امام غزالی رحمہ اللہ کے منہج کے مطابق

 

مولانا سید محبوب الحسن

امام غزالی کے کام کا تعارف:

امام غزالی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں اور نہ ہی ان کا کام کسی سے ڈھکا چھپا ہے لیکن اس مضمون کا مقصد امام غزالی کے ان اصولوں کو اجاگر کرنا ہے جو انہوں نے یونانی فکر کے انہدام کیلئے بالعموم اور یونانی مابعد الطیعات (ایمانیات) کے انہدام کیلئے بالخصوص استعمال کیے اور یونانی فکر کو شکست فاش دی۔ اس کے بعد امام غزالی نے احیاء علوم الدین لکھی اور علوم اسلامیہ کو ایک بار پھر زندگی دی۔ اس مضمومن کو ہم نے پانچ حصوں میں منقسم کیا ہے جو کہ درج ذیل ہیں۔

١) ۔امام غزالی کے کام کی اہمیت۔

٢)۔ امام غزالی کے کام کا پس منظر۔

٣)۔ یونانی فکر’ ایمان’ اعمال سے پیدا ہونے والے نتیجے اور ان کا تجزیہ امام غزالی کی نظر میں

٤)۔ عمومی اصول تنقید

٥)۔ خصوصی اصول تنقید

امام غزالی کے کام کی اہمیت:

مسلمانوں کا بالعموم مغرب کی فکر کے بارے میں رویہ دو طرح کا ہے بعض علماء نے مغربی فکر سے بالکل کنارہ کشی اختیار کی ہے اور اپنے علوم کو مغربی فکر کے اثر سے محفوظ رکھا ہے جبکہ دوسری طرف جدیدیت کے حامی علماء جنہوں نے یا تو اس امر کی سعی کی ہے کہ اسلامی فکر اور مغربی فکر میں مطابقت ظاہر کی جاسکے یا اسلامی فکر کی اہمیت و افادیت کو مغربی طریقہ کار اور اصولوں پر کار بند رہ کر اجاگر کیا جائے۔

یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہئے کہ اسلام اور کفر کا یہ پہلا فکری معرکہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل یونانی تہذیب کے ساتھ مسلمان برسرپیکار رہے اور وہاں امام غزالی رحمہ اﷲ ہمارے رہنما تھے جن کی رہنمائی میں ہم نے یونانی تہذیب کو شکست دی اور اسلام فاتح رہا۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم امام غزالی کے ان اصولوں کا مطالعہ کرکے مغربی فکر کے خلاف استعمال کریں۔ مغربی فکر دراصل یونانی فکر کی طرح ہی ایک خالص کفر ہے اور اسلام کے متبادل ایک نظام حیات پیش کرتی ہے جوصرف اﷲ سے بغاوت کا دوسرا نام ہے۔

امام غزالی کے طریقہ کار سے ہی ہم مغربی فکر کو اسلامی اصولوں کے مطابق جانچ سکتے ہیں اور اس کا تجزیہ کرسکتے ہیں۔ کیونکہ اس نوعیت کا کام صرف امام غزالی ہی نے فرمایا ہے۔ امام غزالی کے اصول تنقید مغربی فکر کے تجزیہ و پڑتال کیلئے ہمارے لیے مددگار ہوں گے۔

(٢) امام غزالی کے کام کا پس منظر

اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے نتیجے میں جب اسلام ان علاقوں میں پہنچا جہاں رومی و یونانی تہذیب کا اثر و رسوخ تھا تو وہاں کے لوگوں کے پاس اسلام کے متبادل ایک علمیت پہلے سے موجد تھی جس کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ حق (الحق) کو کماحقہ جانتی ہے اور یہ علمیت کی بنیاد وحی سے بے نیاز تھی بلکہ وحی سے بالاتر تھی اور وہ عقل تھی۔ یہاں یہ بات واضح ہونی چاہئے یہاں عقل سے مراد کچھ اصول جو کہ آپ کے دماغ میں وقت تولد موجود ہوتے ہیں یا آپ تجربہ سے حاصل کرتے ہیںا ور اس عقل کا مقام دماغ ہے نہ کہ دل۔

اگرچہ یہ تصادم امام کی پیدائش سے قبل واقع ہو چکا تھا لیکن اس نے امام کے دور میں انتہائی گھنائونی شکل اختیار کر لی تھی جو امت مسلمہ کو نقصان پہنچا رہی تھی۔ امت مسلمہ میں ایک گروہ پیدا ہو چکا تھا جو وحی کو حق و باطل میں تفریق کرنے کا اہل نہیں سمجھتا تھا بلکہ وحی کی جگہ پر عقل کو رکھتے تھے کہ عقل دراصل حق و باطل کا فرق واضح کرے گی۔ اس علمی معیار کے تبدیل ہونے کے نتیجے میں عقائد اسلامیہ سے کنارہ کشی ہو گئی۔ امام نے اس علمی معیار کی تبدیلی سے پیدا ہونے والی عقائدی اور اخلاقی تبدیلیاں جو کہ ایک فرد میں پیدا ہورہی تھی بھانپ لیا اور اس کا واحد قصور وار عقل کو وحی پر ترجیح کو قرار دیا۔

اس بے راہ روی کے درج ذیل اسباب تھے۔

١) ۔فلسفیوں کو انکی عقل کی وجہ سے انبیاء سے بھی بڑھ کر مقام دینا

٢)۔ فلسفیوں کے اخذ کردہ ناقابل تشکیک (یہ محض فلسفیوں کا دعویٰ ہے) اصولوں پر ایمان لانا

٣)۔ استخراجی طریقہ کار پر اس طرح کا غیر متذبذب ایمان کہ یہ طریقہ کار چند ناقابل تشکیک اصولوں کی روشنی میں کسی حق کو سامنے لائے گا۔

مندرجہ بالا ایمانیات دراصل اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ لوگوں نے یونانی مابعد الطبیعات’ منطق اور طبعی علوم کو قابل ترجیح سمجھا ہے۔ جو بالآخر اسلامی قوانین اور تعلیمات کارد ہی تھا۔ ان ایمانیات کا بالعموم نتیجہ یہ نکلا کہ ان لوگوں کے دل میں یونانی فکر و فلسفہ کا رعب اوور دبدبہ قائم ہو گیا۔ امام غزالی کا یونانی فکر و فلسفہ کی تنقید کا بنیادی مقصد اسی رعب اور دبدبہ کو ختم کرنا تھا۔

امام غزالی کا نظریہ علم اور مختلف علوم کی درجہ بندی:

علم کیاہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟ ان سوالوں کا جواب تنقید کے عمومی مقصد کیلئے ضروری ہے امام غزالی نے اسی علم کے نظریہ اور اس کے مقصد کی بنا پر ہی دراصل یونانی علوم پر تنقید کی ہے۔

امام کے ہاں علم کا بنیادی مقصد معاد ہے۔ علوم کی جانچ پڑتال صرف اس معیار پر کی جائیگی کہ وہ کس قدر معاد میں معاون ہیں۔ لہٰذا علم صرف علم برائے معاد ہے اور دوسری اسناد کی حیثیت اس مقصد کے حصول کیلئے آلاتی ہوگی لہٰذا علم صرف رضا الٰہی اور خوشنودی رب ہے نہ کہ کچھ اور۔ اس معیار علم پر ہم علوم کی درج ذیل درجہ بندی کر سکتے ہیں۔

(١) وہ علوم جو براہ راست معاد سے متعلق ہیں جیسے قرآن و حدیث

(٢) وہ علوم جو براہ راست تو معاد سے متعلق نہ ہوں لیکن آلاتی طور پر معاد کے لیے معاون و مددگار ہوں جیسے عربی ادب قرآن و حدیث کی تفہیم کیلئے لیکن اگر ان علوم کا جاننا بذات خود ہو تو یہ علوم نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

(٣) وہ علوم جو براہ راست معاد کیخلاف ہوں جیسے یونانی مابعد الطبیعات تو ان کو بذات خود رد کیا جائیگا۔

(٤) وہ علوم جو براہ راست تو معاد کیخلاف نہ ہوں لیکن معاد کیخلاف بھی آلہ کے طور پر کام کریںجیسے منطق یونانی

(٥) وہ علوم جو معاد کے لیے نیوٹرل ہوں نہ نقصان وہ نہ فائدہ مند’ انکا حصول بھی قابل تردید ہے

امام غزالی کی یونانی علوم پر تنقید:

امام غزالی نے علم کی تعریف اور مختلف علوم کی درجہ بندی کی بنا پر ہی یونانی علوم پر تنقید قائم کی اور ان کی اسلامی علمیت کے تناظر میں جو مقام ہے اسے واضح کیا۔ درج ذیل میں کچھ علوم پر امام کی کی گئی تنقید کو اجمالاً بیان کیا جاتا ہے۔

طبعی علوم (سائنس):

امام غزالی طبعی علوم کو طب کی طرح سمجھتے ہیں طب کا بنیادی مقصد انسانی جسم کا مطالعہ اور اس میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ ہے جس کا مقصد انسان کو صحت سے ہمکنار کرنا ہے لہٰذا یہ اسلام کے کس اصول شریعت کے خلاف نہیں ہے لیکن امام غزالی نیچرل ازم کو بہت شدومد سے رد کرتے ہیں جوکہ مفروضہ کے طور پر یوناینوں نے قائم کی ہے۔ حالانکہ نیچرل ازم ان علوم سے نہیں نکلتا یہ تو صرف یونانیوں کی ایمانیات کی بنا پر ہے۔ یہ مفروضہ اس بات پر ایمان سے دفع ہوجائیگا کہ فطرت دراصل خدا کی ملکیت میں ہے اور اس کے احکام میں تابع ہے اور وہ اسے جیسے چاہتا ہے استعمال کرتا ہے سورج چاند ستارے سب اس کے تابع ہیں کوئی بھی خود سے نہ تو پیدا ہوسکتا ہے اور نہ ہی کچھ کرسکتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ کسی بھی علم کو اس کی مابعد اطبیعات یا ایمانیات سے قطع کرکے نہیں دیکھنا چاہئے اور نہ ہی اسے لا اقداری (Value Natural) سمجھنا چاہئے۔ اسلام اس طرح کی خاص ایمانیات کو رد کرتا ہے لیکن حقائق سے انکار بھی نہیں کرتا۔

منطق:

منطق دراصل ایک آلاتی علم ہے جس کے ذریعے سے آپ دلائل کی کوالٹی اور اس کی قوت کو بڑھا سکتے ہیں لیکن یہ بذات خود یا اس کا مافیہ کچھ نہیں ہے یہ کسی بھی جانب سے استعمال کی جاسکتی ہے۔ منطق دراصل چند اصولوں پر مبنی ہے جو دلائل کی داخلی مطابقت کو قائم رکھنے کیلئے استعمال کی جاسکتی ہے’ لہٰذا امام غزالی کے نزدیک منطق کو بطور آلہ کوئی بھی استعمال کرسکتا ہے وہ فلسفی بھی ہوسکتا ہے اور ایک مسلمان بھی کیونکہ بطور آلہ منطق اسلامی علمیت سے کسی طور بھی برعکس نہیں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ امام غزالی منطق کے منفی اثرات سے بھی متنبہ کرتے ہیں مثال کے طور پر منطق کی تکنیک کے استعمال کے بعد اس دلیل کی ساخت کو بہتر ہو سکتی ہے لیکن مقدمات سے اخذ کردہ نتیجہ کی حقانیت کا اس تکنیک سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ نتیجہ حق بھی ہوسکتا ہے باطل بھی ہوسکتا ہے اس بات کا انحصار ان قضایا پر ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے اور قضایا کی حقانیت بھی قابل بحث ہے لہٰذا ساخت اور مافیہ کا فرق واضح رہنا چاہئے منطق صرف ساخت سے بحث کرتی ہے نہ کہ مافیہ سے۔

ریاضی:

ریاضی بھی ایک آلاتی علم ہے جو کئی دوسرے علم میں معاون و مددگار ہوتی ہے جو کہ معاد کے لیے ضروری ہیں۔ جیسے وراثت میں حصص کی تقسیم’ نمازوں کے اوقات وغیرہ وغیرہ۔ لیکن امام دو بڑے خطرات سے متنبہ کرتے ہیں جو کہ دوسرے علوم سے بھی متعلق ہوسکتے ہیں یہ دو خطرات ہمیں عمومی اصول بھی فراہم کرتے ہیں جس کی روشنی میں ہم بیسیویں صدی میں پیدا ہونے والے مسئلہ یعنی اسلام اور سائنس سے بھی بہتر طور پر نبرد آزما ہوسکتے ہیں۔

پہلا خطرہ یہ ہے کہ ریاضی کی وضاحت مدلل اور بیّن ہونا عام لوگوں میں یہ مغالطہ پیدا کردیتا ہے کہ یہ دوسرے علوم میں بھی نہ صرف ممکن ہیں بلکہ ہونی چاہئے اس مغالطہ نے دنیا کے کئی بڑے ذہنوںکو بھی متاثر کیا۔ اس مغالطہ کیخلاف امام غزالی ایک اصول پیش کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ایک علم میں ماہر ہے تو یہ ضرورت نہیں ہے کہ یہ مہارت اسے تمام علوم میں بھی ہوگی جیسے ایک شخص طب میں ماہر ہے تو وہ ریاضی’ فلکیات سے ناواقف ہوسکتا ہے۔ لہٰذا امام کہتے ہیں کہ ریاضی کی ابتدائی دلائل واضح میں لکلیل مابعد الطبیعات صرف مفروضات پر قائم ہے یہ بات اہل علم پر واضح ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اسلام اور سائنس کے تعلق کو واضح کرے گا۔ اسلام اور سائنس میں کوئی تضاد نہیں اس وقت تک جب تک سائنس کا تجربہ کے ذریعے اشباء کے ثابت کرنے کا تعلق ہے۔ مخاصمت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب سائنس اپنی حدود سے تجاوز کرکے تجربہ سے ثابت کرنے کا معیار اسلام میں قائم کرنا چاہتی ہے حالانکہ دونوں کی نوعیت میں بہت واضح فرق ہے اور سائنسدان اپنی اتھارٹی کو پوری زندگی میں قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ امر بھی غیر معقول ہے کہ سائنس دان کی اتھارٹی مابعد الطبیعات اور مذہب میں قبول کی جاسکے۔

دوسرا خطرہ اس خیال کی متخل سے ہے کہ جو علوم فلاسفہ سے نسبت رکھتے ہیں ان کو رد کردینا چاہئے اور اس طرح وہ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں حالانکہ یہ اسلام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

اعتقاد:

امام نے چار طرح کی تنقید کی ہے (١) داخلی (٢) خارجی (٣) منطقی (٤) جوہری

داخلی:

اس طرح کی تنقید میں آپ اس میدان یا تناظر کے اصولوں کو مان کر ان اصولوں پر دلائل کو پرکھتے ہیں اور ان دلائل میں جہاں نقص ہوتا ہے یا جہاں کمزوری ہوتی ہے اسے اجاگر کیا جاتا ہے۔ امام غزالی کی تنقید بالکلیہ داخلی نہ تھی کیونکہ امام غزالی کے نزدیک علمیت صرف اسلام ہی ہے اور یونانی فکر وادی بنات نے آپ کے عقائد پر اثر انداز نہ ہوسکے لیکن اس کے ساتھ ساتھ امام غزالی اس بات کی ضرورت سمجھتے ہیں کہ جس پر آپ تنقید کرنا چاہتے ہیں اس کے بارے میں آپ مکمل علم رکھیں اسے مکمل جانیں اور نہ صرف مکمل جانیں بلکہ اس علم کے ماہرین سے بھی اچھی طرح واقف ہوں یہ بات طے ہے کہ امام غزالی یونانی فکر و فلسفہ کو یونانی مفکرین سے بھی زیادہ بہتر جانتے تھے۔

امام غزالی کا یہ کام متکلمین کے کام سے ہر چند مختلف تھا کیونکہ متکلمین کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے اندر سے کچھ ایسے عقائد جو کہ اسلام کے خلاف تھے کا سدباب کرنا تھا اور اصلاح کرنی تھی۔ متکلمین کے مخاطب مسلمان ہی تھے جو کہ مسلمانوں کے بنیادی عقائد پر ایمان لاتے تھے لیکن ان کی تعبیر مختلف کرتے تھے جبکہ امام غزالی کے مخاطبین مسلمان نہ تھے بلکہ کفار تھے یعنی یونانی فلسفی جن کا ایمان دراصل کفر تھا ان پر تنقید کے لئے یہ ضروری بات ہے کہ آپ پہلے ان کی تکنیک اور ایمان سے ان سے زیادہ واقف ہوں اور پھر ایسی تکنیک ہی کو غیر معقول اور غیر منطقی ثابت کریں ان کی بنیاد کو انہی کے ہتھیار سے متزلزل اور متذبذب کردیں اور اس کی بیخ کنی کریں۔

نظامی مطابقت (System Coherence) دراصل ایک نظام کی بحیثیت کل کے ایسی مطابقت ہے جس میں ہر ہر جز اپنی ساخت اور مافیہ کے اعتبار سے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھے۔ داخلی تنقید میں ہم یہی نظامی مطابقت کے دعویٰ کو غلط ثابت کرتے ہیں۔ امام غزالی جب داخلی غیر مطابقت کو واضح کرتے ہیں تو وہ صرف یونانی فلسفیانہ نظریات و قضایا کو ہی نہیں بلکہ اس پوری علمیت کے تضاد کو واضح کرتے ہیں جس کی بنیاد پر ان کے مطابق قائم بالذات عقل پر ہے امام غزالی نے ہر اس علمیت جس کی بنیاد قائم بالذات عقل ہے کی داخلی غیر مطابقت کو واضح کیا ہے لہٰذا یہ بات ضروری ہے امام کی تنقید ایک کل کے طور پر دیکھا جائے نہ کہ علیحدہ علیحدہ اعتراضات جو کہ آپ نے یونانی فکر و فلسفہ پر کیے تھے۔ امام غزالی نے یونانی فکر پر جو تنقید کی وہ متکلمین کی طرح خارجی تھی جیسا کہ انکا ایمان اسلامی علمیت کی Superiorty پر تھا لیکن متکلمین سے مختلف اس لحاظ سے تھی کہ وہ ان کی علمی معیار سے اچھی طرح واقف تھے اور یہ ضروری بھی تھا کہ ان کے معیار علم یعنی عقل کی نوعیت بھی کچھ اس طرح کی ہے کہ اس کو اندر ہی سے تباہ کیا جاسکتا ہے وہ کوئی قائم بالذات حقیقت نہیں ہے۔

پہلے مرحلے میں امام غزالی نے فلاسفہ کے دعوی جات کو جن کے بارے میں فلاسفہ کا دعویٰ تھا کہ وہ وہبی ہیں کو ثابت کیا کہ وہ وہبی نہیں ہیں اور دوسرے مرحلہ پر امام غزالی نے فلاسفہ کے سامنے انہی کے معیار کے مطابق پہلے دعویٰ کے متبادل دعویٰ پیش کیا جو کہ وہبی تھا (اس طرح امام غزالی نے ان کے اپنے ہی دعویٰ کا انہی کے معیارات کے مطابق ان کی زبان میں غیر وہبی کا ثابت کیا۔ اس طرح وہ اپنے ہی دعویٰ میں کمزور ہو گئے۔

(٢) خارجی تنقید:

جب ہم اپنے ہی میدان (اسلام) میں رہ کر کسی دوسرے (جیسے یونانی) میدان پر تنقید کرتے ہیں تو دراصل یہ خارجی تنقید ہے جس میں ہم اپنے معیارات علمیت کی بنا پر دوسرے میدان کے ایمانیات و عقائد پر تنقید کرتے ہیں امام غزالی نے داخلی اور خارجی تنقید کو اس طرح ملایا کہ دشمن کی پوزیشن کو متزلزل کردیا اور اس کی بیخ کنی کردی جس طرح ایک جنگ میں دشمن کے خلاف مختلف محاذ سے ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرکے دشمن کو شکست دی جاتی ہے بالکل اسی طرح امام غزالی نے داخلی اور خارجی تنقید کو اس طرح استعمال کیا کہ دشمن اپنے ہی ہتھیار سے شکست کھائے اور اسے ہماری پوزیشن پر نکتہ چینی کی عقلی طور پر اجازت نہ ملے۔ امام غزالی نے یونانی فکر و مابعد الطبیعات پر داخلی تنقید خارجی تنقید کے (Paralew) میں رہ کی کی ہے۔

(٣) منطقی تنقید:

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ اس میں ہم کسی میدان علم و نظریہ کی جانچ اس کی منطقی مطابقت کے حوالے سے کرتے ہیں اگر منطقی مطابقت ہے تو درست ورنہ وہ نظام غلط ہے۔ امام غزالی نے اس قسم کو اپنی پوری تہافہ میں استعمال کیا ہے اور یونانی فکر میں منطقی عدم مطابقت ثابت کی ہے۔ پورے تہافہ میں امام نے بارہا یونانی مفکرین کو چیلنج کیا کہ ان کے نظریات کے اندر منطقی مطابقت موجود نہیں ہے اور اس کے متبادل نظریات پیش کرکے اس کے اندر منطقی عدم مطابقت تلاش کرنے کا کھلا چیلنج دیا جس سے یونانیوں کی پوزیشن کھل گئی۔

(٤) جوہری تنقید:

تنقید کی اس قسم میں ہم دلائل کیلئے طبعی یا تاریخی حقائق کو بطور دلیل کے پیش کرتے ہیں پہلے مرحلہ پر امام نے اسلام کی پیشن گوئیاں اور اس کے اصول و اعمال کو تاریخ اور طبعی حقائق سے درست ثابت کیا جبکہ دوسرے مرحلے میں یونانی نظریات کو تاریخی اور طبعی طور پر غلط ثابت کیا اور تیسرے مرحلے پر امام نے فرمایا کہ اسلام اور یونانی افکار کا حل طبعاً یا تاریخی حقائق پر نہیں بلکہ یہ مابعد اطبیعات نوعیت کے ہیں لہٰذا انہیں اسی حوالے سے حل کیا جاسکتا ہے۔

اس مضمون کو لکھنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ امام غزالی نے یونانی فکر کی بیخ کنی کیلئے اسلامی اصولوں کو استعمال کیا اور اس فکر کو ہمیشہ کیلئے اسلام میں اجنبی بنا دیا۔ امام غزالی نے جو اسلامی اصول یونانی فکر کیخلاف استعمال کیے وہ آج بھی مغربی فکر کیخلاف استعمال کیے جاسکتے ہیں اور ان سے وہی فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے جو امام غزالی نے اسلام کیلئے کیا۔ اﷲ تعالیٰ امام غزالی کی یا ان کی روشنی میں قرآن و سنت کی اتباع میں نئی اصول وضع کیے جاسکتے ہیں۔

اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمیں ان کی اتباع میں مغربی فکر کی بیخ کنی کی توفیق نصیب فرمائے آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked