مذہب اور سائنس کی کش مکش : ایک تاریخی جائزہ

                ٢٨٠ ق:م  [280 BC] سے لے کر پندرھویں صدی تک فلسفہ، سائنس اور عیسوی مذہب کا اجماع تھا کہ زمین ساکن ہے۔ فلاسفہ یونان، یونانی سائنس اور عیسوی مذہب مشترکہ طور پر زمین کے سکون کے قائل تھے۔ کاپرنیکس انقلاب [Copernican Revolution] نے دو ہزار سال کی اس مسلمہ ، متفقہ اور اجتماعی سائنسی علمیت کو جس پر مذہب، فلسفے اور سائنس کی تینوں اقالیم کا اجماع تھا اور جو ذاکر نائیک صاحب کی اصطلاح میں ”ٹھوس سائنسی حقیقت” تھی اس ٹھوس حقیقت کو سوال بنا دیا۔ دو ہزار سال کی تاریخ اور علم غلط ،بے اعتبار اور جھوٹ ٹھہرے، اس عہد کے نامور عیسائی مذہبی سائنس داںبطلیموس یا ٹالمی [Ptolemy] نے زمین کی گردش سے متعلق ریاضیاتی حسابات اور مختلف قضایا و سائنسی مشاہدات سے بھی ثابت کیا کہ زمین ساکن ہے،  یہ مرکز کائنات بھی ہے البتہ سورج اور چاند حرکت میں ہیں، اس عہد کا مذہب بھی یہی کہتا تھا۔ انسانی مشاہدہ بھی یہی بتاتا تھا ٹالمی نے Geocentric Theory کو علمی اور ریاضیاتی طور پر زرخیز کیا، کیلنڈر بنایا، اس عہد کی سائنسی علمیت تنہا نہیں تھی بلکہ ارسطو سے لے کر چرچ فادرز [Church Fathers] آگسٹین،اینزلم، ایکوناس [Saint Augustine, Anselm & Aquinas] وغیرہ کی مذہبی فلسفیانہ علمیت اس کے ہم رکاب تھی اور اس عہد کی غالب عیسوی علمیت کا نظام بھی زمین کی سکونت کے تصور سے ہم آہنگ تھا۔ اہل کلیسا کی نظر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمین پر نزول اس کا ثبوت ہے کہ یہی مرکز کائنات ہے۔ یونان کا تصور سائنس اور ارسطو کا فلسفہ بھی یہی تھا کہ زمین مرکز ہے۔ ارسطو کا نظریہ حرکت اسی نتیجے تک پہنچاتا تھا۔ دوہزار سال تک ارسطو کا نظریہ حرکت [Theory of Motion] دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا لیکن کاپرنیکس [Copernicus] گیلی لیو اور نیوٹن نے حرکت کا نیا تصور دنیا کو دیا۔ یہ تصور حرکت بھی دو سو سال بعد آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت [Theory of Relativity] نے مسترد کر دیا اور حرکت کا تیسرا تصور سائنس کی دنیا میں قبول کرلیا گیا۔

کلیسا اور سائنس کی دشمنی: ایک چلتا خیال :

                عام طور پر جدیدیت پسند مفکرین تاریخ سائنس کے عمیق مطالعے کے بغیر چند چلتے ہوئے مشہور افسانے سن کر عوام کو یہ باور کراتے ہیں کہ سترہویں صدی میں کلیسا اور سائنس میں تصادم ہوگیا تھا۔ کلیسا سائنس کا دشمن تھا اس سے مذہب بد نام ہوا جبکہ یہ بالکل غلط اور لغو الزام ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ  کلیسا منطق، سائنس اور فلسفے کے سائے میں مذہبی تعلیمات اور عیسوی اعتقادات کی عقلی اور سائنسی توجیہات پیش کررہا تھا ،یہ سلسلہ نہایت کامیابی کے ساتھ اٹھارہ سوسال تک چلتا رہا، سائنس ،منطق ،فلسفہ عیسوی مذہب کئی صدیوں تک قدم بہ قدم ایک دوسرے کے ہمراہ چلتے رہے، کلیسا نے کاپرنیکس کے علمی و سائنسی دعوے کا جواب علم سائنس اور عملی تجربات سے دیا، کاپر نیکس ان سائنسی علمی دلائل کا جواب نہ دے سکا لہٰذااس کے خلاف مزید کارروائی کی گئی کلیسا نے سائنس کے اعتراضات کا جوا ب سائنسی دلائل سے دیا اور تجربے سے دلائل کو ثابت بھی کردیا، حقیقت یہ ہے کہ اصلاً کاپرنیکس کے خلاف صرف مذہبی بنیاد پر کارروائی نہیں کی گئی ۔ کاپر نیکس اور کلیساکی جنگ مذہب اور سائنس کی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ جنگ فی الاصل قدیم یونانی فلسفہ و سائنس اور جدید فلسفہ و سائنس کی جنگ تھی کیونکہ مذہب عیسوی نے منطق سائنس و فلسفے کو ایک دینی رویے کے طور پر اختیار کرلیا تھا لہٰذا عیسائیت کا گلاجدید سائنس فلسفے اور جدید منطق نے کاٹ دیا، اگر عیسائیت سائنس کے ساتھ منسلک نہ ہوتی اور فلسفے کے منطقی دلائل کو اپنے حق میںاستعمال نہ کرتی تو سائنس اس پر اثر انداز نہ ہوسکتی ۔عیسائیت کی غلطی یہ تھی کہ اس نے مذہبی منہاج علم کو فلسفیانہ ،سائنسی  اورمنطقی یونانی علوم کے منہاج سے مخلوط کرلیا ،جن کی ما بعد الطبیعیات دینی علم کے منہاج و ما بعد الطبیعیات سے یکسر مختلف تھی، جس طرح ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں اسی طرح دو مختلف مناہج اور دو مختلف ما بعد الطبیعیات ایک ساتھ علم کی دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتے، لہٰذا سائنسی ،منطقی اورفلسفیانہ یونانی منہاج نے عیسائی مذہبی اورکلامی منہاج علم کو شکست دے دی سائنسی منہاج کے باعث عیسائیت کا مذہبی منہاج علم شکست کھا گیا۔ہمارے ننانوے فیصد جدیدیت پسند مسلم مفکرین کو یہ معلوم ہی نہیں کہ عیسائیت کی شکست کا سبب سائنس سے جنگ نہیں بلکہ عیسائیت کی سائنس میں شمولیت، سائنس سے محبت اور سائنسی طریقہ کار کی قبولیت ہے، اگر عیسائیت سائنس سے مذہب کی تطبیق کے بجائے عالم اسلام کے طریقے  یعنی سائنس اور مذہب کی تفریق کے اصول پر چلتی تو کبھی تباہ نہ ہوتی، عیسائیت نے نقل کی بنیاد پر مذہب کی دعوت اور دلیل کو کمتر سمجھا اور عقل کواس کے مقام سے بڑ ھ کر فوقیت دی۔

عیسائیت کے زوال کا سبب: یونانی منطق کی عیسوی توجیہات :

                عیسائیت کی سب سے بڑی غلطی سائنسی اصولوں کو مذہبی عقائد کا حصہ بنانا تھا۔ ارسطو کے نظریہ کائنات کو کلیسا کے اسقف نے کیوں تسلیم کیا ؟اس کے نتیجے میں عیسائی عقائد کے نظام میں یونانی سائنس فلسفے اور منطق کے آمیختے سے تیار شدہ نظریات کس طرح داخل ہوئے؟ اور کس طرح عیسائیت شکست کھا کر رہ گئی؟ اس کا مختصر جائزہ Essential Philosophyکا مصنف James Mannion  کے الفاظ میں پڑھیے:

                Mankind assumed that he, second to God, was the center of the universe. Earth was the center of it all, and the sun and all celestial bodies revolved around it. The Aristotelian view held that the heavens were immutable, or absolute, and the moon, other planets, and stars were smooth, pristine orbs. This view was the one adopted by the Catholic Church.

The Heliocentric Theory

                This long-held belief was eventually challenged by Nicolas Copernicus [1473-1543] and mathematically confirmed by Johannes Kepler [1571-1630]. Their theory was called heliocentric, meaning that the sun was the center of our solar system, and Earth and the other planets revolved around it. This theory was regarded as poppycock and ultimately turned into heresy. Great controversy surrounded the hypothesis while it was still only mere speculation. When Galileo invented a telescope and was able to prove the theory via empirical and indisputable observation, things really hit the fan.

                Galileo Galilei [1564-1642] was an Italian mathematician and scientist who proved the heliocentric theory. His telescope also showed that the moon had peaks and valleys, crags and craters, and that the sun had spots that appeared and disappeared, disproving the Aristotelian/Christian belief of pristine heavens. In 1616, he was called before the Inquisition and forbidden to teach the heliocentric theory. Knowing what fate befell those who defied the Inquisition, he sensibly consented to this demand. You cannot keep a good scientist down, however, and in 1623, he published a work called “The Appraiser,” which reiterated his heliocentric belief. He was tried and found guilty, but he recanted, and his life was spared.

                Legend has it that Galileo offered the then-pope the opportunity to look through his telescope and see for himself the true nature of the cosmos. The pope refused. He had no need to look through the telescope because his mind was already made up.

                The Catholic Church ultimately suffered as a result of their stubborn condemnation of the Copernican heliocentric view of the cosmos and the persecution of Galileo, not to mention the murder of Bruno and numerous other “heretics.” In 1993, Pope John Paul II more or less apologized for past indiscretions and acknowledged that the Earth did indeed revolve around the sun.

  1. جدید فلسفے کے بانی ڈیکارٹ نے جو کیتھولک عیسائی تھا، جدید ما بعد الطبیعیات کی اساس شک پر رکھی تاریخ فلسفہ کا مشہور ترین جملہ فلسفے میں آج بھی اس کی ذہانت کا کمال تصور کیا جاتا ہے: I  think therefore I am ”میں سوچتا ہوں اس لیے کہ میں ہوں ”اصل لاطینی جملہ یہ تھا: “Cogito, ergo sum” اس بظاہر سادہ مگر نہایت تہہ دار اور خطر ناک الحادی جملے کے ذریعے ڈیکارٹ نے ما بعد الطبیعیات کو غیر معمولی نقصان پہنچایا اور وجود انسانی کے سوا ہر شے کو قابل سوال بنادیاکہ صرف ذات انسانی شک و شبہے سے بالاہے اس کے سوا کوئی چیز شک کی گرد سے خالی نہیںخود خدا بھی نہیں ،اس جملے کے  ذریعے ہر شے کو شک کی نظر سے دیکھنے کا نقطہ نظر ظہور پذیر ہوا اور علم کی بنیاد یقین کے بجائے شک پر رکھ  دی گئی، انسان اور اس کے فکر کے سوا ہر وجود قابل شک ہے صرف thinking of the thinker

 

  1. James Mannion, The Scientific Revolution in Essential Philosophy, U.S.A.: David & Charles,2006,pp.69-70.

پر کوئی شک نہیں کیا جاسکتا ، ڈیکارٹ نے یہ بھی بتایا کہ wherever you go there you are اس کفر کے ساتھ ساتھ اس نے وجود خدا وندی کے دلائل بھی دیے تاکہ کلیسا اس سے ناراض نہ ہو اور اس کا کفر ایمان کے لباس میں جلوہ گرہو:

            French philosopher René Descartes [1596-1650] is often called the Father of Modern Philosophy. He started out his career as a mathematician and is credited with discovering the concept of Analytic Geometry. He also was a physicist of great repute. Descartes was a faithful Catholic, but he privately knew the Church was wrong-headed in its resistance to and persecution of men of science. He knew that these men and their philosophies were the way of the future, and if the Church did not adapt, it would suffer as a result.

Doubt Everything

            Descartes sought nothing less than the formidable task of a radically revisionist look at knowledge. He started with the premise of doubt. He decided to doubt everything. He believed that everything that he knew, or believed he knew, came from his senses, and sensory experience is inherently suspect. This is the classic Skeptic starting point.

1. ڈیکارٹ نہایت ذہین آدمی تھا اس نے اپنے کفر کی اشاعت کے لیے کلیسا سے ٹکر لینے کے بجائے کلیسا کے سائے اور اس کی سرپرستی میں اس کی اشاعت کا منصوبہ بنایا اس نے اپنی کتاب  Meditations کا انتساب پادریوں کے نام کردیا ،پادری خوش ہوگئے اور مذہبی سند کے ساتھ ڈیکارٹ کا فکر قبولیت عام حاصل کرتا چلا گیا ،وہ ڈیکارٹ کے اس معصوم جملے I think therefore I am کی تہہ در تہہ معانی سے سرسری گزر گئے، اس نے انسان کو بھی شک کی میزان پر رکھا مگر فکر [thinking] کی فرقان سے، اس کو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا تر قرار دے کر اسے واحد اوریقینی وجود قرار دیا، لہٰذا

 

  1. Ibid.,p.75.

یہی انسان خدا قرار پایا اور غیر محسوس طریقے سے حقیقی خدا شک کے دائرے میں آکر علم کے دائرے سے خارج کردیا گیا۔وہ یہ سمجھ نہیں پائے کہ اس ایک جملے کے ذریعے ڈیکارٹ نے ما بعد الطبیعیات کو سوال بنادیا اور پہلی مرتبہ علم کی بنیاد یقین سے شک میں تبدیل کردی، جو علم شک کے ذریعے ہی حاصل ہو اس میں یقین کیسے پیدا ہوسکتا ہے؟جس کی بنیادخود شک ہو  یقین سے کیسے استفادہ کرسکتا ہے؟ ڈیکارٹ نے کلیسا کو کس طرح بے وقوف بنایا اس کی تفصیل پڑھیے:

            Descartes was hesitant to publish much of his work because it supported the findings of Galileo. He eventually “hid” his controversial theories in a philosophy book called Meditations, which he dedicated to the local Church leaders in an effort to curry favor.

            Descartes quickly discovered that to doubt absolutely everything is to be poised on the precipice of madness. Is it real, or is it a dream? Descartes came to believe that he could not even know if he was awake or if he was dreaming things. There is no absolute certainty, not even in the realm of mathematics. This was called the Dream Hypothesis and is radical skepticism taken to the max.

            Descartes went on to speculate that there might not be an all-loving God orchestrating things from a celestial perch. Perhaps there was an Evil Demon who had brainwashed us into believing that all we see and sense is reality, but is really an illusion devised by thisdiabolical entity. This is called the Demon Hypothesis.

1. مغرب ان دنوں عالم اسلام میں ڈیکارٹ کی طرز کے کسی راسخ العقیدہ مفکر کی تلاش میں ہے، کیوں کہ ہمارے متجددین اپنی تمام تر جدیدیت پسندی کے باوجود مغرب کے راسخ العقیدہ حلقوں کے لیے بہت زیادہ کارگر نہ ہوسکے۔ لیکن تازہ شکست کے بعد مغرب عالم اسلام میں دوبارہ ذہین لوگوں کی خریداری یا قلب ماہیت پر کام کررہا ہے، بہت سے راسخ العقیدہ علما بھی اپنی سادہ لوحی اور مغرب کی بے

 

  1. Ibid., p75.

پناہ مادی ترقی کے سامنے سرنگوں نظر آتے ہیں، یہ وہ علما ہیں جن کے قلب اس علمیت کے ادراک سے قاصر ہیں جس کا محور وہ حدیث ہے جس میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عہد کے بارے میں فرمایا کہ: خیر القرون قرنیاگر اس قرن کا مقابلہ عہد حاضر کی مادی ترقی سے کیا جائے تو وہ آج کے عہد کے سامنے کچھ بھی نہ تھا، صحابہ کرام تیل کے سمندر پر مسند نشین تھے مگر انھوں نے نہ تیل دریافت کیا، نہ قوت و طاقت اورتوانائی کے ذخیرے ڈھونڈے، نہ طیارے، سیارے، میڈیا ایجاد کیے، ورنہ اسی زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری دنیا میں بہ نفس نفیس خود جا کر دین کی دعوت دیتے اور پوری دنیا اسلام قبول کرلیتی، پس ثابت ہوا کہ اسلام کی وسعت میں کمی کا سبب عہد صحابہ کا سائنس میں ترقی نہ کرنا تھا ]نعوذ باللہ[۔ یہ عجیب مسلمان ہیں جو خیر القرن عہد رسالت کو سمجھتے ہیں اور اس کی مادیت سے دوری کو جدیدیت اور مغرب کی ٹیکنالوجی سے پُر کرنا چاہتے ہیں اس عہد کا کمال ہی یہ تھا کہ آخرت دنیا پر غالب تھی ،سب سے بہتر وہ تھا جو دنیا سے کم سے کم تمتع کرتا ہو، سب سے افضل وہ تھا جو دین کی خاطر پوری دنیا ترک کردیتا ہو، جیسے حضرت ابو بکر صدیق رضی االہ عنہ کہ غزوہ تبوک کے موقع پر اپنا پورا مال  و اسباب لے آئے تھے اور جواب میں فرمایا تھا کہ گھر میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے سوا کچھ نہیں چھوڑا، اس قرن کی طرف رجعت ، دنیا کو حقیر سمجھنا اور مادیت سے گریز اختیار کرنا امت مسلمہ کا خاص شیوہ ہے، اگر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا خود اختیاری فقر امت کے مفکرین کے لیے باعث شرم ہوجائے تو پھر مغرب کی پیروی ممکن بلکہ ناگزیر ہو جاتی ہے۔

نقل کا حصار: مذہب کی حفاظت کا اصل ضامن :

             جب تک عیسائیت کے دلائل نقلی بنیادوں پر رہے ،اس کی گرفت مضبوط رہی، جب صرف عقلی و منطقی اور فلسفیانہ سائنسی دلیلیں عیسائیت کی الہٰیات، ما بعد الطبیعیات اور ایمانیات کا حصہ بنیں تو عیسائیت کم زور ہوتی چلی گئی۔مذہب کے نام پر ہر عمومی معاملے، عقلی قضیئے، منطقی کلیے، فلسفیانہ گتھیوں اور سائنسی امورو معاملات اور مسائل میں کلیسا نے بلاجواز مداخلت شروع کی تو عجیب و غریب صورت حال پیدا ہوگئی۔ الحمدللہ اسلامی تاریخ کے کسی دور میں ایسی عبرت انگیز صورت حال نہیں ملے گی جو یورپ میں درپیش تھی۔

سائنس کی مذہبی توجیہات: چند اہم مثالیں :

            چرچ فادرز کا کلیسا کی فکری تاریخ پر بے حد اثر تھا۔لہٰذا سائنس اور فلسفے کی ترقی کے بعد اہل یورپ اور مغرب نے پندرہویں صدی میں کلیسا کے سائنسی و  فلسفیانہ افکار کو نقد اور رد کے قابل قرار دیا تو انھیں کلیسا کے بے رحمانہ رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ اکثر پادری سائنسی عقلی اور حسی امور میں بغیر علم اور تجربات کے منہمک رہتے تھے اور انجیل و سائنس کے آمیختے سے عجیب و غریب نتائج اخذ کرتے تھے، مثلاً:

 زمین کے آغاز و انجام کے متعلق کلیسا کی رکیک منطقی توجیہات

            ]١[ آرچ بشپ اشر Ussherنے انجیل کے مطالعے سے یہ نتائج اخذ کیے کہ اس دنیا کا آغاز اتوار ٢٣اکتوبر ٤٠٠٤ قبل مسیح میں ٹھیک نو بجے دن کو ہوا، اس کے مقابلے پر ایک سائنس دان Wycliffeنے علم طبقات الارض اور مختلف ڈھانچوں[Fossils]کے مشاہدے اور مطالعے  کے بعد آرچ بشپ کے نتیجے سے پہلے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ زمین کے آغاز کو چند ہزار سال ہی گزرے ہیں، کلیسا نے مرحوم سائنس داں کے اس نظریے پر شدید غصے کا اظہار کیا اور اس کی ہڈیوں کو قبر سے نکلوا کر ٹکڑے ٹکڑے کرکے اسے سمندر میں پھینک دیا گیا کہ یہ جراثیم زدہ جسم اس پاک سرزمین کو آلودہ نہ کرسکے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔ نظریہ ارتقا سامنے آیا تو کلیسا خوف زدہ ہوگیاBishop of Worcesterکی اہلیہ کو اس نظریے کا علم ہوا تواس نے کہا :

Descended from the apes! My dear, let us hope it is not true, but if it is, let us pray that it will not become generally known.

1. کیا خواہشات اور آرزوئوں سے سائنس کے سفر کو روکا جاسکتا تھا؟ یقینا نہیں۔

            کلیساکی اس سراسیمگی، خوف اور گھبراہٹ کا سبب یہ تھا کہ کلیسا نے ان امور، اقالیم، دائروں اور علوم میں خواہ مخواہ مداخلت کی جو مذہب کے منہاج سے غیر متعلق تھے۔ یہ مداخلت اگر ایک خاص علمی سطح پر رہتی اور تحمل و صبر کے ساتھ دینی وعلمی محاسبے کے طور پر ہوتی تب بھی کوئی حرج نہ تھا لیکن یہ ردعمل کے شدید جذبات سے مغلوب تھی۔ چونکہ کلیسا نے یونانی علوم و فنون کے زیر اثر ہر لمحہ تغیر پذیر عقلی و حسی معاملات میں اپنی آرا مذہبی معتقدات کے طور پر داخل کردی تھیں لہٰذا جیسے جیسے علوم عقلیہ ان تغیر پذیر معاملات میں تغیر کے باعث نت نئی رائے دیتے کلیسا کا غصہ بڑھتا بلکہ بھڑکتا چلا جاتا۔ کلیسا  یہ بات سمجھنے سے قاصر رہا کہ مذہب عیسوی میں منطق، فلسفہ، سائنس اور مذہب کی تطبیق اور تلفیق کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین مسائل کے حل کا طریقہ یہ ہے کہ اصول تطبیق و تلفیق کو ترک کرکے اصول تفریق پر عمل کیا جائے، لیکن دو ہزار سال تک اس اصول تطبیق سے کلیسا کو جو فوائد حاصل ہوئے تھے ان کی لذت سے کنارہ کشی مشکل تھی کیوں کہ علمی حلقوں میں لازماً یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ دو ہزار سال تک یہ مفروضات دینی مسلمات کے طور پر کیوں مذہب میں داخل رہے؟ ان حالات میں چرچ کے لیے کوئی جائے پناہ  نہ تھی لہٰذا اس کا اظہار آگ و خون کی خوف ناک کہانی سے ہوا، ہزاروں لوگوں کو پھانسی دی گئی Inquisitionکے ذریعے ہزاروں لوگ مارے گئے ہزاروں عورتوں کو جادو گرنیاں قرار دے کر جلادیا گیا۔

زمین کا محیط، طول و عرض اور کلیسائی دلیل:

 ٢[ زمین کو ساکن قرار دینے کے بعد زمین کے طول و ارض اور محیط کے بارے میں کلیسا نے  خواہ مخواہ مذہبی بنیادوں پر مداخلت کرکے عجیب و غریب آرا کا انبار مہیا کیا،کرئہ ارضی، اس کے قشر، اس کی

 

  1. Ashley Montagu, Man’s Most Dangerous Myth: The Fallacy of Race, California: Altamira Press, 1997, p.99.

سمتوں اوراس کی آبادیوں جیسے طبیعی امور میں بھی کلیسا نے خواہ مخواہ مداخلت کی، اسی طرح کہ سینٹ آگسٹین کے تقلید میں کئی صدیوں تک یہ عقیدہ رکھا گیا کہ مخالف ارض سمت میں انسانی آبادی وجود ہی نہیں رکھتی،اور اگر [opposite side of earth] کوئی خطہ زمین وجود بھی رکھتا ہے تو وہاں انسان نہیں بستے۔ چھٹی صدی میں Procopius of Gza نے اس مسئلے پر ایک نئی رائے کا اظہار نئے مذہبی دلائل سے کیاکہ زمین کے مخالف سمت کوئی زمین ہو ہی نہیں سکتی کیوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہاں تشریف ہی نہیں لے گئے۔علم ارضیات کے ساتھ ساتھ علم فلکیات میں بھی کلیا نے دراندزی کی اور اس کا یہی رویہ تھا۔

 بیماریوں کاعلاج: فطرت سے جنگ کے مرادف : کلیسا:

 ٣[ چیچک کی بیماری بلا شبہہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک سزا ہے اور ہر بیماری اور مصیبت و آفت انسانی  اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے، جب انسان فطرت سے جنگ کر کے غیر فطری اور گناہ گار زندگی بسر کرتا ہے اور اپنے نفس کو الٰہ بنالیتا ہے تو سزا کے طور پر مختلف گمراہیوں کے ساتھ ساتھ خطر ناک بیماریوں میں بھی مبتلا ہوجاتا ہے یا کرد یا جاتا ہے ،مثلاً آتشک، سوزاک تمام جدید جنسی بیماریاں مغرب کی عیاشانہ ثقافت کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہیں۔ ایڈز انسانی اعمال کی سزا ہے گناہ کا ثمراور اللہ تعا لیٰ کا عذاب بھی، لیکن ہت سی بیماریاں وبائی اور متعدی بھی ہوتی ہیں۔ کلیسا کا خیال یہ تھا کہ ان بیماریوں کا علاج کرنا اور کرانا درست نہیں ہے اور جو بیماریوں کا علاج کررہا ہے وہ خدا کی مشیت میں دخل اندازی کا مرتکب ہے ۔ بیماریوں کے اصل اسباب کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ یعنی گناہ گار زندگی کا خاتمہ اور ان بیماریوں کا طبیعی علاج کبھی کسی تہذیب اور مذہب میں ممنوع نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ بندوں کو بیماریوں میں مبتلا کر کے اپنے آپ سے قریب کرتا ہے، انسان مصیبت میں بے ساختہ اپنے رب کو دل کی گہرائیوں سے پکارتا ہے، یہ پکار اس عہد الست کا نتیجہ ہوتی ہے جو ہر انسان سے لیا جاچکا ،جو اس کے باطن میں پیوستہ، اس کے قلب میں آراستہ اور اس کے جسم و جاں و روح سے وابستہ ہے۔ بیماری و تکلیف کے ذریعے اللہ بندے کو اپنی زندگی ،اپنے شب و روز اور اپنے اعمال پر متوجہ ہونے کا موقع مہیا کرتا ہے۔ بیماری قربت رب کا ذریعہ بن سکتی ہے اگر عقل اور قلب کی آنکھ کھلی رہے ،اس لیے تیمار داری اور بیماروں سے اپنے لیے دعا کرانا سنت نبویۖ سے ثابت ہے۔ لیکن کلیسا نے گناہوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماری چیچک کے علاج کو مشیت خدا وندی میں دخل اندازی قرار دے کر اطبا کو سزائیں دیں، جن لوگوں نے کسی طبیب کو اپنے گھر میں پناہ دی اس کو بھی ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔ غلوفی الدین اسی کا نام ہے اورعدل سے محرومی کے نتیجے میں یہی رویہ جنم لیتا ہے۔ ]

٤[ ١٧٧٠ء میں یورپ کے بعض شہروں میں پانی کی رنگت اچانک خون کی طرح سرخ ہوگئی، کلیسا نے اس صورت حال کو Wrath of Godقرار دیا ،سویڈن کے ایک سائنس داں Linnaeus نے پانی کے سرخ ہونے کی سائنسی توجیہہ  اورتشریح  پیش کی تو کلیسا نے اس پر شدید غصے کا اظہار کیا ان نتائج کو Satanic Abyssسے تعبیر کیا گیا Cometsکے بارے میں Astronomy اور ماہرین فلکیات کے بارے میں کلیسا نے مختلف منطقی توجیہات وتعبیرات پیش کرکے علوم فلکیات کے ایسے امور میں دخل اندازی کی کوشش کی جہاں اس بھونڈے اور غیر علمی دخل اندازی کی قطعاً ضرورت نہ تھی۔ ]

٥[ علم ارضیات [Geology] کے بہت سے نظریات جو محض قیاس، مفروضات، گمان اور اندازے ، اور کلیسا کے سائنسی عقائد سے مختلف تھے لہٰذا یہ علم بھی کلیسا کی نظر میں معیوب اور اس کے حامل مشرک بت پرست جاہل اور معتوب قرار پائے، کلیسا نے اس علم کو  internal artillery  not a subject of lawful inquiryاور Dark Art، اس علم کے فضلاء کو کلیسا نے impugners of the sacred recordقرار دیا۔ ]    

٦[  طوفانی آندھی برق و باد سے متعلق امور میں بھی کلیسا نے مداخلت کی اسے صرف اور صرف شیطان کی کارستانیاں اور جادو سمجھا گیا۔ Pope Gregory XIII کے حکم پرطوفان کو ٹالنے روکنے اور اس کا زور توڑنے کے لیے کلیسا میں مختلف گھنٹیاں بجائی جاتیں، ٧دسمبر ١٤٨٤ ء کو Pope VIII نے ایک فرمان جاری کیا اور جرمنی کے اہل کلیسا کو حکم دیا کہ وہ اُن جادو گرنیوں کو تلاش کریں جن کے کرتوتوں سے موسمیاتی تبدیلیاں آرہی ہیں اورطوفان، آندھی ، باغ اور فصلوں کوتباہ کررہے ہیں لہٰذا ہزاروں عورتوں کو جادو گرنی قرار دے کر موجب سزا سمجھا گیا ،سخت اذیتیں دے کر انھیں ہلاک کیا گیا، اس کارخیر میں ان کے عزیزو اقربا بھی شامل تھے جو واقعتاً اپنی عورتوں کو جادو گر سمجھتے تھے Thunder bolt کے بارے میں چرچ کا خیال تھا کہ یہ صرف اور صرف مختلف جرائم اور گناہوں کا نتیجہ ہے۔]

٧[ ١٧٥٥ء کے زلزلے کے بارے میں کلیسا کا خیال تھا کہ اس کا اصل سبب بوسٹن میں بہت بڑے پیمانے پر Franklin’s Rodes کا استعمال تھا جو آسمانی بجلی سے عمارتوں کو محفوظ رکھتی تھی۔کلیسا نے اس ایجاد کی بھی مخالفت کی ،شروع میں تو اس کے وجود سے انکار کردیا لیکن جب اس کی فروخت بڑھی اور ہر جگہ اس کا استعمال عام ہوا تو اسے زلزلے کا سبب بتایا گیا، سترہویں صدی کے اختتام تک کلیسا نے اس ایجاد کو حلال کردیا اور اس کے استعمال کی اجازت دے دی۔]

٨[کانٹ نے Nebulaکے وجود کا اظہار اپنی ایک تحریر میں کیا تو تمام اہل کلیسا میں کانٹ کی اس ”دہریت” کے خلاف شدید رد عمل پیدا ہوا۔لیکن Spectroscope اور Spectrum analysis کی ایجادات کے بعد کانٹ کے خیال کی تائید و توثیق ہوگئی اور کلیسا کواپنے موقف سے رجوع کرنا پڑا۔ ]

٩[ نظریہ ارتقا کے ہاتھوں عیسائیوں کی شکست کے باوجود کلیسا نے ابھی تک ڈارون کے اس ارتقائی مفروضے کے خلاف جو سائنسی بنیادوں پر بہت کم زور ہوگیا ہے مسلسل امریکہ اور یورپ میں جنگ جاری رکھی کلیسا اپنی شکست نہیں بھولا ہے۔ آج امریکہ کی بہت سی ریاستوں میں نظریہ ارتقا کی تدریس پر پابندی ہے اور جہاں اسے پڑھا جاتا ہے وہاں اس کے مخالف موقف کو بھی تدریس کا حصہ بنالیا گیاہے، رونالڈ ریگن کے زمانے میں Creationism کے نام سے ایک تحریک چلی تھی جس نے علم الارض اور Astronomy کی حدود، حیثیت اور علمیت پر نہایت خطر ناک حملے کیے، جارجیا کی عدالت اپیل کے جج Dean.Jr. Braswell نے اسی زمانے میں ایک مضمون لکھا جس کا خلاصہ یہ ہے :

“Monkey mythology of Darwin” is the cause of permissiveness, promiscuity pills, propphylactics, perversions, pregnancies, abortions, pornography, pollution, poisoning and proliferation of crimes of all types.1

            کلیسا کی یونانی مذہبی عیسوی سائنس اور جدید سائنس کے مابین تصادم میں گیلی لیو جیسا سائنس دان بھی قتل کیا گیا۔ ٩مئی ١٩٨٣ء کو ویٹی کن میں ایک خصوصی تقریب کے دوران Pope John Paul II نے پہلی مرتبہ اس المناک قتل پر کلیسا کی جانب سے سرکاری معذرت نامہ جاری کیا اس کے الفاظ پڑھیے:

The Church’s experience, during the Galileo affair and after it, has led to a more mature attitude… The Church herself learns by experience and reflection and she now under stand better the meaning that must be given to freedom of research …one of the most noble attributes of man… It is through research that man attains to Truth … This is why The Church is convinced that there can be no real Contradiction between science and faith, … [However]; it is only through humble and assiduous study that [the Church] learns to dissociate the essential of the faith from the Scientific system of a given age, especially when a culturally influenced reading of the Bible seemed to be linked to an obligatory Cosmogony.2

 

  1. Jon P. Alston, The Scientific Case Against Scientific Creationism,Nebraska: iUniverse.inc, p.17.

2.Henry Nargenau, Roy Abraham, varghese, [eds.], Cosmos, Bios, Theos: Scientific Reflect on Science, God and The Origins of The Univers, life and homo-sepiens, Open cort Publishing, 1992,pp.96-7.

کلیسا کی یونانی مگر مذہبی عیسوی سائنس اور سترہویں صدی میں جدید فلسفے سے نکلنے والی جدید سائنس کے مفروضات میں اختلافات کے باعث یہ سائنسی اختلافات لا محالہ مذہب و سائنس کی جنگ میں تبدیل ہو گئے ،اگر کلیسا مذہب اور سائنس کی خواہ مخواہ تطبیق کے مصنوعی ملاپ میںملوث نہ ہوتا تو ہزیمت سے بچ سکتاتھا   الحمدللہ عالم اسلام اس قسم کی گمراہیوں اور افسوس ناک معذر ت ناموں سے خالی رہا ۔

             Andrew Dickson کی تحقیقات کا اہم خلاصہ درج ذیل ہے:

The doctrine of the Spherical shape of the earth, andthere fore the existerice of the that of antipodes, was bitterly attacked by theologians who asked: “Is there any one so senseless as to believe that crops and tress grow downwards? …….. that the rains and snow fall upwards?” The great authority of St. Augustine held the Church frmly against the idea of antipodes and for a thousand years it was believed that there could not be human beings on the opposite side of the earth – even if the earth had opposite sides. In the sixth century, Procopius of Gaza brought powerful theological guns to bear on the issue: there could not be an opposite side, he declared, because for that Christ would have had to go there and suffer a second time. Also, there would have had to exist a duplicate Eden, Adam, Serpent, and Deluge. But that being : clearly wrong, there could not be only antipodes. QED!

            Ecclesiastics and theologians of the medieval Church vigorously promoted the view that comets are fireballs flung by an angry God against a wicked world. Churchmen illustrated the moral value of comets by comparing the Almighty sending down a comet to the judge laying down the sword of execution on the table between himself and the criminal in a court of justice. Others denounced people who heedlessly stare at such warnings of God and compared them to “calves gaping at a barn door”. Even up to the end of the 17th century, the oath taken by professors of astronomy prevented them from teaching that comets are heavenly bodies obedient of physical law. But ultimately, science could not be suppressed. Halley, using the theory of Newton and Kepler, observed the path of one particularly “dangerous” comet and predicated that it would return in precisely seventy-six year. He calculated to the minute when it would be seen again at a well-defined point in the sky. This was incredible. But seventy six years later, when Halley and Newton were both long dead, Halley’s comet retuned exactly as predicted.

             Christian ohrition orthodoxy held geology to be a highly subversive tool in the service of the devil. Not only did geological evidence refute Archbishop Usher’s assertion of the earth’s age, but it also showed that creation in six days was impossible. The orthodox declared geology “not a subject of lawful inquiry”, denounced it as “a dark art”, called it “infernal artillery”, and pronounced its practitioners “infidels” and “impugners of the sacred record”. Pope Pius IX was doubtless in sympathy with this feeling when he forbade the scientific congress of Italy to meet in Bologna in 1850.

            During the Middle Ages, the doctrine of the diabolical origin of storms was generally accepted, receiving support from such unassailable authorities as St. Augustine. Storms, it was held, were the work of demons.  Against this supernatural’ power of the air various rites of exorcism,were used the most widely used being that of Pope Gregory XIII. Whereas in earlier times the means of exorcism amounted simply to various chanting and ringing of church bells during storms, in the 15th century there evolved a tragic belief that certain women may secure infernal aid to produce whirlwinds, hail, frosts, floods, and like. One the 7th of December 1484, Pope Innocent VIII issued a papal bull, inspired by the scriptural command “Thou shalt not suffer a witch to live”. He exhorted the clergy of Germany to detect sorcerers and witches who cause evil weather and so destroy vineyards, gardens, meadows, and growing crops. Thereupon thousands of women found themselves writhing on the torture racks, held in horror by their nearest and dearest ones, anxious only for death to relieve them of their suffering.

            The thunderbolt, said Church dogma, was in consequence for five sins: impenitence, incredulity, neglect of repair of churches, fraud in payment of tithes to the clergy, and oppression of subordinates. Pope after pope expounded on this instrument of Divine retribution, calling it the “finger of God”. And then in 1752 Benjamin Franklin flew his famous kite during aanelectrical  an electrical storm, discovering in this dangerous experiment that lightning was but electricity. Immediately there followed the lightning rod, a sure protection from even the most furious storm. At first the Church refused to concede its existence. Then, as the efficacy became widely recognized and more and more were installed, the orthodox took up cudgels against them. The earthquake of 1755 in Massachusetts was ascribed by them to the widespread use of Franklin’s rods in Boston, and preachers fulminated against those who attempted to control the artillery of the heavens. The opposition would undoubtedly have lasted longer but for the fact that churches without lightning rods were frequently devastated by lightning. In Germany, in the period  between 1750 and 1783 alone about 400 church towers had been damaged and 120 bell ringers killed by lightning. On the other hand, the town brothel , with its protruding I lightning rod, stood smug and safe even in the worst of storms. The few churches which had installed rods were never touched. And so, grudgingly to be sure, lightning rods received the Holy Sanction and were used to protect most churches by the end of the century.

            When Immanuel Kant presented the theory that there exist nebula as well as stars, throughout the theological world there was an outcry  against such “atheism”. The rigidly orthodox saw no place for it in the Scriptures. Hence nebula should not exist. These opponents of nebular theory were overjoyed when improved telescopes showed that some patches of nebular matter could indeed be resolved into stars. But with time came the discovery of the spectroscope and spectrum analysis; the light from the nebula was clearly from gaseous matter. And so the orthodox were ultimately forced to retreat.1

 

1.www.alislam.org/egazette/articles/Andrew-Dickson-White-200907.pdf

[29-03-2010]

            مذہبی یونانی عیسوی سائنس اور جدید سائنس کے درمیان کلیسا کی سرپرستی میں لڑی جانے والی جنگ کی ہولناک داستانAndrew Dickson Whiteکی دو جلدوں پر مشتمل کتاب:    History of the Warfare of Science & Theology in Christendom میں پڑھی جاسکتی ہے ،یہ کتاب ١٨٩٦ء میں  نے تحریر کی گئی تھی ۔اینڈریو ڈکسن کی کتاب کے چند اہم مضامین کی فہرست یہ ہے:

1- From Creation to Evolution. 2- Geography, 3-Astronomy, 4-From “signs and wonders” to law in the Heaven, 5- From Genesis to Geology; 6-The Antiquity of man, Egyptology and Assyriology.

اس کتاب کا مطالعہ ان لوگوں کے لیے لازمی ہے جو اسلام اور سائنس میں تطبیق پیدا کرنے کے لیے شب و روز کوشاں ہیں ۔ ١

            عالم اسلام پر اللہ کا احسان تھا کہ امام غزالی نے مذہب اور سائنس کی تطبیق کی معتزلی تحریک کو علمی بنیادوں پر شکست دے دی۔ ورنہ عالم اسلام کا بھی وہی انجام ہوتا جو عالم عیسائیت کا ہوا ۔چونکہ کلیسا خود مذہبی سائنسی نظریات کا حامل تھا لہٰذا اس کے مذہبی سائنسی نظریات جو اصلاً یونانی سائنسی نظریات تھے مسلسل جدید سائنس سے متصادم رہے اور آخر کار یونانی سائنس اور کلیسا ایک ساتھ منہدم ہوگئے۔

دو ہزار سال بعد کلیسا کی معذرت خواہی:

            دو ہزار سال تک سائنس، فلسفے اور منطق سے عیسوی مذہب کی تطبیق اس کے وجود کے لیے سنگین خطرہ بن گئی تب پوپ جان پال دوم نے وہ معذرت جاری کی جو گزشتہ اوراق میں نقل کی گئی ہے جس میں اعتراف کیا کہ ہر زمانے اور عہد کا اپنا سائنسی نظام ہوتا ہے اس سائنسی نظام کے عقیدے سے کلیسا کو الگ رہنا چاہیے۔ اس طرح کلیسا نے ایک مرتبہ پھر دنیا کے امور سے الگ ہو کر دین و دنیا کی تفریق گوارا کرلی، صدیوں پہلے کلیسا نے City of God اور City of Man کے فلسفے کے تحت

مادی دنیا اور روحانی دنیا کو دو الگ حصوں میں تقسیم کر کے دین کو دنیا سے الگ کیا ،مادی ،دنیاوی، تجربی اور حسی امور میں سلطنت رومة الکبریٰ کو تمام اختیارات سونپ دیے اور روحانی معاملات میں صرف کلیسا طاقت کا واحد اور آخری سرچشمہ قرار پایا۔ پھر طاقت کے نشے میں سرشار ہو کر کلیسا نے دنیا کے امور میں مداخلت کی اور دنیا کی منطق، فلسفے اورسائنس کو عیسائیت میں شامل کرلیا اور جب دنیا نے انھیں شکست دے دی تو دوبارہ دنیا سے علیحدگی اختیار کرلی۔ یعنی رہبانیت ،جس کا حکم اللہ نے انھیں نہیں دیا تھا۔ گیلی لیو   کی پھانسی سے متعلق کلیسا کا رویہ اپنے عہد کے سائنسی آرا و افکار سے متصادم تھا اگر کلیسا اس معاملے کامحض ایک عقلی ،حسی اورتجزیاتی سرگرمی کے طور پر جائزہ لیتا تو کوئی مضائقہ نہ تھا نہ کہ اس معاملے میں حتمی مذہبی

   ١  یہ کتاب  www.questia.comیا www.archive.org پر مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔

فیصلے اور وہ بھی مسترد شدہ یونانی سائنسی بنیادوں پر مسلط کیے گئے۔ اپنے معذرت نامے میں پوپ نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ کلیسا کے افکاراور ردعمل غلط تھے، ایک مرتبہ پھر پوپ کے الفاظ پڑھیے:

“The Church learns to dissociate the essential of the faith from the scientific system of a given age”.

یہ معذرت بھی تین سو پچاس سال کے بعد پیش کی گئی جب معذرت طلب کرنے والا کوئی نہیں تھا، اس غیر دانش مندانہ اور غیر دینی رویے کے باعث سائنس اور اس کی دنیا کے لیے مغرب میں کلیسا ایک غیر اہم ادارہ ہوگیا یہ بات تسلیم کرلی گئی کہ اس دنیا کے امور سے مذہب کا کوئی تعلق نہیں یہ ایک الگ دنیا ہے۔ کلیسا نے بھی اس موقف کو اپنی پے درپے شکستوں کے بعد طوعاً و کرہاً قبول کرلیا۔

کلیسا کی یونانی عقلیت سے مرعوبیت:

            چرچ فادرز نے سقراط، بقراط ،ارسطوکے یونانی فلسفے سے متاثر ہو کر عقلیت کی بنیاد پر عالمگیر سچائیوں کو جاننے کے لیے فرد کو اس کی ذات سے ماورا ہو کر سچ کی تلاش کا طریقہ بتانے کی کوشش کی، فلسفۂ یونان میں اپنی ذات زمان و مکان سے اوپر اٹھنا صرف عقل کے ذریعے ہی ممکن تھا کیونکہ عقلیت ہی معروضیت [Objectivity]اورآفاقیت کی طرف رہنمائی کرتی تھی لہٰذا انھوں نے نقلی دلائل کے بجائے عقلی دلائل کو فوقیت دی مگر اس سوال پر غور نہیں کیا کہ عقل کے ذریعے اگر علم حاصل کرلیا جائے تو اس کی غیر جانبداری اور صداقت جانچنے کا پیمانہ ،منہاج اورمعیار کیا ہوگا؟ ظاہر ہے اس کا منہاج عقل ہی ہوگا لہٰذا مذہبی امور میں بھی نہایت خاموشی کے ساتھ عقل نص قرار پائی یعنی نص ]وحی[ [Revealed Text] کی جگہ نفس [Self] نے لے لی اور عملاً وحی الہٰی پیغمبر باطن] عقل[ سے کمتر قرار پائی، اگرچہ فکری و نظری اور اصولی سطح پر وحی کو فوقیت دی گئی لیکن عملی سطح پر وحی عیسائی معاشرت اور تہذیب سے بے دخل ہوگئی۔

عقل سے معروضی علم کے حصول کے امکان کا دعویٰ: کلیسا:

            فلاسفہ یونان اور ان کے تتبع میں چرچ فادرز کا خیال تھا کہ عقل کے ذریعے بھی معروضی علم [objective knowledge] کا حصول ممکن ہے اس عقلی منہاج کے ذریعے ایک فرد اپنی تاریخ  اپنے زمان و مکاں، تہذیب اور جذبات سے ماورا اور غیر جانبدار [neutral]  ہو کر سوچ سکتا ہے اور اس معروضیت سے حقیقت الحقائق کا ادراک کرسکتاہے، عقل کے بارے میں اس نقطۂ نظر کے باوجود تمام روایتی فکر [traditional thought] گریکو رومن تھاٹ[Greeko Roman Thought] اور Scholistic Thought  کسی بھی علم سے ما بعد الطبیعیات کو منہا کر کے کسی قسم کے نتائج حاصل کرنے کا کوئی تصور نہیں رکھتے تھے، ان تہذیبوں میں موجود سائنس بھی مقصد[purpose] اور منزل[Tilos] کے تعین کے ساتھ تخلیق ہوتی تھی، جس کی بنیادیں ما بعد الطبیعیات سے ہی نکلتی تھیں، ارسطوجب مشاہداتی تجزیے[Observational Analysis]کی بات کرتا ہے، تو اس سے مراد جزئیات کا علم نہیں ہوتا وہ plurality of causation کا قائل ہے اورآخری سبب Final Cause  کو سب سے اہم سمجھتا تھا یعنی مقصد purpose  خیر، ہمیشہ ما بعد الطبیعیات سے آتا ہے صرف ارسطو ہی نہیں تمام روایتی تہذیبوں میں ما بعد الطبیعیات کے بغیر سائنس و ٹکنالوجی کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا تھا۔ونگٹسٹائن کے الفاظ میں مقصد ہمیشہ باہر سے آتاہے، ارسطو کے مشاہداتی تجزیات کے مطابق ما بعد الطبیعیات کو منہا کرکے کوئی نتیجہ نہیںنکالا جاسکتا تمام قدیم تہذیبیں اپنے تمام امور، علوم، شعبہ ہائے زندگی طور طریقے ما بعد الطبیعیات سے حاصل شدہ علمیت کی روشنی میں انجام دیتے تھے۔

سائنسی تجربات ما بعد الطبیعیات سے آزاد:جدید سائنس کا مہمل دعویٰ:

            جدید سائنس کا دعویٰ تھا کہ وہ ما بعد الطبیعیات سے ہٹ کر آزادانہ طور پر سائنسی تجربات سے مشاہدات اخذ کرکے نتائج حاصل کرتی ہے حالانکہ یہ ایک جھوٹا دعویٰ تھا جو آخر کار مغرب میں رد ہوگیا۔یہ مفروضہ جو جدیدسائنس اپنے معروضی علم ہونے کی طاقت ورترین دلیل کے طو رپر بیان کرتی تھی فی الحقیقت ایک جھوٹا دعویٰ تھا جدید سائنس کا پورا تانا بانا خاص فلسفے، تاریخ و تہذیب ،مخصوص اہداف اور ما بعد الطبیعیات سے بر آمد ہوا ہے جو آزادی [Freedom] اور ترقی[Development]بذریعہ سرمایہ [Capital] کی تثلیث سے ابھرتا ہے۔ کمال یہ ہے کہ جدید سائنس کی ما بعد الطبیعیات بہ ظاہر نظر نہیں آتی لیکن اس کے باطن میں پیوست ہے، اس کی ما بعد الطبیعیات اندرون [Implicit] میں پوشیدہ ہے بیرون [Explicit] میں ظاہر نہیں ہے ،ارسطو سمیت تمام روایتی تہذیبوں کی ما بعد الطبیعیات دیکھی اور دکھائی جاسکتی ہے مگر جدید سائنس کی ما بعد الطبیعیات اس کے باطن میں اس طرح مکین، مضمر، مخفی، محدود، محفوظ اور مقید ہے کہ اسے دیکھنا اور دکھاناان لوگوں کے لیے مشکل ترین کام ہے۔جو اس سائنس کے کرشموں سے مسحور ہو کر زماں و مکاں سے ماورا ہونے کے قابل ہی نہیں رہے ۔

مغرب: تاریخ کی جنونی تہذیب:

            دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ نفسیاتی مریض، پاگل ، بھیانک بیماریوں کے اعداد و شمار مغرب میں ملتے ہیں، یہ آزادی بے تحاشہ سائنسی ترقی بذریعہ سرمایہ داری اور اس مصنوعی فطرت دشمن، غیر حقیقی زندگی اور ترقی کا بد یہی نتیجہ ہے۔ اس جدید طرزِ زندگی ان جدید مصنوعی جعلی، جھوٹی، غیر فطری، غیر حقیقی اقدار کو ترک کرتے ہی پاگلوں اور جنونیوں کی تعداد لمحوں میں ختم ہو سکتی ہے۔ان بیماریوں کے سب سے زیادہ ڈاکٹر یعنی ماہرین نفسیات کی سب سے بڑی تعداد مغرب میں ہے۔ [Thearapeutic Culture]کا مسکن مغرب ہے یہ نفسیات داں لوگوں کو آزادی کے آزار [Agony of Freedom] سے نجات دلانے کا کام مزید آزادی [More Freedom] یعنی آزادی کے مزید ذرائع[more resources for Freedom] مہیا کرکے وسیع کرتے ہیں۔

کیسا خدا کیسا نبی…پیسہ خدا پیسہ نبی:

             جدید مغربی تصور آزادی اور ترقی کا غیر مادی تصور ممکن ہی نہیں اس مادی تصور کے اظہار کی ایک ہی صورت ہے: مارکیٹ  جہاں سرمایہ [Capital]کے بغیر آزادی اور ترقی کا اظہار نہیں ہوسکتا لہٰذا سرمایہ [Capital] ہی اس دور کا سچ ، حق اور خیر بن چکا ہے، سرمایہ اور آزادی براہ راست متناسب ہیں ، سرمائے کے بغیر آزادی نہیں ملتی اور آزادی کے بغیر سرمایہ نہیں ملتا اور ایسی آزادی جس سے لطف اٹھانے کے لیے سرمایہ نہ ہو آزادی نہیں غلامی ہے، لہٰذا دنیا کے ہر فرد کی بنیادی ذمے داری کام کرکے سرمایہ جمع کرنا ہے تاکہ وہ آزادی، لطف اورلذت میں اضافہ کرسکے اور سائنس سرمایہ کے حصول کی سب سے بڑی محافظ ہے۔

            تمام رشتے اور تعلقات، تمام محبتیں صرف اور صرف سرمایے کے منہاج پر پرکھی جارہی ہیں، ہر تعلق پیسے سے شروع ہو کر پیسے پر ختم ہورہاہے، ہم مارکیٹ سوسائٹی میں رہ رہے ہیں ،دفتر، اسکول اور گھر سے لے کر ہماری خواب گاہ تک چوبیس گھنٹے  ہم مارکیٹ میں زندگی بسر کرتے اور ہر وقت کچھ نہ کچھ خریدتے اور بیچتے رہتے  یا خریدنے اور بیچنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں، لیکن ہمیں اس کا نہ علم ہوتا ہے نہ اندازہ۔ اس جبر کی ایسی ایسی صورتیں ہیں کہ انسان غور کرے تو دنگ رہ جائے کہ اسے کس کس طرح اور کیسی کیسی سنہری  وروپہلی زنجیروں میں جکڑا گیا ہے زنجیر سنہری ہو یا لوہے کی بہر حال وہ ہوتی زنجیر ہی ہے۔

عیسائیت کا المیہ اور اسلام کا امتیاز:

             عیسائیت کا المیہ یہ تھاکہ Church Fathers کے ذریعے جو فلسفی بھی تھے ،یونانی فلسفہ اور قدیم سائنس مذہبی پیرائے میں عیسوی دینی تعلیمات و اعتقادات میں داخل ہوچکی تھی۔ عیسائیت کی شکست و ریخت کا سبب یہ تھا کہ وہاں کوئی امام غزالی پیدا نہ ہوا جو علما کو سائنس اور فلسفے کے رعب سے نکالتا -دین کی تشریح و توجیہہ سائنسی و فلسفیانہ مناہج میں کرنے سے روکتا اور اس کے مضر اور دوررس اثرات سے آگاہ کرتا، سائنس اور فلسفے کے تال میل سے عیسائیت کو جو عارضی اور فوری فوائد پہنچے اور ان اتفاقی فوائد کا دائرہ اٹھارہ صدیوں تک موثر رہا آخر کار شدید خسارے میں تبدیل ہوگیا۔ اصول کے بجائے فوری فائدے Pragmatism اور Utilitarianism کی بنیاد پر اچھے سے اچھے مقصد کا حصول بھی بالآخر خطرناک گمراہیوں پر ختم ہوتا ہے حتیٰ کہ مذہب خود سوال بن جاتا ہے۔ عیسائیت کے ساتھ یہی ہوا لہٰذا عیسائیت میں جنگ مذہب اور سائنس کے مابین نہیںاصلاً جنگ قدیم سائنس و جدید سائنس کی تھی جو علوم عقلیہ میں کلیسا کی غلط طریقے سے شمولیت، جلد بازی، عاقبت نااندیشی اور عقلی علوم سے مرعوبیت کے  باعث مذہب و سائنس کی جنگ میں تبدیل ہوگئی۔ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان یہ تھا کہ امام غزالی  اور حافظ ابن تیمیہ نے اسلامی علمیت میں سائنس و فلسفہ کے قضایا کے داخل ہونے کا راستہ قیامت تک بند کر دیا۔

کاپرنیکس اور اس عہد کے غالب سائنسی نظریات کی کش مکش:

            سترہویں صدی میں کاپرنیکس نے کہا زمین کو ساکن سمجھنا اسے مرکز کائنات قرار دینا درست علمی طریقہ نہیں ہے زمین محو گردش ہے جب کہ سورج ساکن ہے ،اس کے خیال میں زمین کے ساکن ہونے کے فلسفے کا ریاضیاتی تاثر ٹھیک نہیں بلکہ غلط تھا جب اس سے پوچھا گیا کہ مسئلے کا حل کیا ہے تو اس نے بتایا کہ زمین محورنہیں سورج محور و مرکز کائنات ہے، زمین اس کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس نے یہ موقف ریاضی سے ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن یہ تصور علمیت اس دور کے عام آدمی، اس عہد کی غالب مذہبی علمیت، اس دور کے سائنسی تجربات، مشاہدات  اور فلسفہ و سائنس کے نظریات کے خلاف تھا۔ ہر شخص اپنی آنکھ سے سورج اورچاند کو گردش کرتے ہوئے اور زمین کو ساکن محسوس کر رہا تھا۔ محسوسات، مشاہدات اور تجربات سے یہی معلوم ہوتا تھا کہ فی الواقع زمین ساکن ہے لیکن کاپرنیکس نےBold Conjecture کے ذریعے اس عہد کی غالب علمیت [Causious Conjecture] کو دعوت مبازرت دی۔ کاپرنیکس اس عہد کی غالب فلسفیانہ مذہبی اور سائنسی علمیت کے سامنے تنہا کھڑا تھا اس نے زمین کے ساکن ہونے کی تردید کی تو اس عہد کے سائنس دانوں نے جو کلیسا کے ساتھ تھے ، کاپرنیکس کے ان علمی دعووئوں کو مختلف تجربی، علمی، عملی، اختباری، منطقی، عقلی سائنسی اور مذہبی دلائل سے رد کیا،مثلاً [Wheel Argument] پہیہ گھمایا گیا چیزیں گر گئیں، یہی چیزیں جب زمین پر رکھی گئیں تو نہیں گریں، کاپرنیکس سے پوچھا گیا کہ اگر زمین حرکت میںہے تو چیزیں ساکن کیوں ہیں؟  مشاہدہ کاپر نیکس کے دعوے کی عملی نفی کررہا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ صرف مشاہدے کی بنیاد پر حاصل علم بھی ظنی، قیاسی، غیر حقیقی اور غیر قطعی ہوتاہے۔کاپرنیکس صحیح بات کہہ رہا تھا لیکن اس کی پشت پر وہ سائنسی نظریات اور وہ پیچیدہ سائنسی ڈھانچے [complex structure] نہیں تھے جو ایک بہت بڑی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ کاپر نیکس نے کہا چونکہ زمین کا محیط بہت بڑاہے اس لیے چیزیں نہیں گر رہیں، ورنہ فی الحقیقت زمین گردش کر رہی ہے۔ کاپرنیکس کے رد میں دوسری مضبوط ترین دلیل Tower & Foot Argument کے ذریعے دی گئی۔ ایک بہت اونچا مینار بنا کر اس کی چوٹی سے لوہے کا گولہ زمین پر پھینکا گیا ،وہ مینار کے قدم [Foot] پر گرا، کاپرنیکس سے پوچھا گیا اگر زمین حرکت میںہے تو گولے کو مینار کے قدم [Foot] پر نہیں گرنا چاہیے۔ پس ثابت ہوا کہ زمین نے بالکل حرکت نہیں کی۔ کاپرنیکس سے پوچھا گیا گولا مینار کے قدم [Foot] پر کیوں گرا کاپر نیکس خاموش ہوگیا۔ لہٰذا کاپرنیکس کو محض عقل، فلسفے، منطق، تجربے اور مشاہدے کی بنا پر نہیں بلکہ اس عہد کے غالب نظام علمیت سے اخذ شدہ تصورات، نظریات، افکار اور تجربات نے شکست دے دی۔ کاپرنیکس جس حقیقت [Fact] کو اپنے علم و یقین کی بنیاد پر بیان کر رہا تھا اسے تجربات کی سطح پر بیان کرنے سے قاصر رہا۔ اس کا تصور علم اس عہد کے غالب نظام علمیت سے ہم آہنگ نہ تھا۔ اس عہد کی غالب علمیت باطل تھی لیکن اپنے حق ہونے کے مضبوط علمی ، عقلی ،سائنسی اورمنطقی فلسفیانہ اور مذہبی دلائل رکھتی تھی لیکن اس عہد کا سچ سچ ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ثابت نہیں کرسکا۔ اس حق کو ثبوتِ حق کے لیے نیوٹن کا انتظار کرنا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ دو ہزار سال تک حرکت کا ایک باطل نظریہ پوری دنیا پر حکومت کرتا رہا تو اس سے انسانوں پر اور تاریخ کی رفتار پر کیا فرق پڑا؟ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی چیز کو ثابت نہ کیا جاسکے، دکھایا نہ جاسکے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ شے وجود نہیں رکھتی یا وہ حقیقت ،حقیقت نہیں ہوتی۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ محض مشاہدات کی بنیاد پر حاصل کردہ علم قطعاً قابل اعتبار نہیںہوتا، صرف کسی خاص حد تک اس کو اعتبار کے قابل سمجھا جاسکتا ہے،مثلاً اگر پانی کے گلاس میں قلم ڈال دیا جائے توقلم ٹیڑھا نظر آئے گا حالانکہ فی الحقیقت وہ سیدھاہوتا ہے، یعنی صرف مشاہدہ و تجربہ سے حقیقت تک پہنچنے کا سائنسی خیال درست نہیں ہے کیونکہ انسان کا علم، عقل، تجربہ اورحواس نہایت محدود دائرے میں کام کرتے ہیں۔ یہاں اس معاملے کی مزید تفصیل فلسفۂ سائنس کے مؤرّخ اور مفکر A.F. Chalmers کے الفاظ میں پڑھیے:

            It was generally accepted in mediaeval Europe that the earth lies at the centre of a finite universe and that the sun, planets and stars orbit around it. The physics and cosmology that provided the framework in which this astronomy was set was basically that developed by Aristotle in the fourth century B.C. In the second century A.D., Ptolemy devised a detailed astronomical system that specified the orbits of the moon, the sun and all the planets.

            In the early decades of the sixteenth century, Copernicus devised a new astronomy, an astronomy involving a moving earth, which challenged the Aristotelian and Ptolemaic system. According to the Copernican view, the earth is not stationary at the centre of the universe but orbits the sun along with the planets. By the time Copernicus’s idea had been substantiated, the Aristotelian world view had been replaced by the Newtonian one. The details of the story of this major theory change, a change that took place over one and a half centuries.

            When Copernicus first published the details of his new astronomy, in 1543, there were many arguments that could be, and were, levelled against it. Relative to the scientific knowledge of the time, these arguments were sound ones and Copernicus could not satisfactorily defend his theory against them. In order to appreciate this situation, it is necessary to be familiar with some aspects of the Aristotelian world view on which the arguments against Copernicus were based. A very brief sketch of some of the relevant points follows:

            The Aristotelian universe was divided into two distinct regions. The sub-lunar region was the inner region, extending from the central earth to just inside the moon’s orbit. The super-lunar region was the remainder of the finite universe, extending from the moon’s orbit to the sphere of the stars, which marked the outer boundary of the universe. Nothing existed beyond the outer sphere, not even space. Unfilled space is an impossibility in the Aristotelian system. All celestial objects in the super-lunar region were made of an incorruptible element called aether. Aether possessed a natural propensity to move around the centre of the universe in perfect circles. This basic idea became modified and extended in Ptolemy’s astronomy. Since observations of planetary positions at various times could not be reconciled with circular, earth-centred orbits, Ptolemy introduced further circles, called epicycles, into the system. Planets moved in circles, or epicycles, the centres of which moved in circles around the earth. The orbits could be further refined by adding epicycles to epicycles etc. in such a way that the resulting system was compatible with observations of planetary positions and capable of predicting future planetary positions.

            In contrast to the orderly, regular, incorruptible character of the super-lunar region, the sub-lunar region was marked by change, growth and decay, generation and corruption. All substances in the sub-lunar region were mixtures of four elements air, earth, fire and water, and the relative proportions of elements in a mixture determined the properties of the substance so constituted. Each element had a natural place in the universe. The natural place for earth was at the centre of the universe; for water on the surface of the earth; for air, in the region immediately above the surface of the earth; and for fire, at the top of the atmosphere, close to the moon’s orbit. Consequently, each earthly object would have a natural place in the sub-lunar region depending on the relative proportion of the four elements that it contained. Stones, being mostly earth, have a natural place near the centre of the earth, while flames, being mostly fire, have a natural place near to the moon’s orbit, and so on. All objects have a propensity to move in straight lines, upwards or downwards, towards their natural place. Thus stones have a natural motion straight downwards, towards the centre of the earth, and flames have a natural motion straight upwards, away from the centre of the earth. All motions other than natural motions require a cause. For instance, arrows need to be propelled by a bow and chariots need to be drawn by horses.

            These, then, are the bare bones of the Aristotelian mechanics and cosmology that were presupposed by contemporaries of Copernicus, and which were utilized in arguments against a moving earth. Let us look at some of the forceful arguments against the Copernican system.

            Perhaps the argument that constituted the most serious threat to Copernicus was the so-called tower argument. It runs as follows. If the earth spins on its axis, as Copernicus had it, then any point on the earth’s surface will move a considerable distance in a second. If a stone is dropped from the top of a tower erected on the moving earth, it will execute its natural motion and fan towards the centre of the earth. While it is doing so the tower will be sharing the motion of the earth, due to its spinning. Consequently, by the time the stone reaches the surface of the earth the tower will have moved around from the position it occupied at the beginning of the stone’s downward journey. The stone should therefore strike the ground some distance from the foot of the tower. But this does not happen in practice. The stones strikes the ground at the base of the tower. It follows that the earth cannot be spinning and that Copernicus’s theory is false.

            Another mechanical argument against Copernicus concerns loose objects such as stones, philosophers, etc. resting on the surface of the earth. If the earth spins, why are such objects not flung from the earth’s surface, as stones would be flung from the rim of a rotating wheel? And if the earth, as well as spinning, moves bodily around the sun, why doesn’t it leave the moon behind?

            Some arguments against Copernicus based on astronomical considerations have been mentioned earlier in this book. They involved the absence of parallax in the observed positions of the stars and the fact that Mars and Venus, as viewed by the naked eye, do not change size appreciably during the course of the year.

            Because of the arguments I have mentioned, and others like them, the supporters of the Copernican theory were faced with serious difficulties. Copernicus himself was very much immersed in Aristotelian metaphysics and had no adequate response to them.

            In view of the strength of the case against Copernicus, it might well be asked just what there was to be said in favour of the Copernican theory in 1543. The answer is, “not very much”, The main attraction of the Copernican theory lay in the neat way it explained a number of features of planetary motion, which could be explained in the rival Ptolemaic theory only in an unattractive, artificial way. The features are the retrograde motion of the planets and the fact that, unlike the other planets, Mercury and Venus always remain in the proximity of the sun. A planet at regular intervals regresses, that is, stops its westward motion among the stars (as viewed from earth) and for a short time retraces its path eastward before continuing its journey westward once again. In the Ptolemaic system, retrograde motion was explained by the somewhat ad hoc manoeuvre of adding epicycles especially designed for the purpose. In the Copernican system, no such artificial move is necessary. Retrograde motion is a natural consequence of the fact that the earth and the planets together orbit the sun against the background of the fixed stars. Similar remarks apply to the problem of the constant proximity of the sun, Mercury and Venus. This is a natural consequence of the Copernican system once it is established that the orbits of Mercury and Venus are inside that of the earth. In the Ptolemaic system, the orbits of the sun, Mercury and Venus have to be artificially linked together to achieve the required result.

            There were some mathematical features of the Copernican theory that were in its favour, then a part from these, the two rival systems were more or less on a par as far as simplicity and accord with observations of planetary positions are concerned. Circular  sun-centred orbits cannot be reconciled with observation, so that Copernicus, like Ptolemy, needed to add epicycles and the total number of epicycles needed to produce orbits in accord with known observations was about the same for the two systems. In 1543, the arguments from mathematical simplicity that worked in favour of Copernicus could not be regarded as an adequate counter to the mechanical and astronomica; arguments that worked against him. Nevertheless, a number of mathematically capable natural philosophers were to be attracted to the Copernican system, and their efforts to defend it became increasingly successful over the next hundred years or so.

            The person who contributed most significantly to the defence of the Copernican system was Galileo. He did so in two ways. Firstly, he used a telescope to observe the heavens, and in so doing he transformed the observational data that the Copernican theory was required ‘to explain.’ Secondly, he devised the beginnings of a new mechanics that was to replace Aristotelian mechanics and with reference to which the mechanical arguments against Copernicus were defused.

            When, in 1609, Galileo constructed his first telescopes and trained them on the heavens, he made dramatic discoveries. He saw that there were many stars invisible to the naked eye. He saw that Jupiter had moons and he saw that the surface of the earth’s moon was covered with mountains and craters. He also observed that the apparent size of Mars and Venus, as viewed through the telescope, changed in the way predicted by the Copernican system. Later, Galileo was to confirm that Venus had phases like the moon, as Copernicus had predicted but which clashed with Ptolemy’s system. The moons of Jupiter defused the Aristotelian argument against Copernicus based on the fact that the moon stays with an allegedly moving earth. For now Aristotelians were faced with the same problem with respect to Jupiter and its moons. The earthlike surface of the moon undermined the Aristotelian distinction between the perfect, incorruptible heavens and the changing, corruptible earth. The discovery of the phases of Venus marked a success for the Copernicans and a new problem for the Ptolemaics. It is undeniable that once the observations made by Galileo through his telescope are accepted, the difficulties facing the Copernican theory are diminished.

            The foregoing remarks on Galileo and the telescope raise a serious epistemological problem. Why should observations through, a telescope be preferred to naked-eye observations? One answer to this question might utilize an optical theory of the telescope that explains its magnifying properties and that also gives an account of the various aberrations to which we can expect telescopic images to be subject. But Galileo himself did not utilize an optical theory for that purpose. The first optical theory capable of giving support in this direction was devised by Galile’s contemporary, Kepler, early in the sixteenth century, and this theory was improved and augmented in later decades. A second way of facing our question concerning the superiority of telescopic to naked-eye observations is to demonstrate the effectiveness of the telescope in a practical way, by focusing it on distant towers, ships, etc. and demonstrating how the instrument magnifies and renders objects more distinctly visible. However, there is a difficulty with this kind of justification of the use of the telescope in astronomy. When terrestrial objects are viewed through a telescope, it is possible to separate the viewed object from aberrations contributed by the telescope because of the observer’s familiarity with what a tower, a ship, etc. looks like. This does not apply when an observer searches the heavens for he knows not what. It is significant in this respect that Galileo’s drawing of the moon’s surface as he saw it through a telescope contains some craters that do not in fact exist there. Presumably those “craters” were aberrations arising from the functioning of Galileo’s far-from-perfect telescopes. Enough has been said in this paragraph to indicate that the justification of telescopic observations was no simple, straightfoward matter. Those adversaries of Galileo who queried his findings were not all stupid, stubborn reactionaries. Justifications were forthcoming, and became more and more adequate as better and better telescopes were constructed and as optical theories of their functioning were developed. But all this took time.

            Galileo’s greatest contribution to science was his work in mechanics. He laid some of the foundations of the Newtonian mechanics that was to replace Aristotle’s. He distinguished clearly between velocity and acceleration and asserted that freely falling objects move with a constant acceleration that is independent of their weight, dropping a distance proportional to the square of the time of fall. He denied the Aristotelian claim that all motion requires a cause and in its place proposed a circular law of inertia, according to which a moving object subject to no forces will move indefinitely in a circle around the earth at uniform speed. He analyzed projectile motion by resolving the motion of a projectile into a horizontal component moving with a constant velocity obeying his law of inertia, and a vertical component subject to a constant acceleration downwards. He showed that the resulting path of a projectile was a parabola. He developed the concept of relative motion and argued that the uniform motion of a system could not be detected by mechanical means without access to some reference point outside of the system.

            These major developments were not achieved instantaneously by Galileo. They emerged gradually over a period of half a century, culminating in his book Two New Sciences which was first published in 1638, almost a century after the publication of Copernicus’s major work. GaIiIeo rendered his new conceptions meaningful and increasingly more precise by means of illustrations and thought experiments. Occasionally, GaIiIeo described actual experiments, for instance, experiment involving the rolling of spheres down inclined planes, although just how many of these Galileo actually performed is a matter of some dispute.

            Galileo’s new mechanics enabled the Copernican system to be defended against some of the objections to it mentioned above. An object held at the top of a tower and sharing with the tower a circular motion around the earth’s centre will continue in that motion, along with the tower, after it is dropped and will consequently strike the ground at the foot of the tower, consistent with experience. Galileo took the argument further and claimed that the correctness of his law of inertia could be demonstrated by dropping a stone from the top of the mast of a uniformly moving ship and noting that it strikes the deck at the foot of the mast, although Galileo did not claim to have performed the experiment. Galileo was less successful in explaining why loose objects are not flung from the surface of a spinning earth, With hindsight, this can be attributed to the inadequacies of his principle of inertia and of his lack of a clear conception of gravity as a force.

            Although the bulk of Galileo’s scientific work was designed to strengthen the Copernican theory, Galileo did not himself devise a detailed astronomy, and seemed to follow the Aristotelians in their preference for circular orbits. It was Galileo’s contemporary, Kepler who contributed a major breakthrough in that direction when he discovered that each planetary orbit could be represented by a single ellipse, with the sun at one focus. This eliminated the complex system of epicycles that both Copernicus and Ptolemy had found necessary. No similar simplification is possible in the Ptolemaic, earth-centre system. Kepler had at his disposal Tycho Brahe’s recordings of planetetry positions, which were more accurate than those available to Copernicus. After a painstaking analysis of the data, Kepler arrived at his three laws of planetary motion, that planets move in elliptical orbits around the sun, that a line joining a planet to the sun sweeps out equal areas in equal times, and that the square of the period of a planet is proportional to the cube of its mean distance from the sun.

            Galileo and Kepler certainly strengthened the case in favour of the Copernican theory. However, more developments were necessary before that theory was securely based on a comprehensive physics. Newton was able to take advantage of the work of Galileo, Kepler and others to construct that comprehensive physics that he published in his Principia in 1687. He spelt out a clear conception of force as the cause of acceleration rather than motion, a conception that had been present in a somewhat confused way in the writings of Galileo and Kepler. Newton replaced Galileo’s law of circular inertia with his own law of linear inertia, according to which bodies continue to move in straight lines at uniform speed unless acted on by a force. Another major contribution by Newton was of course his law of gravitation. This enabled Newton to explain the approximate correctness of Kepler’s laws of planetary motion and Galileo’s law of free fall. In the Newtonian system, the realms of the celestial bodies and of earthly bodies were unified, each set of bodies moving under the influence of forces according to Newton’s laws of motion. Once Newton sphysics had been constituted, it was possible to apply it in detail to astronomy. It was possible, for instance, to investigate the details of the moon’s orbit, taking into account its finite size, the spin of the earth, the wobble of the earth upon its axis, and so on. It was also possible to investigate the departure of the planets from Kepler’s laws due to the finite mass of the sun, interplanetary forces, etc. Developments such as these were to occupy some of Newton’s Successors for the next couple of centuries.

            The story I have sketched here should be sufficient to indicate that the Copernican Revolution did not take place at the drop of a hat or two from the Leaning Tower of Pisa. It is also clear that neither the inductivists nor the falsificationists give an account of science that is compatible with it. New concepts of force and inertia did not come about as a result of careful observation and experiment. Nor did they come about through the falsification of bold conjectures and the continual replacement of one bold conjecture by another. Early formulations of the new theory, involving imperfectly formulated novel conceptions, were presevered with and developed in spite of apparent falsifications. It was only after a new system of physics had been devised, a process that involved the intellectual labour of many scientists over several centuries, that the new theory could be successfully matched with the results of observation and experiment in a detailed way. No account of science can be regarded as anywhere near adequate unless it can accommodate such factors.1

            کاپرنیکس کے بیان کردہ مفروضے اور اس کے اٹھائے گئے سوال کا جواب قانون انجذاب دے سکتا تھا لیکن اس وقت تک نیوٹن پیدا نہیں ہوا تھا۔ کاپرنیکس نے اپنے علم، یقین اور ریاضیاتی مہارت کے بل پر جو نتیجہ اخذ کیا تھا اس پر قائم رہا اس نے توبہ کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ پھانسی چڑھ گیااور موت قبول کی لیکن اپنے دعوے سے پیچھے نہیں ہٹا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ذاکر نائیک صاحب ٢٨٠ ق م سے لے کر پندرہویں صدی کے درمیان کسی بھی زمانے میں پیدا ہوجاتے تو یقینا وہ کاپرنیکس کی تردید فرماتے۔ وہ یہی کہتے کہ زمین ساکن ہے، یہ سائنسی حقیقت ہے، اسے فلسفہ بھی مانتا ہے، سائنس بھی، عیسائیت بھی، قرآن میں بھی ایسی کوئی آیت نہیںجو بہ ظاہر اس کے خلاف ہو یہ ایک ثابت شدہ ٹھوس سائنسی حقیقت ہے، اسے ماننا پڑے گا، ایسی حقیقت جو دو ہزار سال سے مسلسل ثابت شدہ ہے عقل، ریاضی، منطق کے ہر پیمانے پر پورا اترتی ہے یا وہ کہتے کہ نہیں ہم کسی ریاضی، سائنسی، منطقی حقیقت کو نہیں مانتے یا کہتے کہ قرآن کا ان مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ حقیقت دس ہزار سال تک بھی رہے تب بھی یہ حقیقت نہیں ہے۔ کیونکہ   سائنسی حقیقت کبھی بھی بدل جاتی ہے دو ہزار سال میں نہ بدلنے سے اس کا حق ، حتمی اور منطقی ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ حقیقت وہ ہے جو کبھی بدل نہیں سکتی اوراپنے ہونے کے لیے کسی دوسرے جواز کی محتاج نہیں ہوتی۔

سائنسی منہاج کی مکمل تردید و تصدیق نا ممکن: ساختی مکتب:

            آیے ایک اور سائنسی حقیقت کو دیکھتے ہیں، لے کاٹوش [Lakatos] اور کوہن [Kuhn] بتاتے ہیں، واضح رہے کہ دونوں مفکرین Structuralist ہیں، کہ سائنسی منہاج بڑے پیچیدہ اور گنجلک مناہج اور ڈھانچوں [Complex Paradiagms & Structures] پر مشتمل ہوتے ہیں۔ان دونوں کا خیال ہے کہ پاپر کے فلسفہ تردیدیت [Falsification Method] کے تحت کسی ایک تجربے سے کسی پہلے تجربے کو رد کیا جاسکتاہے لیکن اس کی بنیاد پر کسی منہاج علم کو کامل مسترد کرنا ممکن  نہیں،یہ دعویٰ کہ محض ایک تجربہ پورے نظریے کو غلط ثابت کرنے کے لیے کافی ہے درست نہیں۔ اصلاً نظریۂ استخراج و نظریۂ تردید یت کے باوجود علم کی دنیا میںکسی سائنسی نظریے کو نہ یقین سے قبول کیا جاسکتا ہے ، نہ یقین سے مسترد کرنا ممکن ہے۔کسی سائنسی نظریے کی توثیق اور تردید کے دعوے محض امکانی طور پر   قابل توثیق یا قابل تردید [probably verify] اور [probably falsify]  ہوتے

 

  1. A. F. Chalmers, What Is This Thing Called Science?: An Assessment of the Nature and Status of Science and its Methods, U.S.A.:Open University Press , 1988, pp. 67 -75.

 ہیں۔ ان کی بنیاد پر نہ کسی سائنسی حقیقت کو سچ ثابت کیا جاسکتا ہے نہ غلط۔Kuhn اور Lakatos کے خیال میں کسی بھی حقیقت کی صداقت اور اس کے دعوے اسی خاص منہاج کے اندر جانچے، پرکھے جاسکتے ہیں اور اس کی سچائی structually determind یعنی اسی ڈھانچے کے اندر متعین، مشخص اور معین ہوسکتی ہے۔ اس متعین مخصوص ڈھانچے، منہاج اور دائرے سے باہر نکلتے ہی سائنسی سچائی سچائی نہیں رہ جاتی۔ یعنی سائنسی سچائی اپنے منہاج کے باہر سچائی نہیں ہوتی۔بالفاظِ دیگر کسی نظریے کی مابعد الطبیعیات کو قبول کیے بغیر  اسے سچ تسلیم نہیں کیا جاسکتا، ایمانیات پہلے ہے عقلیت بعد میں ہے۔ ہر تعقل اپنے منہاج میں درست نظر آتا ہے۔ منہاج بدل جائے تو عقلی استدلال غیر عقلی معلوم ہوتا ہے ،جس طرح دو ہزار سال تک سورج متحرک اور زمین ساکن رہی لیکن دو ہزار سال کے بعد منہاج علم بدل گیا تو قدیم مذہبی علمی و عقلی دلائل مسترد ہوگئے۔

            جب کہا جاتا ہے کہ زمین گردش کر رہی ہے اوریہ ایک مسلمہ سائنسی نظریہ ہے تو یہ ایک سادہ بیان ہے جو سائنس سے کامل ناواقفیت پر مبنی ہے۔ یہ نظریہ  ایک نہیں کئی نظریوں[theories] کا مجموعہ ہے۔ کئی مناہج علم اس میں پیوست اور خلط ملط ہیں، ان کے آمیختے سے اس کا ظہور ہوا ہے۔اسی طرح کائنات کا محور و مرکز سورج ہے، یہ نتیجہ صرف کسی سادہ نظریہ کامرہون منت نہیں بلکہ کئی پیچیدہ ڈھانچوں [complex structure] کے ملاپ سے برآمد ہوا ہے،سورج کے مقام کا تعین صرف زمین کی گردش سے طے نہیں ہوگا۔ سورج اگر کائنات کا محور ہے تو اسے جاننے کے لیے کئی نظریوں کے آمیختے [combinations]سے گزرنا ہوگا۔ مثلاً :

Law of Inertia, Laws of Mechanics,  Laws of Energy, Laws of Statistics, Laws of Gravity, Laws of Optics, Law of Gravitational Forces, Laws of Thermodynamics, Laws of Quantum Electrodynamics.

جب یہ تمام نظریات ملیں گے، تب سورج کے محور کائنات ہونے کے بارے میں کسی نتیجے تک پہنچا جاسکتا ہے۔ یہ نتیجہ بھی سائنسی منہاج علم کے تناظر میں محض اضافی نتیجہ [relative] ہے، مطلق، قطعی، حتمی اور ابدی نہیں کیونکہ مستقبل میں نئی دریافتیں، نئے اصول اور نئے مناہج کی تخلیق کے نتیجے میں ممکن ہے کہ یہ تصور ہی باقی نہ رہے اور سورج بھی کسی اور سیارے،  اور قوت، کسی نئی اکائی، کسی نئے عنصر اور کسی نئے نظام پر منحصر ہوجائے جو فی الحال ہمارے محدود علم کی دسترس سے باہر ہے اور یہ سائنسی حقیقت ہی بدل جائے۔

            سائنسی حقیقت کے بدلنے یا نہ بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا دو ہزار سال تک ارسطو اور قدیم یونانیوں کا حرکت کے بارے میں غلط نظریہ پوری دنیا میں تسلیم کیا گیا تو اس سے کیا فرق پڑگیا ؟پھر نیوٹن سے آئن اسٹائن تک دوسو سال کے عرصے میں حرکت کے نظریات اور تصورات میں بنیادی تغیرات پیدا ہوئے تو اس کے نتیجے میں کائنات کی حقیقتوں پر کیا فرق پڑ گیا؟ سائنس اور فلسفہ کا اصول یہ ہے کہ وہ قدیم افکار و نظریات و تجربات کو رد کر کے آگے بڑھتے رہتے ہیں اور آئندہ بھی آگے بڑھتے رہیں گے۔ ہر فلسفی کا علم اور فلسفہ  دوادوار میں منقسم ہوتا ہے early اور later ،دوسرا دور کسی بھی مسئلے پر اس فلسفی کا آخری نقطہ نظر اس لیے سمجھا جاتا ہے کہ اس نظریے کے اظہار کے بعد فلسفی کو ارتقا ،رجوع، تنقیح اور تنقید کا موقع نہیں مل سکا۔ موت کا پنجہ اسے دبوچ لیتا ہے۔ حالانکہ اگر اسے زندگی ملتی تو عین ممکن تھا کہ وہ اپنے آخری نقطۂ نظر سے بھی رجوع کرلیتا ،اس کے آخریlater نقطۂ نظر کو اصلاً موت نے آخری نقطہ نظر بنا دیا،فلسفی کے علم اور یقین نے نہیں۔ یہ فلسفی کا موت کے سامنے عجز ہے اس کے علم اور عجز کا کمال نہیں۔

آئن اسٹائن کے نظریات: سائنسی دنیا میں انقلاب:

            آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت نے اس عہد کے زمان و مکان اور حرکت[Time, Space & Motion] سے متعلق مروجہ سائنسی نظریات سے یکسر مختلف نظریہ پیش کیا کچھ لوگوں کے خیال میں آئن اسٹائن کے نظریے نے نیوٹن کے افکارکو رد کردیا جبکہ کچھ ماہرین کے خیال میں آئن اسٹائن کا نظریہ اضافیت نیوٹن کے نظریات کی توسیع ہے، اگر نیوٹن نہ ہوتا تو آئن اسٹائن بھی نہ ہوتا، لیکن کیا آئن اسٹائن نے نظریہ اضافیت نیوٹن کی تردید میں پیش کیا؟ اور کیا یہ نظریہ تجرباتی، عملی بنیادوں پر پیش کیا گیا ؟یا فی الحقیقت آئن اسٹائن کا یہ نظریہ وجدانی، خیالی، ما بعد الطبیعیاتی فطری اور فلسفیانہ سطح پر سامنے لایا گیا؟کیا نظریہ اضافیت بالکل اسی طرح کا نظریہ تھا جس طرح کا پر نیکس نے سورج کے ساکن اور زمین کے مرکز کائنات ہونے سے متعلق سترہویں صدی میں پیش کیایعنی Bold Conjecture تاریخ کے مطابق؟ آئن اسٹائن نے ١٩٠٥ء میں زیورچ یونیورسٹی سوئٹزر لینڈ سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی اسی سال اس نے جرمنی کے وقیع علمی رسالے میں اپنے چار مقالات شائع کرائے ،یہ مقالات طبیعیات کے میدان میں حیران کن انکشافات سے معمور تھے، ان مقالات میں ایک مقالہ: On the Electrodynamics of Moving Bodies بھی شامل تھا جس میں آئن اسٹائن نے نظریہ اضافیت پر بحث کی تھی، تاریخ کے مطابق طبیعیات کی دنیا میں انقلاب پیدا کرنے والا یہ حیران کن مقالہ آئن اسٹائن نے محض سولہ سال کی عمر میں لکھا تھا، آئن اسٹائن نے General theory of Relalivity  پر ایک خصوصی مقالہ ١٩١٣ء میں شائع کرایا جب اس کی عمر صرف چوبیس برس تھی۔ نظریہ اضافیت پر آئن اسٹائن کا کام ١٩١٦ء میں تکمیل پذیر ہوا ‘جب اس نے اپنا وقیع مقالہ: The Foundation of the General Theory of Relativity  تحریر کیاتو اس وقت تک سائنس کی دنیا میں آئن اسٹائن کے انقلاب آفریں افکار اورتحقیقات کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی، ١٩١٩ء کے اواخر میں آئن اسٹائن کا نظریہ سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز اس وقت بنا ،جب مئی ١٩١٩ میں مکمل سورج گرہن [total Solar Eclipse] نے سائنس دانوں کو متوجہ کیا، سائنس دانوں کے ایک منتخب گروہ نے سورج گرہن کا مشاہدہ آئن اسٹائن کے نظریات کی روشنی میں کیا اور نومبر ١٩١٩ء میں رائل سوسائٹی آف لندن نے آئن اسٹائن کے نظریے کی روشنی میں سائنس دانوں کے پیش کردہ نتائج کی توثیق کا رسمی اعلان کردیا سائنس دانوں کے ان مشاہدات اور نتائج سے متعلق ایک مورخ لکھتاہے :

            These studies among other things showed Einstein’s prediction of cosmic significance, particularly the one relating to the bending of the ray of light when it passes near a massive star  turned out to be true.

سائنس دانو ںکا گروہ جس نے آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت کی تصدیق و توثیق کے لیے مطلوبہ معلومات اور اعداد و شمار [requisit data] مہیا کیے اس کی سربراہی ممتاز ماہر فلکیات ریاضی داں اور طبیعیات داں Sir. A. Stanley Eddington کررہے تھے۔ جنھوں نے پہلی مرتبہ نظریہ اضافیت کو انگریزی زبان میں منتقل کرنے کا فریضہ انجام دیا، ایڈنگٹن نے ١٩١٨ء میں فزیکل سوسائٹی لندن کی درخواست پر آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت پر ایک کتاب لکھی ١٩٢٣ء میں اس موضوع پر اس کی دوسری    کتاب:Mathametical Theory of Relativityمنظر عام پر آئی جس پر تبصرہ کرتے ہوئے آئن اسٹائن نے کہا تھا: 

 It is the finest presentation of the subject in any language.1

اس بحث کا مقصد یہ بات واضح کرنا ہے کہ بڑے بڑے سائنسی نظریے بھی پہلے صرف مفروضات کی سطح پر ہوتے ہیں تجربات، مشاہدات کے نتائج کی بنیاد پر اخذ نہیں کیے جاتے ،جیسے کہ آئن اسٹائن  کا نظریہ اضافیت جو ١٩١٣ء میں منظر عام پر آیا اور اس کی تصدیق و تائید ١٩١٩ء کے اواخر میں ہوسکی۔ نظریہ کسی اور نے پیش کیا اور اس کی تائید و توثیق دوسرے سائنس دانوں نے کی۔ نیوٹن کے قوانین کے مقابلے میں آئن اسٹائن کا نظریہ bold conjecture تھا جس نے اپنے عہد کے تسلیم شدہ نظریات causious conjecture کو مسترد کر دیا، لیکن جب آئن اسٹائن نے یہ نظریہ پیش کیا تو اس کے پاس اس کا کوئی عملی ثبوت نہیں تھا نہ وہ مطلوبہ معلومات [data] میسرتھیں جس کی بنا پر اس نظریے کی حقانیت کو جانچا جاسکتا تھا۔ نظریہ اس نے ١٩١٣ء میں پیش کیا اور چھ سال بعد سائنس دانوں کی ایک جماعت نے ایک مکمل سورج گرہن کے مطالعے و مشاہدے کے دوران اتفاقی طور پر آئن اسٹائن کے نظریات کو درست پایا۔ آئن اسٹائن کا وجدان، مکمل سورج گرہن کا مشاہدہ، سائنس دانوں کا اس مشاہدے کے نتائج کو ترتیب دیتے ہوئے آئن اسٹائن کے نظریات سے استفادہ،اس تجربے اور نظریے  کے مابین کچھ تعلق یہ سب اتفاقات یکجا ہوئے تو طبیعیات کی دنیا میں انقلاب آگیا۔ سائنس کا وجود اسی طریقے سے برآمد ہوتا ہے اور پھر اسی طریقے سے بدل جاتا ہے اور بدلتا رہتا ہے، لیکن سائنس کو مذہب پر قیاس کرنااور اس کے نظریات سے قرآن یا مذہبیات کی تشکیل و تعمیر کا کام لینا محض جدیدیت [Modernism]ہے۔ لہٰذا یہ تصور کرنا کہ سائنسی نظریے صرف مشاہدات اورتجربات کے بعد ظہور پذیر ہوتے ہیں اور سائنس کوئی نتیجہ دینے سے                            

 

  1. M. saeed shaikh, “Allama Iqbal’s Interest in Science”, in Iqbal Review, vol.30,No. 1, April-June, 1989, p.34.

 پہلے تمام تجربے کر گزرتی ہے ٹھیک نہیں ہے، مفروضات یا ما بعد الطبیعیات کے بغیر کوئی سائنسی نظریہ وجود نہیں رکھتا۔ اگر کوئی سائنس دان ان امور کا انکا رکردے تب بھی حقیقت میں ما بعد الطبیعیات کے بغیر کسی نظریے کا کوئی وجود نہیں ہوتا، خود آئن اسٹائن کا نظریہ اضافیت جس کے بارے میں اس کاذاتی خیال تھا کہ اس نظریے کی تشکیل و تعمیر میں مابعد الطبیعیات کا کوئی کردار نہیں، ١٩٢١ء میں آئن اسٹائن جب King’s College لندن میں ایک خطبہ دینے آیا تو اس نے Lord Haldane سے واضح الفاظ میں کہا :

He did not believe that his theory had any metaphysical implication.1

Lord Haldane نے اپنی کتاب:  Reign of Relativity میں آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت کے چند پہلوؤں کی ریاضیاتی تعبیر پیش کرنے کے بعد اسے بحیثیت مجموعی :

a compendium of Idealistic Metaphysics کے طور پر پیش کیا تھا Haldane نے اپنی کتاب کی تیسری اشاعت اگست ١٩٢١ء میں آئن اسٹائن اور اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے:

Revised a few of the unphilosophical paragrahs in the book.2

سائنس: قطعی یا ظنیت کا شاہکار؟:

             نیوٹن اور آئن اسٹائن نے سائنس پر کیا اثر ڈالا، ان کی تحقیقات کے ضمنی و ذیلی اثرات کیا ہوئے ؟ کیا دونوں کے نظریات نتائج حتمی، قطعی اور یقینی تھے ؟کیا آئن اسٹائن کے بعد طبیعیات میںمطلقیت اور قطعیت کا عنصر پیدا ہوسکا یا ابھی تک یہ علم قیاس  ، قیافہ، گمان، اندازوں اور اٹکل پچو طریقوں سے چل رہا ہے، کیا سائنس خاص ہے؟ کیا یہ الحق اور العلم ہے جو ناقابل تردید ہے؟ ایک ایسا علم جس کی نہ تردید ممکن ہے نہ تصدیق، کیا علم کہلاسکتا ہے ؟کیا سائنسی علم اور افریقہ کے جادوئی علم میں کوئی فرق نہیں ہے؟ سائنس کا کوئی عالمگیر تصور اور نظریہ وجود رکھتا ہے؟ سائنس کیا سرمایہ داری کے بغیر دوڑ سکتی ہے کیا سائنس کا مقصد صرف مادی دنیا کی تعمیر ہے یا کچھ اور؟ فلسفہ سائنس کے مفکر، چامر کا بیان پڑھیے جو بہت سے حقائق سے پردہ اٹھائے گا:

            If Einstein’s theory is applicable to the world, then under a wide variety of circumstances Newton’s theory is approximately applicable to it. For example, it can be shown, within Einstein’s theory, that if the velocity of a system with respect to a set of frames of reference is small, then the value

 

  1. Ibid., p.35. 2. Ibid., p.36.

of the mass of the system will be approximately the same, whichever reference frame in the set it is evaluated with reference to. Consequently, within that set of reference frames we will not go far wrong if we treat mass as if it were a property rather than a relation. Similarly, under the same conditions it can be shown from within Einstein’s theory that if we treat mass as a property then, within a particular reference frame from among the set, the sum of the product of mass and velocity for each part of the system will remain constant to a high degree of approximation. That is, from the point of view of Einstein’s theory, we can show that the Newtonian law of conservation of momentum will be approximately valid provided velocities are not too great.

            Again, we are forced to conclude that Newton’s theory cannot be adequately characterized in instrumentalist terms. On the other hand, it cannot he construed in typical realist terms either, since, from the point of view of Einstein’s theory, it does not correspond to the facts.

  1. Unrepresentative realism

            The physical world is such that Newtonian theory is approximately applicable to it under a wide variety of circumstances. The extent to which this is so can be understood in the light of Einstein’s theory. The approximate validity of Newtonian theory is to be tested under experimental conditions, although, if the world is such that Newton’s theory is applicable to it, it will continue to be so outside of experimental situations. Newton’s theory cannot be construed as corresponding to the facts but its applicability to the world must be understood in a stronger sense than is, captured by instrumentalism.

I suggest that all of these comments on the status of Newton’s theory must be accepted by a realist who subscribes to the correspondence theory of truth. Given this, and given the difficulties associated with the correspondence theory of truth discussed in the previous section, the path to my own position is fairly straightforward. In involves treating all physical theories in the way that the above discussion had led us to treat Newton’s theory.

            From the point of view I wish to defend, the physical world is such that our current physical theories are applicable to it to some degree, and in general, to a degree that exceeds that of its predecessors in most respects. The aim of physics will; be to establish the limits of applicability of current theories and to develop theories that are applicable to the world to a greater degree of approximation under a wider variety of circumstances.  I will call such a view as this unrepresentative realism.

            Unrepresentative realism is realist in two senses. Firstly, it involves the assumption that the physical world is the way it is independently of our knowledge of it. The world is the way it is whatever individuals or groups of individuals may think about the matter. Secondly, it is realist because it involves the assumption that, to the extent that theories are applicable to the world, they are always so applicable, inside and outside of experimental situations. Physical theories do more than make claims about correlations between sets of observation statements. Unrepresentative realism is unrepresentative in so far as it does not incorporate a correspondence theory of truth. The unrepresentative realist does not assume that our theories describe entities in the world, such as wave functions or fields, in the way that our common sense ideas understand our language to describe cats and tables. We can appraise our theories from the point of view of the extent to which they successfully come to grips with some aspect of the world, but we cannot go further to appraise them from the point of view of the extent to which they describe the world as it really is, simply because we do not have access to the world independently of our theories in a way that would enable us to assess the adequacy of those descriptions. This clashes with our common sense notions, according to which talks of cats and tables includes what is taken as descriptions of such things. However, I would remind those defenders of the applicability of the correspondence theory of truth to physics that they, too, are obliged to render Intelligible Newton’s, to some extent successful, talk of-light particles, and of mass conceived of as a property, Maxwell’s talk of the aether and Shrodinger’s talk of wave-functions.

            My characterization of unrepresentative realism in terms of the applicability of theories to the world, or their ability to come to grips with the world, might well be objected to on the grounds that it is too vague. Part of my response to that charge is to admit that my account is vague, but to insist that this is not a weakness but a strength of my position. The ways in which we are successfully able to theorize about the world are sornething we have to discover and not something that we-can establish in advance by philosophical argument. Galileo discovered how it is possible to come to grips with some aspects of the physical world by way of a mathematical theory of motion, Newton’s theories differed from Galileo’s in important respects, whilst quantum mechanics comes to grips with the world in ways that are fundamentally different from classical physics and who knows what the future has in store? Certainly not philosophers of science. Any account of the relationship between theories within physics, and the world that those theories are intended to be about, should not be such as to rule out possible future development. Consequently, a degree of vagueness is essential.

            My own account of the relationship between physical theories and the world draws on two general features of physics since Galileo. One is that physics involves experimentation, which provides me with a basis for rejecting instrumentalism. The other is the fact that physics has experienced revolutionary changes, a factor that constitutes part of the grounds for my criticism of the application of the correspondence theory of truth to physics. More details can certainly be added if we wish to characterize two hundred years of physics more precisely. We can say that physics involves universal generalizations formulated in mathematical terms, that systems of theories form something like Lakatosian research programmes, and that their development has taken place in conformity with the objectivist account of change presented in Chapter 11. In this kind of way we can fill out an answer to the question “what is this thing called physics?” However, we cannot be sure that physics will not undergo some drastic changes in the future. It has already been noted that modern quantum mechanics differs from classical physics in fundamental respects, and it has also been suggested that the character of physics may be changing due to the social changes accompanying the growth of monopoly capitalism.

            This talk of judgements about the status of areas of knowledge decreases in significance in the light of non-relativist aspects of my position. The, objectivist thrust of my own stance stresses that individuals in society are confronted by a social situation that has certain features, whether or not they like it or are aware of it, and they have at their disposal a range of means of changing the situation, whether they like it or not. Further, any action that is taken to change the situation will have consequences which depend on the objective character of the situation, and may differ markedly from the intentions of the actor. Similarly, in the domain of knowledge, individuals are confronted by an objective situation and a range of methods and theoretical raw materials at their disposal for contributing to a change in the situation. One theory may, as a matter of fact, meet certain aims better than a rival, and the judgements of individuals and groups may be wrong about the matter.

            Looked at from this point of view, judgements made by individuals concerning the character and merits of theories are of less significant than is frequently assumed. My objectivist account of theory change was designed to show how the development of two hundred years of physics can be explained in a way that does not depend crucially on the methodological judgements of individuals or groups. Aims need not be analyzed in terms of the aspirations of individuals or groups. Take, for example, the aim of increasing technological control over nature. That aim has greater significance in capitalist societies than in the feudal societies they replaced. Within a capitalist economy increased technological control is a necessity, in so far as capitalists who fail to achieve it will be forced out of the market by those who do and will consequently become bankrupt. The situation was not the same in feudal society. Communities centred around neighbouring manors were not obliged by the nature of the economic system to compete in this way. A feudal community which failed to match the technological advances of its neighbour would not go broke, but would simply experience a lower standard of living than its neighbour. Such talk of aims does not involve the judgements or values of the individuals involved.

            In retrospect, I suggest the most important function of my investigation is to combat what might be called the ideology of science as it functions in our society. This ideology involves the use of the dubious concept of science and the equally dubious concept of truth that is often associated with it, usually in the: defence of conservative positions. For instance, we find the kind of behaviourist psychology that encourages the treatment of people as machines and the extensive use of the results of I.Q. studies in our educational system defended in the name of science. Bodies of knowledge such as these are defended by claiming or implying that they have been acquired by means of the “scientific method” and, therefore, must have merit. It is not only the political right wing that uses the categories of science and scientific methods in this way. One frequently finds Marxists using them to defend the claim that historical materialism is a science. The general categories of science and scientific method are also used to rule out or suppress areas of study. For instance, Popper argues against Marxism and Adlerian psychology, on the grounds that they do not conform to his falsificationist methodology, whilst Lakatos appealed to his methodology of scientific research programmes to argue against Marxism, contemporary sociology, and other intellectual pollution!

            As will by now be clear, my own view is that there is no timeless and universal conception of science or scientific method which can serve the purposes exemplified in the previous paragraph. We do not have the resources to arrive at and defend such notions. We cannot legitimately defend or reject items of knowledge because they do or do not conform to some ready-made criterion of scientificity. The going is tougher than that. If, for example, we wish to take an enlightened stand on some version of Marxism, then we will need to investigate what its aims are, the methods employed to ‘achieve those aims, the extent to which those aims have been attained, and the forces or factors that determine its development. We would then be in a position to evaluate the version of Marxism in terms of the desirability of what it aims for, the extent to which its methods, enable the aims to be attained, and the interests that it serves.

            Whilst one of the objectives of my book is to undermine illegitimate uses of conceptions of science and scientific method. I also hope that it will do something to counter the extreme individualist or relativist reactions against the ideology of science. It is not the case that any view is as good as any other. If a situation is to be changed in a controlled way, whether the situation involves the state of development of some branch of knowledge or the state of development of some aspect of society, this will best be achieved by way of a grasp of the situation and a mastery of the means available for changing it. This will typically involve co-operative action. The policy of “anything goes”, interpreted in a more general sense than Feyerabend probably intended, is to be resisted because of its impotence. To quote John Krige again, anything goes. means that in practice, everything stays”.1

            Marxists are keen to insist that historical materialism is a science. In addition, Library Science, Administrative Science, Speech Science, Forest Science, Dairy Science, Meat and Animal Science and even Mortuary Science are all currently taught or were recently taught at American colleges or universities. Self-avowed “scientists” in such fields will often see themselves as following the empirical method of physics, which for them consists of the collection of “facts” by means of careful observation and experiment and the subsequent derivation of laws and theories from

 

  1. A. F. Chalmers, What is This Thing Called Science? U.S.A: Open University Press , 1988, pp. 162-170.

those facts by some kind of logical procedure. I was recently informed by a colleague in the history department, who apparently had absorbed this brand of empiricism, that it is not at present possible to write Australian history because we do not as yet have a sufficient number of facts. An inscription on the facade of’ the Social Science Research Building at the University of Chicago reads, “If you cannot measure, your knowledge is meagre and unsatisfactory”. No doubt, many of its inhabitants, imprisoned in their modern laboratories, scrutinize the world through the iron bars of the integers, failing to realize that the method that they endeavour to follow is not only necessarily barren and

unfruitful but also is not the method to which the success of physics is to be attributed.

            The mistaken view of science referred to above will be discussed and demolished in the opening chapters of this book. Even though some scientists and many pseudo-scientists voice their allegiance to that method, no modern philosopher of science would be unaware of at least some of its shortcomings. Modern developments in the philosophy of science have pinpointed and stressed deep-seated difficulties associated with the idea that science rests on a sure foundation acquired through observation and experiment and with the idea that there is some kind of inference procedure that enables us to derive scientific theories from such a base in a reliable way. There is just no method that enables scientific theories to be proven true or even probably true. Later in the book, I will argue that attempts to give a simple and straightforward logical reconstruction of the “scientific method” encounter further difficulties when it is realized that there is no method that enables scientific theories to be conclusively disproved either.

            Some of the arguments to support the claim that scientific theories cannot be conclusively proved or disproved are largely based on philosophical and logical considerations. Others are based on a detailed analysis of the history of science and modern scientific theories. It has been a feature of modern developments in theories of scientific method that increasing attention has been paid to the history of science. One of the embarrassing results of this for many philosophers of science is that those episodes in the history of science that are commonly regarded as most characteristic of major advances, whether they be the innovations of Galileo, Newton, Darwin or Einstein, have not come about by anything like the methods typically described by philosophers.

            One reaction to the realization that scientific theories cannot be conclusively proved or disproved and that the reconstructions of philosophers bear little resemblance to what actually goes on in science is to give up altogether the idea that science is a rational activity operating according to some special method or methods. It is a reaction somewhat like this that has recently led philosopher and entertainer Paul Feyerabend to write a book with the title Against Method: Outline of an Anarchistic Theory of Knowledge and a paper with the title “Philosophy of Science: A Subject with a Great Past”; According to the most extreme view that has been read into Feyerabend’s recent writings, science has no special features that render it intrinsically superior to other branches of knowledge such as ancient myths or Voodoo. A high regard for science is seen as the modern religion, playing a similar role to that played by Christianity in Europe in earlier eras. It is suggested that the choice between theories boils down to choices determined by the subjective values and wishes of individuals..

            Francis Bacon was one of the first to attempt to articulate what the method of modern science is. In the early seventeenth century, he proposed that the aim of science is the improvement of man’s lot on earth, and for him that aim was to be achieved by collecting facts through organized observation and deriving theories from them. Since then, Bacon’s theory has been modified and improved by some and challenged in a fairly radical; way by others. An historical account and explanation of developments in the ·philosophy· of science would make a very interesting study. For instance, it would be very interesting to investigate and explain the rise of logical positivism, which began in Vienna in the early decades ot this century, became very popular and still has considerable influence today.1

مغربی سائنس اور فلسفے سے مرعوبیت: جدیدیت پسندوں کاالمیہ:

            مغرب، آئن اسٹائن اور برگساں سے ہمارے متجددین کی عقیدت کا عالم یہ ہے کہ وہ جنگ

عظیم اول کے بعد یورپ کے ملبے سے اٹھنے والی نئی مغربی تہذیب کے دھوئیں میں نئے آدم، جدید دنیا اور ایک نئی زندگی کے طلوع کے آثار دیکھ رہے ہیں، ارسطو سے لے کر کانٹ تک انسان کے دماغ کی صرف چودہ کیٹیگریز [categories] تسلیم کی گئی ہیں ،یعنی انسان ازل سے آج تک ایک ہی ہے، ہیگل

 

. 1. Ibid., pp.xvi-xviii

کے خیال میں ذہن انسانی کی ١٠٥ کیٹیگریز ہیں، اور ہر نئے عہد کا انسان پچھلے عہدکے مقابلے میں زیادہ عقل مند اور زیرک ہوتا ہے، اس تصور کی پیروی کے باعث جدیدیت پسندوں  کے  ذہن میں یہ واہمہ پیدا ہوگیا کہ  اس عظیم  تہذیب کے نتیجے میں  فلسفے اور سائنس کے ذریعے عہد حاضر میںایک محیر العقول نیا انسان کھڑاہوگیا ہے ،ہیگل کے جدلیاتی نظریۂ تاریخ نے عہد حاضر پر غیر معمولی اثر ڈالا ہے، یہ حضرات  ہیگل کے اثر کی گرفت سے کبھی اوپر نہ اٹھ سکے لہٰذا جدید انسان کا تصور ان حضرات کے یہاں ہیگل کے Historicism کی خاک سے بر آمد ہوتاہے ،تاریخ کے اس جدلیاتی تصور کے مطابق انسانی تاریخ مسلسل آگے بڑھ رہی ہے ہر اگلا دور پچھلے دورسے بہتر ہے اور ہر نیا انسان گزشتہ دور کے انسان سے زیادہ بہتر، زیادہ عقل مند اور زیادہ زیرک ہے، ThesisاورAnti Thesisکے نتیجے میںSynthesis بر آمد ہوتا ہے اس کے ذریعے تاریخ کا پہیہ رواں دواں رہتا ہے تاریخ کا قدیم تصور کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے یا تاریخ کا عیسوی مذہبی تصور درست نہیں ہے، تاریخ کے اس جدلیاتی عمل کے ذریعے انسان مسلسل رفعتوں کی تلاش میں ہے، اسے بلندی، عروج، اقبال اور ترقی عطا ہورہی ہے اور  وہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں، جیسے جیسے تاریخ آگے بڑھتی ہے ذہن ،عقل ،انسانی پختگی، بلندی، عظمت حاصل کرتی چلی جاتی ہے۔Anti thesis کے نتیجے میں پتا چل جاتا ہے کہ گزشتہ زمانے کا سچ اب سچ نہیں رہا اس سچ کی خامیاں، کم زوریاں اور عیوب تاریخ کے اگلے دور میں واضح ہو جاتے ہیں تاریخ کے اس ارتقا کے نتیجے میں نہ صرف عقل اور ذہن، کا ارتقا ہوتاہے بلکہ نئے نئے ادارے، نئے نئے طریقے نئی نئی ایجادات وجود میں آتی ہیں اور انسان مسلسل ارتقا کی جانب رواں دواں رہتا اور فتوحات کے پرچم اڑاتا چلا جاتا ہے  Hegelian Evolution میں ہر اگلا دور پچھلے دور سے بہتر ہے، چنانچہ ہیگل تاریخ کے تمام سابقہ ادوار کو آج کے زمانے سے بدتر قرار دیتاہے لہٰذا زمین پر انبیائے کرام کے تمام ادوار اور مسلمانوں کے یہاں خیر القرون کا تصور سب  غلط اور ناکام قرار پاتے ہیں ،عہد حاضر کا انسان چونکہ تمام سابقہ انسانوں سے بہتر، اعلیٰ ، ارفع عظیم ہے لہٰذا تمام جدید انسان تمام انبیاء کرام سے بہتر زیادہ عقل مند زیادہ بالغ زیادہ سمجھ دار ہوجاتے ہیں]نعوذ باللّٰہ[۔ لہٰذا عہد حاضر کا انسان تاریخ انسانی کا بہترین انسان ہے ۔

جدید تہذیب تاریخ کی سفاک ترین تہذیب:

            یہ وہ انسان ہے جس نے تین سو سال میں ایک ارب پچھتر کروڑ لوگوں کو قتل کیاہے ،اس نے تاریخ انسانی میں سب سے زیادہ غلہ اور خوردنی تیل ٢٠٠٨ء میںپیدا کیا ہے لیکن تاریخ انسانی میں کبھی خوردنی تیل اور غلہ اتنا مہنگا فروخت نہیں کیا گیا، اس عظیم انسان کی حرص حسد و ہوس کے باعث اس بیسویں صدی کے اواخر میں ٧٠ لاکھ لوگ بھوک کے باعث تڑپ تڑپ کر ہلاک ہوگئے  ،تاریخ انسانی کی سترہ تہذیبوں میں کبھی کوئی آدمی روٹی سے محروم نہیں رہا لیکن عہد حاضر کا انسان اس لیے روٹی سے محروم ہے کہ غلہ تو بہت ہے مگر خریدنے کے  لیے  اس کے پاس پیسے نہیںہیں اگر ہیں تو وہ بہت کم لہٰذا موت اس کا مقدر ہے۔عالمی فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن [FAO] کے سربراہ Jacques Diouf نے متنبہ کیا ہے کہ جدید معاشی بحران کے باعث سو بلین افراد اس سال بھوک و افلاس کا شکار رہیں گے۔ چھ میں سے ایک آدمی غذائی اجناس سے محروم رہے گا۔ قحط کی اس ہولناک صورت حال سے بچنے کے لیے New World Food Order کی ضرورت ہے۔ UN ورلڈ فوڈ پروگرام] WFP [کے سربراہ Joselte Sheevan نے یاد دلایا کہ کئی ترقی یافتہ ملکوں میں خوراک کی قلت کے باعث فسادات پھوٹ پڑے ہیں۔ ایک بھوکی دنیا نہایت خطرناک دنیا ہے۔ لہٰذا بھوک کا ازالہ کرنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سوبلین بھوکے افراد کی تعداد منجمد نہیں ہے اس تعداد میں تیزی سے اضافہ کی رفتار دیکھی جا رہی ہے۔ ان سوبلین افراد میں سے ٦٤٢ ملین افراد براعظم ایشیا پیسفک میں پائے جاتے ہیں، ٢٦٥ ملین لوگ افریقہ کے Sub Saharan میں، ٥٣ ملین لاطینی امریکہ اور کییربین میں اور ٥٢ ملین مشرق وسطیٰ اور مشرقی اور جنوبی افریقہ میں پائے جاتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں ١٥ ملین افراد بھوک کا شکار ہیں۔١  غذائی اجناس سے محرومی کا سبب اجناس کی کمی نہیں بلکہ اجناس کی قیمتوں میں بلاوجہ صرف اور صرف زیادہ سے زیادہ منافع، جلد سے جلد کمانے کے لیے بے دریغ اضافہ اور لوگوں کی قوت خرید کا ختم ہوجانا ہے۔

            خود کشی کی جتنی وارداتیں گزشتہ دس سال میں ہوئی ہیں پوری تاریخ ان وارداتوں سے خالی ہے اس جدید انسان نے فاسفورس بم ایجاد کیاہے جس کی آگ پانی سے بھی نہیں بجھتی۔اس انسان نے حیاتیاتی جرثوموں پر مبنی ہتھیاروں، جوہری بموں، اور بے شمار قسم کے اسلحہ کے ذخائر اتنی بڑی تعداد میں جمع کیے ہیں کہ ان ذخائر سے موجودہ دنیا کو سینکڑوں مرتبہ تباہ و برباد کیا جاسکتا ہے، یہ سولائزڈ نیا آدمی [Modern man]اتنا وحشی درندہ، اور خون خوار کیوں ہے؟ اسے کس قوت سے خوف اور خطرہ ہے کہ اس نے اس خطرے سے بچنے کے لیے اربوں ٹن اسلحہ کے ذخائر محفوظ کر لیے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ انسان کسی سے خائف نہیں یہ اپنی خواہشات نفس کی تکمیل کے لیے تسخیر کائنات چاہتا ہے جو اسلحہ کے بغیر ممکن نہیں، دنیا بھر میں جنگیں اسی تسخیر کائنات کے اصل ہدف کا ہلکا پھلکا اظہار ہیں۔اس انسان نے دنیا میں ایسی ہلاکت خیز چیزیں ایجاد کی ہیں کہ پوری کائنات ان ایجادات سے مسلسل خطرے میں ہے ،عہد حاضر کا انسان تاریخ کا خبیث ترین انسان ہے جو بچے بیچ رہا ہے، بچے خرید رہا ہے ،انسانی تعلقات، رشتے اور اشیا] comodities [میں بدل رہاہے، صرف ایک قدر ہے سرمایہ Capital ہر شئے اس پرکَسی جانچی اور پرکھی جارہی ہے، باپ بیٹی  بہو، ساس، سالی، پوتی سے جنسی تعلقات قائم کررہاہے، بھائی بہن کی آبرو لوٹ رہاہے۔ ماں بیٹے اور نواسے سے منہ کالا کر رہی ہے۔ مغرب میں محرمات سے جبراً اور بالرضا جنسی تعلق ایک عام بات ہے۔ یہ آزادی کی قدر [Value] کا نتیجہ ہے جب مساوات کے فلسفے کے تحت سب برابر ہیں کوئی فرق نہیں تو اجنبی عورت سے تعلق قائم کرنے کی زحمت اٹھانے ،خطرناک جنسی

 

 ١  DAWN, AFP، ١٩ جون ٢٠٠٩ئ۔

بیماریاں سمیٹنے اور ناز برداری کے لیے پیسے خرچ کرنے کے بجائے گھر میں میسر انواع و اقسام کی نسوانی نعمتوں سے کیوں استفادہ نہ کیا جائے ؟ ہمارے جدیدیت پسند مفکرین کہتے ہیں کہ بنیادی حقوق کی شق آزادی اور مساوات اسلام میں بھی ہے۔ عورت عورت سے شادی کررہی ہے ،مرد مرد کے قانونی جوڑے بن رہے ہیں ،عورت پر تیزاب پھینکا جارہاہے، بچے پیدا کرکے سڑکوں پر پھینکے جارہے ہیں، دوسری شادی قانونی طور پر ممنوع ہے، لیکن ہزاروں عورتوں سے ناجائز تعلقات رضا مندی سے رکھے جائیں تو یہ بالکل درست ہے، مغرب میں کسی شوہر یا بیوی کا ایک دوسرے سے حق زوجیت کی ادائیگی کے لیے جبر بہت بڑا ظلم اور ناقابل معافی جرم ہے، یہ جرم [Marital Rape] اور hidden hurt بھی کہلاتا ہے جس کی سزا بہت سخت ہے۔ بعض ممالک میں سات سال قید۔  Marital Rape، کو بعض لوگ Statutory Rape، Partner Rape اور Intimate Partner Sexual Assualt [ISPA] سے خلط ملط کر دیتے ہیں ،زنا کی یہ اقسام الگ الگ جرائم ہیں جس کی تفصیل اس موقع پر مناسب نہیں۔  نکاح شدہ زانی و زانیہ کے جرم زنا کی اصطلاح مغرب میں Spousal Rape کہلاتا ہے۔ یہ وہ مغرب ہے جہاں بغیر نکاح ناجائز تعلقات کو آزادی [freedom]، لذت [pleasure]، مزہ، چٹخارہ، بنیادی حق قرار دیا جاتا ہے۔ یہ آزادی کی انتہا ہے دوسری جانب شر پسندی کا یہ عالم کہ اگر کوئی شادی شدہ اپنی خواہش نفس جائز طریقے سے پوری کرنے کے لیے اپنے جیون ساتھی کی مرضی کا خیال نہ رکھے کچھ بے صبری، جبر، زور، عجلت اور غصے کا مظاہرہ کر دے تو اسے Rape زنا کہا جاتا ہے۔ یہ فلسفۂ زنا آزادی [freedom] فلسفہ بنیادی مساوات [Equality] اور جسم میری ملکیت [body is my property] اور میں ہوں فاعل خود مختار [self autonomus being] اور میری زندگی کا مقصد Human being is a pleasure seeking animal کے آمیزے اور آمیختے سے کشید کیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مغرب میں نکاح کے بغیر زنا کاری آسان ترین مگر نکاح کے بعد جائز ازادواجی تعلق مشکل ترین اور نکاح کی موجودگی میں زندگی کے شریک سفر مذکر و مونث کو اس کی رضا کے بغیر طلب کرنا زنا کاری جیسا بدترین جرم ٹھہرا۔ تاریخ انسانی میں ایسی ذلیل ترین تہذیب کبھی پیدا نہیں ہوئی جس نے نکاح کے ادارے کو اس طرح برباد کیا ہو۔ اسی لیے رد عمل میں مغرب میں عورتوں مردوں نے شادی کرنا ترک کر دیا کیونکہ شادی کا مطلب مصیبت، آفت اور قانون کی یلغار کے سوا کچھ نہیں لہٰذا مغرب میں خاندان کا ادارہ ہی تحلیل ہوگیا۔

            Marital Rape کا یہ تمام قصہ آزادی اور میری مرضی کے تصور سے وابستہ ہے۔ یعنی ہر فردآزاد ہے۔ لہٰذا کوئی کسی کی آزادی میں مداخلت نہیں کرسکتا نہ شوہر بیوی کی ،نہ باپ بیٹی کی، نہ ماں بیٹے کی حتی کہ آپ اپنے چھوٹے بچے کی مرضی اور ارادے کے خلاف کوئی کام نہیں کرسکتے۔ آپ کی آزادی صرف آپ کی ذاتی زندگی [private life] تک محدود ہے یہ ذاتی زندگی صرف آپ سے شروع  ہو کرآپ  پر ختم ہو جاتی ہے آپ کے سوا دوسرا جو بھی ہے وہ ایک الگ وجود [other being]ہے اس کی اپنی ذاتی زندگی [own personal life] ہے جسے بنیادی حقوق کے فلسفے کے تحت آپ کی دستبرد، دسترس، رسائی، اثر اندازی اورجبر سے محفوظ کردیا گیا ہے، کیونکہ دنیا کے تمام ماں باپ  اور بزرگ بلا تفریق جابر ہوتے ہیں لہٰذا بچوں کو بھی اس جبر سے محفوظ کیا گیا ہے دوسرے لفظوں میں پرائیویٹ لائف کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ خود اپنی خلوت اور جلوت میں جو چاہیں کریں بشرطیکہ  یہ آزادی دوسرے کی انفرادی آزادی میں حائل نہ ہو اور سرمایہ دارانہ نظام کے عقائد سے متصادم نہ ہو تو آپ ایسی محدود نجی پرائیوٹ زندگی بسر کرنے  کے لیے آزاد ہیں لیکن private sphereیعنی آ پ کی ذاتی زندگی میں آپ کی بیوی بچے گھر والے شامل نہیں، آپ کے سوا جو کوئی فرد ہے وہ Public  یعنی otherمیں آجاتا ہے،  اسی کا نام انفرادیت پرستی [Individualism] ہے مغرب میںآزادی صرف فرد کی ہوتی ہے کسی اجتماعیت ،گروہ اور قبیلے کی نہیں ہوتی یہ آزادی کسی اجتماعیت کے خلاف بغاوت کے لیے مہیا کی جاتی ہے تاکہ ہر فرد تنہا، منفرد اور آزاد ہو جائے، اجتماعیتیں تحلیل ہو جائیں لہٰذا ریاست ہر تصور خیر، اجتماعیت گروہ کے خلاف فرد کی جانب سے کسی بھی قسم کی بغاوت کی آزادی کو مکمل تحفظ فراہم کرتی ہے جس کے نتیجے میں رفتہ رفتہ تمام اجتماعیتیں تحلیل ہو جاتی ہیں۔حتی کہ خاندان بھی نہیں بچتا،اگر آپ  بچے، بیوی  اورشوہر کی آزادی میں مداخلت کریں یعنی اس کی غیر اخلاقی سرگرمیوں پرروک ٹوک کریں، پابندیاں عائد کریں تو یہ مغرب میں قابل دست اندازی پولیس جرم  [public sphere crime] ہے جس میں قیداور جرمانہ کی سزائیں شامل ہیں ،لہٰذا باپ اپنی بیٹی سے نہیں پوچھ سکتا کہ تم رات بارہ بجے کہاں سے آرہی ہو، نہ چھ سال کے بیٹے سے پوچھ سکتا کہ تم رات کو کہاں جا رہے ہو؟کیوں کہ فرد کی یہ نام نہاد ظاہری آزادی بھی ریاست کی جانب سے طے شدہ اصول و قواعد و ضوابط کے دائرے کے تحت نہایت محدود طور پر حاصل ہے۔ اس آزادی کاہونا نہ ہونا برابر ہے، بنیادی حقوق کے منشور میں مذہبی آزادی کا تحفظ دیا گیا ہے۔ لیکن اجتماعی نہیں صرف ہر فرد کی ذاتی مذہبی آزادی جو اسی طرح روبہ عمل آئے کہ دوسرے کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں جس طرح فرانس میں اسکارف ، صلیب، کرپان، پگڑی پر اس لیے پابندی لگائی گئی کہ دوسروں کی آزادی متاثر ہورہی تھی آزادی کے اسی فلسفے کی وسعت کے بعد مذہبی عبادت گاہوں کا طرز تعمیر بدل دیا جائے گااذان کی اجازت نہ ہوگی  اس سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے، مصر میں فجر کی اذان مسجد کے اندر دی جاسکتی ہے باہر اہل محلہ کو سنائی نہیں جاسکتی ،ڈیفنس سوسائٹی کے بعض علاقوں میں یہی صورت حال ہے، دوسرے لفظوں میں آپ کی وہ محدود ترین مذہبی آزادی آپ کو صرف اس حد تک حاصل ہوگی بشرطیکہ وہ بنیادی حقوق کے منشور کے خلاف نہ ہو۔ مثلاً آپ مذہبی آزادی کے تحفظ سے اس خوش فہمی کا شکار نہ ہوں کہ آپ کو مغرب میں چار شادیوں کی اجازت ہوگی نہ آپ بچے کو سات سال کی عمر میں جبراً نماز پڑھوا سکتے ہیں، نہ آپ اپنی بیوی سے اس کی مرضی کے بغیر اظہار مواصلت و موانست کرسکتے ہیں ، نہ آپ اپنے بچوں کی آوارگی پر کوئی قدغن لگا سکتے ہیں،  نہ بچوں کو جبراً قرآن پڑھاسکتے ہیں، آزادی کا مطلب صرف آپ کی محدود ترین آزادی صرف آپ کے لیے ہے۔ اگر آپ نے اس ذاتی آزادی کو دوسرے [other] یعنی اپنے سوا کسی پر بھی خاندان، قبیلہ، بچوں پر نافذ کرنے کی کوشش کی یعنی پبلک آرڈر میں مداخلت کی تو آپ کی آزادی سلب کرلی جائے گی۔

            زنا کی ایسی رنگارنگ اقسام سات ہزار سال کی انسانی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ دنیا کے ایک سو چار ممالک میں جیون ساتھی کی رضا کے بغیر اس کے نفس کو طلب کرنے والا خواہ مذکر ہو یا مونث مجرم قرار دیا گیا ہے، صرف چار ممالک ایسے ہیں جہاں اس جرم کی سزا اس وقت دی جاسکتی ہے جب میاں بیوی قانونی طور پر علیحدگی اختیار کرلیں۔ ٣٢ ممالک میں نکاحی زنا ایک خاص قسم کا جرم ہے۔ بہتر ]٧٢[ ممالک میں یہ زنا کے عام قوانین کے تحت جرم زنا تصور کیا جاتا ہے۔ تاریخ انسانی میں ہمیشہ زنا کا مرتکب مرد ہوتا تھا، لیکن مغربی قوانین کے تحت زنا کا ارتکاب عورت بھی کرسکتی ہے۔ اس بے تکُی منطق [abnormal logic] پر مغرب میں مسلسل احتجاج ہو رہا ہے لیکن کوئی اثر نہیں، مرد عورت زنا کے الزام میں ایک دوسرے کے خلاف مقدمات دائر کرسکتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ اس ذلیل معاشرت سے خالی ہے کہ عورت یا مرد اپنے جیون ساتھی کو صرف اس بات پر رشتہ نکاح سے علیحدہ کر دے یا قانون کے ذریعے جیل بھجوا دے کہ مجھے میری رضا، خواہش، طلب، آرزو، کے بغیر کیوں طلب کیا گیا اور بلا رغبت مجھ سے لذت کیوں حاصل کی گئی؟ اس جبلی ، فطری حاجت، خواہش، ضرورت اور طلب کو اپنے گھر میں اپنی زندگی کے شریک سفر سے غصے یا جبر سے پورا کرنا جرم ٹھہرا۔ اس کا نام مغرب میں رواداری [tolerance] ہے اس کو درگزر، صبر، عفو کہا جاتا ہے۔ قوت برداشت اور صبر کی صفات سے عاری یہ تہذیب اور اس کے دانشور دنیا کو tolerance کا سبق دے رہے ہیں۔ فی الحقیقت اس اصطلاح tolerance کا یہی مطلب یعنی اپنے سوا کسی کو برداشت نہ کرنا اپنی خواہش کے لیے دوسروں کی خواہشات حتی کہ شوہر اور بیوی کے مبارک ترین رشتوں کو بھی قربان کردینا ہے جس پر مغرب میں عمل کیا جا رہا ہے، اس کے سوا اس اصطلاح کا کوئی دوسرا مطلب نہیں، آزادی کی راہ میں جو جذبہ، رویہ، طریقہ،قانون، شریعت، وحی یا روایت حائل ہوگی اس کو ختم کرنا فلسفۂ آزادی اورtoleranceکے تحت ایک لازمی فریضہ ہے جب مغرب اس پر عمل کرتا ہے تو ہمارے اسلامی مفکرین کہتے ہیں کہ یہ اپنے اصول پر عمل نہیں کر رہا اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ یہ نقطہ نظر مغرب کے فلسفے سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔ Russel, Diana E.H. کی کتاب Rape in Marriage. [Macmillan 1990] کے مطابق : 

That rape in marriage was the most common yet most neglected area of sexual violence.

اِسی سلسلے میں David Finkelhor اورKersti yllo کی کتاب: License to Rape,[New York: Free Press, 1985]کی نادراور ”شاہکار تحقیق” کے مطابق :

10 to 14 percent of all married American women have been or will be raped by their husbands.

یہ عجیب تہذیب ہے کہ اگر مغرب کے کسی گھر میں کوئی نیک لڑکا یا نیک لڑکی صنف مخالف سے تعلق استوار نہیں کرئے اور زنا کار زندگی سے پرہیز و گریز کرئے تو ان کو ”ابنارمل” قرار دے کر سائیکاٹرسٹ کے سپرد کر دیا جاتا ہے اور اسی مغرب میں جب ایک شادی شدہ جوڑا ایک دوسرے سے اپنے فطری تقاضے پورے کرنے میں کچھ تجاوز کرئے  تو اس حلال تعلق کو مغرب زنا کاری کے قبیح ترین جرم کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ایسی بلندی اور ایسی پستی تاریخ انسانی کی کسی تہذیب کے حصے میں نہیں آئی۔ اس کے باوجود مغرب کو ناز ہے

کہ تاریخ کا سفر اس کی تہذیب پر اختتام پذیر ہوگیا ہے اور یہی تہذیب دنیا کی بالا، برتر اور اعلیٰ ترین تہذیب ہے جس مغرب کی سفاکی کا یہ عالم ہے اسی مغرب میں باہم رضا مندی سے  ہزاروں عورتوں کے ساتھ شب و روز  زنا کاری عین حق  اور خیر ہے، ماں باپ نرسنگ ہوم میں پھینکے جارہے ہیں ، مرد کے خراٹے لینے پر عورتیں طلاقیں لے رہی ہیں، بیوی بیٹے بیٹی کی شکایت پر باپ کو عدالت میں طلب کیاجارہا ہے با پ کی شکایت پر ماں بیوی بیٹے کے خلاف پولیس مقدمات درج کررہی ہے، ایک گھر میں آزادی مساوات Freedom & Equality  کے خوبصوت نام پر ایک چھت کے نیچے متحارب فریق، دشمنوں کی نسل جمع ہے اس حالت میں گھر کا ادارہ کیسے قائم رہ سکتا ہے؟ جب محبت ،اعتماد ،قربانی ،در گزر  اورعفو اوررحمت کی روایات باقی نہ رہیں، جب تعلق قانونی ہو جائے اور کسی بھی وقت کسی کو ایک فون کے ذریعے سزا اور قید کے شکنجے میں کسنا ممکن ہو تو خوف کے زیر اثر محبت، تعلق اور مودت پیدا نہیں ہوسکتی، وہاں رشتے ٹوٹ کر رہتے ہیں مغرب میں اس لیے خاندان تحلیل ہوگیا۔ مغرب کی عورت اپنے بچوں کو فرائی پین میں تل رہی ہیں ، ڈیزی کٹربم  کے ذریعے بستیاں برباد کی جارہی ہیں ،کیمیائی جراثیم، کیمیائی ہتھیاروں سے لاکھوں آدمی ہلاک ہورہے ہیں ،جدید صنعتوں کی تیار کردہ مصنوعات کے زہر اس کے دھوئیں اس کی آلودگی سے اربوں مخلوقات برباد ہورہی ہیں۔ ایسے انسان کو جدید، عالم، قابل اوربہترین شعور کا حامل قرار دینا جاہلیت جدیدہ ہے  اس ذلیل انسان کا موازنہ خیر القرون یاسابقہ ادوار سے کرنا شرمناک جہالت ہے ۔

            فلاسفہ یونان اوردیگر بڑے فلاسفہ کا خیال تھا کہ عقلی اصول آفاقی ہوتے ہیں، لہٰذا ان عالمگیر عقلی اصولوں کی روشنی میں آفاقی قوانین اور عالمگیر اخلاقیات مرتب کی جاسکتی ہیں، لیکن ہیگل کے جدلیاتی تصور تاریخ کی مقبولیت ،ڈارون کے نظریہ ارتقا کی قبولیت اور آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت کے نتیجے میں ضافیت [Relativity] کے فلسفے کی اثر پذیری کے بعد مغرب میں خیر کا تصور ایک باطل، لغو اوربے کار ا ناقابل قبول تصور قرار پایا کہ چیزیں ارتقا اور اضافیت کے ذریعے آگے بڑھتی ہیں، لہٰذا خیر و شر کچھ نہیں ارتقا کا سفر خیر و شر کے معنی و مفہوم بدلتا رہتا ہے جس شے اور علم میں ارتقاء ممکن نہیں وہ علم جامد بے کار اور لا یعنی ہے لہٰذا حرکت اور ارتقاء ہی خیر الحق قرار پائے۔اضافیت کے فلسفے کے عروج کے باعث چیزوں کی اصل

حقیقت کچھ نہیں رہی۔

ہیگل کا جدلیاتی نظریہ: اثرات و نتائج:

             ہیگل کے فلسفے کے بعد عقلیت کی اساس پر آفاقی اصولوں کا دعویٰ بھی عقل کی بنیاد پر رد ہوگیا کیونکہ عقل تو ارتقا کے ذریعے مسلسل تغیر پذیر ہے۔ اس اصول کے تحت ہیگل کا نظریۂ ارتقاء بھی رد ہونا چاہیے کہ یہ بھی ہیگل کے زمانے کا سچ تھا اب زمانہ آگے بڑھ گیا ہے، عقل کو منہاج ،معیار، پیمانہ اور کسوٹی بنانے کے باوجود اس تغیر پذیر عقل سے کوئی حتمی، ابدی، قطعی  اورمطلق اصول نہیں نکالا جاسکتا  چونکہ ذہن انسانی اور عقل انسانی مسلسل بدل رہے ہیں لہٰذا ہر دور کا سچ صرف اس دور کے لیے  سچ ہوگا انصاف ،عدل ،ایمان، نیکی ،شرافت، سماجی انصاف خیر و شر سب اپنی تاریخ اور اس تاریخ میں تشکیل و تخلیق پانے والی عقل سے نکلیں گے، لہٰذا عالمگیر اصول اخلاقیات ماورائے تاریخ نہیں ہوں گے ، تاریخ اور وقت بدلتے ہی یہ اصول بھی بدل جائیں گے ہر گزرے ہوئے دور کا سچ حق خیر اس دور کے گزرتے ہی ہمیشہ کے لیے گزر جائے گا، ہیگل کے اس تصور کا جدید اسلامی مفکرین  پر بہت گہرا اثر پڑا ہے ان حضرات نے اپنی تالیفات میں جگہ جگہ ہیگل کے جدلیاتی تصور کی غلط سلط مذہبی تعبیریں پیش کی ہیں ، یہ حضرات اس کام کے اہل نہیں ہیں، کیوں کہ ان کی اکثریت ، اِلّا ماشاء اللّٰہ، عربی زبان سے واقف  ہے اور نہ ہی اُنھیں  علوم  اسلامیہ پر عبور حاصل ہے لیکن اس کم علمی کے باوجود ہیگل کے تصورات کو اختیار کرتے ہوئے انھوں نے ختم نبوت کے عقیدے کی عقلی، فکری، منطقی اور اسلامی توجیہہ یہ کی ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم سب سے آخر میں اس   لیے تشریف لائے اور قرآن پر تمام صحف سماوی کا اختتام اس  لیے  ہوگیا کہ عقل انسانی رسالت ماب صلی للہ علیہ وسلم کے عہد میں اپنے کمال کو پہنچ گئی۔ اب انسان کو” پیغمبر باطن ”کے بعد کسی” پیغمبر ظاہر” کی بیساکھی کی ضرورت نہیں رہی۔ عقل، فرد، تاریخ، زمانہ اور معاشرہ اپنے عروج کو پہنچ گئے۔ تاریخ کا سفر اختتام پذیر ہوگیا۔ انسان بلوغت کی منزل میں داخل ہوگیا۔ لہٰذا نبوت کا دروازہ بھی بند کر دیا گیا۔ اس ادارے کی ضرورت ہی نہیں رہی لہٰذا نبوت ختم ہوگئی۔ دوسرے معنوں میں ہر فرد کو حاصل عقلی کمال کے باعث اب کسی کمال یافتہ شخص کی ضرورت زمانے کو باقی نہ رہی۔ اب ہر شخص صاحب کمال ہے عقل اس مقام پر آگئی کہ ہر فرد بشر اور انسان عقل کی روشنی میں خود کفیل ہوگیا ، عقل کی یہ روشنی تاریخ کے کسی انسان کو اس طرح حاصل نہ ہوئی لہٰذا اب پیغمبر کی ضرورت ہی نہیں رہی جب تک انسان کی عقل بلوغت سے محروم تھی اس کے ”پیغمبر باطن” [Prophet of innerself]کی اصلاح کے  لیے  ”پیغمبر ظاہر” کی ضرورت پڑتی رہی لیکن اب روشنی رہنمائی، دستگیری کے لیے ہمارا پیغمبر باطن جو ہمہ وقت ہمارے ساتھ ہے، یعنی عقل ، ہمارے لیے کافی ہے اسی تصور کا نقطۂ عروج یہ ہے کہ بدلتے ہوئے حالات اور زمانے کے لیے  بدلی ہوئی شریعت بدلی ہوئی مذہبیت درکار ہے کیونکہ عہد حاضر کا انسان رسالت مآبۖ کے دور سے بہتر اور زیادہ عقل مند ہے۔بلکہ صاف لفظوں میں یہ انسان رسالت مآبۖ اور صحابہ کرام سے بھی افضل، برتر فائق، قابل اور عاقل ]نعوذ باللہ[ہے کیونکہ اس کے تجربات اور مطالعات کا دائرہ  خیر القرون سے زیادہ وسیع ہے لہٰذا یہ علم ہی اصل سند ہے ۔اس علم، ارتقا، اور فضیلت کے باعث  بعد میں آنے والا ہرانسان ،زمانہ اور عقل پچھلوں کی خامیاں بہتر طور پر بتا سکے گا اور ان کے عیوب پہچاننے کی صلاحیت کا حامل ہوگا اس فلسفے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پیچھے رہ جانے والا زمانہ لازماً غلط ہوگا غلطی کرے گا، آئندہ زمانوں میں آنے والا انسان ،انبیائے کرام اورصحابہ عظام کی خامیاں اور غلطیاں دریافت کرے گا کیونکہ عہد سابق کے لوگ اس دور جدید کے انسان سے کمتر تھے ان کا علم، تجربہ اور ان کے ادارے سب کمتر تھے کیونکہ وہ تاریخ کے ابتدائی دور میں پیدا ہوگئے اور تجربات کے ذریعے عقلی ارتقا کی نعمت سے محروم رہے اس تصور تاریخ کے  نتیجے میں خیر القرون کی طرف مراجعت نا ممکن ہو جاتی اور ماضی کی طرف لوٹنے کے ہر عمل اور اقدام کی زبردست علمی اور عملی مزاحمت پیدا ہو تی اپنی سابقہ تاریخ سے شرم آتی اور اپنی روایات، تاریخی آثاراور تاریخی شخصیات سے گھن آنے لگتی ہے جس کے نتیجے میں ہیگل کے حرکیاتی نظریے کی تصدیق و توثیق ممکن ہوتی ہے، عہدحاضر کے جدیدیت پسند وں کا المیہ یہی ہے، اس المیے کے نتیجے میں جو رویہ جنم لیتا ہے وہ یہ کہ مغربی تہذیب آفاقی، عالمی ،قطعی  اورابدی سچائی ہے یہ عین حق بلکہ الحق ہے ۔لہٰذا اس کے بنائے ہوئے ادارے، اس کا مہیاکردہ علم، اس کی تخلیق کردہ تہذیب اقدار روایات خیر القرون سے لازماً بہتر ہیں لہٰذا اس جدید تاریخ کے مطابق قدیم شریعت کو ڈھال دیا جائے ۔ان ہی تصورات کا نام اسلامی جدیدیت، نوافلاطونیت، مغربیت، اسلامی مادیت، اور اسی الحاد کا نام عہد حاضر میں جدیدیت پسند اسلامی مفکرین نے اجتہاد رکھ دیا اقبال کے الفاظ میں یہ” اجتہاد ”ع مشرق میں ہے تقلید فرنگی کا بہانہ ۔

             اس قسم کے خیالات متجددین کی سائنس اور فلسفے سے ادھوری واقفیت یا کم از کم بے پناہ مرعوبیت کو واضح کرتے ہیں۔ یہ حضرات  مغرب میں کلیسا اور جدید سائنس کی کشمکش کی تاریخ اور اس کے حقیقی تناظر سے ناواقف ہیں، انھیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کیتھولک ازم کی مخالفت میں تحریک اصلاح کے فروغ کے نتیجے میں عیسائیت کی علمی حیثیت کو مختلف خطرات درپیش ہوگئے تھے، عیسائی یونانی سائنس اور جدید سائنس میں تصادم کے باعث مذہبی مقتدرہ کی حیثیت سو الیہ نشان بن گئی تھی، گیلی لیو کی دور بین نے زمین کو حرکت کرتے ہوئے دکھادیا تھا عیسائیت کے عقائد اپنی بنیادوں کو ہلتا ہوا محسوس کررہے تھے، عیسائیت جو کئی صدیوں تک چرچ فادر ز کے عقلی دلائل سے فروغ پا تی رہی تھی اس کے عقلی دلائل اب اس کا دفاع کرنے سے قاصر تھے، کیونکہ عقلیت اپنی تاریخ تہذیب زماں و مکاں میں محصور ہوتی ہے اس سے اوپر نہیں اٹھ سکتی، لیکن وحی کی عقلیت زماں و مکاں سے ماورا ہوتی ہے وہ ہر دور کا سچ ہوتی ہے، جدید سائنس عیسائیت پر سایہ فگن قدیم سائنس کو شکست دے رہی تھی لہٰذا پروٹسٹنٹ ازم کے زیر اثر پوپ سے چھٹکارا پانے اور عیسائیت کی مذہبی مقتدرہ کی بنیادیں ہلانے کے لیے کتاب فطرت [Book of Nataure] کے ذریعے خالق فطرت [God] کو دریافت کرنے کا دعویٰ کیا گیا کہ کتاب فطرت کو پڑھنے کے  لیے  کتاب الہی [Book of God] کافی نہیں اس کے لیے سائنسی علم کی ضرورت ہے کیونکہ سائنسی علم معروضی[objective] ہے ہر کوئی ہر جگہ یکساں طریقے سے اسے حاصل کرسکتا ہے، یہ کسی مقصد اور ہدف کا تعین نہیں کرتا بلکہ صرف اس بات کا مشاہدہ کرتاہے کہ اشیاء اس کائنات میں کس طرح وجود میں آتی ہیں ،کس طرح کام کرتی ہیں  How things happen in the world یہ علم اس سے بحث نہیں کرتا کہ کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ،یہ مقصدیت [purpose] سے ماورا ہے ،یہ علم غیر جانبدار Value Neutral ہے یہ نقطۂ نظر Positivism کے نام سے علم کی دنیا میں معروف ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے آندھی طوفانِ برق و باد کی طرح اس عہد کے پورے علمی نظریات پر چھا گیا]یہ دعویٰ بھی محض مفروضہ تھا حقیقت کا اس دعوے سے دور کا تعلق بھی نہ تھا لیکن اٹھارہویں صدی میں اس پر ایمان قائم تھا اس دعوے کی حقیقت آگے کے صفحات میں آرہی ہے[۔ اٹھارہویں صدی تک تمام بڑے فلاسفہ کا خیال یہی تھا کہ سائنسی تجربات مشاہداتِ علم کے ذریعے تلاش حقیقت [Discovery of Truth]ممکن ہے ۔سائنٹفک میتھڈ کے باطن میں مستور Positivism کو آفاقی، غیر اقداری اور مؤثر تسلیم کرلیا گیا۔ Positivistic اور Naturalistic فکر کے زیر اثر سائنسی علم کی آفاقیت اوراہمیت علمی حلقوں میں ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر قبول کرلی گئی ڈیکارٹ، اسپنوزا، لایبنز، کانٹ، ہیگل ،  فنحٹے اور مارکس تک سائنسی طریقۂ کار کو نہایت اہمیت دیتے تھے، لیکن انیسویں صدی کے آتے آتے سائنس کا یہ گردو غبار باقی نہ رہا ہزرل نے اس گرد و غبار کو صاف کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا اس نے سائنسی طریقۂ کار ]سائنٹفک میتھڈ[ کی عالمگیریت کے غیر علمی اورغیر عقلی دعوووں کو یوروپین سائنس کے ایک عظیم بحران کے طور پر دیکھا، اپنے فلسفہ مظہریات [Phenomnology]کے ذریعے اس نے سائنسی طلسم میں مضمر خطرات کی علمی نشاندہی اپنی کتاب : The Crises of European Sciences and Transcendental Phenomenology: An Introduction to Phenomenological Philosophy,[Evanstn: Northwestern University Press,1970.]میں کی، ہزرل کے اس تاریخی جملے کی گونج آج بھی علمی حلقوں میں سنائی دیتی ہے جو اس نے آج سے ایک صدی پہلے کہا تھا:

            ”نیچرل ازم اور پازیٹو ازم ]یعنی سائنس، سائنسی علم، سائنٹفک میتھڈ کی عالمگیریت کے دعوے[ نے صرف فلسفے کی گردن نہیں کاٹی بلکہ سائنس کی گردن بھی کاٹ دی”۔

            ہزرل کی کتاب نے مغربی، یورپی سائنسی علم کی آفاقیت معروضیت اور مرعوبیت کو سوالیہ نشان بنادیا اور اسے آفاقی علم کے بجائے ایک خاص تاریخ تمدن تہذیب ثقافت خاص زماں و مکاں سے ابھر نے والے علم کے طور پر دیکھا اس کے شاگرد ہائیڈیگر نے ١٩٢٦ء میںThe Question Concerning Technology in Martin: Heidegger’s Basic Writings,[Ed.,David Farrell Krell,New York: Harper Collins Publications, 1970.] لکھ کر سائنس کے بارے میں بہت سے نئے سوالات پیدا کردیے اور ان خطرات کی نشان دہی کردی جو اگلے پچاس برسوں میں ایک حقیقت بن کر سامنے آئے، ہزرل اور ہائیڈیگر کے ان مطالعات کے باعث سائنسی علم کی عظمت اور وقعت شدید طور پر متاثر ہوئی، انیسویں صدی سے لے کر آج تک مغرب کے کسی بڑے فلسفی نے سائنس کے ذریعے تلاش حقیقت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ مختصر لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ انیسویں صدی کے بعد مغرب کے تمام فلسفی سائنس کے ذریعے تلاش حقیقت کے دعوے سے دستبردار ہوگئے ،بیسویں صدی کے تمام فلاسفہ scienticizationکے زبردست مخالف ہیں ان کا خیال ہے کہ یہ آزادی[freedom] کا خاتمہ کردیتا ہے۔        

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked