ممکن ہے بینکنگ کو درست طورپر نہ سمجھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجوزین مسئلے کی اصل حقیقت تک  پہنچ نہ سکے اور اس ظاہربینی کا نقصان یہ ہوسا کہ سرمایہ داری کے سب سے بڑے ادارے یعنی بینک کو اسلامی لبادہ اوڑھا دیا گیا ۔چنانچہ اسلامی بینکاری پر ننقید کے درج بالا ڈھانچے کو سامنے رکھتے ہوئے کہاجاسکتا ہے کہ مجوزین اسلامی بینکاری دوہری غلطی کے مرتکب ہورہے ہیں:

٭ ایک طرف جب وہ احیائے اسلام کے لئے سودی بینکنگ کا متبادل کیا ہے کا سوال اٹھا کر اس کا حل پیش کرنے کا بیڑہ اٹھاتے ہیں تو اپنے مقاصد کے اعتبار سے ایک غلط سوال اٹھا کر اس کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہی۔

(مجوزین کا سوال کیونکر غلط ہے؟ اس کا تعلق تنقید کی اول سطح سے ہے)۔

٭اور دوسری طرف اس کا متبادل دینے کی کوشش میں بھی وہ پوری تحقیق سے کام لئے بغیر بینکنگ کیا ہے کا ایک غلط جواب دے  کر اپنی عمارت قائم کرتے ہیں۔(گویا ظلمت بعضھا فوق بعض)۔ دوسرے لفظوں میں مجوزین کا سوال اور جواب دونوں ہی غلط ہیں۔

مجوزین کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سرمایہ داری کو فطری انسانی تقاضوں کا ارتقا سمجھتے ہیں اور اس لئے وہ ہر سرمایہ دارانہ  ادارے کی اسلام کاری ممکن سمجھتے ہیں۔

(2)مجوزین کا عمومی طریقہ کار یہ ہے کہ وہ بینکاری نظام میں جاری لین دین کی مخصوص شکلوں (transaction forms) کی اصلاح کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں مگر وہ لین دین جس معاشی ماحول اور حالات میں ہورہی ہیں اس سے یکسر سہو نظر کرتے ہیں۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاشی ماحول(economic environment) کا درست تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے جس کے اندر بینک کا وجود ممکن ہے اور یہ دیکھنے کی کوشش کی جائے کہ آیا  اس معاشی ماحول  کو ختم کردینے کی کوشش کی جائے جس کے اندر بینک کا وجود ممکن ہے اور یہ دیکھنے کی کوشش کی جائے کہ آیا اس معاشی ماحول کو ختم ختم کردینے کے بعد بھی بینکاری ممکن رہتی ہے یا نہیں نیز کیا اس معاشی ماحول کو اسلامی تعلیمات  سے ہم آہنگ کرنا ممکن ہے یا نہیں۔

1)یہ ثابت کرنا کہ (fractional reserve banking) اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والا نظام زر شرعاً جائز ہے۔

2)بینک کے سود کو شرکت ومضاربت کے اصولوں سے تبدیل کرنا ممکن ہے ۔

ہم دیکھیں گے کہ اسلامی بینکاری دونوں میں سے پہلی شرط سے کلیتاً سہو نظر کرتے ہوئے بحث کا دوسرا رخ سود کو  نفع سےت تبدئل کردینے کی طرف موڑ دیتے ہیں جبکہ اس دوسری بحث کی نوبت تب آتی ہے جب پہلی شرط پوری ہونا ممکن ہو(جو کہ ہم دیکھیں گے کہ ممکن نہیں ہے)۔درحقیقت پہلی شرط کا تعلق اس معاشی ماحول سے ہے جس میں بینکاری ہوپاتی ہے لہذا اس مضمون میں اسی پہلو سے متعلق تفصیلات واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔

اپنے مضمون کو ہم تین حصوں میں تقسیم کریں گے ۔پہلے حصے میں مجوزین اسلامی بینکاری کا نظریہ بینکنگ بیان کیا جائے گا ۔اس سلسلے میں ہم پاکستان میں اسلامی بینکاری کے سرخیل مولانا تقی عثمانی صاحب کے نظریات کو بنیاد بنائیں بے ۔اس کے ساتھ ہی ہم علم معاشیات کی روشنی مین مجوزین اسلامی بینکاری کے نظریہ بینکنگ کی علمی بنیادیں وفکری پس منظر واضح کرنے کی کوشش کریں گے ۔دوسرے حصے میں مجوزین اسلامی بینکاری نظریہ  بینکنگ کی بنیادیں خامیاں نیز بینکنگ کا مختصر تاریخی ارتقاء بیان کرکے درست نظریہ بینکنگ  کی وضاحت کی جائے گی۔اس تجزئیے کے بعد آخری حصے میں بینکاری نظام کو اسلامیت اور اس کے امکانات کا مختصر جائزہ پیش کرے دفاع بینکاری کی چند دلیلوں کا جواب دیاجائے گا ۔وماتوفیقی الا باللہ

1)مجوزین اسلامی بینکاری کے نظریہ بینکنگ کی فکری بنیادیں

مجوزین اسلامی بینکاری اوپر بیان کردہ جس تصور بینکنگ کو بنیا د بنا کر اسلام کاری ممکن سمجھتے ہیں وہ درحقیت علم معاشیات کے نیو کلاسیکل مکتبہ ہائے فکر سے ماخوذ ہے

(3) جو سرمایہ دارانہ معیشت کو ایک (Barter) اکانومی کے طور پر سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔اس مکتبہ فکر کے مطابق معاشی لین دین میں زر ایک غیر فعال(neutral) سیال کے طور پر کام کرتا ہے ،نیز بینک محض بچتوں اور سرمایہ کاری میں توازن پیدا کرنے کا ایک ادارہ ہے ۔گویا ان مفکرین کے خیال میں بینکنگ ،بچتیں سرمایہ کاری کو جنم دیتی ہیں، (savings create loan model) کے اصول پر کام کرتی ہے ۔اس نکتے کی تفصیل سے قبل ہم مولانا تقی عثمانی صاحب کی کتاب ْاسلام اور جدید معیشت وتجارتٗ سے ان کا نظریہ بینکاری واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

مجوزین کا نظریہ زروبینکاری

مولانا کا نظریہ بینکنگ درج بالا تصور کی ہوبہو تصویب ہے

(4) چونکہ نظریہ زروبینکنگ باہم مربوط تصورات ہیں،لہذا پہلے ہم مولانا کا نظریہ زر بیان کرتے ہیں۔چنانچہ مولانا تقی عثمانی صاحب زر کی تعریف اس طرح فرماتے ہیں:

“جوچیز آلہ مبادلہ (exchange of goods) کے طور پر استعمال ہوتی ہو اور وہ قدرکا پیمانہ (unit of account) ہو اور اس کے ذریعے مالیت کو محفوظ کیا جاتا (store of value) ہو اسے زر کہتے ہیں”(ص:95)

پھر نوٹ کی فقہی حیثیت پر مختلف نظریات کا تجزیہ کرتے ہوئے اس نقطہ نظر کو نوٹ قرض کی رسیدیں ہیں کورد کرنے کے بعد فرماتے ہیں “صحیح نقطہ نظر یہ ہے کہ نوٹ رسیدیں بلکہ خود مال ہیں،سونے چاندی کی طرح ثمن حقیقی بلکہ ثمن عرفی ہیں”(ص:104-106)  اس سے  معلوم ہوا کہ مولانا تقی عثمانی صاحب کے نذدیک مروجہ رائج زر جسے (fait money) کہتے ہیں،بنیادی طورپر قرض کی رسید نہیں بلکہ آلہ مبادلہ اور ثمن عرفی ہے ۔پھر مولانا بینکاری کی بحث اس تعریف سے شروع کرتے ہیں:

“بینک ایک ایسے تجارتی ادارے کا نام ہے جو لوگوں کی رقمیں اپنے پاس جمع کرکے تاجروں ،صنعت کاروں اور دیگر ضرورت مند افراد وک قرض فراہم کرتا ہے”(ص:115)

“بینک عوام کی بچتوں کو یکجا کرکے تاجروں اور صنعت کاروں کا سرمایہ فراہم کرتے ہیں”(غیر سودی بینکاری:ص31)

“بینک…….لوگوں کو منتشر بچتوں کو یکجا کرکے انہیں صنعت وتجارت میں استعمال کرنے کا ذریعہ بنتا ہے

بینک کی حیثیت محض ایک ادارے کی ہے جو روپے کا لین دین کرتا ہے(ص:133،134)

ان اقتباسات سے دوباتیں معلوم ہوئیں۔اولاً مولانا تقی عثمانی صاحب کے نذدیک بینک کا بینادی مقصد سرمایہ کاروں (Investors) او رپچت کرنے والوں(savers) کے درمیان تعلق پیدا کرنا  ہوتا ہے ۔دوئم بینک محض زر کی لین دین (exchange of money) سرانجام دینے کا ذریعہ ہے۔پھر مولانا کھاتوں(deposits) کی مختلف اقسام(کرنٹ اکاؤنٹ،سیونگ اکاؤنٹ،فکسڈ اکاؤنٹ) کا تعارف کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ جب ان ڈپازٹس سے بینک کے پاس سرمایہ جمع ہوجاتا ہے اور اس کے ساتھ بینک بھی اپنا ابتدائی سرمایہ لگا دیتا ہے تو اس تمام سرمایے کو درج ذیل طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے:

1۔ سرمایے کا ایک حصہ سیال شکل میں اسٹیٹ بینک کے پاس جمع کرادیا جاتا ہے۔

2۔ بینک کچھ سرمایہ اپنے پاس رکھتے ہیں تاکہ کھاتے داروں کے مطالبات پورے کرسکیں۔

3۔ اس کے بعد بینک کئی وظائف ادا کرتے ہیں ،مثلاً تمویل(financing) ،درآمدات وبرآمدات میں ادائیگی کی سہولت فراہم کرنا ،تخلیق زر۔(ص:116)

اس تفصیل سے یہ اہم بات معلوم ہوئی کہ مجوزین کے نزدیک بینک پہلے بچتیں جمع کرتا ہے اور پھر انہیں قرض پر دیتا ہے دوسرے لفظوں میں بچتیں قرضوں کا باعث بنتی ہیں،کے اصول پر کام کرتا ہے۔اس مقام پر یہ تضاد بھی نوٹ کرلینا چاہئے کہ ایک طرف مولانا تقی عثمانی صاحب بینک کا کام یہ بتاتے ہیں کہ بینک محض زر کی لین دین کرتا ہے ،مگر ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ بینک کے وظائف میں تخلیق زر بھی شامل ہوتا ہے ۔ظاہر ہے اگر بینک محض زر کی لین دین (exchange of money)کرتا ہے تو تخلیق زر (creation of money) کسی بھی طرح اس کے وظائف میں شامل نہیں ہوسکتا،کیونکہ تخلیق زر کسی بھی طرح زر کی لین دین میں شامل نہیں کیا جاسکتا ،اور اگر بینک تخلیق زر کا باعث بنتا ہے تو بینک کی یہ تعریف درست نہیں کہ وہ محض زر کی لین دین کرتا ہے ۔اس تضاد کو رفع کرنے کی ذمہ داری مجوزین  کے ذمہ ہے ۔ہم اگے چل کر دیکھیں گے کہ مجوزین کے اس تضاد کی وجہ ان کا بینکاری نظام اور تخلیق زر کی اصل حقیقت کو درست طور پر نہ سمجھ پانا ہے ۔المختصر مجوزین کے نظریہ زروبینکاری کو ہم تین نکات میں سموسکتے ہیں:

  1. موجودہ دور میں رائج شدہ زر آلہ مبادلہ(means of exchange) ہے جسے شرعا ثمن عرفی کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔
  2. بینک سرمایہ کاروں اور بچت کرنے والوں کے درمیان تعلق پیدا کرتا ہے یعنی بینک محض زر کا لین دین سرانجام دیتا ہے ۔اس بات کا علم معاشیات کی اصطلاح میں یوں کہا جائے گا کہ بینک اصلاً ایک (financial intermediary) (ترسیل زر کے ثالث) کا کردار ادا کرتا ہے۔
  • بینک بچتیں قرضوں کا باعث بنتی ہیں کے اصول پر کام کرتا ہے۔

بینکاری کا یہ روایتی تصور درج ذیل تصویر میں دکھا یا گیا ہے جس کے مطابق بینک فرد الف (عموماً صارفین) سے رقم وصول کرکے فردب (عام طور پر سرمایہ کار) کو قرض فراہم کرتا ہے ۔اس کے بدلے بینک ب سے چند فیصد سود لے کر اس سود کا ایک صہ الف کو دے دیتاہے اور سود کی وصولی وادائیگی کا یہ فرق اس کی آمدنی ہوتی ہے ۔مجوزین کے اسلامی بینک کا ماڈل شکل نمبر 2 میں دکھایا گیا ہے۔

شکل نمبر ا: مجوزین کا مروجہ بینکاری کے بارے میں نظریہ

1.2: مجوزین اور نیوکلاسیکل اکنامکس کے نظریات کا تعلق

اب ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ مجوزین اسلامی بینکاری کا درج بالا نظریہ بینکاری درحقیت علم معاشیات کے (رد شدہ) مکتبہ فکر نیوکلاسیکل اکنامکس نظریات کا ہوبہو چربہ ہے۔نیوکلاسیکل اکنامکس پورے معاشرے کو ایک مارکیٹ کے طور پر دیکھتی ہے  جہاں اپنی ذاتی اغراض کی تکمیل میں مصروف افراد اشیاء کی لین دین کے لئے دوسرے افراد کے ساتھ تعلقات استوار کرت ہیں۔نیوکلاسیکل نظریئے کے مطابق ایک (Barter) (اشیاء کی براہ راست لین دین پر مبنی) اکانومی اور  (monetary) (زرمبنی) اکانومی میں اصلاً کوئی فرق نہیں،یعنی دونوں میں اشیاء کی اصل قیمتیں اور مقدار یکساں متعین ہوتی ہیں۔ان مفکرین کے خیال میں لوگ اشیاء کی براہ راست لین دین کے بجائے زر کو اس لئے ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اشیاء کے تبادلے میں متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔مثلاً سامان  کے نقل وحمل میں مشکلات،طلب ورسد کا یک ساتھ ملاپ لازم ہونا(یعنی اگر ایک شخص گندم کے بدلے مرغی لینا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ دوسرا شخص مرغی کے بدلے گند م لینے کے لئے تیار ہو) وغیرہ۔لہذا زر کے استعمال سے مارکیٹ کی استعداد کا ر(efficiency) میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اشیاء کا تبادلہ تیز رفتاری سے ممکن ہوپاتا ہے ۔چنانچہ زر کے ذریعے ایک طرف اشیاء کا تبادلہ ہوتا ہے اور دوسری طرف ان کی قدر کی نقدی اکائیوں(monetary units) میں پیمائش ہوتی ہے ۔مثلاً اگر ایک کلو گندم کی قیمت 30 روپے ہو اور ایک کلو چینی کی قیمت60 روپے تو اس کا مطلب یہ ہو اکہ ایک کلو گندم کی قدر آدھا کلو چینی جبکہ ایک کلو چینی کی قدردوکلو گندم ہوگی ۔دوسرے لفظوں میں زر کا کام اشیاء کی باہمی قدر کو نقدی اکائیوں میں بیان کرنا ہے۔

نیوکلاسیکل مفکرین زر کے در ج بالا تصور(کہ اصلاً یہ آلہ مبادلہ ہے) سے دو اہم نتائج اخذ کرتے ہیں:

٭ اولاً یہ کہ زر ایک غیر فعال (neutral) سیال ہے،یعنی زر کے ذیادہ یا کم ہوجانے سے اشیاء کی مقدار (quantities) میں کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ محض ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔بطور ایک سادہ مثال فرض کریں کسی ملک میں محض دس کلو گندم پیدا ہوئی اور 100 روپے کرنسی جاری کی گئی

(5) ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ گند م کی قیمت 10 روپے فی کلو متعین ہوگی ۔اگر کرنسی کی مقدار بڑھا کر 200 روپے کردی جائے مگر گندم کی مقدار میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو گندم کی قیمت بڑھ کر 20 روپے ہوجائے گی۔دوسرے لفظوں میں جتنے تناسب سے زر کی مقدار بڑھائی جائے گی اتنے ہی تناسب سے قیمتوں میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔

٭ثانیاً زر ایک (exogenous) (لین دین کے عمل سے ماوراء ) عنصر ہے یعنی اس کی مقدار اشیاء کی لین دین سے کوئی تعلق نہیں رکھتی بلکہ یہ اس سے باہر اور علاوہ متعین ہوتی ہے۔یہ سوال کہ اس کی مقدار کون اور کیسے متعین کرتا ہے  نیوکلاسیکل  مفکرین کے خیال میں یہ ذمہ داری ریاست (state) ادا کرتی ہے ۔اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ مرکزی بینک (Central Bank) ریاست کو قرض دیتی ہے جو دومیں سے کسی ایک شکل میں ہوتا ہے:(1) مرکزی بینک

