امین اشعر

                 یہ بات ہرشخص پر عیاں ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔یہ نظام کس طرح پوری دنیا میں غالب آیا ، اس کی اپنی تاریخ ہے۔ سرمایہ دارانہ انقلاب نے پوری دنیا میں غلبہ حاصل کرنے کے لیے مختلف انقلابات کا سہارا لیا اور انفرادی، معاشرتی اور ریاستی سطح پر اپنی علمیت کا سکہ بٹھایا اور دیگررائج الوقت فکروعلمیت کو تینوں سطحوں سے نکال باہر کیا۔

                 ہم اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ چین میں سرمایہ دارانہ نظام کس طرح منظم اور مستحکم ہوا اور کس طرح اس نے وہاں کے رائج الوقت نظام کو اکھاڑ پھینکا۔ ہم چین کے سرمایہ دارانہ انقلاب کو مندرجہ ذیل چار سوالات کے تحت سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

٭             انقلاب کے مقاصد کیا تھے؟

٭             انقلاب کون لایا؟

 ٭            انقلاب کیسے آیا یا انقلابی عمل کیا تھا؟

٭             انقلاب کے نتیجے میں کیا ہوا؟ کس قسم کی معاشرت، ریاست اور انفرادیت وجود میں آئی؟

چین میںانقلاب کے مقاصد:

                چین میں کمیونسٹ انقلاب کا مقصد تھا چین کو دنیا کا لبرل ماڈرن اور ترقی یافتہ ملک بنانا تھا۔ اور ایک ایسی انفرادیت، معاشرت اور ریاست کا قیام جو کسی بھی قسم کی مذہبی اور روایتی اصول زندگی سے آزاد ہو، نیز معاشرت ریاستی گرفت میں ہو۔ جس کے اندر تمام شہریوں کو یکسانیت کی بنیاد پر مادی وسائل فراہم کیے جائیں اور ذرائع پیداوار کو اس طرح آپس میں مربوط کیا جائے جس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کی جا سکے۔ اور تمام شہریوں کی مادی خواہشات پوری کی جا سکیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ تمام سرمایہ دارانہ اہداف ہیں اور اس وجہ سے ہم چین اشتراکی انقلاب کو سرمایہ دارانہ انقلاب کہنے میں حق بجانب ہیں۔ گو کہ اس سرمایہ دارانہ انقلاب کی جو توجیہہ بیان کی گئی ہے وہ اشتراکیت ہے، لبرل ازم نہیں ہے۔ لبرل ازم اور اشتراکیت میں بنیادی فرق یہ ہے کہ لبرل ازم سرمایہ دارانہ نظام کی تنظیم میں مارکیٹ کو کلیدی ادارہ تصور کرتی ہے جب کہ اشتراکیت ریاستی منصوبہ بندی کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو نافذ کرتی ہے۔

انقلاب کون لایا؟

                چین میں سرمایہ دارانہ انقلاب کی اشتراکی توجیہہ نے انقلاب برپا کیا، اور یہ انقلاب چین کی کمیونسٹ پارٹی ماؤزے تنگ کی قیادت میں لے کر آئی۔ کیوں کہ چین میں اشتراکی انقلاب سے پہلے مزدوروں کی اتنی تعداد نہیں تھی جس کے ذریعے کسی بھی انقلابی جدوجہد کو منظم اور متحرک کیا جا سکے۔ اس لیے ماؤزے تنگ نے چینی معاشرے میں کسانوں کومنتخب کیااورکسانوں کے سب سے پس ماندہ اور غریب طبقے کے ذریعے طبقاتی کشمکش پیدا کی جو کہ اشتراکی ریاست کے قیام کی جدوجہد کے لیے بہت ضروری ہے۔

                لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ چین میں جب چینی قوم پرستوں اور اشتراکیوں کے درمیان لڑائی شروع ہوئی اور اشتراکیوں کو چین کے شہروں سے نکال دیا گیا تو اشتراکیوں نے لانگ مارچ شروع کیا اورYanan (یانان) میں جا کر جمع ہونا شروع کر دیا اور وہاں سے قوم پرستوں کو نکال دیا اور اپنی ریاست قائم کر لی۔ اس وقت چین میں کسانوں کے تین طبقات پائے جاتے تھے۔ پہلا طبقہWell to do کہلاتا تھا جو کہ معاشی طور پر مستحکم تھا، دوسرا طبقہMiddle Peasant کہلاتا تھا جو معاشی طور پر کسی حد تک مستحکم تھا اور تیسرا طبقہ بالکل ہی غریب کسانوں کا تھا اور جو اس بات پر مجبور تھا کہ زمین دار کی تمام شرائط کو من وعن مانے۔ اس کی وجہ تھی غریب ،کسانوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور ان کو روزمرہ کی ضروریات پورا کرنے کے لیے زمین دار کی کڑی شرائط پر زمین کی کاشت کاری کے معاہدے کرنے پڑتے تھے اور ان کا طفیلی بن کر رہنا پڑتا تھا۔

                چنانچہ کمیونسٹ پارٹی نے کسانوںکے غریب طبقے کو منظم کیا اور اس کی بہتری کے لیے یانان میں بہت سے پروگرامز شروع کیے اور ریاستی اقتدار میں بھی ان کو شریک کیا اور ان کے معاشی اور معاشرتی مسائل کے حل کرنے پر بھی خاص توجہ دی جس کی وجہ سے تقریباً تمام غریب کسان چین کی کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوتے چلے گئے اور کمیونسٹ پارٹی نے اپنے کارکنان کی فکری اور عسکری تربیت کی جس کے نتیجے میں کمیونسٹ پارٹی پیپلز آرمی یا ریڈ آرمی میں تبدیل ہوگئی اور پھر انہوں نے یانان سے نکل کر دوسرے علاقے بھی فتح کرنے شروع کر دیے۔

کمیونسٹ انقلاب کے اجزائے ترکیبی:

                اس سے پہلے کہ ہم اپنے تیسرے سوال انقلاب کیسے آیا ؟اورانقلابی عمل کیاتھا ؟ کو بیان کریں۔ ہم اس بات پربھی تھوڑی نظر ڈالیں گے کہ کمیونسٹ انقلاب کے مدارج کیا تھے؟کمیونسٹوںنے کس طرح  انقلابی کش مکش کو مربوط اور منظم کیا، یعنی کمیونسٹ ذرائع جو سرمایہ دارانہ نظام کی ترتیب نو کرتے ہیں اس کی حکمت عملی کیا ہوتی ہے ۔ہم تمام طریقہ کار کو چار مدارج میں تقسیم کرکے اس کامطالعہ کرسکتے ہیں:

                سب سے پہلے اشتراکی جماعت کسی خاص طبقہ کو مخاطب کرتی ہے یعنی وہ کہتی ہے کہ سرمایہ داری کا وارث کوئی خاص طبقہ ہے اور طبقہ سے ہماری مراد وہ انسانی گروہ ہے جو اپنے مادی مفادات حاصل کرنے کے لیے منظم اور متحد ہوتے ہیں، اور انہی مفادات کے حصول کے لیے وہ اپنے تمام اصول زندگی مرتب کرتے ہیں اور ہر شخص اپنی مادی غرض کے حصول کے لیے اس گروہ اور طبقہ کا کارکن بنتا ہے۔ مارکس کے نقطۂ نظر کے مطابق سرمایہ داری کا وارث مزدور طبقہ ہے جب کہ ماؤکی فکر کے مطابق  ابتدائی طورپر مزدور طبقہ یہ کردار ادانہیں کر سکتا بلکہ کسان طبقہ بھی یہ کردار ادا کر سکتا ہے۔

                دوسرا اہم امرجس کی کمیونسٹ پارٹی کوشش کرتی ہے وہ یہ کہ کمیونسٹ جماعت اپنی ریاست قائم کرتی ہے اور موجود فوج کو شکست دیتی ہے یعنی جو قومی فوج ہے اس کو اس ریاست سے بے دخل کر دیا جاتا ہے ، جو کمیونسٹ قائم کرتے ہیں،  اور ملک کے کسی علاقے کے اوپر قبضہ کر کے اپنی ریاست منظم کی جاتی ہے اور اپنی فوج بنائی جاتی ہے اور عسکری جدوجہد کے ذریعے دیگر علاقوں کو فتح کیا جاتا ہے اور پھر جب کمیونسٹ پارٹی کو معاشرتی سطح پر غلبہ حاصل ہو جاتا ہے تو سب سے پہلے مارکیٹ کو ختم کر دیاجاتاہے اور پرانی جتنی بھی وابستگی اور وفاداریاں ہوتی ہیں، ان کویاتوختم کردیاجاتاہے یا بزورقوت اپنے حق میں تبدیل کرلیاجاتاہے اور اس کے بعد ہرادارے پر اپنی اجارہ داری قائم کی جاتی ہے اور سب کی نمائندہ صرف کمیونسٹ پارٹی بن جاتی ہے اور تمام لوگ اس بات پر مجبور ہوتے ہیں کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے کمیونسٹ پارٹی سے رجوع کریں تا کہ انہیں بھی برابری کی بنیاد پر حقوق مل سکیں۔ اس بنیاد پر وہ سرمایہ دارانہ تعقل، انفرادیت، معاشرت اور ریاست کی ترتیب نوکرتی ہے۔

انقلاب کیسے آیا اور انقلابی عمل کیا تھا؟

                چین کی کمیونسٹ پارٹی ١٩٢١ء میں معرض الوجود میں آئی۔ اس وقت چین میں قوم پرستوں کی حکومت تھی۔ جو انہوں نے چین کی شہنشاہیت کے نظام ریاست کو ختم کر کے ١٩١١ء میں قائم کی تھی جس کے لیے چینی قوم پرستوں نے معاشرتی غنڈے اور ڈاکوؤں کی خاص طور پر مدد حاصل کی تھی۔ اسی طرح تمام زمین داروں اور جاگیر داروں کی بھی مدد حاصل کی گئی تھی۔ کمیونسٹ پارٹی نے ١٩٢١ء تا ١٩٢٧ء تک چین کے قوم پرستوں کے ساتھ مصالحت قائم رکھی ۔ روس کا انقلاب ١٩١٧ء میں آیا۔ چنانچہ روسی انقلاب کے زیراثرچین کی کمیونسٹ پارٹی تھرڈانٹرنیشنل کا حصہ تھی اورتھرڈانٹرنیشنل کی یہ پالیسی تھی کہ چیانگ کیاشیک کے زیراثرنیشنلسٹوںکی حکومت کو ایک استعمارمخالف حکومت کے طور پر تسلیم کیا جائے اور اس کی مدد کی جائے لہٰذا چین کی کمیونسٹ پارٹی نے قوم پرستوں کے ساتھ تعاون اور معاونت کو جاری رکھا۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی یہ حکمت عملی تھی کہ ان کے کارکنان کا زیادہ تر تعلق لیبر کلاس یعنی مزدور طبقہ سے ہو۔ اس زمانے میں کسانوں کو انہوں نے نظر انداز کر دیا تھا اور کسانوں کی طرف ان کی کوئی خاص توجہ نہیں تھی بلکہ ان کی کوشش تھی کہ لیبر طبقے کومسلح جدوجہد(Armed Uprising)کے طور پر شہروں کے اندر متحرک کیاجائے اور ان کے ذریعے ریاستی نظام پر قبضہ کر لیاجائے ۔ یہ حکمت عملی ناکام ثابت ہوئی اور اس وجہ سے قوم پرستوں اور کمیونسٹوں کے درمیان تصادم شروع ہو گیا اور پھر قوم پرستوں نے ان کے خلاف جدوجہد شروع کردی اور ان کو شہروں سے نکالنا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں کمیونسٹوں کی یہ حکمت عملی بدل گئی کہ صرف مزدوطبقہ کے ذریعے اپنی جدوجہد کو ترتیب دیا جائے۔اس حکمت عملی کا اصل داعی ماؤزے تنگ تھا۔ اسی وجہ سے ماؤزے تنگ کی کمیونسٹ پارٹی میں اہمیت اور وقعت بڑھ گئی کیوں کہ ماؤ کہتا تھا کہ چین میں مزدوروں کے ذریعے اشتراکی جدوجہد منظم اور کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے کسانوں کو متحد اور متحرک کیا جائے ۔ یوں اس کے ان افکار کی بدولت پارٹی میں اسے بالا دستی حاصل ہو گئی۔

                ١٩٢٧ء میں نیشنلسٹوںنے عملی طور پر کمیونسٹ پارٹی کو شہروں سے نکال دیااور مسلح جدوجہدکی۔ جس کے نتیجے میں کمیونسٹوں نے مل کر ایک لانگ مارچ کومنظم کیا اور شہروں سے نکل کر یانان صوبے میں جمع ہونا شروع ہو گئے یعنی لانگ مارچ یانان صوبے میں جا کر ختم ہوا۔ اور وہاں جا کر کمیونسٹ پارٹی نے قوم پرستوں کو نکال کر اپنی ریاست قائم کر لی۔ کمیونسٹ پارٹی اس اقتدار کے قیام کے بعد تمام ساحلی علاقوںCostal Citiesسے کمیونسٹ نکل کر یانان میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور پھر وہاں خالص اشتراکی اصولوں کی بنیاد پر ریاستی نظم قائم کیا گیا۔ وہاں کے غریب کسانوں کی بہتری کے لیے بہت سے پروگرام شروع کیے گئے جس کے نتیجے میں کمیونسٹ پارٹی بے انتہا طاقت ور ہو گئی اور اس نے کسانوں کی فوج Peasent Armyکی شکل اختیار کر لی اور پھر ٣٤-١٩٣٣ء میں مشہورزمانہ لانگ مارچ معکوس شروع ہوا اور اس نے نیشنلسٹوںکے زیراثرعلاقے فتح کرنے شروع کر دیے اور کسانوں کی فوج Peasent Army نے شہروں کا گھیراؤ کر کے ان شہروں سے قوم پرستوں کو نکال کر ان پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ یہ عمل ١٩٤٩ء تک جاری رہا، یہاں تک کہ تمام شہروں میں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت قائم ہو گئی اور کمیونسٹ انقلاب آگیا۔ اس انقلاب کی خاص حکمت عملی یہ تھی کہ …

٭             مزدوروں پر انحصار کر نے کی بجائے کسانوں پر انحصار کرنا۔

٭             شہروں سے نکل کردیہی علاقوں میں جدوجہداستوارکرنا۔

٭             کمیونسٹ پارٹی کو ایک فوج کی شکل دے دینا۔

٭             جدوجہد کے ذریعے  دھیرے دھیرے دیگر شہروں سے قوم پرستوں کو نکال کر ان شہروں پر قبضہ کر لینا۔

                ١٩٣٠ء سے ١٩٣٣ء تک قوم پرست کمیونسٹوں کے مقابلے میں کامیاب رہے اور انہوں نے کمیونسٹوں کو شہروں سے نکال دیا تھا اور ہزاروں آدمی قتل کر دیے گئے۔قوم پرستوں کو اصل دھچکا ١٩٣٣ء کے بعد پہنچا جب جاپان نے ان کے بہت بڑے صوبے پر قبضہ کر لیا۔ اس کا نام من چوریا تھا جس کے نتیجے میں قوم پرستوں کی فوج جاپان کے خلاف پسپا ہو چکی تھی اور اس کے ہاتھ سے ایک صوبہ نکل چکا تھا۔ یعنی قوم پرستوں کی عسکری شکست نے انہیں شدید نقصان پہنچایا تھا جس طرح روس میں عسکری شکست نے کمیونسٹ انقلاب کو ممکن بنایا تھا اسی طریقہ سے چین میں بھی یہی ہوا۔ پھر قوم پرستوں کی جاپان سے شکست کے بعد کمیونسٹوں نے جاپان کے خلاف متعددمحاذ کھول دیئے اور ان کی اس جنگی حکمت عملی قوم پرستوں کے بالمقابل جاپان کے خلاف کامیاب رہی اور انہوں نے جاپان کی فوجوں کو شکست دے دی۔قوم پرستوں کی جاپان سے شکست نے انہیں سخت دل برداشتہ کردیا تھا ۔جاپان کا حملہ چین میں کمیونسٹ انقلاب کی کامیابی کا ایک بنیادی سنگ میل ہے۔ جاپان نے حملہ کر کے قوم پرستوں کو شکست دی اور اس کے ذریعے کمیونسٹوں کو وہ مواقع فراہم ہوئے جس کے نتیجے میں کمیونسٹوں کی اجارہ داری قائم ہو گئی۔ابتداًجاپان نے حملہ کر کے قوم پرست اشرافیہ کا قتل عام کیا اور تقریباً تمام چینی قوم پر ست نمائندہ اشرافیہ ختم ہو گئی اور جو کچھ بچے رہ گئے تھے وہ علاقہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ جاپانیوں نے جو ظلم و استبداد کیا اس کے نتیجے میں عوام میں یہ احساس عام ہو گیا کہ ہمیں متحد ہو کر جاپانیوں کامقابلہ کرنا ہے اور عملی طور پر وہ مقابلہ بہتر انداز میں کون کر سکتا ہے؟ صورت حال تو یہ بتا رہی تھی کہ وہ کمیونسٹ ہی کر سکتے ہیں۔ چناں چہ ان جگہوں پر جہاں جاپانیوں نے قبضہ کر لیا تھا وہاں تو کمیونسٹوں کے گوریلا بیس بن چکے تھے لیکن جہاں جاپانی اب تک نہیں پہنچے تھے تو ایسی کچھ جگہوں پر کمیونسٹوں کا اثر ورسوخ قائم ہوا۔ لہٰذا جس چیز نے کمیونسٹوں کی علاقائی فتح یقینی بنائی وہ اصل میں جاپانیوں کا حملہ تھا، یعنی انقلاب لانے کے لیے فوج کو شکست دینا ہوتا ہے کیوں کہ اصل میں فوج ہی وہ قوت نافذہ ہوتی ہے جو کسی بھی ریاست کو عملی طور پر حکومت کرنے کے لیے مددگار اور معاون کا کردار ادا کرتی ہے۔دنیامیں ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے کہ انقلاب جب تک ممکن نہیں ہوتا جب تک آپ فوج کو شکست نہ دے دیں۔ اور فوج کو شکست دینا انہی حالات میں زیادہ آسان ہوتا ہے جب فوج کسی بیرونی دشمن کے سامنے پسپا ہو رہی ہو۔ اس وقت اس کی علاقائی اجارہ داری بھی ختم ہو جاتی ہے لہٰذا چینی کمیونسٹ انقلاب اس لیے آیا کہ اس نے چینی فوج کو زمین پر شکست دی اور اس کو علاقوں سے نکال دیا اور جاپانیوں کے قبضہ کے نتیجے میں اس کو یہ موقع میسر آیا کہ کمیونسٹ فوج آگے بڑھ سکی کیوں کہ کمیونسٹ پارٹی نے اپنی تنظیم کو کسانوں کی فوج کی شکل دے دی تھی۔ فوج کی یہ شکل آج بھی موجود ہے اس کوریڈ آرمی یا پیپلز آرمی کہا جاتا ہے ۔۔ اسی آرمی نے چینی فوج کو شکست دی تھی۔ پورے چین میں یہی عمل ہوا اور جن علاقوں میں جاپان نے قبضہ کیا تھا ،ریڈ آرمی نے ان علاقوں کو جاپانیوں سے بھی چھڑایا اور چینی قوم پر ست فوج کو بھی تمام علاقوں سے بے دخل کر دیا۔

انقلاب کے نتیجے میں کیا ہوا؟ کس قسم کی معاشرت، ریاست اور انفرادیت وجود میں آئی؟

                چین میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد ایک ایسی انفرادیت وجود میں آئی جو تمام پابندیوں سے آزاد اور حرص وہوس کے غلبہ سے مغلوب ہو اور جس کا مقصدِ زندگی’ معاشرتی اور ریاستی مادی فلاح، ترقی اور لامتناہی آزادی تھا۔اور اس انفرادیت کے نتیجے میں ایسی معاشرت وجو د میں آئی جس کے نتیجے میں خاندانی نظامِ زندگی تباہ وبرباد ہو گیا اور چین کا معاشرہ کمیونسٹوں کے مرتب کردہ جدید خطوط پر استوار ہو گیا۔کیوں کہ کمیونسٹ انقلاب کے بعد ریاست کا جبر ہر چیز پر حاوی ہوتا چلاجاتاہے اس لیے معاشرتی تنظیم ، سائنس اور سوشل سائنس کی مرتب کردہ عقلیت کی بنیاد پر منظم ہوتی ہے۔ اور معاشرے میں کسی بھی قسم کی مذہبی اور روایتی اصولو ں کی کوئی اجازت نہیں ہوتی۔ سائنس اور سوشل سائنس کا مقصد تمام ذرائع پیداوار کو اس طرح مربوط کرنا ہوتا ہے جس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کیا جا سکے اورحرص وہوس کو فروغ حاصل ہو۔

                چین کے اشتراکی انقلاب کے نتیجے میں جو ریاست وجود میں آئی اس کے نتیجے میں ایسا ریاستی جبر قائم ہوا جس میں ریاست میں تمام مذہبی آزادیوں اور سیاسی آزادیوں پر قدغن لگا دی گئی اور تمام شہریوں کو اس بات پر مجبور کر دیا گیا کہ ریاست کی دی گئی ہدایت کے مطابق زندگی بسر کریں۔ تعلیم وہی حاصل کریں جس کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ ترقی کی منازل طے کی جا سکیں۔دنیا میں مسابقت کی دوڑ میں چین کو سبقت دلائی جاسکے۔

                اشتراکی انقلاب اور اشتراکی نظام، مذہبی زندگی کا بدترین مخالف اور دشمن ہوتا ہے۔ اور چین میں بھی اشتراکی انقلاب نے تمام مذاہب پر شدید گرفت کی جس کے نتیجے میں شہریوں کو اپنی زندگی مذہبی اصولوں کے مطابق گزارنا ناممکن ہوتا چلا جاتا ہے۔ چین میں انقلاب کے بعد اسلام ان کا خاص ہدف تھا۔ انقلابی جدوجہد کے دوران اور کمیونسٹ حکومت کے قیام کے دوران لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا گیا، مساجد میں خنزیر باندھے گئے اور دیگر اسلامی آثار کی توہین کی گئی اورآج بھی بڑے پیمانے پر مسلم اکثریتی صوبوں بالخصوص زنچیانگ اور گانزومیں ریاستی استبداد اپنے عروج پر ہے اور تحاریکات اسلامی کو ظلم واستبداد کے ساتھ کچلا جا رہا ہے۔

                ریاستی نظام تبدیل نہیں ہوا جب کہ معاشرت اور انفرادیت لبرل ہوتی جار ہی ہیں لیکن وہ ریاستی ڈھانچا جو ماؤزے نے قائم کیا تھا وہ اسی طرح قائم ہے اور اس میں تبدیلی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked