جاوید اکبر انصاری-

                دور ِحاضر میں جو ریاستی نظم دنیا پر مسلط ہے وہ سرمایہ دارانہ نظم اقتدار ہے اور اس کے  استحکام اور توسیع سے اسلامی انفرادیت، معاشرت او رریاست شدید خطرات سے دوچار ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ اقتدار کی موجودگی میں مذہبی اقدارکا تادیر قائم رکھنا نہایت مشکل امر ہے۔ مغرب میں عیسائی اقدار کی تباہی اس کا واضح تاریخی ثبوت ہے۔ نفس مضمون یعنی سرمایہ دارانہ ریاست کی حقیقت و ماہیت بیان کرنے سے قبل ہم چند اصولی تمہیدی نکات پیش کرنا چاہتے ہیں جن سے ریاستی معاملات پر انقلابی نقطہ نظر اختیار کرنے کی اہمیت واضح ہوگی۔

اولاً :  خلافت یعنی شریعت محمدی کی پابند ریاست کے قیام کے بغیر نہ تو اسلام کو قوت اور غلبہ حاصل ہوسکتا ہے اور نہ ہی طاغوتی نظام کا خاتمہ ممکن ہے۔ شریعت کا مسلمہ اصول ہے کہ واجب کا مقدمہ بھی واجب ہوتا ہے ، لہٰذا ریاست اسلامیہ کے قیام کیلئے جو ذرائع ناگزیر ہیں ان کے حصول کی کوشش کرنا مسلمانوں پر واجب ہے ۔

ثانیاً :   ١٨٥٧ کے جہاد میں ناکامی اور خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد سے لے کر اب تک سرمایہ دارانہ استعمار کے جواب میں احیائے اسلام کیلئے بے شمار تحریکات برپا ہوئیں جن کے کام کو تقسیم کار کے اعتبار سے چارسطحوں پر رکھا جاسکتا ہے: 

١۔   مدرسین اور مزکیںّ:

  ان کا بنیادی ہدف اسلامی علوم کا تحفظ اور اسلامی انفرادیت و تشخص کا فروغ ہے۔ ان کے بنیادی ادارے مسجد، مدرسہ اور خانقاہ ہیں۔

٢۔  مبلغین اور مصلحین:

  ان کا بنیادی مقصد اسلامی معاشرت کا استحکام و فروغ ہے اوروہ دینی تہذیبی روایات کے تحفظ و فروغ اور حلال کاروبار کے پھیلاؤ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے نمایاں کام تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کا ہے جو صحیح معنی میں عوامی اسلامی تحریکات ہیں ۔

٣۔  انقلابی

ان کا نقطہ ماسکہ ریاست کی اسلامی نہج پر اصلاح و قیام ہے اور یہ  رائج شدہ نظام زندگی میں مکمل تبدیلی کے خواہاں ہیں۔

٤۔  مجاہدین:

  ان کا مرکزی نکتہ بھی تعمیر و غلبہ اسلامی ریاست ہے اور یہ استعماراور اس کے ایجنٹوں سے عسکری سطح پر بر سر پیکار ہیں اور طاغوتی طاقتوں کے پھیلاؤ کے مدمقابل مزاحمت پیدا کرکے اسلامی ریاستوں کے قیام کے مواقع فراہم کررہے ہیں۔ اس کی سب سے واضح مثال طالبان عالیشان ہیں۔

اول الذکر دو تحریکات دفاع امت جبکہ موخر الذکر دونوں غلبہ دین کی تحریکات ہیں۔ یہ تمام راسخ العقیدہ دینی گروہ پورے اخلاص کے ساتھ اپنے اپنے کام میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ البتہ ان کے کاموں میں ایک بنیادی کمزوری یہ ہے کہ ان کے کام اس معنی میں جدا جدا ہوگئے ہیںکہ تطہیر نفس اور اصلاح معاشرے کاکام وہ علماء وصوفیہ اور جماعتیں کررہی ہیں جو تعمیر ریاست کے کام سے لاتعلق ہیں، اسی طرح تعمیر ریاست اور جہاد کا کام وہ جماعتیں کررہی ہیں جن کے پاس بالعموم تطہیر قلب کا کوئی واضح ضابطہ موجود نہیں ہے۔ نتیجتاً تطہیر قلب کا کام محض تبلیغ و تطہیر اور ریاست کا کام محض قتال یا جمہوری عمل بن کر رہ گیا ہے۔ تقریباً ہر اسلامی گروہ اور جماعت اپنے کام کو دوسرے اسلامی گروہ کے کام کا متبادل  (substitute)  اور اس سے اعلی و ارفع سمجھتی ہے جبکہ حقیقتاً ان کے درمیان تعلق ایک دوسرے کے تکملے   (complementarity)  کا ہے اور ان چاروں میں سے کسی دینی کام کو دوسرے دینی کام پر کوئی اقداری فوقیت حاصل نہیں۔ اصل ضرورت کسی نئے دینی کام کو شروع کرنے یا ایک دینی کام کو چھوڑ کر کسی دوسری دینی جماعت میں ضم ہوجانے یا کوئی ایسی نئی دینی جماعت بنانے کی نہیں جو سب کام کرے کیونکہ الحمد للہ مختلف انفرادی دینی جماعتوں کا کام مل کر مطلوبہ مجموعی دینی کام کی کفایت کرتا ہے، اصل ضرورت موجودہ دینی تحریکات کے کام میں ارتباط پیدا کرنے کی ہے۔ ہر دینی گروہ اس بات کو لازم پکڑے کہ اپنے کارکنان کو دوسری دینی تحریکات کا قدر دان بنائے اور ان کے ساتھ اشتراک عمل کرنے پر رغبت دلائے۔ جب تک اسلامی گروہوں میں اشتراک عمل کا یہ طرز فکر عام نہ ہوگا، دوسرے گروہ کے دینی کام کو برابر اہمیت نہ دی جائے گی اور مجموعی کام کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط نہیں کیا جائے گا ۔انقلابی جدوجہد کا سہ جہتی (three dimensional) کام ادھورا ہی رہے گا۔

کہو ہرکارکن سے سب جتھوں کو اپنا گھرسمجھے۔

                                ہر ایک بھائی کو اپنا حلیف وہمسفر سمجھے        (مولانا معین الدین خٹک)

ثالثا: ان تحریکات کی جدوجہد بالعموم سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہتے ہوئے مرتب ہوتی ہے اور ان کے پاس ریاست کے اندر ریاست (state within the state) قائم کرنے کا کوئی لائحہ عمل موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر جاری و ساری کام کے باوجود اسلامی قوت یکجا نہیں ہورہی اور ان غیر مجتمع انفرادی دینی کاموں کے نتیجے میں غلبہ دین کے امکانات سامنے نہیں آتے اور نہ ہی تحفظ دین کا کام کما حقہ ہوپاتا ہے کیونکہ ہم ہمیشہ دفاع اور رد عمل کی سطح ہی پر رہتے ہیں۔ موجودہ ریاستی ڈھانچے کے حوالے سے اسلامی تحریکات کے رویوں میں دو طرح کی خامیاں ہیں، ایک وہ جوتحفظ امت کی تحریکات کو لاحق ہیں اور دوم وہ جن کا شکار غلبہ دین کی تحریکات ہیں: 

(الف) اصلاح انفرادیت و معاشرہ کی تحریکات اصولاً تحفظ اسلام کی تحریکا ت ہیں جن کامقصد سرمایہ دارانہ نظم اجتماعی کے اندر ایک ایسے دائرے کی تلاش رہی ہے جہاں اسلامیت کی حفاظت و بقا ممکن ہو سکے۔ ان تحریکات نے اس مفروضے کی بنیاد پر خود کو ریاستی معاملات سے علیحدہ رکھا ہے کہ نظام اقتدار سے غیر جانبداری کا رویہ ممکن ہے جبکہ یہ مفروضہ درست نہیں۔ ریاست سے غیرجانبداری ناممکن الوقوع شے ہے کیونکہ ریاست تو بالفعل  ‘موجود ہے’  اور وہ احکام کے صدور کے ذریعے فرد اور معاشرے پر اثر انداز ہوتی رہتی ہے۔ چنانچہ اقتدار کے معاملے میں لاتعلقی یا غیر جانب دار رویے کی کوئی حقیقت نہیں۔ یا تو آپ کسی نظام اقتدار کے خلاف ہوتے ہیں یا اس کے حق میں۔ ان کے درمیان کوئی راستہ موجود نہیں۔ ہماری سب سے بڑی عوامی تحریکات یعنی دعوت اسلامی اور تبلیغی جماعت ریاستی مسائل سے نہ صرف یہ کہ صرف نظر کرتی ہیں بلکہ انہیں گندگی سمجھتی ہیں۔ یہ جماعتیں اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ غیر سیاسی جماعتیں ہیں حالانکہ ان کی اس بات کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ انہوں نے باطل نظام اقتدار سے مصالحت قبول کرلی ہے۔ اقتدار سے لاتعلقی کے امکان کی اس غلط فہمی کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلام پر عمل کرنے کا دائرہ دن بہ دن چھوٹا ہوتا چلا جا رہا ہے اور سرمایہ داری پر مبنی نظام اقتدار ہم پر غالب آتا جارہا ہے۔ کسی منکر کو ہوتے دیکھ کر خاموش رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ منکر کے معاملے میں غیر جانبدار ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس کی بالادستی قبول کرتے ہیں اور منکر کے ساتھ یہ مفاہمت اس کی تقویت اور فروغ کی باعث بنتی ہے۔ لہذا اقتدار (نہ کہ محض حکومت) اور غلبے کے مسئلے پر تمام دینی کام کو مربوط کرنے کی سخت ضرورت ہے کہ اگر یہ نہ کیا گیا تو انفرادی اصلاح تو ہوجائے گی لیکن اس کے نتیجے میں کافر اقتدار کو نقصان نہیں پہنچے گا اور بالآخر اصلاح نفوس بھی مشکل ہوتی چلی جائے گی کیونکہ اصلاح کتنی ممکن ہے اس کا انحصار واقعیت  (facticity)  کی ان معاشرتی و ریاستی جکڑ بندیوں پر ہوتا ہے جن سے ایک فرد دوچار ہوتا ہے۔ اسلامی انفرادیت کے فروغ کیلئے ایسی ترتیب اقتدار چاہئے جو واقعیت کو بدل دے اور اسلامی انفرادیت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کردے۔ مصلحانہ جدوجہد کرنے والی تحریکات کا یہ مفروضہ غلط ہے کہ اسلامی انفرادیت کا سیاسی اظہار اور ترتیب اقتدار خودبخود رونما ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے جب اسلامی علمیت کے تحفظ کیلئے شعوری طور پر ادارتی صف بندی عمل میں لانا لازم ہے محض افراد کو اس کی اہمیت بتلا دینے سے کام نہیں چلتا تو اسلامی اقتدار کے قیام کیلئے مطلوبہ صف بندی سے صرف نظر کیسے کیا جاسکتا ہے اور اس کا ظہور خود بخود کیسے ہوجائے گا؟ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے مدارس میں بھی ریاست و سلطنت کی نظریاتی بحثیں بالکل معدوم ہو گئی ہیں اور متقدمین میں سے کسی مسلم سیاسی مفکر کی کوئی کتاب ہمارے درس نظامی میں شامل نہیں ۔

(ب) انقلابیوں کا اصل کام یہی ہے کہ وہ سارے دینی کام کو اس طرح مجتمع کریں کہ اسلامی اقتدار قائم ہو سکے۔ مگر جن تحریکات نے غلبہ دین کو اپنی جدوجہد کا بنیادی مرکز بنایا انہوں نے یا تو انقلاب کو جمہوری سیاست کا ہم معنی سمجھ لیا یا پھر احتجاجی و مطالباتی سیاست کو۔ یاد رہنا چاہئے کہ ہماری جدوجہد کا مقصد موجودہ نظام اقتدار کے اندر شمولیت نہیں بلکہ ایک متبادل نظام زندگی اور اقتدار قائم کرنا ہے جہاں عوام یا کسی فرد کے بجائے  ‘اہل الرائے ‘  کا اقتدار قائم ہو جن کی مرضی و مشورے سے ہی ریاست کے امور طے پائیں ۔ جن تحریکات نے جمہوری سیاست کو اصل مقصود بنا رکھا ہے انہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ ریاست کے اندر ریاست (state within the state) کے قیام کی جدوجہد کے بغیر ریاست نہیںبلکہ حکومتیں تبدیل ہوا کرتی ہیں کیونکہ قانون کے اندر رہ کر کی جانے والی جدوجہد توloyal disobedience   (تابعدارانہ مخلص نا فرمانی ) ہوتی ہے جس کے نتیجے میں نظام اقتدار تبدیل نہیں ہوتے۔ نظام باطل کے قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اقتدار تبدیل کرنے کی خواہش رکھنا  self-defeating  (تضاد پر مبنی ) اصول ہے کیونکہ ہر نظام اقتدار کے قوانین اس کے اپنے استحکام کیلئے بنائے جاتے ہیں نہ کہ اسے ڈھادینے کے لئے۔ disobedience  Loyal   کے ذریعے اقتدار تبدیل کرنے کی غلط فہمی اس لئے پیدا ہوئی کہ ہم نے قانون کو  ‘غیر اقداری’  (value-neutral) سمجھ لیا ہے حالانکہ ہر قانون ایک مخصوص انفرادیت و معاشرت نافذ کرنے کیلئے وضع کیا جاتا ہے اور یہی حال ہیومن رائٹس پر مبنی دستوری قانون کا بھی ہے جس کامقصد سرمایہ دارانہ شخصیت (ہیومن) ، معاشرت (سول سوسائٹی) اور ریاست (ریپبلک) کا قیام و فروغ ہے۔ جو تحریکات خود کو اصولاً اور عملاً انقلابی کہتی بھی ہیں انکے پاس بھی انقلابی عمل کا کوئی واضح لائحہ عمل موجود نہیں۔ انکے انقلاب کا تصور بس یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو کسی دعوت کے تحت منظم کرکے حکومت وقت سے بھڑ جاؤ یا اس سے چند مطالبات تسلیم کرالو۔ ظاہر ہے یہ تصور غلط ہے کیونکہ انقلابی عمل کا مطلب ہوتا ہے قوت نافذہ کو موجودہ افراد اور اداروں سے چھین کر متبادل افراد اور ادارتی صف بندی کے تحت مربوط اور مجتمع کرنا۔ انقلابی تحریکات اس قسم کی سعی پر کوئی توجہ نہیں دیتیں کیونکہ وہ حکومت اور ریاست کے فرق کو سمجھ نہ سکیں۔ بہت سی انقلابی تحریکات ریاستی قوت کے متبادل ادارے قائم کرنے کو ناجائز گردانتی ہیں گویا وہ ریاست کے اندر یاست قائم کئے بغیر انقلاب لانے کا خواب دیکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اصلاحی جماعتوں کی مانند انقلابی جماعتیں بھی تحریک لال مسجد کی انقلابی حکمت عملی کو غلط قرار دیتی رہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ تاریخ میں کوئی انقلاب محض دعوت و تبلیغ کے زور پر نہیں آیا بلکہ اس کے لئے لازماً قوت کو غالب نظام اقتدار کے خلاف جمع کرنا پڑتا ہے۔ اگر سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں محض حکومتی افراد تبدیل ہوجائیں مگر اقتدار کا مرکز موجودہ ادارے ہی رہیں تو اس جدوجہد سے کوئی بامعنی تبدیلی نہیں ہوپاتی۔ وہ لوگ جو انقلابی عمل کی حقیقت اور حکومت و ریاست کے فرق کو نہیں پہچانتے وہ مجاہدین کی جدوجہد کو سمجھنے سے قاصر ہیں، وہ کبھی مجاہدین کے اقدام کوغم و غصے کا اظہار کہتے ہیں اور کبھی شدت پسندانہ رویے پر مبنی رد عمل۔ ایسے لوگ مجاہدین کی جدوجہد کو عالمی قوانین کی پاسداری کرنے کے حوالے سے شرع کی تعلیمات کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں …فیا للعجب

رابعاً: یہ سمجھ لینا چاہئے کہ دور حاضر میں قائم اکثر و بیشتر مسلم ریاستیں کافرانہ نظم اجتماعی پر قائم ہیں گو انہیں چلانے والے مسلمان ہیں، اور ان ریاستوں کا خلافت ہونا تو کجا سلطنت اسلامیہ کے درجے سے بھی دور کا واسطہ نہیں کیونکہ یہ تمام ریاستیں قومی ہیں جہاں حاکمیت کی بنیاد عوامی نمائندگی ہے، جہاں علوم شرعیہ کے بجائے سوشل سائنسز کی بالادستی ہے، جہاں شرع کے بجائے دستوری قانون نافذ ہے وغیرہ ۔ انقلابیوں کا بنیادی مقدمہ یہی ہے کہ تحفظ اور غلبہ اسلامی کا کام اسی وجہ سے انتشار کا شکار ہے کہ وہ اسلامی ریاست جو تسلسل کے ساتھ سلطان عبد الحمیدثانی  کے دور تک قائم تھی اور جس نے تمام دینی کام کو سمیٹ رکھا تھا اب مفقود ہوگئی ہے۔ سلطان اسی معنی میں ظل اللہ تھا کہ اس کی برکت سے تمام دینی کام مربوط تھے اور اقتدار کی کنجیاں علماء اور صوفیہ کے ہاتھوں میں محفوظ تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجدد الف ثا نی رحمہ اللہ اورشاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے مغل سلطنت کے استحکام کی کوششیں کیں (ماسوائے اکبر کی حکومت کہ اس نے دینِ الٰہی کو فروغ دینے کی کوشش کی)۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ باطل نظام اقتدار کے اندر غلبہ دین کی کوشش بار آور نہیں ہوسکتی اور اسلامی ریاست قائم کرنا ضروری ہے۔

درج بالا جدوجہد مرتب کرنے کیلئے یہ سمجھنا لازم ہے کہ جس ریاستی نظم سے ہمارا مقابلہ ہے اس کی نوعیت کیا ہے اور یہ ریاست کس طرح کام کرتی ہے کیونکہ ان اصولی مباحث کو سمجھنے کے بعد ہی ہم یہ سوال اٹھا سکیں گے کہ کس طرح اسلامی ریاست قائم اور مستحکم کرنے کی جدوجہد کی جاسکتی ہے۔ اس مضمون میں پیش کردہ لبرل سرمایہ دارانہ ریاست کا عمومی خاکہ دو سوالات کے جوابا ت دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اولاً سرمایہ دارانہ اقتدار کس کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور دوم یہ اقتدار کیسے قائم رکھا جاتا ہے۔ زیر نظر مضمون سے یہ بات بھی واضح ہوگی کہ حکومت اور ریاست (نظام اقتدار) میں بہت فرق ہوتا ہے  حکومت محض ریاست کا ایک جزو ہے۔

ریاستی سطح پر سرمایہ دارانہ اقتدار کس طرح تشکیل پاتا ہے؟

فرماں روائی اور عملداری کس کی ہوتی ہے :

معاشرہ رضا کارانہ (voluntary)صف بندی سے تشکیل پاتا ہے یعنی افراد اپنی مرضی سے تعلقات استوار کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ریاست نظام اقتدار کا نام ہے یعنی ایک جبری صف بندی کی تشکیل کی جاتی ہے۔ اب سب سے بنیادی سوال یہی ہے کہ لبرل سرمایہ دارانہ ریاست میں اصل اقتدار کس کو حاصل ہو تا ہے ۔ لبرل سرمایہ دارانہ ریاست میں اصل اقتدار ان کو حاصل ہوتا ہے جو سرمایہ دارانہ عقلیت پر ایمان رکھتے ہیںاور ان کے مؤید ہوتے ہیں۔سرمایہ دارانہ عقلیت کا تقاضا ہے کہ انسان کو تمتع فی الارض کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں۔ انسان کو اپنی خواہشات کی تکمیل کے زیادہ سے زیادہ مساوی مواقع ملیں، تو جو لوگ سرمایہ دارانہ لبرل ریاست میں صاحب اقتدار ہوتے ہیں، وہ اسی سرمایہ دارانہ عقلیت کے بارے میں راسخ العقیدہ ہوتے ہیںاوریہی اُن کے اقتدار کا جواز ہیں۔

فرماں روائی اور عملداری کیسے کی جاتی ہے:

اب بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ عقلیت پرایمان رکھنے والوں کا اقتدار کیسے قائم ہوتا ہے اور کیسے مستحکم ہوتا ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب پورا معاشرہ سرمایہ دارانہ تعقل کو اصل عقلیت کے طور پر قبول کرلے۔ سرمایہ دارانہ عقلیت کی بنیاد پر ہی تمام یا زیادہ سے زیادہ فیصلے ہوں، گویا سرمایہ دارانہ عقلیت کو آفاقی بنا کر اقتدار کو مستحکم کیا جاتا ہے۔ جس قدر اس سرمایہ دارانہ عقلیت کی توسیع ہو گی، جس قدر سرمایہ دارانہ عقلیت کو معاشرہ میں قبولیت عامہ حاصل ہوتی جائے گی، جتنا سرمایہ دارانہ عقلیت پر ایمان رکھنے والے اور سرمایہ دارانہ عقلیت کے داعی اس میں کامیاب ہوں گے، اتنا ہی ان کا اقتدار مستحکم ہوگا۔

 ریاستی اقتدار:

معاشرہ کے برعکس کہ جہاں تعلقات رضاکارانہ بنیادوں پر استوار ہوتے ہیں ریاست ایک نظامِ اقتدار کا نام ہے جس کے پاس اپنے فیصلوں کے نفاذ کے لیے ایک مخصوص علاقہ اور اس کی آبادی کے لیے قوتِ نافذہ بھی موجود ہوتی ہے گویا سرمایہ دارانہ عقلیت پر ایمان رکھنے والوں کے پاس محض تحکم نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے فیصلو ں کے نفاذ کے لیے ریاست کی قوت کو استعمال کرتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ لبرل ریاست میں دو مختلف طریقوں سے نظامِ اقتدار مرتب کیا جاتا ہے یعنی اس کے دو مختلف ڈھانچے ہوتے ہیں:١۔جمہوری طریقہ٢۔لبرل ڈکٹیٹر شپ یا آمریت

بظاہر ان دونوں طرز ہائے اقتدار کی ترتیب وتنظیم مختلف ہوتی ہے لیکن عملاً ان دونوں کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ عقلیت ہی غالب آتی ہے ، یعنی یہ دو قالب ہیں لیکن ان دونوں کی روح ”سرمایہ دارانہ عقلیت” ہی ہے۔ ان دونوں طرزِ اقتدار کو استعمال کر کے سرمایہ دارانہ عقلیت ہی کو آفاقی بنایا جاتا ہے اور ان بظاہر دو مختلف طرز اقتدار میں فیصلے سرمایہ دارانہ عقلیت کی بنیاد پر ہی کیے جاتے ہیں اور اسی کو مقبول عام بنائے جانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

پاکستان کے تناظر میںدینی جماعتوں کی توجہ”سرمایہ دارانہ عقلیت ” کی مرکزی بحث کے بجائے اس کے قالب یعنی آمریت اور جمہوریت پر مرکوز ہوگئی ہے۔ پاکستان میں دینی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ ان کو جمہوری طرز کی حکومت میں اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی زیادہ آزادی میسر آتی ہے(گو کہ ان پر یہ بھی الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ان کو زیادہ فائدہ آمریت کی حکومتوں نے پہنچایا ہے) لیکن ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جمہوریت یا آمریت میں روح ایک ہی کارفرما ہے، اور ان کے متبادل کی بجائے انہی دونوں میں گنجائشیں تلاش کرنے سے ان دونوں نظاموں ہی کو استحکام حاصل ہوتا ہے۔ گنجائش تلاش کرنے سے یہ دونوں نظام کمزور نہیں ہوتے یا ان کو پیچھے نہیں دھکیلا جا سکتا۔

فرماں روائی کا طریقۂ عمل اور اس کے دومختلف تصورات:

فرماں روائی کے طریقۂ عمل (Governance process)سے مرادہے کہ کس طریقے سے احکام صادر کیے جارہے ہیں او رکس طریقے سے احکام نافذ کیے جارہے ہیں۔ نظامِ اقتدار کو مرتب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ محض احکام دئیے نہ جارہے ہوں بلکہ ان کو نافذ کرنے کے لیے بھی پوری حکمت عملی اور مشینری موجود ہو۔ گویا طریقہ عمل سے مراد سرمایہ دارانہ عقلیت کی آفاقیت اور اس کے غلبے کو ممکن بنانے کا مخصوص طریقۂ عمل ہے۔

اس سلسلے میں دو مختلف تصورات پائے جاتے ہیں:

٭  ایک تصور تویہ ہے کہ ہر فرد فطرتاً یہی چاہتا ہے کہ تمتع فی الارض اور خواہشات کو پورا کرنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر آئیں، یعنی معاشرہ اس بات پر راضی ہے اور معاشرے کے ہر فرد کی یہی خواہش ہے کہ سرمایہ دارانہ عقلیت پر ہی زندگی کے ہر شعبہ کے ہر دائرہ کار میں فیصلے کیے جائیں اور سرمایہ دارانہ عقلیت ہی کو غلبہ حاصل ہو۔ یہی وہ نقطۂ نگاہ ہے جو اٹھارویں صدی کے اندر Scottish enlightenment کے مفکروں اورکانٹ کی فکر میں ملتا ہے کہ فطرت ِ انسانی کا تقاضا ہی یہ ہے کہ اس کی تمام خواہشات کی تسکین ہو۔ لہٰذا اسٹیٹ کو سوسائٹی پر تسلط کی ضرورت نہیں بلکہ ریاست معاشرے کے مختلف افراد جو خواہشات رکھتے ہیں انہی کو پورا اور نافذ کرنے کا معقول ترین طریقہ وضع کرتی ہے۔ گویا سرمایہ دارانہ لبرل ریاست سرمایہ دارانہ معاشرے کی خواہشات کو پورا کرنے کا ”ذریعہ” ہوتی ہے، لہٰذا اصولاً وہ اس کے تابع ہوتی ہے۔

٭  دوسرا تصور یہ ہے کہ معاشرہ کے افراد نہیںجانتے کہ انہیں کیا چاہنا چاہیے۔ وہ عقلیت اصلیہ یعنی سرمایہ دارانہ عقلیت کے تقاضوں سے ناواقف ہوتے ہیں، لہٰذا ایک ایسے گروہ کی ضرورت ہے جو اصلی عقلیت کی نمائندہ ہو ، یہی گروہ پوری انسانیت کا نمائندہ گروہ ہے۔ اس گروہ کی ذمہ داری ہے کہ آمریت قائم کرکے لوگوں کو مجبور کریں کہ اس اصلی عقلیت (سرمایہ دارانہ عقلیت) کے مطابق تمام فیصلے کئے جائیں۔ گویا ریاست محض معاشرے کے تابع نہیں ہے بلکہ اس کو معاشرے پر غالب ہونا چاہیے اور اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عقلیت اصلیہ کو معاشرتی سطح پراور انفرادی سطح پر نافذکرنے کے لیے نظام اقتدار کھڑا کرے۔ اب یہ گروہ کون سا ہے ۔اس کے بارے میں اختلاف ہو سکتا ہے(وہ مزدوروں کی آمریت یامخصوص طبقہ یا قوم ہو سکتی ہے)

واضح رہے کہ یہ دونوں تصورات و نظریات ریاست کے اندر خواہشاتِ نفسانیہ کی زیادہ سے زیادہ تکمیل کی جدوجہد ہی کوجوازفراہم کرتے ہیں۔ ان کا طریقہ مختلف ہے۔ ایک طریقے میں ریاست معاشرہ کے ماتحت ہے اور ریاست ان خواہشات کو پورا کررہی ہے جو معاشرے کی حرکیات Dynamicمیں خودبخود ابھر کر سامنے آرہی ہیں اور ریاست ان کی ترتیب، تقدیم اورتاخیر کا ایک ذریعہ ہے، دوسرے طریقہ میں ریاست کو معاشرے پر غلبہ حاصل ہوتا ہے اور وہ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ لوگوں کو کیا چاہنا چاہیے اور اس کے حصول کا بہترین طریقہ کیا ہے۔

سرمایہ دارانہ عقلیت کے نفاذ کے لیے تین بنیادی فرائض:

سرمایہ دارانہ عقلیت کے حاملین سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کو معاشرتی سطح پر مرتب کرنے کی جو کوشش کرتے ہیں، اس کے لیے انہیں تین بنیادی فرائض ادا کرنے پڑتے ہیں۔

١۔مارکیٹ کے اندر واحد پیمانہ تعین قدر سرمائے کا عمل بن جائے۔

٢۔سرمائے کی بڑھوتری کا تعقل پورے معاشرے پر حاوی ہوجائے اور زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہ رہے جو سرمایہ دارانہ عقلیت سے ماورا ہو۔

٣۔ نمبر1اور نمبر2کو قبولیت عامہ اور جوازِ عمومی حاصل ہو جائے۔

سرمایہ دارانہ عقلیت کو غالب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ زندگی کے ہر دائرہ کار میں تمام اعمال کو اس واحد عمل کے اردگرد مجتمع کر دیا جائے، یعنی سرمائے کی بڑھوتری مستقل تیز ہوتی چلی جائے اور سرمائے کی بڑھوتری محض خود اپنا جواز ہو۔ ہر معاشرتی یا انفرادی عمل کا مقصدِ اولین (Ultimate end)یہی ہو،کیوں کہ سرمایہ(Capita)ہی ”آزادی”(Freedom) کی مجسم شکل ہے۔

یہ عمل پہلے مارکیٹ کی سطح پر ہوتا ہے۔جہاں اس کو واحد معقول پیمانہ خیروشر کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے اور کسی بھی عمل کو صرف اسی بنیاد پر جانچا جاتا ہے کہ اس مخصوص عمل کے نتیجے میں

 سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار میںتیزی آرہی ہے یا کمی ہورہی ہے ۔ یعنی فر د کے مخصوص عمل کے نتیجے میں سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار پر کیا فرق پڑ رہا ہے۔ اگر زیدکی مخصوص نوکری کے نتیجے میں سرمائے کی بڑھوتری کی رفتار میں اس سے کم اضافہ ہوتا ہے جتنا ایک اسٹاک بروکر کی کاوش کے نتیجے میں ہوتا ہے تو معقول بات اور جائز یہی ہے کہ زید کی تنخواہ اسٹاک بروکر کے مقابلے میں کم ہو کیوں کہ سرمائے کی بڑھوتری کے عمل کو آگے بڑھانے میں زید کا حصہ (Contribution)اس سے کم ہے جو اسٹاک بروکر کا ہے۔ گویا مارکیٹ کی سطح پر جو معقول پیمانہ خیروشر مسلط ہو جاتا ہے اور جسے قبول کیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میںایک فرد کو تمتع فی الارض کی جواجازت دی جاتی ہے وہ اس سے ہم آہنگ ہوتی ہے کہ وہ سرمائے کی بڑھوتری کے عمل کو کتنا مہمیز دیتا ہے۔

معاشرے کے اندر مارکیٹ ایک دائرہ کار ہے۔ مارکیٹ کے باہر بھی فرد بہت سے تعلقات کو تشکیل دیتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ وہ ان تعلقات کی تشکیل بھی سرمایہ دارانہ عقلیت یا بڑھوتری سرمائے کی بنیاد پر کرے، مثلاً خاندانی تعلقات عموماً ایثار ومحبت کی بنیاد پر تشکیل پاتے ہیںلیکن سرمایہ دارانہ اشرافیہ اور سرمایہ دارانہ عقلیت میں راسخ العقیدہ لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ بڑھوتری سرمایہ کا اصول (Principal of Capital accumlation) جو واحد معقول پیمانے کے طور پر مارکیٹ میں تسلیم کر لیا گیا ہے یہ صرف مارکیٹ تک محدود نہ رہے بلکہ آفاقی ہو جائے، خاندان بھی مارکیٹ کا حصہ ہوجائیں، افراد رشتۂ ازواج میں منسلک ہوتے ہوئے ایمانداری، نسب وشرافت، خاندان اور کفو کو اہمیت نہ دیں بلکہ کیرئیر یا پیسہ کو مدّ نظر رکھیں۔ بچوں کی تربیت کرتے ہوئے بھی سرمایہ دارانہ تعقل کو نظر اندازنہ کریں ۔ برادریاں’ قبیلے ‘ قوم اور حتیٰ کہ مذہبی ادارے بھی مارکیٹ کے اس تعقل کا حصہ بن جائیں۔ فرد صرف مارکیٹ کے عمل میں سرمائے کا ایجنٹ نہ ہو بلکہ زندگی کا ہر کردار نبھاتے ہوئے وہ سرمائے کا آلہ کار ہو، اس کو (Capitalist socialisation)کہتے ہیںاور جہاں اس قسم کی سرمایہ دارانہ انفرادیت مکمل طور پر عالمگیر ہو جاتی ہے، اس عمل کو سرمایہ دارانہ معاشرتی عمل یعنی Capitalist Socialization  کہتے ہیں۔ یہ وہ عمل ہے جس کے نتیجے میں معاشرہ

 سرمایہ دارانہ خطوط پر استوار ہوتا ہے۔

تیسرا فرض یہی ہوتا ہے کہ یہ دونوں طرح کے فرائض محض زبردستی نافذ نہ کیے جار ہے ہوں بلکہ ان کو قبولیت عامہ اور جواز عمومی حاصل ہو۔ عام آدمی کے لیے یہی معقول پیمانہ خیروشر اور پیمانہ عمل بن جائے، اور جب فرد کا ہر عمل بڑھوتری سرمائے کے تحت آجائے تو فرد خود اپنے دل میں یہ محسوس کرے کہ میں کامیاب ہوگیاہوں، اور زندگی کے ہر شعبے کے اندر سرمائے کی بڑھوتری کو مہمیز دینے کی بنیاد کے اوپر اپنی مرضی سے اپنے اعمال کا تعین کرے۔ کسی معاشرے میں کس قدر سرمایہ دارانہ جبر کی ضرورت ہے اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ افراد کتنے سرمایہ دار ہوچکے ہیں۔

 سرمایے کی فرماں روائی اورعمل داری کو کن افراد کے ذریعے ممکن بنایاجاتاہے

سرمایہ دارانہ عقلیت کوئی فطری چیز نہیں ہے بلکہ انتہائی غیر فطری چیز ہے، اس لیے سرمایہ دارانہ تعقل کو پورے نظامِ زندگی پر غالب کرنے کے لیے خصوصی کوشش کی جاتی ہے۔ اس میں مخصوص افراد اور اداروں کی اہمیت ہوتی ہے، پہلے ہم ان افراد کا تذکرہ کرتے ہیں جو سرمایہ دارانہ عقلیت کو قبولیتِ عامہ دلوانے اور سرمایہ دارانہ عقلیت کو غلبہ دلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

(١)دانشور  Intellectual : 

یہ وہ فرد ہے جو قدیم مذہبی علمیت اور قیادت کا فطری مخالف ہے۔ مذہبی علمیت کی بنیاد یہ ہوتی ہے کہ ہر عمل کی انجام دہی سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضامندی و مرضی تلاش کی جائے۔ احکامات کا استنباط اس طرح کیا جائے کہ اللہ کی مرضی ومنشأسے قریب تر ہو نا ممکن ہوسکے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کی اطاعت ممکن ہوسکے۔ اس کے برعکس دانشور کا ظہور اٹھارویں صدی میں ہوا اور یہ مذہبی علمیت کے برعکس دوسری علمیت کا علم بردار ہوتا ہے۔ یہ مذہبی علمیت سے علی الرغم ادراک حقیقت کا قائل ہوتا ہے، یہ انسان کی آزاد ی اور مساوات کا قائل ہوتا ہے اور ان راہوں کی نشاندہی کرتا ہے جن کے نتیجے میں انسانیت زیادہ سے زیادہ مساوی آزادی حاصل کر کے اپنی خواہشات (نفسانیہ) کو حاصل کر سکتی ہے۔

(٢)کلچرل ہیروز :

اس ریاستی نظام میں چوں کہ تمتع فی الارض اور نفسانی خواہشات کی تکمیل

 عمل کے قدرکی تعیین کی بنیاد بنتے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کی نشوونما اور تشہیر کی بہت ضرورت ہوتی ہے جو اس کام میں کامیاب ہو جائیں، عموماً یہ دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔

٭اسپورٹس مین:

 لبرل نظام میں کھیلوں (لہو ولعب) کی خاص اہمیت ہے ۔ مقامی سطح سے لے کر ملکی اور بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کا ایک مستقل سلسلہ لبرل ریاستوں کے تعاون سے جاری رہتا ہے اور مختلف قسم کے کھیل کھیلنے والوں کو ہیروز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

٭سائنسدان:(سائنسز سے وابستہ افراد میں فزیکل اور سوشل سائنسز سے وابستہ افرادشامل ہیں)

یہ وہ افرادہیں جنہوں نے کائنات کی طبعی قوتوں پر انسان کا غلبہ اور اختیار بڑھا دیا ہے اور اس اختیار کو بڑھانے کا مقصد تمتع فی الارض ہے۔ ایک زمانے میں یہ فزیکل سائنسدان ہوتے تھے، مگر آج کل میڈیسن اور بائیو ٹکنالوجی سے وابستہ افراد کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

ان ہیروز(Heroes)کو یہ مواقع فراہم کیے جاتے ہیں کہ یہ فیہ معاشرے کے رول ماڈل بن جائیں۔ لوگ ان کلچرل ہیروز کو بزرگان دین کی جگہ رکھنے لگیں ۔ علماء اور صوفیاء کو بے وقوف سمجھنے لگیں اور اصلی عوامی لیڈر شپ کا منصب ان تین طرح کے لوگوں کے پاس آ جائے۔ اصلی عوامی لیڈر شپ عموماً سیاسی نہیں ہوتی بلکہ اصلی عوامی لیڈر شپ ان کلچرل ہیروز کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے۔ ان کلچرل ہیروز کے ”مداح” اپنی زندگی میں ان کا طرزِ زندگی اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

(٣)  ٹیکنو کریٹ اور بیورو کریٹ : ٹیکنوکریسی اور بیورو کریسی بھی سرمایہ دارانہ ریاستوںکے انتظام سے متعلق خاص چیز ہے۔ یہ ایسی اشرافیہ ہوتی ہے جو سرمایہ داری کے مجموعی مفادات کی بنیاد پرانفرادی سرمایہ دارانہ عمل کی تحدید اور ترتیب کرتی ہے۔ اس کا اپنا مفاد اس میں پنہاں ہوتا ہے کہ سرمایہ داری کے مجموعی مفادات کتنے حاصل ہو رہے ہیں؟ ان کو سرمائے کے مجموعی مفادات کے نمائندوں کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کا ایک مستقل مسئلہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں کوئی عمومی ایجنٹ پیدا نہیں ہوتا۔ مارکیٹ کا جو طریقہ اورنظم قائم ہے اس میں ہر کمپنی اپنے مفادات کی نگرانی اور تحفظ