T-Bill(6) جاری کرتی ہے جنہیں مختلف فائنانشل ادارے وغیرہ خریدتے ہیں اور اس طرح حکومت قرض حاصل کرتی ہے ،

(2) مرکزی بینک براہ راست نوٹ جاری کرکے حکومت کو قرض دیتا ہے۔دونوں صورتوں میں زر بصورت قرض تخلیق  ہوتا ہے

(7)۔اکثر وبیشتر یہ قرض حکومت مالیاتی خسارہ(fiscal deficit) پورا کرنے کے لئے دیا جاتا ہے۔درحقیقت آج جسے زر قانونی (legal tender or fiat money) کہاجاتا ہے وہ یہی قرضہ ہے

(8) دھیان رہے کہ مرکزی بینک T- Bills اور نوٹوں کی صورت میں یہ قرضہ کسی حقیقی اثاثے کی بنیاد پر نہیں بلکہ بلا کسی عوض تخلیق کرتا ہے نیز یہ قرضہ کسی بھی چیز کی ملکیت (ownership) کی رسید یا دعوی(claim) نہیں ہوتا یعنی جس شخص کے پاس یہ نوٹ موجود ہے مرکزی بینک اسے کچھ بھی ادا کرنے کا پابند نہیں ہوتا بلکہ ان کی حیثیت محض قانونی دستاویز  کی ہے جسے ریاست بذریعہ قانوی جبر  لین دین کے عمل کے لئے قابل قبول بناتی ہے

(9)۔اوپر ذکر کیا گیا کہ اکثر وبیشتر حکومتین اپنا مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لئے نوٹ(fiat money) چھاپ کر جاری کرتی ہیں۔جیسا کہ درج بالا بحث سے واضح ہوا کہ نیوکلاسیکل مفکرین کے مطابق اگر زر کی مقدار میں اضافہ کردیا جائے تو اس کے نتیجے میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے

(10)۔قیمتوں میں اضافے سے زر کی قوت خرید کم  ہوجاتی ہے ۔نتیجتاً عام لوگ  جو حکومت کے شائع کردہ نوٹ استعمال کرتے ہیں ان کی قوت خرید کم ہوجاتی ہے اور اس کمی کے برابر اصل اشیاء وخدمات حکومت کو منتقل ہوجاتی ہیں۔زر کی مقدار بڑھنے سے بوجہ افراط زر جو قوت خرید زر استعمال کرنے والے فرد سے زر تخلیق  کرنے والے ایجنٹ کی طرف منتقل ہوتی ہے اسے افراط زر ٹیکس (inflation Tax) کہاجاتا ہے ۔(اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کیونکہ ذیل میں ہم اسے زیر بحث لائیں گے)۔

اب تک نیوکلاسیکل  نظریہ زر بیان کیا گیا اب ہم اس سے اخذ ہونے والا نظریہ بینکنگ واضح کرتے ہیں۔نیوکلاسیکل مفکرین کے خیال میں بینک کا بنیادی کام بچتوں کویک جا کرکے کاروباری حضرات  کی سرمایہ کاری کے لئے فراہم  کرنا ہے یعنی اس کا کردار بچت کرنے والوں اور سرمایہ کاری کرنے والوں کے درمیان زری ثالثی (financial intermediary) کا ہے۔ اس تصور بینکنگ کے خدوخال درج ذیل ہیں

(11)۔الف: لوگوں کی بچتوں کو قرض پر دینے سے پہلے ڈپازٹ کی صورت میں جمع کیا جاتا ہے ۔بینک کے پاس ڈپازٹ تب آتے ہیں جب کوئی شخص اپنی بچت بینک کے پاس جمع کراتا ہے ۔بینک ان بچتوں کو سرمایہ کاری کے لئے بطور قرض (اسلامی بینکاری کی اصطلاح میں بطور بیع) فراہم کرتا ہے۔

ب: معاشی توازن(macroeconomic equilibrium) قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ بچتیں سرمایہ کے برابر ہوں(12)،چونکہ  بینک بچتوں اور سرمایہ کاری کے درمیان واسطے کا کام کرتے ہیں لہذا بینکاری نظام کا درست طرز عمل پورے معاشی عمل کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ج: بینکنگ کا درست طرز عمل یہ ہے کہ وہ بچتوں سے زائد قرضے جاری نہ کرے یعنی اس کے مجموعی قرضے اس کی مجموعی بچتوں سے ذیادہ نہ ہوں ۔جب کبھی بینک اس اصول کی خلاف ورزی کرے گا تو وہ پورے معاشی عمل کو عدم تواز سے دوچار کرے گا۔

د: اگر بینک اس اصول پر کار بند رہے تو اس کے عمل سے زر کی مقدار میں بحیثیت  مجموعی اضافہ نہیں ہوگا۔

                                           حواشی:

1۔اسلامی بینکاری پر نظاماتی حوالے سے تنقید کے لئے دیکھئے راقم الحروف کے مضامین:

٭اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز ماہنامہ الشریعہ اگست تا اکتوبر 2008

٭ سودی بینکاری کے فلسفہ اسلامی متبادل کا جائزہ مضمون مکمل مگر اشاعت کا منتظر ہے

اس ضمن میں پروفیسر محمد امین صاحب کا مضمون اسلامی بینکاری کی شرعی حیثیت :ایک اصولی بحث  بھی لائق مطالعہ ہے دیکھئے ماہنامہ محدث شمار ستمبر-اکتوبر 2009 لاہور۔اس کے علاوہ ماہنامہ ساحل کراچی میں بھی اس موضوع پر قیمتی مواد موجود ہے۔

2۔مجوزین کس طرح تمام سرمایہ دارانہ محرکات اور اداروں کی اسلام کرتے ہیں اس کی تفصیلات مولانا تقی عثمانی صاحب کی کتاب اسلام اور جدید معیشت وتجارت میں دیکھی جاسکتی ہے جس کا تجزیہ راقم نے اپنے مضمون اسلامی معاشیات یا سرمایہ داری کا اسلامی جواز میں پیش کیا ہے۔

3۔ اسلامی بینکاری کے مجوزین علماء کی تحریروں سے مانوس قاری شدت کے ساتھ تاثر لیتا ہے کہ جب خالصتاً دینی مسائل پر ان علماء کی کتب کا مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ علم کا کوئی بحر بیکراں ہے جو ایک طر ف اسلاف  کی کتب کو وسیع مطالعہ رکھتا ہے تو دوسری طرف علم وحکمت کے موتی بکھیرنے میں بھی ید طولیٰ رکھتا ہے مگر جونہی ان علماء  کی ان کتب کی طرف رجوع کیا جاتا ہے جو دورجدید کے معاشی یا فائنانشل نظاموں سے متعلق ہیں تو حقیقت  کچھ یوں عیاں ہوتی ہے گویا یہ سب باتیں کسی سے سن کر یا  دوسرے اور تیسرے درجے مصنفین کی کتابون سے پڑھ کر اور حق سمجھ کر لکھ دی گئیں ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ علماء کرام روایتی مکتبہ فکر پر کی جانے والی تنقیدات اور جدید نظریات سے واقف نہیں ہوتے۔

4۔درحقیقت نظریہ بینکنگ  ہی نہیں بلکہ جس چیز کو اسلامی معاشیات کے نام پر فروغ دینے کی کوشش کی جاری ہے وہ سب نیوکلاسیکل (یالبرل) اکنامکس ہی کا چربہ ہے ۔چونکہ اسلامی معاشیات کی حیثیت نیوکلاسیکل اکنامکس کے محض ایک فٹ نوٹ (foot-note) کی سی ہے لہذا یہ نیوکلاسیکل  نظریہ زروبینکاری کو مفروضے کے طور پر قبول کرنے پر مجبور ہے ۔

5-زر ،اشیاء کی قیمتوں اور ان کی مقدار کا تعلق جس مساوات سے ظاہر کیا جاتا ہے اسے Quantity Theory of Money کہتے ہیں ۔یہ مساوات درج ذیل ہے:

Mxv= PxY

یہاںM سے مراد زر کی رسد (money supply)،V سے (Velocity of money) ،P سے قیمتوں کا اشاریہ(price level) اور Y سے مجموعی پیدوار(output or GDP)ہے۔نیوکلاسیکل مفکرین کے خیال میں Y (مقدار پیداوار) کا انحصار رسد سے متعلق عناصر پروہوتا ہے لہذا زر کی رسد بڑھناے سے یہ غیر متبدل رہتا ہے۔اسی طرح V  کی مقدار بھی ایک عرصے تک غیر متبدل رہتی ہے لہذا اس مساوات سے ظاہر ہے کہ اگر V اور Y کی مقدار تبدیل نہ ہو اور Mمیں اضافہ کردیا جائے تو اس کا نتیجہ صرف P یعنی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔مضمون کی مثا ل میں V کی مقدار ایک فرض  کی گئی ہے ۔

6۔T-Bill ایک قلیل المدت فائنانشل دعویٰ  ہوتا ہے جو مرکزی بینک حکومت کے لئے قرض پر رقم کے حصول کے لئے جاری کرتا ہے۔

7۔ دونوں میں فرق یہ ہوتا ہے کہ T-Bills کے ذریعے حاصل کردہ قرض پر سود کی شرح ذیادہ ہوتی ہے جبکہ نوٹوں پر واجب الاداء سود نہایت کم ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ IMFوغیرہ حکومتوں پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ نوٹ چھاپنے کے بجائے T-Bills وغیرہ کے ذریعے قرض حاصل کریں کیونکہ ذیادہ سود کی ادائیگی حکومتوں کو کم قرض لے کر زر کی رسد میں کم اضافہ کرنے پر مجبو ر کرے گی ۔

8۔نیوکلاسیکل نظریات میں زر کی رسد  کو درج ذیل مساوات کی صورت میں ظاہر کیا جاتا ہے:

M(t)=M(t-1)+G-T-[Bg(t)-Bg(t-1)]

یہاں M سے مراد زر کی رسد،G سے حکومتی اخراجات،T سے ٹیکس وصولیاں اور Bg سے سرکاری بانڈز ہیں(tاور t-1سے مراد موجودہ اور پچھلا سال ہے)۔ اس مساوات سے عین واضح ہے کہ زر کی رسد سے مراد وہ حکومتی اخراجات ہیں جو حکومت ٹیکس وصولیوں  کے بغیر قرض پر مبنی زر سے پورا کرتی ہے ۔حیرت کی بات ہے کہ مولانا تقی عثمانی صاحب اپنی کتاب اسلام اور جدید معیشت وتجارت میں زر قانونی کی بات تو کرتے ہیں مگر اس چیز کا کوئی ذکر نہیں کرتے کہ ہ قرض ہوتا ہے ۔

9۔نیوکلاسیکل مفکرین کا یہ خیال کہ سرمایہ دارانہ (یعنی قرض پر مبنی)  زر کسی فطری ارتقاء کی پیداوار ہے ایک جھوٹا دعویٰ ہے  بلکہ یہ لنعت معاشروں پر بذریعہ ریاستی جبر اور نظام بینکاری مسلط کی جاتی ہے ۔نوعیت وارتقاء زر پر نیوکلاسیکل مفکرین کے خیالات کے لئے دیکھئے Menger کا مضمون (On the Origins of Money)

10۔ نیوکلاسیکل اکنامکس کے جدید (مثلاً کنیزین) نظریات میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ زرمیں اضافہ اشیاء کی مقدار میں اضافے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔اس صورت میں اشیاء کی قیمتوں او رمقدار دونوں میں کتنا اضافہ ہوگا ،اس کا انحصار  (elasticity of the supply of goods) (رسد کی لچک) پر ہے،اگر رسد مکمل طورپر غیر لچک دار ہو (جیسا کہ روایتی نیوکلاسیکل مفکرین کا خیال ہے کہ وہ قلیل اور طویل دونوں مدتوں می ہوتی ہے)  تو زر کا نتیجہ صرف وصرف افراط زر ہوتا ہے

11۔ دیکھئے hayek  کی کتاب(1935) (Money and Banking) یا (Prices and Production) کی کوئی سی کتاب جیسے The Economics of Money,Banking And Financial Markets by Frederic Mishkin

12۔ (Saving-investment equilibrium) درحقیت نیوکلاسیکل (macroeconomics) میں کسی معیشت کی حالت توازن بیان کرنے کی ایک اہم مساوات ہے یعنی کوئی معیشت اس وقت حالت توازن میں ہوتی ہے جب وہاں بچتیں سرمایہ اکری کے برابر ہوں۔                                                             (جاری)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked