ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری

انتخابی عمل میں شرکت کے خلاف کئی اسلامی جماعتوں نے شکوک اور شبہات کا موثر اظہار کیا اور ہماری سب سے کامیاب عوامی اسلامی جماعتیں ـتبلیغی جماعت اور دعوت اسلامیـ سیاسی عمل سے قطعی لاتعلقی قائم رکھنے کو اپنا بنیادی وصف گردانتی ہیں۔ ان شکوک و شبہات کو پھیلا کر اور انتخابی عمل سے پہلو تہی اختیار کر کے یہ اسلامی حلقہ نادانستہ طور پر کافر اور سیکولر نظام اقتدار کو تقویت پہنچاتا ہے اور غلبہ دین کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس مضمون کا مقصد ان شکوک اور شبہات کو رفع کرنا اور غیر سیاسی اسلامی جماعتوں کے سامنے اپنا انتخابی مقدمہ رکھنا ہے۔

انتخابی عمل پر اسلامی حلقوں کے اعتراضات

سب سے قدیم اعتراض یہ ہے کہ انتخابی عمل میں شرکت کے نتیجہ میں اسلامی اخلاقی معیارات کو قائم نہیں رکھا جا سکتا۔ اسلامی جماعت کے انتخابی کارکن ان رذائل کو اپنانے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو انتخابی عمل میں عام ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ استعماری غلبہ سے قبل اسلامی تاریخ میں انتخابی عمل ناپید رہا۔

دوسرا اعتراض جو ڈاکٹر اسرار احمد کے متوسلین سب سے بلند آہنگی سے کرتے ہیں کہ ابھی انتخابی عمل اور حصولِ قوت کی جدوجہد میں شرکت کا وقت نہیں آیا۔ پہلے نظریاتی دین دار اور مخلص کارکنوں کی ایک ٹیم علمی جدوجہد سے تیار کرنا ضروری ہے اور پھر ایک طویل مدت کے بعد پرامن مزاحمت کے ذریعے نظام یہ ٹیم اقتدار کو تحلیل کر دے گی۔

تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ چونکہ اسلامی جماعتیں مذہبی فرقوں میں بٹی ہوئی ہیں اور ہر فرقہ صرف اپنے کو حق پر اور دوسرے تمام گروہوں کو کسی نہ کسی درجہ میں گمراہ تصور کرتا ہے لہٰذا انتخابی عمل اس افتراق کو فروغ دے گا اور سیاسی میدان میں اسلامی جماعتیں دست و گریباں ہو جائیں گی۔

ڈاکٹر امین صاحب اور ہمارے دیگر intellectuals کا اعتراض یہ ہے کہ عوامی جذباتیت گمراہ کن ہے ۔ اسلامی عصبیت کے فروغ کو غلبہ دین کی جدوجہد کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا اور جمہوری عمل سرمایہ دارانہ نظم اقتدار کا جزو ہے اس سے نظاماتی تبدیلی لانا ممکن نہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام اور اس کا نظم اقتدار

میری رائے میں ان اعتراضات کی بنیادی وجہ اسلامی حلقوں میں سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے نظم اقتدار سے ناواقفیت ہے۔ سرمایہ داری اس نظام انفرادیت، معاشرت اور ریاست کو کہتے ہیں جس کے بنیادی اقدار آزادی، مساوات اور ترقی ہیں اور جو لاالہ الا انسان کے کلمہ خبیثہ پر ایمان لے آیا ہے۔ آزادی کا تاریخی مفہوم نفس امار ہ کی غلامی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کا نمایندہ فرد اپنے نفس امارہ کا غلام ہوتا ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ نظام اقتدار سے اپنے حقوق (ہیومن رائٹس) طلب کرتا ہے۔ یہی ہیومن رائٹس ،نفس امارہ کے احکامات کی فراہمی اور سرمایہ دارانہ معاشرت و ریاست کی اخلاقی بنیاد ہیں۔ سرمایہ دارانہ اقتدار قائم رکھنے کے لیے لازم ہے کہ افراد کو اپنی نفسانی خواہشات کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے (پراگرس کرنے) کے مواقع فراہم کیے جاتے رہیں۔

سرمایہ دارانہ ریاست (نظام اقتدار) مندرجہ ذیل اداروں پر مشتمل ہوتا ہے:

سول اور ملٹری انتظامیہ

سود اور سٹہ کے بازار اور محنت کے بازار Financial and Labour markets

عدلیہ

میڈیا

نظام تعلیم

مقننہ

مقننہ واحد منتخب ادارہ ہوتا ے (خواہ یک جماعتی یا کثیر الجماعتی انتخابات کے ذریعے) اس کا وظیفہ دیگر تمام سرمایہ دارانہ ریاستی اداروں کا جواز Legitimacy and Hegemony)) فراہم کرنا ہے۔ انتخابی عمل وہ پیمانہ ہے جس کے ذریعے سرمایہ داراہ نظم اس بات کو جانچنے کی جستجو کرتا ہے کہ وہ کس حد تک مقصد وجود  (Reason De’tore)کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ یاد رکھیے یہ مقصد وجود ہر سرمایہ دار فرد کو زیادہ سے زیادہ نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ انتخابی عمل کے ذریعے محکوم افراد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ حاکموں کا کون سا گروہ ریاستی تنظیم کو عوام کی خواہشات نفسانی کے حصول کا کامیاب ترین ذریعہ بنا رہا ہے۔ اسی انتخابی عمل کے ذریعے ریاست کے تمام غیر منتخب اداروں کا جواز  (Legitimacy)قائم کیا جاتا ہے۔

پاکستانی سرمایہ دارانہ نظام اقتدار

یہ ایک نظام اقتدار ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام حیات ہم پر استعمار نے بالجبر مسلط کیا ہے۔ ایک غیرسرمایہ دارانہ انفرادیت او رمعاشرت پر سرمایہ دارانہ اقتدار اوپر سے مسلط اور قوم پرستی کی جو تحریک اس سرمایہ دارانہ غلبہ کا ذریعہ بنی وہ بھی منافقانہ تحریک ان معنوں میں تھی کہ اس نے اسلامی عصبیت کا سہارا لیا۔

لہٰذا پاکستانی سرمایہ دارانہ نظام اقتدار نہایت مجہول بنیادوں پر قائم ہے۔ پاکستانی انفرادیت گہرے تضادات کا شکار ہے۔ نظام اقتدار اس کو نفس پرستی کی ترغیب بھی دلاتا ہے اور مجبور بھی کرتا ہے لیکن رسوم و رواج کی ہمہ گیر عمومیت اور صوفیائے عظام اور علمائے کرام کی عوامی مقبولیت اس کو مستقل اپنی اسلامی شناخت کے اظہار پر آمادہ کرتی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ معاشرتی عمل نہایت محدود ہے۔ تمام ریاستی کاروبار انگریزی میں ہوتا ہے ۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف دو فی صد پاکستانی انگریزی میں رواں ہیں۔ تازہ ترین لیبر سروے بتاتا ہے کہ بیش تر پاکستانی self-employed ہیں۔ اپنا کاروبار خود کرتے ہیں۔ ان کانہ سود کے بازار سے کوئی تعلق ہے نہ سٹہ کے بازار سے نہ سرمایہ دارانہ محنت کے بازار سے۔ دس فی صد سے کم پاکستانیوں کا بینک اکائونٹ ہے۔ بیش تر خواتین پردہ دار ہیں۔ یہ اطلاعات ہمارے دشمنوں نے ہی فراہم کی ہیں۔

ہماری انتخابی جدوجہد کا جواز

ہم ایک انقلابی اسلامی جماعت ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام اقتدار منتشر کرنے کا عزم رکھتے ہیں لیکن ہمیں اس بات کا اندازہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی حاکمیت ہمہ گیر ہے۔ سرمایہ دارانہ اقتدار کو اس کے اندر ہی سے کمزور کیا جا سکتا ہے۔ اس کی سرحدوں پر کی جانے والی جدوجہد اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک سرمایہ دارانہ نظم اقتدار implode نہ کرجائے (اس کی بہترین مثال ایران اور سوڈان ہیں)۔ سرمایہ دارانہ نظام تضادات کا مجموعہ ہے اور بالخصوص پاکستانی انفرادیت اور معاشرت میں اسلامی عصبیت ایک نہایت طاقت ور جزو کے طور پر موجود ہے لہٰذا ہم اس بات کو ممکن سمجھتے ہیں کہ انتخابات کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظم اقتدار کو مجروح اور متزلزل کیا جا سکتا ہے۔ یہ صرف مولانا مودودی کی نہیں تمام مکاتب فکر بشمول حضرت شیخ الہند، حضرت امیر ملت پیر جماعت علی شاہ اور مولانا سلیم اللہ خان صاحب سب کی رائے ہے۔ انتخابی عمل میں شرکت کے ذریعے عوام کو اپنی فطری اسلامی عصبیت کا موقع فراہم کیا جا سکتا ہے اور اس عصبیت کے اظہار کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظم اقتدار کے جواز کو کمزور بھی کیا جا سکتا ہے اور اسلامی اقتدار کی ترتیب کی بنیاد بھی۔

یاد رکھیے کہ ٢٠١٣ کے انتخابات میں تمام اسلامی جماعتوں کو تقریباً ٣٣ لاکھ ووٹ ملے تھے اور سرحد اور بلوچستان میں اسلامی جماعتوں کے مجموعی ووٹ دوسری ہر مخالف جماعت سے زیادہ تھے۔ اگر غیرسیاسی اسلامی جماعتوں کے متوسلین کی تعداد ٥٠ لاکھ سمجھی جائے تو ہمارا بنیادی حلقہ اثر بلاشبہ پاکستان کا سب سے بڑا نظریاتی حلقہ اثر بنتا ہے۔ اگر یہ حلقہ اثر منظم اور متحرک ہو جائے تو سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کو ایک بڑا چیلنج پیش کیا جا سکتا ہے۔

لیکن انتخابی عمل کو سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کو کمزور کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات سرمایہ دارانہ اندرونی اور بیرونی انتخابات کے لیے درست ہے۔ لینن نے مسلسل انتخابات کے استعمال کے ذریعے ایک قوم پرست سرمایہ دارانہ ریاست کی تحلیل کر کے ایک اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام اقتدار قائم کیا اور آج ڈونلڈ ٹرمپ انتخابات کے ذریعے ہی ایک لبرل سرمایہ دارانہ نظام کو قوم پرستانہ نظام اقتدار میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی طرح ١٩٧٩ء سے آج تک علمائے ایران انتخابی عمل کے ذریعے ایک قوم پرست سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کو اسلامی ریاست میں تبدیل کر رہے ہیں۔ ہم بھی انتخابات کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظم اقتدار کی تسخیر چاہتے ہیں۔

غیر سیاسی اسلامی جماعتوں سے اپیل

غیر سیاسی اسلامی جماعتیں سرمایہ دارانہ نظم اقتدار کی ماتحت ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ قوانین پر عمل کرتی ہیں۔ ریاستی ٹیکس دیتی ہیں۔ ریاستی مراعات سے مستفید ہوتی ہیں اور ان کی سیاسی عدم فعالیت کے نتیجے میں ان کے بہت سے کارکن سیکولر جماعتوں کا ساتھ دیتے ہیں یوں سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کو وہ مستحکم کرتے ہیں۔ ان جماعتوں کی قیادت اور کارکنوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ غلبہ دین کی جدوجہد کا مطلب آج کے زمانے میں سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کو متزلزل کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ تبلیغ دین اور تطہیر معاشرہ کا جو گراں قدر کام یہ جماعتیں کر رہی ہیں اس کے دفاع اور اس کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اقتدار منتشر ہو اور اہل دین کے ہاتھ ریاستی اقتدار بتدریج منتقل ہو۔

بلاشبہ تحفظ اور غلبہ دین کا کام ہمہ جہت ہے۔ تبلیغ کی بھی ضرورت ہے اور علمیت کے فروغ کی بھی، تزکیہ نفوس بھی ضروری ہے اور تطہیر معاشرہ بھی، حصول اقتدار اور حاکمیت کی بھی ۔ جماعتی تقسیم کار میں بھی کوئی حرج نہیں۔ الحمدللہ تمام راسخ العقیدہ اسلامی جماعتیں حق پر ہیں۔ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ ہر راسخ العقیدہ جماعت نہایت اہم کام انجام دے رہی ہے لیکن اس کا م میں ارتباط نہیں۔ ایک دوسرے کو اپنا حریف سمجھتی ہیں اور سیکولر اور لبرل دشمن کے اقتدار کو تقویت پہنچاتی ہیں۔

جماعت سے عالم کی یہ کیسی ان بن

سمجھتے ہو تم پہرہ داروں کو رہزن

حقیقت یہ ہے کہ غیرسیاسی اسلامی جماعتیں اسلامی جماعتوں کی فطری  (natury allies)حلیف اور عوامی پشتیبان ہیں۔ اگر تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کی تائید پر آمادہ ہو جائیں تو آناً فاناً ہم اپنے اس سیاسی اتحاد کو جو ہم نے ایم ایم اے کی شکل میں قائم کیا تھا اور جو ہم نے ٢٠١٨ء سے پہلے ان شاء اللہ ضرور قائم کر لیں گے، عوامی تائید حاصل کرے گا۔

ہمارے اس اتحاد کو کسی سیکولر ، لبرل جماعت سے کسی سمجھوتے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہمارا انتخابی ایجنڈا خالصتاً اسلامی ہو گا۔ سوشل ڈیموکریٹ یا قوم پرست نہیں۔ ہم اسلامی عصبیت اور جذباتیت کو مہمیز دینے کے قابل ہو جائیں گے۔ اور پاکستان کی سب سے بڑی نظریاتی قوت کو میدان میں لا کر ریاستی نظام اقتدار کی ترتیب نو کے عمل کی ابتدا کریں گے اور اسلامی اداروں اور اسلامی معاشرت پر جو حملہ استعمار ہمارے سرمایہ دارانہ حاکموں سے مستقل کروا رہا ہے، ان کو ناممکن بنا دیں گے۔

اعتراضات کے جوابات

اب میں غیرسیاسی اسلامی جماعتوں کے انتخابی عمل پر اعتراضات کے بارے میں کچھ عرض کروں گا۔

اس میں شک نہیں کہ مروجہ انتخابی عمل پلید اور منکرات سے بھرا پڑا ہے۔ لیکن یہ بات سرمایہ دارانہ نظم اور طرز زندگی کے بارے میں درست ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کی ماتحتی پر ہم سب مجبور ہیں۔ مثلاً یونیورسٹیاں سب کی سب مخلوط ہیں لیکن کوئی بھی غیرسیاسی جماعت یونیورسٹیوں میں داخلہ پر اعتراض نہیں کرتی۔ سرمایہ دارانہ نظام عدل نہایت غلیظ لیکن ہر غیرسیاسی اسلامی جماعت اس کی ماتحتی قبول کرتی ہے اور گاہے بگاہے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس سے رجوع کرتی رہتی ہیں۔

چونکہ سرمایہ دارانہ اقتدار ہمہ گیر ہے لہٰذا اس میں شرکت بھی دور حاضر میں ناگزیر ہے۔ اس میںشرکت کے نتیجے میں لازماً نفوس پراگندہ ہوتے رہتے ہیں اور ان کی تطہیر کی ذمہ داری صوفیائے عظام اور علمائے کرام کے حلقہ کی ہیں۔ اگر یہ حلقہ اسلامی سیاسی جماعتوں کی پشتیبانی اور رہنمائی کرے تو انتخابات میں شرکت کے منفی نفسی اثرات کو یقینا بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

یہ اعتراض کہ ابھی حصولِ اقتدار کی جدوجہد کا وقت نہیں آیا اور پہلے ہمیں علمی اور روحانی تربیت کے ذریعے مخلص اور باہمت agitators           کی ایک بڑی ٹیم منظم کرنی چاہیے بالکل idealist اور غیرحقیقت پسندانہ ہے۔ برصغیر میں مروجہ دینی اور روحانی تعلیم و تربیت کا نظام کبھی بھی ایسے کارکن تیار نہیں کر سکتا جو سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کے متبادل کی تشکیل اور تنفیذ کر سکیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ نظام تعلیم و تربیت ایک اسلامی نظام اقتدار کے وقوع کو مفروض کرتا ہے۔ ایک کافر نظام اقتدار کو منتشر کر کے اس کی جگہ اسلامی نظام اقتدار کو مروج کرنے کے لیے کارکن تیار کرنا اس نظام تعلیم و تربیت کا وظیفہ ہی نہیں تھا اور رجوع الی القرآن کی جو تحریک ڈاکٹر اسرار کی سربراہی میں اٹھائی گئی ہے وہ بھی ایک خالصتاً idealist تحریک ہے۔ اس کے نصاب تعلیم و تربیت میں نہ سرمایہ دارانہ نظم ریاست کی تفہیم کی گنجایش ہے نہ ان اکابر اسلامی سیاسی مفکرین کی تعلیمات کا ذکر جنہوں نے تاتاری دور اقتدار کو منہدم کر کے احیائے اقتدار اسلامی کے لیے راہ ہموار فرمائی۔ اس نوعیت کی تعلیم و تربیت نہ فوجی بننے کی تربیت فراہم کرتی ہے نہ سول منتظم ، نہ تاجر اور صنعت کار اور نہ عدلیہ کے کارکن۔ روایتی نظام تعلیم سے اس کا امتیاز صرف یہ ہے کہ یہ پرامن احتجاج کرنے والے تیار کرتی ہے۔ گاندھی جی نے بھی یہی کام کیا تھا لیکن انہوں نے انتخابات کا سہار ا لے کر ہی ایک سرمایہ دارانہ نظم اقتدار کو منہدم کر کے ایک دوسرا سرمایہ دارانہ اقتدار قائم کیا۔

تبلیغی جماعت غلبہ دین کے لیے مجمع کو اکٹھا کر نا کافی سمجھتی ہے اور تنظیم اسلامی اس مجمع میں احتجاج کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا غلبہ دین کے لیے کافی سمجھتی ہے۔ ان کو امید ہے کہ جب مجمع اکٹھا ہو جائے اور موثر احتجاج برپا کرے گا تو معجزاتی طور پر حاضر و موجود سرمایہ دارانہ نظام میں غلبہ دین ہو جائے گا۔ یہ مفروضہ تاریخی حقائق کی مکمل نفی کرتا ہے۔ تبلیغی جماعت نے اسلام کی سیاسی تاریخ سے بالکل آنکھیں بند کر لی ہیں اور ڈاکٹر اسرار حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بعد کی اسلامی تاریخ غیرمعتبر گردانتے ہوئے ملوکیت کو کلیتہً ردّ کرتے ہیں۔

احتجاج کے ذریعے ایک نوعیت کے سرمایہ دارانہ نظام سے دوسری نوعیت کے سرمایہ دارانہ نظام کی طرف مراجعت ممکن ہے۔ جیسا کہ حال میں مشرقی یورپ، روس اور یوکرائن میں ہوا۔ لیکن محض احتجاج کبھی بھی سرمایہ دارانہ نظام کی تحلیل اور غلبہ دین کے لیے کافی نہیں ہو سکتا جیسا کہ ایران کے اسلامی انقلابی عمل سے ثابت ہے۔علمائے کرام نے پہلے حزب ۔۔         منظم کی اور مدارس کا انتظامی عمل بازار پر قائم کیا اور اس کے بعد مسلح اور غیر مسلح احتجاج کر کے سرمایہ دارانہ اقتدار کو منتشر کیا اور اپنے کارکنوں کے ذریعے نظام اقتدار کی ترتیب نو ممکن بنائی اور یہ عمل ا بھی تک جاری ہے۔

اقتداری نظم کے انہدام اور ترتیب نو کے لیے عوام کو متحرک کرنا بھی ضروری ہے اور منظم ادارتی صف بندی  (Institutionaliezed)کرنا بھی۔ عوامی تحرک (Mobilization) لازماً ایک جذباتی عمل ہے۔ عوام کو سیاسی طور پر متحرک کرنا ہے تو ان کی ثقافتی روایات اور رجحانات سے ہم آہنگی پیدا کرنا ہو گی۔ رسوم و رواج عوامی انفرادیت کے اظہار کا ذریعہ ہیں۔ ہمارے عوامی رسوم و رواج تصورات اور طرائق سلسلہ ہائے قادریہ اور چشتیہ سے وابستہ ہیں اور مقدس روحانی ورثہ کی امین بریلویت ہے۔ ایران میں عوام کی جذباتیت کو غلبہ دین کی جدوجہد کی بنیاد شیعی جذباتیت نے فراہم کی۔ برصغیر میں یہ کردار صرف بریلویت ادا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے جب بھی اسلامی سیاسی اتحاد بنایا اس کی قیادت ہمیشہ بریلوی علما کے سپرد کی۔ ایم ایم اے کے قائد امام نورانی تھے اور آج بھی ملی یکجہتی کونسل کی قیادت ایک بریلوی عالم ہی فرما رہے ہیں۔

ہماری تاریخی روایات، رسوم اور رواج کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنا عوامی تحرک کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہماری انتخابی حکمت عملی کامیاب اسی وقت ہو سکتی ہے جب عوام اسلامی جماعتوں کو اپنا فطری قائد اور اپنی تاریخی روایات کا محافظ گردانیں۔ اسلامی جذباتیت کو غلبہ دین کی جدوجہد کی بنیاد بنا کر ہم عوام کو اپنی اسلامی شناخت کے دفاع کے لیے آناً فاناً متحرک کر سکتے ہیں اور اگر ہمارا انتخابی منشور اور عمل یہ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو اتحاد اسلامی بالکل ناگزیر ہو جائے گا۔ عوام تمام سیاسی اور غیر سیاسی اسلامی جماعتوں کو متحد رہنے پر مجبور کر دیں گے۔

ڈاکٹر امین کا یہ اعتراض درست ہے کہ محض انتخابی عمل کے ذریعے نظاماتی تبدیلی لانا ناممکن ہے۔ سرمایہ دارانہ ریاست میں مقننہ محض ایک ادارہ ہے اور اس کا تحکم دیگر اقتداری اداروں (فوج، پولیس، بینک، عدلیہ، کارپوریشنوں، نظام تعلیم، میڈیا) پر محدود ہے لیکن انتخابی عمل اور مقننہ کی کارفرمائی دیگر تمام سرمایہ دارانہ اقتداری اداروں کی کارفرمائی کا جواز Legitimacy and Hegemony))  فراہم کرتی ہے۔ اگر مقننہ کی کارفرمائی ان ریاستی اداروں کی اقتداری جواز کو مجروح کر دے تو سرمایہ دارانہ اقتداری نظام بحیثیت مجموعی کمزور ہو جاتا ہے اور معاشرے پر اس کی گرفت ڈھیلی ہو جاتی ہے۔ یوں ایک متبادل اسلامی نظام اقتدار کے قیام اور کارفرمائی کی گنجایش پیدا ہو جاتی ہے اور تحفظ دین کا کام بھی محفوظ اور وسیع ہو جاتا ہے۔

ہم ایک انقلابی اسلامی جماعت ہیں۔ ہم سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کو منہدم کرنے کا عزم بھی رکھتے ہیں اور غلبہ اقتدار کا عزم بھی۔ ہم عوام کو متحرک اور منظم کر کے غلبہ دین کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ ہم یہ کام اکیلے نہیں کر رہے۔ تمام اسلامی جماعتیں، سیاسی اور غیر سیاسی، کسی نہ کسی شکل میں تحفظ اور غلبہ دین کے کام کر رہی ہیں۔ ہمیں ہرگز یہ زعم نہیں کہ ہم جو کام کر رہے ہیں وہ کسی معنی میں بھی دیگر حلقوں کی جدوجہد سے زیادہ اہم ہے بلکہ ہمارے امیر قاضی حسین احمد نے تو فرمایا ہے ”ہم علما کے خادم ہیں جہاں وہ حکم دیں گے ہم فوراً کھنچے چلے جائیں گے”۔ ہم تمام اسلامی سیاسی اور غیرسیاسی جماعتوں سے اشتراک عمل کی التجا کرتے ہیں۔

اے بھائی اگر تم ساتھ نہ دو

تو تنہا ہم سے  کیا ہو گا

One thought on “JI Intekhabat Kyun larti hai – Usooli Mauqif – ہم انتخابات کیوں لڑتے ہیں? ۔ ہمارا اصولی موقف”

  1. Apka sara zor aik ghalat cheez ko theek sabit kernay k lea horaha ha.bilkul isi terha k jesay soodi nizaam aj kul k daur may na guzeer hochuka ha is lea is k bagher or koi rasta nahi.jo ghalat ha so ghalat ha apni tawanai Allah k nizam k lea lagaen na k Dajjali nizam k lea.

Leave a Reply

Your email address will not be published.