جاوید اکبر انصاری

 

                 اس وقت ملک میں جماعت اسلامی وہ واحد جماعت ہے جو ایک انقلابی حکمت عملی مرتب کرسکتی ہے۔ ایک ایسی حکمت عملی جس کے ارد گرد تحفظ دین اور غلبہ دین کی تمام تحریکات کو مجتمع کر کے طاغوت کو ایک فیصلہ کن شکست دی جاسکتی ہے۔فی زمانہ  یہ جماعت اسلامی پاکستان ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک مربوط انقلابی حکمت عمل مرتب کرے اورانقلاب اسلامی کاہرسپاہی دستہ کا کردار اداکرے۔ جماعت اسلامی کے اساسی نظریات میں اتنی گنجائش ہے کہ وہ ان نظریات کو بنیاد بنا کر برصغیر پاک و ہند میں اسلامی انقلاب برپا کرسکتی ہے۔

جماعت اسلامی کا تصورِ انقلاب

                انقلاب کا تصور بیسویں صدی میں جاری غلبہ دین کی تحریکات کا اجتہاد ہے۔ امام عالی مقام سیدنا حسین ابن علی اور سیدنا عبداللہ ابن زبیر   کی کامیاب جدوجہد کے نتیجہ اسلامی حکومت خلافت راشدہ کے وقت سے لے کر سلطان المعظم خلیفہ عبدالحمیدثانی کے وقت تک قائم رہی اور جیسا کہ امام بن خلدون  نے بیان فرمایا ہے سلطنتوں کے دینی تحرک میں کمی کے تدارک کے طور پر ایسے خروج برپا کئے جاتے رہے جن کے نتیجے میںسلطنت کی اسلامیت کا احیاء ہوتا رہا ۔ چونکہ تیرہ سو سال پر محیط اس پورے دور میں شریعت اسلامی اور علوم اسلامی ہی کو معاشرتی اور ریاستی غلبہ حاصل رہا ۔ لہٰذا خروج قدرتاً محدود رہا اور اس کا محور ایک حکمران خاندان کی دوسرے سے تبدیلی کے ذریعہ شریعت اور علوم اسلامی کے تحکم کا تحفظ ہی رہا ۔

                خروج عمومی کی ضرورت مسلم دنیا پر استعمار کے غلبہ کے نتیجہ میں ظاہر ہوئی ۔ استعمار نے شرع مطہرہ کو معطل کرکے اس کی جگہ دستور سے ماخوذ قانون کو دے دی۔ اور علوم اسلامی کی جگہ سائنس اور سوشل سائنس کی بنیاد پر معاشرتی احکام مرتب ہونے لگے۔ استعمار کے پروردہ مسلمانوں نے جو ریاستیں قائم کی وہ خالص کافر ریاستیں ہیں جو دارالحرب کے حکم میں شامل ہیں کیوں کہ  وہاں:

١۔            دستور سے ماخوذ قانون کی حکمرانی ہے،شرع مطہر ہ کی حکمرانی نہیں ہے۔

٢۔            سائنس اور سوشل سائنس مروجہ غالب علمیت ہے اور علوم اسلامی معاشرتی عمل کی قدرمتعین نہیں کرتے۔

٣۔            مسلم عوام کافر قوانین کواپنانے پر مجبور ہیں۔مثلا کرنسی(currency) کے استعمال پر ہم مجبور ہیں۔ گو کہ سرمایہ دارانہ ریاست میں کرنسی لازماً سودی قرضوں کی بنیاد پر جاری کی جاتی ہے۔

٤۔            بیسویں صدی میں پہلی مرتبہ اسلامی تاریخ میں ایسا ریاستی نظام قائم ہوا جس میں مسلمان حکمران کافر ریاستیں چلارہے ہیں ۔ اس کا فر ریاست کو مسمار کرنے کے لئے عرب دنیا ، مرکزی ایشیا ، برصغیر پاک و ہند اور انڈونیشیا میں جو اجتہادی تصورجاری ہے وہ ” انقلاب ” ہے اس کو ” خروج عمومی” بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا خروج ہے جس کا مقصد ایک حکومت کو ختم کرکے دوسری حکومت کا قیام نہیں بلکہ کافر ریاست کا مکمل انہدام اور رائج شدہ کافرانہ نظام زندگی کا مکمل خاتمہ ہے۔

                ”انقلاب ” بیسویں صدی کی غلبہ دین کی تحریکات کا قدر مشترک ہے ۔ اخوانی کارکن کہتا ہے ” شورا شورا یا اخوان” ۔ ایران ، آذر بائجان، چیچنیا اور برِصغیر پاک وہندمیں ”انقلاب اسلامی” کے نعرہ بلند ہو رہے ہیں ۔ انڈونیشیا اور ملائشیا کی غلبہ دین کی تحریکات Suara-al-Islam کے خلاف دعوت دے رہی ہیں۔ یہ سب جماعتیں خروج عمومی کے کام کو آگے بڑھا رہی ہیںاور اس خروج عمومی کی ابتداء امام عالی مقام نے فرمائی تھی ۔ ہمارے بزرگ ملک غلام علی کا شعر ہے

                                                کہو بابانگ دہل سب کہ  ہماری  جماعت

                                                گنہگار  بہت  ہے  مگر  حسین  کی  ہے

                جماعت اسلامی کی اساسی فکر کی پہلی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ زندگی کے کسی شعبہ میں جزوی تبدیلی کو کافی نہیں سمجھتی۔ مولانا مودودی نے شاہ ولی اللہ  کے تصور ” نظام” کی احیا کی۔ آپ نے واضح کیا کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جو کسی دوسرے نظام حیات میں ضم نہیں ہو سکتا ۔ آپ نے مغربی علمیت اور مغربی تہذیب کو ” جاہلیت خالصہ” کہا اور مغربی تمدنی اور سیاسی نظریات کی جامع تنقید مرتب فرمائی۔ اس ضمن میں اشتراکیت اور قوم پرستی (بشمول مسلم قوم پرستی اور اسلامی سوشلزم) کی جو اسلامی تنقید آپ نے مرتب فرمائی وہ نہایت گراں قدر ہے۔ جماعت اسلامی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ عالم اسلام کی وہ پہلی جماعت ہے جس نے اشتراکیت کو کفر جلی گردانا۔ اور اس کی شکست وریخت میں اپنا کرداراداکیا۔

                جماعت اسلامی کی دعوت ان معنوں میں حسینی دعوت کا تسلسل ہے کہ خلافت راشدہ کے پورے کے پورے نظام زندگی کی طرف مراجعت کو ممکن سمجھتی ہے اور اسی ہمہ گیر مراجعت کی جدوجہد مرتب کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ جماعت اسلامی کی انقلابی جدوجہدکا مقصد عملاً رجوع الی خلافتہ ا لراشدہ  اور اس نظام زندگی کا مکمل احیا ہے جو قرون اولیٰ میں جاری و ساری تھا۔مخبر صادق ۖ نے بتلادیا ہے کہ یہ مقصد صرف امام مہدی علیہ السلام کے دور میں مکمل ہو گا۔ لیکن اس نظام ِ زندگی کے مکمل احیا ء کی طرف مراجعت ہر دور میں ضروری بھی ہے اور ممکن بھی ۔ مراجعت کا یہ عمل تاریخی ہے اور امام مہدی کے وقت تک اور آپ کے انتقال کے بعد بھی لازماً یہ عمل جاری رہے گا ۔

علاوہ ازیں یہ بھی حقیقت ہے کہ جماعت کی کچھ کمزوریاں بھی ہیں مثلاًخلافت راشدہ کی جانب مراجعت کو عملی  مقصد قرار دینے والی جماعت اپنے تاریخی تناظرکو جان بوجھ کر نظر اندازکرتی ہے ۔ مراجعتی عمل کاجو خاکہ وہ متصور کرتی ہے وہ لازماً معروضی ہوتا ہے۔ وہ ان معروضی  تصورات کی بناء پر ایک عملی خاکہ مرتب کرتی ہے اور چونکہ کوئی اور اسلامی جماعت یہ کام نہیں کررہی ،لہٰذا انقلابی جماعت اپنے آپ کو دیگر تمام اسلامی جماعتوں سے افضل اور فہیم  تصور کرتی ہے۔ وہ دوسری اسلامی جماعتوں سے اپنے کام کی تطبیق کی کوشش نہیں کرتی بلکہ ان جماعتوں کے کام کو کسی نہ کسی درجہ میں ناقص گردانتی ہے۔معروضیت کی دوسری کمزوری یہ ہے کہ وہ حاضر وموجودکی عقلیت کی عموماً اسیر ہوتی ہے۔مراجعت فی الخلافة الراشدہ کا جو معروضی خاکہ وہ مرتب کرتی ہے وہ انہی معنوں  میں غیر تاریخی ہوتا ہے کہ وہ رائج شدہ عقلیت کی بنیاد پر مراجعت کاخاکہ مرتب کرتی ہے اور چونکہ کسی گزشتہ تاریخی دور میں اس دور کی رائج شدہ عقلیت کی بنیاد پر مکمل مراجعت فی لخلافة الراشدہ ممکن نہ ہوئی لہٰذا تمام گزری ہوئی عقلیتیں مسترد کی جانے کی لائق ہیں اور جو عقلیت مراجعت کی حکمت عملی مرتب کرنے کے لئے مفید ہے وہ لازماً دورِ حاضر کی عقلیت پر مرتب شدہ مفروضات ہی ہیں۔چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مغرب میں جو عقلیت ١٨ویں صدی کے بعد غالب رہی وہ تنویری/رومانوی عقلیت ہے اور اس نے مفروضی ہونے کا دعویٰ کیا اور اس کے اس دعویٰ کو اصولاً رد کرنے کے باوجود عملاً جماعت ِ اسلامی نے (اور کچھ اور انقلابی تحاریک نے بھی) قبول کیا۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت جمہوریت اور دستوریت کااثبات ہے۔ مولانا مودودی اور آپ کے اکابر مفسرین ڈاکٹر اسرار ، پروفیسر خورشید ، جناب خرم مراد۔ جس ریاستی نظام کو اسلامی تصور کرتے ہیں وہ اپنی ساختی نوعیت میں خالصتاً ایک سرمایہ دارانہ دستوری ، ریاستی نظام ہے۔ مولانا مودودی اور آپ کے مفسرین کی سیاسی فکر کہیں بھی امام ماوردی ،  امام ابوالعلی،  امام محمد،  امام غزالی  اور امام ابن خلدون سے استفادہ نہیں کرتی۔ یہ خلاف راشدہ کے بعد تمام اسلامی سلطنتوں کو حرف تنقید بنا کر بادشاہت کو اسلامی تہذیب کے زوال کا سبب گردانتے ہیں ۔ اس ضمن میں سب سے افسوسناک جسارت  مولانا مودودی کی تصنیف  ”خلافت اور ملوکیت”میں کی گئی ۔ مولانا معین الدین خٹک نے اس کتاب پر جو بروقت تنقید کی اس کو مولانا مودودی نے اور جماعت اسلامی نے قطعاً نظر انداز کیا ۔

                جب مولانا مودودی نے یہ سوال اٹھایا کہ ” اسلامی حکومت کیسے قائم ہوتی ہے” تو انہوں نے یہ معلوم کرنے کی کوشش نہ کی کہ سلطان التمش ، سلطان ناصر الدین محمود، شیر شاہ سوری ، امام عالمگیر اور حافظ رحمت خان نے کن اصولوں پر اسلامی حکومت قائم کی۔ یہ سب تو بادشاہ تھے مولانا مودودینے  اپنے اسلامی حکمرانی کے اصول بلا واسطہ قرآن و سنت سے  اخذ کرنے کی کوشش کی اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ اسلامی حکومت ایک دستوری جمہوری حکومت ہوتی ہے ،لاک Locke اورمونسکیٹوMontesqieu کی تعلیمات کی بنیاد پر ریاستی تنظیم کو مروج کر کے خلافت راشدہ کے نظام ریاست کی طرف مراجعت ممکن ہے ۔ یہ معروضی عقلیت کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے۔

                مولانا مودودی کے مطابق انقلامی عمل بنیادی طور پر انفرادیت کی تشکیل نو سے تعلق رکھتا ہے۔ مولانا مودودی کے خیال میں انہوں نے وہ علم کلام مرتب فرما دیا ہے جو ہر شخص کو اسلامی طرز زندگی گزارنے پر مطمئن کر سکتا ہے۔ بنیادی ضرورت اس علم کلام کی توضیح اور تشریح اور اس کے  عام کرنے کی ہے۔ چونکہ یہ علم کلام معروضی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ۔ لہٰذا اصولا ً اس کی مقبولیت کادارومدار افراد کی عقلی صلاحیت ہی پر منحصر ہے۔ مولانا مودوی اور جماعت اسلامی کی رائے میں ایک جمہوری ، دستوری ریاستی نظام اور اس سے ملحق سول معاشرہ وہ بہترین ماحول فراہم کرتا ہے جس میں مولانا مودودی کا علم کلام مقبولیت عام حاصل کرے اور انتخابات مولانا مودودی کے علم کلام کی مقبولیت عام کے فروغ کا بہترین ذریعہ ہیں۔ لہٰذا اسلامی انقلاب کے مندرجہ ذیل مدارج ہیں:

١۔            ایسے فہیم افراد کا اجتماع و تنظیم جو مولانا مودودی کے علم کلام کی بنیاد پراپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس کے تمام تقاضہ پورا کرنے کی جدو جہد منظم طور پر کرتا رہے۔

٢۔            دستوری ، جمہوری ریاست اور اس سے ملحق سرمایہ دارانہ سول معاشرہ میں ان فہیم اور منظم افراد کا غلبہ اور جمہوری ، دستوری ادارتی صف بندی میں اظہار اقرار اسلامی کے مواقع سے استفادہ اٹھا کر رائے عامہ میں مولانا مودودی کے علم کلام کی مقبولیت کو فروغ دینا۔

٣۔            جمہوری ، دستوری انتخابات کے ذریعہ مولانا مودودی کے علم کلام کی مقبولیت کا اظہار اور ایک سرمایہ دارانہ ریاستی اور معاشرتی نظم میں ایک ایسی اسلامی حکومت کا قیام جو جمہوری، دستوری اداروںمثلاً کا رپوریشنز ، بینکوں ، یونینوں ، میڈیا ،  یونیورسٹیوں، ایسو سی ایشنوں، فوج ، سول انتظامیہ ، عدلیہ ، مقننہ وغیرہ کے ذریعہ اسلامی انفرادیت اور مولانا مودودی کے علم کلام کو فروغ دے۔ بغیر انفرادی اور اجتماعی آزادیوں کو سلب کئے جو ایک جمہوری ، دستوری سرمایہ دارانہ ریاست فراہم کرتی ہے۔

                ایسی حکومت ابھی تک قائم نہیں ہوئی لیکن سرمایہ دارانہ دستوری ریاستی نظام میں ایسی حکومت کے قیا م کی گنجائش موجود ہے۔

انقلاب کا محرک

                پاکستان میں اس نوعیت کی حکومت کا قیام امریکی استعمار کا ایک حربہ option ہے ۔ مقبوضہ افغانستان اور مقبوضہ عراق میں امریکی استعمارنے اسلامی ریپبلکن حکومتیں ہی قائم کی ہیں اور ان دونوں مقبوضہ علاقوں کے دستور اسلامی شقوں سے بھرے پڑے ہیں ۔ ان مقبوضہ علاقوں میں اور مقبوضہ خلیج اور مقبوضہ سعودی عرب میں بھی علما ء بڑے پیمانہ پر امریکی باج گزار ریاستوں میں شامل ہیں ۔ پاکستان میں بھی امریکہ یہ تجربہ دہرانے پر تیار ہو سکتا ہے۔

                کیا جماعت اسلامی اس option  کو آزمانے میں امریکہ کا آلہ کار بن سکتی ہے! اس سوال کا جواب دینے سے قبل اسلامی انقلابی عمل میں جماعت اسلامی کا جو کردار مولانا مودودی نے متصور کیا تھا  اس کو واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ انقلابی عمل کا بنیادی محرک ، مولانا مودودی کی نظر میں پارٹی ہی ہو سکتی ہے۔ جماعت کا تصور تاریخ ِ اسلامی میں اجنبی نہیں اور حضرت حسن بصری  کے وقت سے صوفیا کرام اور مجاہدین نے جماعتیں تشکیل دیں ہیں جنہوں نے معاشرتی اور ریاستی تغیر برپا کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے ۔ لیکن مولانا مودودی نے اپنا تصور جماعت صوفیا کرام یا مجاہدین اسلام کے تجربات سے ماخوذ نہیں کیا ۔

                انہوں نے جماعتی صف بندی اصول اور تنظیم کو معروضی سمجھا اور جماعت اسلامی کی ہیتی تشکیل انہی معروضی خطوط پر کی۔ اس تنظیمی ہیت کی بنیادی خصوصیات یہ ہیں:

١۔            اسلامی پارٹی ان فہیم افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو اسلامی انقلاب کی اس نوعیت  سے جو مولانا مودودی کے علم کلام سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور جو اس علم کلام کے متعین کردہ احکام پر عمل کرنے کے لئے اپنے تمام وسائل صرف کرنے پر راضی ہوتے ہیںیہ پارٹی امت مسلمہ کے حقیقی مفادات اور ان کے تحفظ اور فروغ کے لئے واحد قابل عمل اور درست حکمت عملی واضح کرتی ہے اور معاشرتی اور ریاستی تغیر کا تمام کام اس ہی حکمت عملی کے ماتحت کرنے کی سعی کرتی ہے۔ معاشرتی اور ریاستی خطے کی دیگر تمام صف بندیاں کسی نہ کسی درجہ میں غلط فہمیوں کی بنیاد پر روبہ عمل ہیں ۔ لہٰذا ان صف بندیوں کو لازما ً یا تو منتشر کرنا یا پھر اپنے ماتحت کرنا پارٹی کا فرض ہے۔

                ان تصورات پر قائم شدہ پارٹی لازماً ایک ہمہ گیریکتا ویگانہ یعنی  (Vanguard)پارٹی بن جاتی ہے ۔ یہVanguardپارٹی معاشرتی اور ریاستی سطح  پر جاری تمام کام کو اپنا ہی کام سمجھتی ہے۔ اس کی ذمہ داری انفرادی دعوت دینا بھی ہے۔ تبلیغی جماعت اور دعوة اسلامی کا دعوتی انداز درست نہیں۔ وہ اسکول اور اسپتال بھی چلائیگی۔ یہ کام اسلامی رفاعی ادارہ درست انداز سے نہیں کررہیں ۔ اس کے اپنے مساجد و مدارس بھی ہونگے ۔ روایتی انداز میں چلنے والے مساجد اور مدارس کسی نہ کسی درجہ میں ناقص ہیں۔ وہ الیکشن بھی لڑے گی۔ دوسری اسلامی جماعتوں کا سیاسی ایجنڈہ تشنہ ہے۔ وغیرہ وغیرہ کو یاVanguard پارٹی تمام معاشرتی اور ریاستی مدافعاتی اور اقدامی پیش رفت کی تنہا ذمہ دار ہے اور اس ہی کی نگرانی میں یہ سب کام کیا جاسکتا ہے۔

                Vanguard پارٹی کا المیہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اور لازماً ایک نہایت چھوٹی پارٹی ہوتی ہے۔ اپنے دور اقتدار تک میں روس اور چین کی کمیو نسٹ پارٹیاں کبھی بھی اپنے ملک کے ایک فیصد عوام کو بھی اپنا ممبر نہ بنا سکیں اور آج جماعت اسلامی کے ارکان پاکستان کی مجموعی آبادی کا 0.01 فیصد کے لگ بھگ ہیںVanguard پارٹیوں کی تعداد اس قدر محدود ہونے کی وجہ اصولی ہے۔ حادثاتی نہیں Vanguard پارٹی کبھی بھی عوامی پارٹی  اس لئے نہیں بن سکتی کیوں کہ  اس کے نظریاتی مباحث معروضی اور دقیق ہوتے ہیں اور عوام ان اعتقادات پر ایمان تو لاسکتے ہیں ، سمجھ کبھی نہیں سکتے ۔ یہی وجہ ہے کہ جبVanguard پارٹیاںعوامی پارٹیاں بننے کی کوشش کرتی ہیں تو ان کے اندر سے ایک فوق البشر(Superman) برآمد ہوتا ہے ۔ اسٹالن ، مائو، کاسترو،  شاویز وغیرہ جیسےSuperman پارٹی پہ چھا جاتے ہیں اور Vanguard تصور تنظیم، جماعت کے کسی دوسرے اصول (اسلامی اصول وافکار)پر عمل درآمد نا ممکن بنا دیتا ہے۔ہم اسی اصول پرنیچے گفتگو کریں گے۔

                Vanguardپارٹی تمام معاشرتی اور ریاستی مدافعاتی اور اقدامی عمل کا اپنے آپ کو واحد ذمہ دار تصور کرتی ہے لیکن یہ سب کام کرنے والے نہایت قلیل تعداد میں ہوتے ہیں۔ عملاً جو صورت بنتی ہے وہ یہ ہے کہ حکومت میں آنے سے قبل Vanguard پارٹی کے ارکان اپنی توجہ کسی ایک نوعیت کے کام پر مرکوز رکھتے ہیں ۔جماعت اسلامی کے تناظر میں یہ سیاسی کام ہے اور یہ مفروضہ قائم کرتے ہیں ۔ کہ اس کام میں پیش رفت دیگر تمام کام پر اثر انداز ہوگی لہٰذا پارٹی  کے عمومی منشور کو عملی جامہ پہنانے میں جو عدم توزن پیدا ہوا ہے وہ جائز اور ناگزیرہے۔

                حکومت میں آنے کے بعد Vanguard پارٹیاں سرمایہ دارانہ بیوروکریسی پر انحصار کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ یہ روس اور چین میں ہوا اور یہی آج پاکستان میں ہو رہا ہے۔ جماعت اسلامی کی سرحد کی حکومت (٢٠٠٨۔ ٢٠٠٣) بھی سول انتظامیہ کے آگے بالکل بے دست و پا تھی ۔ سول اور ملٹری بیوروکریسی Vanguard پارٹی کو سرمایہ دارانہ ریاستی تنظیم بتدریج ضم کر لیتی ہے۔

٢۔            Vanguard پارٹی کی دوسری خصوصیت جمہوری مرکزیت پسندی یعنی Democratic Centralismہے ۔  اس سے مراد یہ ہے کہ پارٹی کے ارکان مساوی (اخلاقی، روحانی اور علمیاتی) قدر کے حامل ہیں اور جماعتی فیصلہ اسی اقداری مساوات کے غماز ہیں۔ یہ فیصلے ایک ایسی party line(راہ مستقیم)متعین کرتے ہیں ۔ جن پر پارٹی Forumپرپارٹی کارکن صرف وہ ہی رائے بیان کرسکتا ہے جواقداری مساوات کی بنیاد پر پارٹی کے جمہوری اصولوں کی بنیاد پر طے کی گئی ہے۔ ان آرا میں تبدیلی کا طریقہ بھی جمہوری دستور ی اصولوں پر متعین کیا جاتا ہے اور جب تک یہ تبدیلی رونما نہ ہو کسی رکن کے لئے روا نہیں کہ  party line سے پارٹی کے باہر انحراف کرےDemocratic Centralism پر کاربند جماعتیں اگر Vanguard پارٹیاں ہوں تو ان کی party line لازماً ہمہ گیر اور کل جہتی نوعیت کی ہوتی ہے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا ایکVanguard پارٹی کا دائرہ کار وسیع ترین ہوتا ہے۔ اس میں نظریاتی مباحث بھی شامل ہوتے ہیں ۔ عقائد کی  تعبیر بھی پیش کی جاتی ۔ سیاسی حکمت عملی بھی بیان کی جاتی ہے۔ معاشی اور معاشرتی امور پر رائے بھی قائم کی جاتی ہے۔ ان تمام معاملات میں ایک party line کا تعین کرنا لازمی ہو جاتا ہے ایک ایسی party line جس میں تبدیلی ایک طویل دستوری عمل سے گزرے بغیر نہیں لائی جاسکتا۔

                پھرVanguard پارٹی کے اہداف party line  کی ترتیب کو لازماً متاثر کرتے ہیں چونکہ روس کی کمیونسٹ پارٹی اور جماعت ِ اسلامی پاکستان کا عملی ہدف ہمیشہ حکومت قائم کرنا ( یا حکومت برقرار رکھنا) رہا ہے ۔ بارہا ان جماعتوں کی نظریاتی ، اعتقاداتی ، سیاسی ، معاشرتی party line  انہیں اہداف کو حاصل کرنے کی غرض سے لازماً متاثر ہوتی ہیں اور اس کا امکان ہمیشہ کھلا رہتا ہے کہ party line دوسری ترجیحات سے ( جن کا مقصدپارٹی کے عملی اہداف کا حصول نہیں ہے متصادم ہوں۔

Democratic Centralism کے اصول پر کاربند Vanguard پارٹیاں یہ صلاحیت نہیں رکھتیں کہ اپنے نظریات ، عقائد اور حکمت عملی کو معاشرہ میں جاری فکری مباحث میں سمو سکیں اور ان مباحث کے تناظر میں اپنی party line  کی قدر اور وقت متعین کریں ۔  اس کی وجہ یہ ہے Democratic Centralist  پارٹی اپنے ارکان کے علاوہ کسی کو اس کا مکلف نہیں سمجھتے کہ وہ حق کی نمائندگی اس طرح سے کرے کہ یہ اظہار حق امت یہ جماعت کے حقیقی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنے ۔ کوئی عالم کتنا ہی سقہ اور جید ، متقی اور پرہیز گار کیوں نہ ہو جب تک وہ مولانا مودودی کے علم کلام کا معتقد نہیں اور جماعت اسلامی کا رکن نہیں اس کا حق نہیں رکھتا کہ جماعت اسلامی کی party line  کے تعین میں حصہ لے (الا یہ کہ جماعت ِ اسلامی اس کو حصہ لینے کی دعوت دے اور اس صورت میں بھی جماعت اس کی رائے کو قبول کرنے پر مجبورنہیں) نہ جماعت کا کوئی رکن party line  سے پارٹی میں رہتے ہوئے اس بنیاد پر انحراف کرسکتا ہے کہ کسی بزرگ نے اس کو رد کیا ہے۔

٢۔   Vanguard پارٹیوں کا معاشرہ سے ایک خاص نوعیت کا تعلق ہوتا ہے ۔ جماعت ِ  اسلامی کی تیسری خصوصیت بیان کرنے سے یہ تعلق واضح ہوگا ۔

٣۔   Entryism یہ اصول Lenin اور اس کے کمیونسٹ حریفوں بالخصوص Bernstein  نے بنایا اور اس پر پورے طرح عمل Weimer ریپبلک نے اور 1970 کی دہائی میں اٹلی اور فرانس کی کمیونسٹ پارٹیوں نے کیا ۔ اس کا نکتہ عروج 1970 کی دہائی کے آخر میں اطالوی کمیونسٹ اور اطالوی کریسچن ڈیموکریٹ پارٹی کا مشہورتاریخی مفاہمتHistoric Compromise ہے۔Entrysimیعنی دخول پسندی کی حکمت عملی اس مفروضے پر قائم کی جاتی ہے کہ سرمایہ دارانہ معاشرہ اور سرمایہ دارانہ تنظیم ِ ریاست فطری ہے اور اس معاشرتی اور ریاستی ڈھانچہ میں دخول اور شمول کے ذریعہ بغیر عسکری تصادم کے انقلابی اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ دخول کے دو طریقہ اپنائے جاتے ہیں۔

١۔            برادر تنظیموں کا قیام۔   یہ عموماًپروفیشنل تنظیمیں ہوتی ہیں جو مختلف گروہی مفادکو اس طرح فروغ دیتی ہیں کہ یہ گروہ انقلابی جماعت کو اپنا فطری معاشرتی حلیف سمجھنے لگیں۔

٢۔   رائج شدہ کلیدوں اداروں ۔  بالخصوص فوج  نوکر شاہی ،Union  ایڈمنسٹریشن، عدلیہ وغیرہ میںاپنے کارکنوں کی شمولیت ۔ یہ کارکن اپنی بہترین صلاحیتیں سرمایہ دارانہ اہداف اور سرمایہ دارانہ اداروں کے فروغ اور استحکام کے لئے کھپا دیتے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے مخلص ترین اور سب سے زیادہ دیانتدار کارکن ہیں ۔ عوام اور خواص سب کا مفاد اسی ہی میں ہے کہ انقلابی جماعت کو اقتدار سونپ دیا جائے یاکم ازکم اس کو اقتدار میں شریک رکھا جائے۔

                اشتراکی جماعتوں کیلئے اس حکمت عملی پر کاربند ہونا اس لئے آسان ہو گیا کیوں کہ  اشتراکیت سرمایہ دار ی کے ایک نظریہ کے علاوہ کچھ نہیں۔ اشتراکی سرمایہ داری اور لبرل سرمایہ داری کے اہداف ایک ہیں ۔ یعنی آزادی، مساوات اور ترقی، کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں نے پورے شرع صدر کے ساتھ ان اہداف کے حصول کے لئے سرمایہ دارانہ حکومتوں اور معاشرتی اداروں میں شرکت کی۔

                لیکن آج ہم سب جانتے نہیں کہ Entryismپر عمل کرکے کمیونسٹ پارٹیوں کاپورے یورپ میں وجود ختم ہوگیا ۔ یہ سب پارٹیاں اور ان کے  تمام کارکن سرمایہ دارانہ معاشرت اور سرمایہ دارانہ نظام اقتدار میں ضم ہو گئیں اور بر اعظم یورپ سے کمیونسٹ پارٹیوں کا نام و نشان حرف غلط کی طرح ہمیشہ ہمیشہ کے لے مٹ گیا ۔

                جماعت اسلامی بھی قیام پاکستان سے لے کر آج تک Entryism کی اس حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ ہم سرمایہ دارانہ نظام میں شمولیت کے لئے مسلم قوم پرستی کو جواز کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ اس بات کے باوجود مولانا مودودی نے مسلم قوم پرستی کے بھر پور تنقید پیش کی تھی اور ثابت کیا تھا کہ مسلم قوم پرست ریاستی ڈھانچہ اور معاشرت غلبہ دین کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

٣۔            انقلاب کیوں نہیں آیا؟

                قیام پاکستان کے وقت سے جماعت اسلامی نے مسلم قوم پرست نظریات کی بنیاد پر اپنی سیاسی حکمت عملی مرتب کرنا شروع کردی اور مسلم قوم پرستی پر جماعت کا اعتماد مستقلاً بڑھتا رہا ہے۔ مولانا مودودی نے مسلم قوم پرستی پر 1940 کی دہائی میں جو اعتراضات اٹھائے تھے ان کو انہوں نے خود نظر انداز کر دیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ تحریک پاکستا ایک مسلم قوم پرستانہ تحریک نہیں بلکہ ایک اسلامی تحریک تھی ۔ اور اسلامی حکومت کے قیام سے پہلے انقلابی جماعت کو جو کام کرنا پڑتا ہے اور جس کی نشان دہی مولانا مودودی نے اپنے رسالہ ” اسلامی حکومت کیسے قائم ہوتی ہے” میں فرمائی تھی وہ پورا کام جناح صاحب اور مسلم لیگ نے انجام دے دیا ہے ۔ لیکن چونکہ مسلم لیگ ایک اسلامی حکومت قائم کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی لہٰذا جماعت اسلامی کو یہ خلا پر کرنے کی ذمہ داری سنبھال کر جلد از جلد پاکستان میں ایک اسلامی حکومت قائم کر دینا چاہیے۔

                ظاہر ہے کہ یہ رائے غلط تھی۔ تحریک پاکستان کوئی اسلامی تحریک نہ تھی اس کے نفوذسے نہ اسلامی انفرادیت کا احیاء ہوا نہ اسلامی معاشرت کا ۔ تحریک پاکستان کے حامی ایک سرمایہ دارانہ جمہوری ریاست تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ جہاں ان کے قومی حقوق فروغ پائیں ۔ قوم پرستی خواہ نسلی ہو خواہ نظریاتی سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو جواز فراہم کرنے والا ایک نظریہ ہے۔ اس کا مقصد ایک ایسی اجتماعیت پیدا کرتا ہے جو اپنے سرمایہ دارانہ حقوق ۔ آزادی ، مساوات اور ترقی کے لئے جدوجہد کرے اور ان اہداف کے حصول کے لئے ایک نظام اقتدار مرتب کرے ۔ قوم پرستی محض ایک نظریہ ہے کوئی نظام زندگی نہیں بلکہ ایک مخصوص نظام ِ زندگی  سرمایہ داری کا لاحقہ ہے۔ لہٰذا جب مذہبی قوم پرست ، مثلاً مسلم لیگی سرمایہ دارانہ نظام اقتدار پر قبضہ کرتے ہیں تو وہ اس کے ذریعہ سرمایہ دارانہ انفرادیت اور معاشرت کے فروغ اور سرمایہ دارانہ اہداف کے لئے یہی جدوجہد کرتے ہیں سرمایہ دارانہ اہداف کی تردید اور سرمایہ دارانہ انفرادیت اور معاشرت کی تحلیل کی کوشش نہیں کرتے۔

                جب کوئی جماعت کسی سرمایہ دارانہ نظریہ ۔ لبرل ازم، اشتراکیت ، قوم پرستی یا انارکزم، کو اپناتی ہے تو وہ سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہونے کی خواہش کا اظہار کرتی ہے۔ جماعت ِ اسلامی نے پاکستانی ریاست میںضم ہونے کی جدوجہد 1948-1949 سے ” اسلامی دستور” والی مہم کا آغاز کرکے کیا اور یہ جدوجہد اب تک جاری ہے 1948سے  1957 تک اس جدوجہد کے جاری رکھنے کے بارے میں جماعت میں شرح صدر نہ تھا لہٰذا جماعت غیر دستوری تحاریک میں بالخصوص 1953 کی ختم نبوت کی تحریک میں بھی ایک فعال کردار ادا کرتی رہی۔ 1957 کے سانحہ ماچھی گوٹھ میں کئی جید علما ء جماعت اسلامی چھوڑ گئے کہ وہ سرمایہ دارانہ ریاستی نظام میں ضم ہونے کے مضمرات سے واقف اور خائف تھے۔ ان کی رائے تھی کہ اس راہ پر چل کر جماعت اسلامی کا اسلامی تشخص ناقابل تلافی حد تک مجروح ہو جائے گا۔

                1958/1959 اس ضمن میں جماعت اسلامی پاکستان کی تاریخ کا ایک کلیدی سال ہے ۔ ان سالوں میں جناب چوہدری غلام محمد صاحب کی وساطت سے جماعت اسلامی اور سعودی حکومت میں روابط قائم ہوئے ۔ اس وقت سے آج تک جماعت اسلامی کی پالیسی سازی کے عمل میںسعودی عرب کا اثر اور نفوذ بڑھتا چلا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کا بیرون وطن کام  خلیجی ریاستوں میں ، امریکہ میں برطانیہ میں ، سعودی اثر کے تقریبا  کلی طور پر ماتحت ہے اور اس بات سے انکار نا ممکن ہے کہ جب بھی جماعت اسلامی نے پاکستانی حکومت میں شرکت کی ہے ۔ مثلاً مشرقی پاکستان کی حکومت میں 1969 ضیاالحق کی حکومت میں 1978-79 یا ایم ایم اے کی سرحد حکومت (2004-2008) تو پاکستان کے حکمران طبقوں کو سعودی عرب کی حکومت نے جماعت کی اس شمولیت پر راضی کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیاہے۔

                سعودی عرب ایک امریکی باجگزار ریاست ہے جس کے مرتد حکمران حربی کفار کے عسکری حلیف ہیں۔ امریکہ نے ان مرتد حکمرانوں کو یہ مشن سپرد کیا ہے کہ وہ تحریکات ِ اسلامی کو مجاہدین اسلام کی مخالفت پر کمر بستہ کریں۔ یہ حکمران اسلامی جماعتوں بالخصوص اخوان المسلمین اور جماعت اسلامی کو مجاہدین ِ اسلام کے خلاف صف آرا کرکے اپنے استعماری آقاؤں کے مفادات حاصل کرسکتے ہیں۔

                سعودی اثر و نفوذکا ایک اور مضر اثر جماعت کے تربیتی کام پر پڑا ۔ جماعت اسلامی کا عام کار کن سلفیت اور وہابیت سے متاثر ہوگیا مولانا مودودی کی فکر میں ویسے ہی روحانی تعلیمات اور تربیتی مواد کا فقدان ہے ۔ سلفیت کے غلبہ کے نتیجہ میں برصغیر میں مروجہ طریق تصوّف سے جماعت کے نظام تربیت کی دوری اور بڑھ گئی اور برصغیر کے مسلم معاشرہ میں جماعت کا تشخص مغربیت کا شکار ہوگیا ۔

                 چونکہ جماعت اسلامی تاریخی اور تہذیبی روایات کی بنیاد پر اپنے نظریات وضع نہیں کرتی بلکہ یہ نظریات معروضی مباحث سے اخذ کئے جاتے ہیں لہٰذا سلفیت کی یہ بنیادی کمزوری کے وہ دورِ حاضر کی نظریتی آدرشوںکے ادراک سے ناواقفیت جماعت کی فکر میں بھی بہت نمایاں ہے۔ اسی نظریاتی کمزوری کی وجہ سے جماعت نے لبرل اور جمہوری منہاج کو غیر اقداری تصور کرتے ہوئے انہی منہاج کو اپنی پالیسی سازی کی بنیاد بنا لیا ہے ۔ جماعت کی پالیسی سازی کے ضمن میں علمائے کرام اور صوفیا عظام کا کردار برائے نام رہ گیاہے اور یہ پالیسیاں علوم اسلامی کی بنیاد پر وضع نہیں کی جاتیں ۔ جماعت کے پالیسی ساز، پاکستانی معاشرہ کے فکری اشرافیہ سے مشورہ کی بنیاد پر تیار کرتے ہیں ۔ اس کی ایک بدترین مثال جماعت اسلامی کی ٢٠٠٨ میں مرتبہ چین نواز

پالیسی ہے جس میں XinjiangاورGangsuکے  مجاہدین کی جدوجہد سے برات کا مطالبہ کیا گیا ہے اس پالیسی کی ترتیب یقیناً سعودی مرتد حکمرانوں نے کی ہے اور افسوس کہ امیر جماعت اسلامی منور حسن صاحب نے اس پالیسی پر دستخط کئے ہیں۔اسی طرح امیرِ جماعت نے حال ہی میں مجاہدینِ یمن کی جدوجہد سے بھی برات کا اعلان کرکے سعودی عرب کو راضی کرنے کی کوشش کی ہے ۔

                ان روحانی اور نظریاتی کمزوریوں کی بنا پر جماعت اسلامی سرمایہ دارانہ نظام کی ایک آلہ کار جماعت بنتی جارہی ہے۔ ١٩٧٧ کے بعد سے آج تک جماعتِ اسلامی کی قیادت کو کسی ریاستی تعدیب (Persecution)کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ جماعت جمہوریت اور دستوریت کو سیاسی بیساکھیوں کے طور پر استعمال کرتی ہے اور ان بیساکھیوں کے ذریعے مہمانی اور مطالباتی اختیار کرکے سرمایہ دارانہ نظام میں اپنا مقام محفوظ کرنے کی جدوجہد کرتی ہے ١٩٧٠ اور ١٩٨٠ کی دہایوں میں کمیونسٹ پارٹیوں نے اٹلی اور فرانس میں یہی اختیار کیا تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ کمیونسٹ نظریات کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ نظام اقتدار میں اپنی شمولیت  کا مقدمہ پیش کیا تھا اور آج جماعت اسلامی سرمایہ دارانہ ریاست میں اپنی شمولیت کا جواز اسلامی علاماتی مباحث کو بنیاد بنا کر یہ جدو جہد کررہی ہے۔

                اس کی نہایات افسوس ناک مثال سرحد میں ایم ایم اے کی ٢٠٠٢ تا ٢٠٠٨ تک کی وہ حکومت ہے جس کا وزیر خزانہ جماعت اسلامی کا صوبائی امیر تھا۔ اس حکومت نے سود پر قرضہ لئے بھی اور دیئے بھی۔ یہ حکومت I.M.F اورWorld Bank اور ADB کی الہ کار بنی رہی  اور I.M.F اور World Bank  نے اس کو شاباشی کے Certificate دئیے۔ اسی حکومت نے دستورِ پاکستان کو شریعت بل پر مقدم رکھا ۔ اسی حکومت نے مجاہدین ِ اسلام پر فوج کشی کی مزاہمت نہ کی۔

                ان تمام گھنائونے اقدامات نے جماعت کے اسلامی انقلابی تشخص کو بری طرح متاثر کیا اور پورے پاکستان میں اس کی  اسلامی شناخت بری طرح بھی متاثر ہوئی ۔ جماعت کو کمیونسٹ پارٹیوں کا حشر یاد رکھنا چاہئیے ۔ لبرل اور Social democrat رویہ اختیار کرکے کمیونسٹ پارٹیاں اپنے وجود کا جواز کھو بیٹھیں اور آج ان کا نام و نشان تک موجود نہیں رہا ہے۔ سوشل ڈیموکریٹ اور لبرل آدرشوں کو اپنا کر جماعت اسلامی بھی تباہ ہو جائیگی۔ اس کے فعال اور مخلص ترین کارکن یا تو انقلابی جدوجہد سے مایوس ہوجائیں گے اور گھر بیٹھ جائیں گے یا پھر جاوید ہاشمی، احسن اقبال ، محمد علی درانی اور اعجاز شفیع گیلانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نواز لیگ اور عمران خان کی تحریکِ انصاف میں شامل ہو جائیں گے کیوں کہ  حقیقی مسلم قوم پرست جماعتیں مسلم لیگ اور تحریکِ انصاف ہی ہیں۔ جماعت ِ اسلامی نہیں ہے۔

انقلابیت کا احیاء

                اصولاً جماعت اسلامی ایک اسلامی انقلابی جماعت ہے اس نے مسلم قوم پرستی کو محض ایک ذریعے کے طور پر اپنا یا ہوا ہے۔ یہStrategy صریحتاً ناکام ہوگئی ہے ۔ اگر اس حکمتِ عملی کو ترک نہ کیا گیا تو جماعت ِ اسلامی ختم ہو جائیگی۔ کیوں کہ  جماعت اسلامی کا ایک عام کارکن مسلم قوم پرستی پر کبھی ایمان نہیں لاسکتا ۔

                میری رائے میں جماعت ِ اسلامی کے لئے یہ بات ممکن بھی ہے اور ضروری بھی کہ وہ مسلم قوم پرستی اور اس کے تمام مضمرات کو ترک کرے ۔ اسی ہی طریقہ میں اس کی اسلامی انقلابیت کا احیا ممکن ہے۔ جماعتکے اندر انقلابیت کی روح کوتروتازہ رکھنے کے لئے درج ذیل اقدام ضروری ہیں:

١۔            نظریاتی تغیر

                جماعت ِ اسلامی کی انقلابیت کی بنیاد مولانا مودودی کے فراہم کردہ دو اساسی نظریات ہیں۔ پہلے یہ کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے نہ وہ کسی دوسرے نظام حیات کا شاخصانہ بن سکتاہے نہ کسی دوسرے نظام ِ زندگی میں ضم ہو سکتا ہے۔

                دوسرے یہ کہ مغربی علمیت ، تہذیب ،معاشرت اور ریاست جاہلیت خالصہ کا مظہر ہیں۔ ان سے کسی قسم کی مصالحت یا بقائے باہمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

                قرون اولیٰ کی طرف مراجعت کے لئے موقف ان نظریاتی موقوف کو فروغ دیا جائے اور تمام دینی تحریکات کو ان دو موقفوں کو بحیثیت رہنما اصول قبول کرنے پرآمادہ کیا جائے ۔ مولانا مودودی ان ہی معنوں میں دورِ حاضر کی غلبہ دین کی تحریک کے ایک ناقابل فراموش رہنما ہیں کہ آپ کی فکر میں دین کا جامع تصور اور تہذیبِ مغربی کی اصولی اور کلی تردید کا واضح اظہار موجود ہے اور مولانا مودودی کی ان بنیادی تعلیمات کو نظر اندازکرکے غلبہ دین کی ایسی تحریک بر پانہیں کی جاسکتی جس کا مقصد آج کے دور میں مراجعت فی القرونِ اولیٰ ہو۔

                لیکن مولانا مودودی اوران کے جانشینوںنے جس طریقہ سے مراجعت فی القرون اولیٰ کی کوشش کی وہ ایک ناکام طریقہ ہے۔ اسی طریقہ کو اپنا کر اسلامی انقلاب کبھی نہیں آسکتا بلکہ ایک ایسی

 جماعت جو اصولاً اسلامی انقلاب کی دعوت دیتی ہے عملاً مسلم قوم پرست پالیسیاں اختیار کرلیتی ہے اور بتدریج باجگزار سرمایہ دارانہ ریاست کا آلہ کار بن جاتی ہے۔

                لہٰذا ضروری ہے کہ مولانا مودودی کی سیاسی فکر کو رد کیا جائے اور جماعتِ اسلامی اپنی سیاسی فکر قدیم اسلامی مفکرین امام ماوردی ، ابن خلدون ، امام ابویعلی ، شاہ ولی اللہ ، شیخ عبدالحق محدث دہلوی حضرت مجددالف ثانی کے افکاراور فتاویٰ عالمگیری کی بنیاد پر مرتب کرے۔

                جماعتِ اسلامی کی اساسی فکر کو اسلامی فکری تاریخ کے دھارے میں سموئے بغیر اور اس معروضیت کو

رد کئے بغیر جو مولانا مودودی کی فکری منہج کا خاصہ ہے ہم غلبہ دین کی جدودہد کوکامیاب نہیں کرسکتے ۔ یہ کئے بغیر ہم جمہوری ، دستوری  جدوجہد کی ماہیت سے واقف نہیں ہو سکتے ۔ ہم کبھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے کہ ” نمائندہ جمہوریت کبھی کسی غیر سرمایہ دارانہ معاشرہ میں قائم کیوں نہ ہوئی ”  جمہوری دستوری ریاست لازماً سرمایہ دارانہ اقتدار کی صف بندی کا دوسرا نام ہے۔ امام غزالی نے فارابی کے تصورِ مدینة الفضیلہ پر تنقید سے اس بات کو سمجھنے کی بنیاد فراہم کی ہے۔

 

 

 عوا میت سے برأت

                جمہوری ، دستوری طریقہ پر انحصار تر ک کرنے کا لازماً نتیجہ یہ ہوگا کہ جماعت ریاست اور حکومت میں بنیادی فرق پہچانے اور ایک کافر ریاست میں اسلامی حکومت قائم کرنے کی جدوجہد ختم کردے ۔ ہماری جدوجہد سرمایہ دارانہ ریاست کے اندر اسلامی نظامِ اقتدارکا قیام نہیں ہونا چاہئیے ہم ایک ایسا نظامِ اقتدار قائم کرنے کی جدوجہد کریں جس کا مرکز اور محور مساجد و مدارس ہوں جہاں عوام کو علماء اور صوفیاء کی قیادت میں مجتمع کیا جائے اور علماء اور صوفیا ء بتدریج معاشی ، معاشرتی سیاسی اور انتظامی اختیارات محلہ اور بازار کی سطح پر استعمال کرنے کی اہلیت حاصل کرلیں۔

                یہ عوامیت کا رد ان معنوں میں ہے کہ ہمارا لائحہ عمل عوامی خواہشات کی بنیاد پرمتعین نہیں ہونگے بلکہ ہماری جدوجہد لوگوں کے خواہشات میں تبدیلی   لانے پر مرکوز ہوگی۔ یہ کام صرف علمائے کرام اور صوفیا ء عظام ہی انجام دے سکتے ہیںاور تاریخ اسلامی اس پر شاہد ہے کہ یہ کام انہوں نے بخوبی کیا ہے۔

                جماعت ِ اسلامی کے پاس وہ روحانی نظام تربیت موجود نہیں جس کی بنیاد پر وہ عوامی خواہشات میں تبدیلی لانے کاکام کرسکے ۔ لہٰذا وہ ایک عوامی اسلامی جماعت نہیں بن سکتی اور جماعت ِ اسلامی کو عوامی جماعت بننے کی کوئی ضرورت بھی نہیں کیوں کہ  راسخ العقیدہ اسلامی عوامی جماعتیں برصغیر میں موجود ہیں۔ صوفیا عظام کے حلقہ ہائے ارشاد یہ کام کئی صدیوں سے منظم طور پر کر رہے ہیں۔ بیسویں صدی میں دو نہایت موثر اور طاقتور اسلامی

 عوامی تحریکات برصغیر میں برپا ہوئی ہیں ۔ ایک تبلیغی جماعت اور دوسری دعوتِ اسلامی ۔ امام شاہ احمد نورانی کی قیادت میں جمعیت علماء پاکستان نے تطہیرِرسوم و روایات اور خانقاہوں کی تنظیم نو اور  ردِ بدعات کے گراں قدر کام کا بیڑا اٹھا یا ہے۔ جماعت ِ اسلامی کو اس تما م کام کی معاونت کرنی چاہئیے اور کوشش کرنی چاہئییے کہ محلوں اور بازاروں میں عوامی اسلامی تحریکات کاکام موثر ترین طریقہ سے منظم ہو اور عوام اپنے معاملات علما ء اور صوفیا ء کے سپرد کرکے ان کی معاشرتی اور ریاستی قیادت کے تحت منظم اور متحرک ہو جائیں۔

رابطہ کی جماعت

            جماعت اسلامی عوامی جماعت ہے نہ کبھی بن سکتی ہے نہ اسے عوامی جماعت بننے کی کوشش کرنا چاہئیے۔ جماعتِ اسلامی تحفظ دین اور غلبہ دین کی تمام جماعتوں میں ربط پیدا کرنے والی جماعت ہے۔

            اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جماعتِ اسلامی کی دعوت کلامی ہے فقہی نہیں ۔ مولانا مودودی متکلم اسلام  تھے ۔ آپ فقیہہ نہیں تھے ۔ تمام  فقہی مسالک۔ دیوبندی۔ بریلوی۔ شیعہ ۔ اہل حدیث ۔ جماعت اسلامی کی نظر میں قابل قدر ہیں اور فقہی مسلک کی بنیاد پر جماعت میں کوئی تخصیص موجود نہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جماعت کی بنیادی دعوت تمام مسالک کے لئے قابل قبول ہے کیوں کہ  تمام مسالک راسخ العقیدہ اور سب اسلام کو الدین کے طورپر قبول کرتے ہیں اور دین کے عالمگیری غلبہ اورکافر نظاموں کی ہمہ جہتی شکست کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں۔

            لہٰذا جماعت اسلامی کا اصل مخاطب عوام الناس نہیں بلکہ تحفظ دین اور غلبہ دین کی تحریک کا وہ کارکن ہے جس نے اپنی زندگی کسی نہ کسی اسلامی قیادت کے سپرد کردی ہے۔ یہی کارکن وہ صلاحیت رکھتا ہے کہ غلبہ دین کے لئے جو حکمت عملی مرتب کی

جارہی ہے اس کی تشکیل میں شریک ہو اور اس کے مضمرات کو سمجھے ۔ جماعت اسلامی کا کام وہ ڈھانچہ مہیا کرنا ہے جہاں تمام دینی تحریکات کے نظام کار ، طریقہ کار اور تقسیم کار میں تطبیق پیدا کی جاسکے۔  جماعت تمام اسلامی  تنظیموں کی جدوجہد کو مربوط کرنے کی کوشش اور اس کی بنیاد پر ایک ایسی ہمہ جہت انقلابی حکمت عملی کی ترتیب فراہم کر سکتی ہے جس کو تمام اسلامی تنظیموں نے تشکیل دیا ہو۔ جماعتِ اسلامی کسی دوسری تحریک کے کام کو تنظیمی ڈھانچے میں سمونے کی کوشش سے مطلقاً دستبردار ہو جائے کیوں کہ  جماعتِ اسلامی کی فکر اس کے تنظیمی ڈھانچہ اور اس کی  اقدامی جدوجہدکو کسی دوسرے راسخ العقیدہ اسلامی گروہ کے کام پر قطعاً کوئی برتری حاصل نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ دوسری جماعتوں کے کارکن تقویٰ ، علم ، تدبر اور اخلاص کے اعتبار کے لحاظ سے ہم سے بہت آگے ہیں۔

            اس کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ جماعتِ اسلامی کی ایک مخصوص ذمہ داری ہے وہ ہے دور حاضر کا علم کلام مرتب کرنا اور اس علم کلام کی بنیاد پر پوری اسلامی جدوجہد میں ایسا ارطباط پیدا کرنا کہ تحفظ دین اور غلبہ دین ممکن ہو سکے ۔ جماعت

ِ اسلامی غالب نظام سے کسی نظری ، فکری ، سیاسی یہ اسٹریٹیجک مصالحت کی قائل نہیں وہ انہیں معنوں میں ایک اسلامی انقلابی جماعت ہے کہ اس دور میں مکمل غلبہ دین کو ممکن بھی سمجھتی ہے اور اس غلبہ کے لئے تمام اسلامی گروہوں کے کام میں ارتباط پیدا کرنے کا عزم بھی رکھتی ہے۔

خدا نے ہم غریبوں پر عجب احسان فرمایا

علم شبیر کا بے شک ہمارے ہاتھ میں آیا

٤۔         مجاہدین کی وکالت     الحمد للہ کہ مجاہدین اسلام آج استعمار اور مسلم قوم پرستوں سے رزم گاہِ حیات کے ہر مورچہ پر چومکھی لڑائی لڑرہے ہیں اور استعمار کی آلہ کار مرتد حکومت افغانستان میں عراق میں خلیجی علاقوں ہر جگہ عبرتناک شکست سے دو چار ہورہی ہیں۔ جماعتِ اسلامی کا فرض ہے کہ وہ مجاہدین اسلام کے مقدمہ کی تمام تحریکاتِ اسلامی کے سامنے وکالت کرے کیوں کہ  مجاہدینِ اسلام کی جدوجہد کے نتیجہ میں اقتدار اسلامی مرتب ہو رہا ہے اور کفر یہ نظام اقتدار خواہ لبرل ، خواہ مسلم قوم پرست، خواہ اشتراکی ہومنہدم ہو رہا ہے۔ اقتدارِ اسلامی کے استحکام اور فروغ اور توضیح اور ارتباط کے بغیر دورِ حاضر میں نہ تحفظ اسلام کا کام وسعت پذیر ہو سکتا ہے نہ غلبہ دین کا کام ۔ ہر اسلامی تحریک کافرض ہے کہ وہ مجاہدین اسلام کی پشتی بانی کا فریضہ انجام دے اور ایک انقلابی اسلامی جماعت کو     یہ جماعتِ اسلامی ہی کی ذمہ داری ہے کہ جو شکوک اور شبہات استعمار اور اسی کے مرتد حلیف پھیلا رہے ہیں اور جن سے تحریکات اسلامی اور ان کے کارکن متاثر ہورہے ہیں ان کو دفع کریں اور کوشش کریں کہ تمام تحاریک قیامِ ریاست اسلامی کی جدوجہدکو اپنے کام میں مربوط کریں۔

 

ہر فرد ہو اس شاہ جہانگیر کے صدقے

 ہر سمت یہ نعرہ ہو کہ شبیر کے صدق