 کے لیے سرگرم عمل ہوتی ہے۔ اس کو صرف اس بات سے غرض ہوتی ہے کہ اس کا منافع زیادہ سے زیادہ ہو جائے۔ اس لیے اس نظم میں عمومی سرمائے کے تحفظ کے نمائندے نہیں ہوتے۔ جو ا س بات پر نظر رکھ سکیںکہ کوئی مخصوص کمپنی اپنا منافع زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے کوئی ایسا کام تو نہیں کر رہی جس سے مجموعی بڑھوتری سرمایہ کو روکا جارہا ہے۔ ٹیکنو کریسی اور بیوروکریسی یہ بتاتی ہے کہ تمتع فی الارض کا بہترین طریقہ کیا ہے اور ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے مفادات سے اوپر اٹھ کر مجموعی سرمایہ کے ایجنٹوں کا رول ادا کریں گے۔ ان کی وفاداریاں اور  غیر جانبداریاں (impartiality) سرمایہ دارانہ نظام سے وابستہ ہوتی ہیں۔ اس کے لیے انہیں مخصوص امتحانی نظام سے گزار کر سامنے لایا جاتا ہے اور عمومی نمائندوں کے برعکس ان کی حیثیت ایک مستقل نوعیت کی ہوتی ہے۔ قانون سازی میں بھی یہ اہم رول ادا کرتے ہیں۔ یہ کسی بھی سرمایہ دارانہ نظریے پرایمان رکھنے والے ہو سکتے ہیں، چاہے لبرل ہوں یا مسلم قوم پرست یا کمیونسٹ … سرمایہ دارانہ نظام کا تقاضا ہے کہ ایسا گروہ مستقل تیار ہوتا رہے اور یہ نظریاتی گروہ برسر اقتدار بھی ہو اور اس کا اقتدار مقبول عام بھی ہو۔

(٤)آرمڈ فورسز (armed forces):اس کی زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں… یہ سرمایہ داری کو لاحق خطرے کے وقت سامنے آتے ہیں اور سرمایہ داری کا آخری دفاع یہی لوگ کرتے ہیں۔ ہر ملک کی عموماً اپنی آرمی، پولیس اور ریزروفورسزوغیرہ ہوتی ہیں۔

(٥)استعماری ایجنٹ (Imperial oversight agents):یہ وہ مقامی افراد ہوتے ہیںجن کا فکری تناظر ، جن کے مفادات اور وفاداریاں عالمی استعمار کے ساتھ  وابستہ ہوتی ہیں۔ چوں کہ سرمایہ دارانہ نظام ایک عالمی نظام ہوگیا ہے اور سرمایہ داری کی جو اصل قوت نافذہ ہے’ امریکہ ہے۔ اس قوت نافذہ کی ایک ضرورت یہ ہوتی ہے کہ براہِ راست اپنے افراد کے بجائے وہ ایسے مقامی افراد کے ذریعے حکومت کے کاموں میں دخیل ہو جن کی بنیادی وفاداریاں امریکن ایمپائر کے ساتھ ہوں۔ وہ بودوباش تو مقامی لوگوں کا سا رکھیںلیکن تمام تر طرزِ زندگی ایمپائر کی سی ہو، گویا یہ ایمپائر کے غیر مقامی شہری (non national citizens)ہوتے ہیں۔ انگریزوں کی حکومت نے جب محسوس کیا کہ ان کی حکومت کو مقبولیت

 حاصل نہیں ہے تو انہوں نے مختلف طریقوں خصوصاً تعلیمی نظام کے ذریعے ایسے لوگ تیار کیے اور صرف ہندوستان میں نہیں بلکہ پوری تیسری دنیا کے اندر ایسے لوگوں کی پوری نسل تیار کی گئی جو فطرتاً ایمپائر ہی کے لوگ ہوں۔ یہ لوگ کلیدی مقامات پر فائز کیے جاتے ہیں۔

 حاملین اقتدار ادارے

ہم ان افراد کا تذکرہ کر چکے ہیںجو سرمایہ دارانہ عقلیت کو قبولیت عامہ اور غلبہ دلانے میں اہم کردار اد ا کرتے ہیں ۔اب ان اداروں کا تذکرہ ہے جن کے ذریعے یہ افراد اقتدار کی ترتیب عمل میں لاتے ہیں۔

(ا)کارپوریشن :

کارپوریشن کے اندر نظامِ اقتدار سرمایہ داری اپنی کامل ترین شکل میں ہوتا ہے۔ جہاں ایک فرد سرمایہ دارانہ بندھنوں میں ایسے جکڑا ہوتا ہے کہ بڑھوتری سرمایہ  کا ایجنٹ بننے کے سوا اور کچھ ممکن نہیں ہوتا۔ کارپوریشن کے اندر جو ترتیب نظم ہوتی ہے اس کے نتیجے میں معاش کے پورے عمل پر جس طرح سرمایہ دارانہ عقلیت غالب آتی ہے اور کہیں غالب نہیں آتی۔ سرمایہ دارانہ نظام میں کارپوریشن کے ذریعے ذاتی ملکیت کو ختم کر کے سرمائے کی ملکیت قائم کی جاتی ہے۔ سرمایہ دارانہ تعقل کے لیے انسان کے جاگتے اوقات میں انسان کو خاص قسم کے نظم و ضبط میں سمو دیا جاتا ہے اور اس کے ان اوقات میں اسے سرمائے کا خادم بنا دیا جاتا ہے۔ کارپوریشن وہ شخص قانونی ہے جس کا اکیلا وظیفہ یہ ہے کہ سرمائے کی بڑھوتری کے پیمانے پر اپنے تمام اعمال کو مرتب کرے۔ کارپوریشن کو چلانے والے منیجر ہوتے ہیں، جو عملاً بڑھوتری سرمایہ کی مشین ہوتے ہیں وہ اپنے ماتحت ملازمین کو بھی اس واحد پیمانے پر پرکھتے ہیں کہ وہ بڑھوتری سرمائے کے باعث بن رہے ہیں کہ نہیں… ایک معیشت میں جس قدر کارپوریشن کا عمل دخل بڑھتاہے اتنی ہی ذاتی ملکیت کم ہو جاتی ہے۔

(ب)بینک اور مالی ادارے:

کارپوریشن کے علاوہ دوسرا ذریعہ بینک اور فنانشل ادارے ہیں۔ یہ بھی خالصتاً سرمایہ دارانہ ادارے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ سرمائے کی بڑھوتری کی بنیاد پر قدر کے تعین کا ایسا نظام نافذ اور قائم کریں کہ زر کی مارکیٹ اور اسٹاک مارکیٹ (capital market) پیداواری عمل کے نظام پر حکم لگانے کی پوزیشن میں

 آجائے۔ اس کے لیے بنک یہ فریضہ انجام دیتے ہیں کہ لوگوں کی بچتوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں تاکہ لوگ اپنے فاضل سرمائے کو خود استعمال نہ کریں بلکہ بینک میں کھاتے کھول لیں اور بینک اس رقم کو سرمایہ کے چکر (circle of capital)میں شامل کر دیں۔ انہی اداروں کے ذریعے سرمایہ داری کو عالمگیر کرنے میں مدد ملتی ہے۔

(ج)فنانشل ریگولیشن (زری تحکیم):

سرمایہ دارانہ نظام میں مختلف کمپنیاں اپنے اپنے منافع کو بڑھانے کے لیے مسلسل مسابقت کرتی ہیں۔ اس لیے ایک ریگولیٹری اتھارٹی کی ضرورت ہوتی ہے جو یہ نظر رکھتی ہے کہ اس مسابقت کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ نظام بحیثیت مجموعی کسی نظاماتی بحران سے دوچار نہ ہو۔ یہ ریگولیٹری اتھارٹی اس نظاماتی بحران سے بچانے کے لیے پیسہ کی رفتارِ پیداوار میں کمی یا زیادتی کا فیصلہ کرتی ہے۔ بظاہر تو یہ خاص حکومت کا کام لگتا ہے ، لیکن اب صرف اسٹیٹ بینک یہ کام نہیں کرتا بلکہ عالمی مالیاتی اور زری ادارے بھی اس میں دخل اندازی کرتی ہیں اور پرائیوٹ سیکٹر میں بھی ایسی ریٹنگ (Rating) ایجنسیاں آ گئی ہیں مثلاً جے پی مورگن وغیرہ جن کا اس سلسلے میں اہم کردار ہوتا ہے۔

(د)لیبر یونینز:

کبھی کبھار یہ بھی ہوتا ہے کہ ٹریڈ یونینز بھی سرمایہ دارانہ عقلیت کو غالب کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انفرادی طور پر تو کارپوریشن کے اندر ہیومن ریسورس مینجمنٹ کے ذریعے یہ کام کیا ہی جارہا ہے، لیکن اجتماعی طور پر مزدوروں کو سرمایہ دارانہ عقلیت سے بہرہ ور کرنے کا کام مزدور یونینز بھی کرتی ہیں۔ وہ مزدور قوتوں کو اس مقصد کے گرد منظم کرتی ہیں کہ سرمایہ دارانہ عقلیت کے فروغ کے نتیجے میں جو فوائد حاصل ہو رہے ہیں ‘ ان میں اپنا حصہ طلب کریں اور مزدور بھی اجتماعی طورپر سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل کو مہمیز دینے میں اپنا کردار ادا کریں اور ان کے مفادات بڑھوتری سرمایہ کے اہداف سے زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ ہو سکیں۔

(ذ)انتظامیہ (مقامی اورقومی ):

کسی بھی ملک کے معاملات چلانے کے لیے انہیں مختلف شعبو ں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے مثلاً داخلہ امور، خارجہ امور، دفاعی امور، تعلیمی امور، معاشی امور… اور ان سب امور کو چلانے کے لیے ہر ملک میں انتظامیہ کا ادارہ ہوتا ہے، جس کی تنظیم مقامی سے لے کر قومی سطح تک موجود ہوتی ہے۔ انتظامیہ کے ادارے کا کام محض قانون کا نفاذ نہیں ہوتا بلکہ وہ قانون سازی میںبھی نمایاں طور پر حصہ لیتا ہے۔ اکثر قوانین کے مسودے انتظامیہ ہی تیار کرتی ہے۔ عملاً انتظامیہ ہی مقننہ کی رہنمائی کرتی ہے اور اس پر حاوی ہوتی ہے اور اس کو سرمایہ دارانہ ڈگر سے نہیں ہٹنے دیتی۔

(ط)میڈیا:

جس میں اخبارات ورسائل، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ وغیرہ شامل ہیں۔ سرمایہ دارانہ دائرہ اقتدار کو وسیع کرنے کا اہم ادارہ ہے۔ میڈیا کے سب شعبے یعنی انٹر ٹینمنٹ، ایڈورٹائزنگ ور انفارمیشن پہنچانے کا عمل سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کے استحکام کا باعث بنتے ہیں۔ انٹر ٹینمنٹ انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کو رول ماڈل اور ہیرو بنایا جاتا ہے۔ ایڈورٹائزنگ کے ذریعے سرمایہ دارانہ کارپوریشن کے مال کی طلب پیدا کر کے اس کی کھپت ممکن بنائی جاتی ہے اور انفارمیشن پہنچانے کے عمل کو بھی مختلف طریقوں (لائسنسنگ پر کنٹرول) کے ذریعے ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔ میڈیا کا وسیع نیٹ ورک سرمایہ دارانہ ریاست کے ماتحت ہی ہوتا ہے۔

(ز)عدالتیں:

عدلیہ بنیادی طورپر لبرل دستور کی محافظ ہوتی ہے۔ یہ لبرل دستور کی بنیاد پر شہریوں کے دو فریقوں یا سٹیزن اور مملکت اور اس کے مختلف اداروں کے درمیان متنازعہ امور کے فیصلے کرتی ہے۔ ان معنوں میں کورٹس کا بنیادی فریضہ روزمرہ معاملات کی دستور سے ہم آہنگ تشریح و توضیح کرنا اور مخصوص معاملات پر اس کا اطلاق کرنا ہے۔ دستور جیسا کہ ہم جانتے ہیں ‘ ایسی آزادیوں اور حقوق کے مجموعے کا نام ہے جو فرد کو سرمائے کی بڑھوتری کے فرض کو پورا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم سرمایہ دارانہ ملکیت کا تحفظ اور آزادی کا تحفظ ہے۔

(س)پولیس:

پولیس کے محکمہ کا سرمایہ دارانہ اشرافیہ اور عدلیہ سے مخصوص نوعیت کا تعلق ہوتا ہے۔ ریاست میںسرمایہ دارانہ عدل کی بنیاد پر جو فیصلے کیے جاتے ہیں، ان فیصلوں کا نفاذ پولیس کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشرہ اور ریاست جس مخصوص نہج پر استوار ہوتے ہیں اس مخصوص نہج سے انحراف کرنے والوں پر پولیس نظر رکھتی ہے۔ بعض اوقات سرمایہ دارانہ

 اشرافیہ اپنے مخالفین کو کچلنے کا کام بھی پولیس سے لیتے ہیں۔

(ش)آرمڈ فورسز:

سرمایہ دارانہ ریاستیں اصولاً قومی ریاستیں ہوتی ہیں اور اصولاً اس قومی ریاست کو اقتدار اعلیٰ حاصل ہوتا ہے، یعنی نہ تو اندرون ملک کوئی فرد یا گروہ ریاست کے دائرہ اختیار سے باہر ہو سکتاہے اورنہ کوئی بیرونی طاقت یا گروہ اس نیشن اسٹیٹ کی مرضی کے بغیر اس کے حاصل کردہ اختیار کو چیلنج کر سکتی ہے۔ اقتدار اعلیٰ کے اس تحفظ کے لیے بنیادی طورپر فوج کا ادارہ ہوتا ہے۔ سرمایہ دارانہ لبرل ریاست کا آخری دفاع آرمڈ فورسز ہی کرتی ہیں۔

(ص)مقننہ  (legislature)

مقننہ عموماً دو ایوانوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ایوانِ زیریںعوام کی نمائندہ سمجھی جاتی ہے اور ایوانِ بالا میں مخصوص طبقوں یا علاقوں کو نمائندگی دی جاتی ہے۔ انتخاب کی غرض سے تمام ملک کو مختلف حلقوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور ہرحلقے سے اراکین کی مقررہ تعداد ایک متعینہ مدت کے لیے ایوانِ زیریں میں نمائندگی حاصل کرتی ہے۔ اصولی طورپر مقننہ کا اولین فرض قانون سازی ہوتاہے اور عوام کے نمائندے معاشرہ کے بدلتے ہوئے حالات اور وقت کے تقاضوں کے مطابق قانون بناتے ہیں۔ قوانین میں ردوبدل کرنا یا ان کی تنسیخ کرنا بھی مقننہ کا کام ہوتا ہے اور تمام ارکان کے بحث ومباحثہ اور اظہارِ خیال کے بعد مقننہ کو اختیار ہوتا ہے کہ کثرتِ رائے سے پیش کیے جانے والے بل کو منظور کردے، لیکن فی الواقع جدید دور میں یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ مقننہ کا کردار مسلسل کم ہورہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ تو وہی ہے کہ سرمایہ دارانہ لبرل ریاستوں کو عالمی سرمایہ دارانہ استعماری ریاست اپنی مرضی کے قوانین بنانے پر مجبور کرتی ہے اور عموماً یہ کام ٹیکنو کریسی کرتی ہے۔ مقامی ٹیکنو کریسی بھی صرف وہ اقدامات بروئے کار لاتی ہے جو عالمی سرمایہ دارانہ قوانین سے ہم آہنگ ہوں۔ جب مقننہ کا بنیادی فریضہ ہی ادا نہ ہوتو گویا یہ کمزور ترین ادارہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی چند جزوی وجوہات ایسی ہیں کہ مقننہ کا کردار کم سے کم ہوتا جارہا ہے، مثلاً ہر انفرادی ممبر اپنی جماعت کی طرف سے پیش کیے گئے بل پر عموماً توثیق ہی کرتا ہے، چناں چہ اس عمل سے اس کی عدم دلچسپی بڑھتی جاتی ہے۔ مقننہ کے اندر متعلقہ شعبے کے ماہرین مثلاً دفاعی، معاشی، تعلیمی، معاشرتی ماہرین کم ہوتے ہیں، اس لیے وہ اس

 شعبہ سے متعلق قانون سازی کی سکت ہی اپنے اندر نہیں پاتے۔ لہٰذا صرف پاکستان کی مثال ہی نہیں بلکہ یورپ اور امریکہ ہر جگہ اب پارلیمنٹ یا مقننہ کا کوئی کردار نہیں رہ گیا۔ پارلیمنٹ تو محض کھیل تماشہ ہے کیوں کہ حکومتوں میں تبدیلیوں کے نتیجے میں پالیسیوں کے اندر کسی قسم کی تبدیلی نہیں آتی۔

(ض)عالمی ریٹنگ ایجنسیاں اور نگراں ایجنسیاں:

اب بین الاقوامی سطح پر ایسے ادارے وجود میں آچکے ہیں جو ملکی سطح پر اہم ترین امور پر مکمل دخیل ہو چکے ہیں، مثلاً آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، یونائیٹڈ نیشن کے مختلف ادارے۔ انہوں نے قومی اداروں سے مخصوص نوعیت کا تعلق استوار کر لیا ہے۔ آئی ایم ایف کے پاس صرف یہ سکت نہیں ہے کہ وہ ہماری معاشی پالیسی کے بارے میں فیصلہ کرے بلکہ وہ اپنے فیصلے کے نفاذ کا ایک خاص میکنزم بھی رکھتا ہے۔ اسی طرح اب پرائیوٹ سیکٹر کی ریٹنگ ایجنسیوں کا ظہور بھی ہورہا ہے۔ یہ ایجنسیاں سرمایہ دارانہ اصولوں کی بنیاد پر ملکوں کی کارکردگی کو مسلسل جانچتی رہتی ہیں اور ان کی جانچ کا اثر کسی ملک میں ہونے والی بیرونی اور اندرونی سرمای کاری پر پڑتا ہے۔

(ط)تعلیمی نظام:

سرمایہ دارانہ علمیت اس وقت غالب آتی ہے جب مذہبی علمیت پر سے لوگوں پر اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ یہ عمل مغرب کے اندر اٹھارویں صدی میں پروان چڑھا۔ کلیسا جو کہ قدیم مذہبی علمیت کا علمبردار تھا’ اس کو دورِ تنویر کے مفکرین نے شکست دے دی۔ تنویری فکر کی بنیاد پر جن علوم کا ظہور ہوا اسے فزیکل سائنس اور سوشل سائنسز کہا جاتا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی ٹیکنالوجی اور سرمایہ دارانہ عقلیت کو جواز فراہم کرنے والے علوم ہیں۔ ان کی بنیاد پر مغرب کا پورا نظام تعلیم تشکیل پایا۔ تیسری دنیا پر استعماری طاقتوں کے غلبے کے بعد وہاں بھی یہی تعلیمی نظام مستحکم ہوا۔ اب یہی اسکول کی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم کا مکمل نظام ہے جسے لوگوں نے برضاورغبت قبول کر لیا ہے اور مذہبی علوم کے بجائے اس تعلیمی نظام میں پڑھائے جانے والے علوم کو فوقیت اور ترجیح دی جاتی ہے۔ تعلیمی نظام کے ان اداروں کے ذریعے سرمایہ دارانہ عقلیت کو جواز عمومی اور قبولیت عامہ فراہم کی جارہی ہے۔

اب تک جن حاملینِ اقتدار اداروں یا Processes کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں اہمیت کے لحاظ سے کوئی ترتیب قائم نہیں کی گئی بلکہ ان کا محض تعارف اور خاکہ پیش کر دیا گیا۔ دراصل لبرل ریاست دو مختلف دائر ہ کار میں تقسیم ہو جاتی ہے، یعنی جمہوری طرز حکومت اور آمرانہ (Authoritarian) طرزِ حکومت… جمہوری طرزِ حکومت میں ان اداروں کی تقدیم اور ترتیب اس سے مختلف ہوتی ہے جو آمریت میں ہوتی ہے۔ ذیل میں جمہوری طرزِ حکومت کی ممکنہ ترجیحی ترتیب کی فہرست دی جاتی ہے۔

١۔بینک اور فنانشل ادارے

٢۔فنانشل ریگولیشن کے ادارے

٣۔انٹلیکچوئل

٤۔استعماری ایجنٹ

٥۔میڈیا

٦۔عدالتیں

٧۔بین الاقوامی نگراں ایجنسیاں اور عالمی ریٹنگ ایجنسیاں

٨۔مقننہ

٩۔پولیس

١٠۔آرمڈ فورسز

١١۔ٹریڈ یونین

جب کہ آمریت یا Authoritarianریاست  میں ممکنہ ترجیحی ترتیب ذیل کے مطابق ہو سکتی ہے۔

(ا)پولیس

(٢)آرمڈ فورسز

(٣)استعماری ایجنٹ

(٤)عدالتیں

(٥)میڈیا

(٦)انٹلیکچوئل

(٧)بینک اور فنانشل ادارے

(٨)فنانشل ریگولیشن کے ادارے

(٩)بین الاقوامی نگراں ایجنسیاں

(١٠)مقننہ

اب تک جن Personnel اور اداروں کا تذکرہ کیا گیا ہے، ان کے بارے میں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ یہ پرسنل اور ادارے حکومت نہیں کر رہے بلکہ ان کے ذریعے حکومت کی جارہی ہے۔ حکومت اور اقتدار اس چھوٹے سے گروپ کا ہے جو سرمایہ دارانہ عقلیت کو پورے طور پر قبول کیے ہوئے اور اس عقلیت کی عالمگیریت کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتا ہے۔ ایسے لوگ وہ تمام پرسنل اور ادارے جن کا تذکرہ کیا گیا ہے ان کے اندر بھی پائے جاتے ہیں اور باہر بھی… اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ چھوٹا سا گروپ اپنی حکومت کیسے کرتا ہے؟ یہ اپنی حکومت دو طریقوں سے کرتا ہے:

١۔نمائندگی(Representation)

٢۔نفاذ احکام بذریعہ طاقت (Mediation)

1۔پہلے طریقے میں یہ باور کرانے کی کوشش کرائی جاتی ہے کہ اس پر کوئی نزاع موجود نہیں ہے کہ سرمائے کی بڑھوتری ہی قدر کے تعین کا واحد پیمانہ ہے۔ سب لوگ اس کے قائل ہیں اور یہی اصول ہم کو نمائندگی کا جواز فراہم کرتا ہے، کیوں کہ ہم ہی اس مفادِ عامہ کو فروغ دینے والی قوت ہیں اور ہم ان تمام پرسنل اور اداروں کے ذریعہ وہی کررہے ہیں جس کو مقبولیت عامہ حاصل ہے۔ تینوں طرح کی سرمایہ دارانہ ریاستیں چاہے وہ(١)لبرل ہوں (٢)اشتراکی ہوں (٣)قوم پرست ہوں، اس جائز نمائندگی کا دعوی کرتی ہیں۔

2۔mediationکے طریقے میں سرمائے کے عمومی مفاد کی ایک خاص تعبیر غالب اشرافیہ بزور قوت نافذ کرتی ہے۔ چوں کہ سرمایہ داری ایک جاہلیت ہے اور اس جاہلیت سے کسی قدر بھی خیر کا تصور نہیں کیا جا سکتا اس لیے لامحالہ بیک وقت سرمائے کے مفاد ِ عمومی کی

 مختلف جہتوں سے مختلف تعبیریں کی جاتی ہیں۔ لیکن وہ چھوٹا سا گروپ جو کہ حکومت کر رہا ہے ، وہ mediationکے ذریعہ یہ باور کراتا ہے کہ سرمایہ دارانہ مفادات کاجو تصور وہ رکھتا ہے، وہی درست ہے اور اس کے عمومی مفاد کی تعبیر کے تحت مختلف انفرادی سرمایہ دارانہ مفادات کی تعبیروں کی تحدید کی جائے اور سرمائے کے عمومی مفاد کے تحفظ کے لیے اس کے تصور کے مطابق معاشرے اور ریاست کی صورت گری کی جائے۔

یہ دونوں کام بیک وقت بھی کیے جارہے ہوتے ہیں یعنی غالب اشرافیہ کی تعبیرِ مفاد عمومی کو مسلط بھی کیا جارہا ہوتا ہے اور نمائندگی کے اداروں کے ذریعہ اس مخصوص تعبیر کے حق میں رائے بھی بنائی جا رہی ہوتی ہے۔ نمائندگی جن اداروں (proceses)کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

١۔انٹرسٹ گروپس……… Groups Interest 

٢۔ ہیروز کی پرستش……… Heroes

٣۔سیاسی پارٹیاں……Political Parties

٤۔ایڈمنسٹریشن اینڈ کورٹس… Administration and courts

(1)انٹرسٹ گروپس:

انٹرسٹ گروپس وہ ہوتے ہیں جو کسی سرمایہ دارانہ حق کی طلب کی بنیاد پر لوگوں کو جمع کرتے ہیں۔ مثلاً پانی، صفائی وسیوریج کے مسائل، تعلیم، عورتوں پر ظلم وغیرہ وغیرہ… ظاہر ہے کہ جب اس قسم کے سرمایہ دارانہ حقوق کی بنیادپر لوگوں کو مجتمع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس میں جمع ہونے والوں کی اخلاقی اور مذہبی حالت کی بنیاد پر کوئی تخصیص روا نہیں رکھی جاتی، مثلاً وہ مسلمان ہے یا قادیانی یا کوئی اور ، اسی طرح نمازی وپرہیز گار ہے یا زانی’ شرابی اور بے نمازی… بس ان کا مخصوص سرمایہ دارانہ حق کی طلب پر متفق ہونا ضروری ہوتا ہے۔ گویا ان انٹرسٹ گروپس کے ذریعہ وہ سرمایہ دارانہ اشرافیہ جو حرص وحسد کو عالمگیر کرنا چاہتی ہے’ وہ نفوذ کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ سرمایہ دارانہ حقوق کو طلب کر کے سرمایہ دارانہ نظام کو ہی مستحکم کیا جاتا ہے۔ ان کے نتیجے میں غیر سرمایہ دارانہ نظام نہیں برپا کیاجا سکتا۔

(2)  ہیروز:

سائنٹیفک ہیروز ہوں یا میڈیا کے ہیروز ، ان کی امیج بلڈنگ کر کے بھی معاشرہ میں نفوذ کیا جاتا ہے، کیوں کہ اگر یہ لوگ مقبول عام ہوتے ہیں تو سرمایہ دارانہ عقلیت بھی مقبول عام ہوتی ہے۔

(3)سیاسی پارٹیاں:

بنیادی طورپر سیاسی پارٹیاں بھی سرمایہ داری سے مختص ہیں۔ سرمایہ داری سے پہلے جو مختلف گروہ اور طبقات سیاسی عمل میں شامل ہوتے تھے ان میں سیاسی پارٹیوں کی similaritiesتو تلاش کی جا سکتی ہیں، لیکن جن معنوںمیں اب سیاسی پارٹیاں خصوصاً اپوزیشن پارٹیاں وجود رکھتی ہیں، وہ سرمایہ دارانہ نظام سے پہلے نہیں تھیں۔ مختلف پارٹیاں ایک ہی سیاسی نظام پر بنیادی طورپر متفق ہوتی ہیں۔ اس نظام پر اصولی اتفاق کے بعد ان کے اختلافات جزوی اور فروعی ہوتے ہیں۔ یہ پارٹیاںلوگوں کو ایک اجتماعیت فراہم کرتی ہیں۔ لوگ ان کی لیڈر شپ کو اپناتے ہیں اور اپنا ایک خاص تشخص اور اپنی ایک خاص شناخت ان کے ذریعہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس خاص تشخص اور شناخت کے لیے اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں صرف کرتے ہیں۔ یہ پارٹیاں سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے نفوذ کا اس لیے اہم  ذریعہ ہیںکہ ان کی بنیادیں،شناخت اور تشخص اصولی طورپر سرمایہ دارانہ نظام کے استحکام ہی سے وابستہ ہوتی ہیں۔

(4)  ایڈمنسٹریشن اور کورٹس:

قانون کا نفاذ اس طریقے سے کیا جاتا ہے کہ وہ قانون غیر جانبدار نظر آئے۔ فیصلے ایسے ہوں کہ وہ مفاد عامہ کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر جانبدارانہ طور کیے جائیں تا کہ سرمایہ دارانہ نظام پر ایمان متزلزل نہ ہو اور کسی غیر سرمایہ دارانہ نظام کی جانب جھکاؤ نہ ہو۔

(5)سرمایہ دارانہ تحریکیں :

سرمایہ دارانہ تحریکیں مثلاً قوم پرست، اشتراکی یا انارکسٹ تحریکیں سرمایہ دارانہ اشرافیہ کے نفوذ کا اہم ذریعہ ثابت ہوئی ہیں، کیوں کہ ان میں بھی غیر سرکاری تنظیموں (NGOs )اور پروفیشنلز ایسوسی ایشنز اور انٹرسٹ گروپس کی طرح سرمایہ دارانہ حقوق کو ہی طلب کیا جاتا ہے۔ ان تحریکوں کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ اشرافیہ ہی کی سبقت قائم کی جاتی ہے اور سرمایہ دارانہ عقلیت ہی عمومیت اختیار کرتی ہے۔

قوم پرست اور اشتراکی تحریکیں لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بڑی کامیاب تحریکیں رہی ہیں، لیکن انہوں نے بھی لبرل سرمایہ داروں کی جگہ قوم پرست اور اشتراکی سرمایہ داروں کی حاکمیت قائم کی ہے، کوئی غیر سرمایہ دارانہ نظام نہیں قائم کیا۔

  ٢۔ Mediation:۔

جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے Mediation کے ذریعہ سرمایہ کے عمومی مفاد کی ایک خاص تعبیر کو نافذ کیا جاتا ہے۔ Mediationمندرجہ ذیل اداروں اور طریقوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔

(ا)فوج و پولیس۔

(٢)کورٹس اور عدلیہ کا نظام۔

(٣)شمولیت (سیاسی مخالفین کو ساتھ ملانا)۔

(٤)اخراج کر دینا(مخالفین کو بے دست وپا کر دینا)۔

(٥)سوشل ویلفیئر۔

(٦)صنعتی تعلقات۔

ایک خاص قسم کے ڈسپلن کو نافذ کرنے کے لیے سب سے اہم ادارے تو پولیس اور فوج ہیں۔ اس کے علاوہ کورٹس اور عدلیہ کا نظام ہے۔ یہ اس لیے اہم ہیں کہ سرمایہ دارانہ عقلیت میں راسخ العقیدہ لوگ جو فیصلے کرتے ہیں اس میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ وہ فیصلے مقبول عام بھی ہوں۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی بہت اہم ہے اور اس بات کو بھی ممکن بنایا جاتا ہے کہ اگر ان کے خلاف کوئی عمل ہو تو ان کوسزا بھی دی جا سکے۔ اس کے لیے مذکورہ ادارے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

شمولیت  (Co-option):

اس سے مراد یہ ہے کہ ایسے گروہوں کو ساتھ ملا لیا جائے جو کسی طرح راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہوں اور جو سرمایہ دارانہ نظام کے اپوزیشنل گروپ نظر آتے ہوں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں” شمولیت ”کی ایک بہترین مثال سوشل ڈیمو کریسی کی ہے۔ سوشل ڈیموکریسی کے ذریعہ سوشلسٹ طرزِ فکر کے حاملین کو اس کا قائل کر لیا جاتا ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام میں محدود حقوق کی طلب پر اکتفا کر لیں۔ اس میں مزدور نے اپنی جدوجہد اس پر مرکوز کر دی کہ اس نظام یعنی سرمایہ دارانہ نظام میں میرا وہ حصہ مجھے نہیں دیا جارہا  جس کا میںحق دار ہوں، لہٰذا مزدوروں کی جماعت کو حکومت میں شامل کر لیا جائے۔ اس طرح محدود حقوق فراہم کرکے اورمراعات فراہم کر کے بڑی جدوجہد سے ان کو دست کش کرا لیا جاتا ہے۔ co.optionکی اور بھی مثالیں ہو سکتی ہیںمثلاً اسلامی جماعتوں کو بھی اگر سرمایہ دارانہ حکومت میں شامل کر لیا جائے تو وہ سرمایہ دارانہ نظام ریاست کا ایک جواز فراہم کر سکتی ہیں اور اسلامی امارت و خلافت کی جدوجہد سے دست کش ہو سکتی ہیں اور اس بات پر راضی ہوسکتی ہیں کہ محدود مراعات حاصل کر لیں اور معمولی اور بے ضرر قسم کے علاماتی اسلامی اقدامات پر مطمئن ہو جائیں۔ اس co.optionسے co.opt ہونے والا گروہ اپنی فطری Constituencyسے دور ہوتا چلا جاتا ہے اوراسConstituencyمیں اپنی legitimacyکھو دیتا ہے۔

اخراج (Exclusion):

سرمایہ دارانہ نظام میں معاشی عمل اور سیاسی عمل اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ قوت ان ہاتھوں میں مرتکز ہوتی چلی جاتی ہے جو سرمایہ کی بڑھوتری کے اصول کو بنیادی عقیدہ بنا لیتے ہیں اور جو یہ عقیدہ نہیں رکھتے انہیں اس قابل نہیں رہنے دیا جاتا کہ وہ مجموعی سیاسی یا معاشی عمل میں کوئی فیصل کردار ادا کرسکیں۔ صوفیۂ کرام کی معاشرتی اور ریاستی حیثیت کو اس نہج پر پہنچا دیا گیا ہے کہ وہ فیصل کردار ادا نہ کر سکیں۔

سوشل ویلفئیر :

آخری چیز سوشل ویلفیئر ہے۔ یعنی رفاہ عامہ کے کاموں پر ہی ساری جدوجہد کو مرکوز کردیا جائے اور عوام کو سیاست علیا کے معاملات سے ہٹا کر مرکزی معاملہ یہی رہ جائے کہ رفاہ عامہ کے کتنے کام ہو رہے ہیں؟ اسی طرح سوشل ویلفیئر سسٹم اور نیشنل انشورنس کا پورا نظام ہے جس کے ذریعہ سرمائے کے مفاد عمومی کی ایک خاص تعبیر کے نفاذ کو ممکن بنایا جاتا ہے۔ اور یہ طریقے ہیں جن سے سرمایہ دارانہ ڈسپلن قائم ہوتا ہے۔

بطور نمائندگی جن اداروں اور طریقہ کار کا تذکرہ ہوا اور بطور Mediation جن اداروں اور طریقہ کار کاتذکرہ ہوا ان کو جمہوری حکومتوں میں بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے اور استبدادی (ڈکٹیٹر شپ) حکومتوں میں بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ ذیل میں وہ مختلف ترتیب بیان کی جاتی ہے جومیرے خیال میں مختلف طرز کی حکومتوں میں ممکن ہے۔ نمائندگی کے ادارے اگر جمہوری حکومت میں ہو ں تو ان کی مندرجہ ذیل ترتیب ہو سکتی ہے:

(١) انٹرسٹ گروپس (٢)سیاسی جماعتیں (٣)ہیروز (٤)انتظامیہ اور کورٹس

نمائندگی کے اداروں کی ترتیب استبدادی حکومت میں مندرجہ ذیل طریقے سے ممکن ہے:

(١)عوامی تحریکیں (٢)ہیروز (٣)انتظامیہ اور کورٹس (٤)انٹرسٹ گروپس

اسی طرح Mediationکے اداروں کی ترتیب جمہوری حکومت میں مندرجہ ذیل ہو سکتی ہے:

(١)کورٹس اور عدلیہ کا نظام (٢)شمولیت (Mediation ) (٣)سوشل ویلفیئر (٤)اخراج (٥)پولیس اور فوج

 اس کے علاوہ Mediationکے اداروں کی ترتیب استبدادی حکومتوں میں یوں ممکن ہے:

(١)کورٹس اور عدلیہ کا نظام (٢)پولیس اور فوج (٣)اخراج (٤)شمولیت (٥)سوشل ویلفیئر

اب تک سرمایہ دارانہ ریاست کا ایک عمومی خاکہ مرتب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر ہم کسی جگہ اسلامی نظام کو غالب کرنا چاہتے ہیں تو وہاں سے سرمایہ دارانہ نظام کا کلیتاً انہدام ضروری ہے، کیوں کہ اسلامی نظام اورسرمایہ دارانہ نظام میں اختلاف جزوی نہیں بلکہ اصولی اور بنیادی ہے۔ اب یہ اسلامی نظام کی پیش قدمی اور سرمایہ دارانہ نظام کا کسی مخصوص ملک سے اخراج کس طرح ممکن ہو گا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مخصوص ملک سرمایہ داری اور اس کی مخصوص نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم پاکستان میں ایسی اقدامی حکمت عملی ترتیب دیں اور پیش قدمی کرنا چاہیں تو دینی تحریکوں کو مندرجہ ذیل سوالوں کے جوابات حاصل کرنا ضروری ہے:

(١)پاکستانی ریاست کی نوعیت کیا ہے؟

(٢)کیا پاکستان ایک قومی لبرل ریاست ہے یااستعماری باجگزار ریاست؟ یا دونوں کا مجموعہ ہے؟

(٣)پاکستان میں سرمایہ دارانہ عقلیت غالب کرنے کے لیے کون سے ادارے کلیدی اور کون سے معاونین کی حیثیت رکھتے ہیں؟

(٤)کیا ان کلیدی اور معاونین گروپس میں تعلق مفاہمت کا ہے یا مخاصمت کا؟ اور مخاصمت کی صورت میں اس کی نوعیت کیا ہے؟

(٥)طرزِ حکومت کی ترجیحات اور قوتِ نافذہ کے استعمال کے تناظر میں کیا پاکستان ایک لبرل جمہوری ریاست ہے یا آمرانہ؟

(٦)سرمایہ داری کے استحکام اور فروغ کے لیے پاکستان میںبحیثیت قومی لبرل ریاست یا باجگزار ریاست کیا بنیادی فیصلے ہو رہے ہیں؟

(٧)ان فیصلوں کے صدور اور نفاذ کے لیے کون سے ادارے، پروسیسس (processes)اور افراداہمیت کے حامل ہیں؟

(٨)کون سے افراد یا کون سے عہدے کی سطح پرکلیدی فیصلے کیے جاتے ہوںاور وہ کیااسٹرکچرز ہیں جن سے ان کی تنفیذ کو ممکن بنایا جاتا ہے؟

(٩)بیورو کریسی میںفیصلہ کرنے کی اہم ترین سطح کیا ہے اور ان فیصلوں کی تنفیذ کی اہم ترین سطح کیا ہے؟

(١٠)کون سے ادارے اور کون سے عوامل ہیں جن کو کمزور کر کے سرمایہ دارانہ تعقل کو غیر معقول کیا جا سکتا ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked