غلام جیلانی خان

 

ابتدائیہ:

                ١٨٥٧ء کے جہاد کی کامیابی یاناکامی کے اسباب و اثرات کاتعین ایک مشکل امرہے اورجن ماخذات سے ان اثرات اوراسباب پرگفتگو کے لئے استفادہ کیا جاسکتا ہے’ وہ زیادہ تراَنگریزیا اس کے حاشِیہ پرداز مصنفین کی تحریریں ہیں۔ مثلاً سرسید، پروفیسرباری، شمس اﷲ، ذکاء اﷲ اورمولوی چراغ علی وغیرہ، جنہوں نے ١٨٥٧ء کے سبق اورزخم جوکہ بہت گہرے تھے بہت جلدفراموش کردیئے۔

                یہ جہاد مسلمان حکومت کی بحالی کی تحریک تھی، جسکو اس وقت کے زعمانے عملی طورپرمغلیہ سلطنت کی بحالی سے منسلک کردیا تھا، جسکی بنیادی وجہ دراصل علمی کمزوری Epistemological Weakness تھی۔یعنی اسلام بحیثیت معاشرہ، فرداورریاست غرض پورے طورپر غالب آجائے ، ایک عام تصورنہ تھا۔ جیسا کہ آج جمہوریت کے بغیر سیاست(ریاست )عملی تصور موجود نہیں ہے۔ اسی طرح مغلیہّ سلطنت کی بحالی ہی اس زمانے میں اسلامی سیاست کی واحدممکن صورت نظرآتی تھی۔

١٨٥٧ء کی جنگ دراصل ایک عظیم الشان جہادتھا۔بنیادی طورپر اس کی قیادت علماء ہی کے پاس تھی۔ اس جہاد میں علماء کے فتاوے، شرکت، قیداور شہادتیں کا بین ثبوت ہیں، جیسا کہ آگے مختلف مقامات پر بیان کیاجائیگا۔ یہ جہاد تقریباًایک سال تک شمالی ہند کے کوچے کوچے کوشوق شہادت سے سرشار کرتارہا۔

پس منظر:

                حضرت اورنگزیب عالمگیر نے اپنے دور حکومت میں نفاذ اسلام کے لئے اسلامی علمیت Islamic episstemology کے احیاء کرنے کی کوشش فرمائی، جو کہ اسلام کی بحیثیت تہذیب کے برتری کے لئے نہایت ضروری تھی۔بدقسمتی سے علماء کرام اورصوفیا کرام نے حضرت عالمگیر کو تنہا چھوڑ دیا۔١٧٠٣ء میں آپ کی وفات کے ساتھ ہی مغلیہ سلطنت کازوال شروع ہوگیا۔

                زوال پذیرمغلیہ سلطنت کی کمزوری اورانتشار سے فائدہ اٹھا کرانگریزوں نے برصغیرپاک وہند کے مختلف علاقوں پرقبضہ کرنا شروع کردیا۔بمبئی اور مدراس کے صوبوں میں انگریزوں نے ہاتھ پیر مار کر اپنے قدم جمائے تھے۔١٧٥٧ء میں کلائیونے نواب سراج الدّولہ (صوبیدار بنگال) کے خلاف سازش کی اور ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ٹیپوسلطان کو١٧٩٩ء میں غداروں کی مدد سے شہید کردیاگیا اورعلاقے پرقبضہ کرلیاگیا۔١٨٥١ء میں نواب سعادت علی خاں سے روھیل کھنڈکاعلاقہ ہتھیالیا۔١٨٠٣ء میں انگریزی فوج دہلی میں داخل ہوگئی اوراس کے ساتھ سہانپورسے آگرہ اورعلیگڑھ تک غرض مغربی یوپی کے بڑے علاقے پرانگریزوں نے قبضہ کرلیا۔دہلی کے بادشاہ شاہ عالم کومیں انگریز نے اپنی حفاظت میں لے لیا۔چنانچہ اس علاقہ کا انتظام بھی جس پر بادشاہ کااقتدار براہ راست قائم تھا، اب ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھ آگیا۔بہر حال مغلیہ خاندان کے آخری بادشاہوں تک نے شدید مخالفتوں کے باوجوداقتدار اعلیٰ پراپنے حق کی حفاظت ١٨٥٧ء تک کی۔ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں ان سیاسی تبدیلیوں کے بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے۔دہلی پرقبضے کے چند سال بعد ایسے حالات رونما ہوئے کہ شاہ عبدالعزیز دہلوی نے ١٨٢٣ء میں علاقہ کوجہاں کمپنی کی حکومت تھی دارالحراب قراردے دیا۔

وجوہات اورواقعات جہاد١٨٥٧:

                اس سیکشن میں ان وجوہات جوکہ جہاد کا باعث بنیں اورواقعات جوجہاد میں رونما ہوئے، مختصراً بیان کریں گے۔

                بنیادی طورپر انگریز کے ہندوستان پر قبضہ کا مقصد یہ تھا کہ وہ ہندوستان میں زیادہ سے زیادہ مادی فوائد حاصل کرسکے اوریہ اسی صورت میں ممکن تھا کہ مملکت ہند کے عوام النّاس کواس قابل نہ چھوڑیں کے وہ ان کے خلاف سرتابی کی جرات کرسکیں۔اس کام کے لئے انگریز نے جو حکمت عملی اختیار کی اس میں مذہب کو نشانہ بنایا گیا۔

                انگریز اس بات سے واقف تھا کہ مذہبی بنیاد پر حکمرانوں اور عوام میں اختلاف، تسلّط اور قبضہ کی راہ میں سدراہ ثابت ہوگا۔لہٰذا اُس نے پوری جانفشانی اورتندہی کے ساتھ مذہب اورملت کومٹانے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں اس نے بچوںکی تعلیم اورزبان ودین کے لئے کالج قائم کئے مثلاً فورٹ ولئم کالج اوردہلی کالج وغیرہ اوراسلامی مدارس ومکاتب کومٹانے کی پوری کوشش کی۔دوسری جانب انگریز مختلف طبقوں کو قابو کرنے کے لئے غلّہ کی پیداوار، کاشتکاروں سے نقد دام لے کررسد اورقیمت گھٹانے بڑھانے کے ذمہ داربن گئے، تا کہ مخلوق خدا ان کے ہر حکم کی تعمیل کرے۔

                ١٨٥٧ء جہاد کے آغاز کے اسباب کوعموماً ان کارتوسوں کے استعمال سے نتھی کیاجاتاہے جوسوراور گائے کی چربی سے تیارکئے جاتے تھے اورجن کو منہ کے ذریعے کاٹ کراستعمال کیاجاتاتھا۔ اس کے نتیجہ میں فوج کے ہندواورمسلمان سپاہیوں میں یکساں طورپر اشتعال پھیلنے لگا۔ جہاں تک جہاد کے شروع ہونے کے فوری سبب کاتعلق ہے توہم کارتوسوں کے استعمال کو ان فوری وجوہات میں شامل کرسکتے ہیں جن کے سبب جہاد کاایک خاص وقت میں ایک خاص طریقہ سے آغازہوا۔لیکن اس واقعہ کوجہادکی ”وجہ” قراردینا مناسب نہیں۔جہاد کابنیادی سبب یقیناً ایک اسلامی سلطنت کا قیام تھا اورعلماء اورمسلم زعماء کی جدوجہد کامقصدمغلیہ سلطنت کااحیاء ہی تھا(کیونکہ وہ اسی احیاء کواسلامی شریعت کے نفاذ کی واحد ممکن صورت گردانتے تھے) ان معنوں میں ١٨٥٧ء کاجہاد انگریز کی زیادتیوں کے خلاف کوئی فوری Spontenousرد عمل نہیں تھا جیسا کہ سر سید اورانگریزکے دوسرے حواریوں نے تاثردینے کی کوشش کی بلکہ سلطنت اسلامیہ کے احیاء کی ایک سوچی سمجھی اورمنظّم کوشش تھی جس کی تفصیل ہم تک اس لئے نہیں پہنچی کہ شکست کے بعد علماء کوتو قتل کردیا گیا اورواقعات کوسینوں میں دفن کردیاگیا۔ہم تک جوتاریخ پہنچی ہے وہ انگریزوں کے حواریوں اوراسلام وملت کے غداروں نے لکھی ہے۔ اس تاریخ کابنیادی مقصد ہی جہاد کو غلط قرار دینا تھا۔

                 دارالسلطنت دہلی بنااوربہادرشاہ ظفرکوسردارپیشوابناگیا۔بہادرشاہ ظفرضعیف اورناتجربہ کارتھا۔اپنی شریک حیات (ملکہ زینت محل) اوروزیر (حکیم احسن اﷲ خاں) سے متاثرتھا۔ جبکہ وزیر، حکیم احسن اﷲ انگریزکے دشمنوں کا شدید مخالف تھا۔یہی حال اس کے خاندان کابھی تھا۔بہادرشاہ ظفرنے مرزا مغل وخضر سلطان کوامیرلشکر بنادیا۔جو کہ کسی صورت اس قابل نہیں تھے۔ دوسری جانب مولوی ابوسعید وغیرہ علماء وائمہّ کے اجتہادوجوب جہاد کافتویٰ لے کرجدال وقتال کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔چار مہینے (مئی ١٨٥٧ سے ستمبر١٨٥٧ئ) تک جہاد ہوتارہا اوردشمن دہلی میں داخل نہ ہوسکا۔مگر مجاہدین کی کمی اوراپنوں کی غداری کی وجہ سے انگریزکامیاب ہوگیا۔اس طرح دہلی سے مجاہدین کی حکومت ختم ہوگئی۔وہاں سے ہجرت کے بعد سابق والئی ا ودھ، واجد علی شاہ اختر کی ایک بیگم حضرت محل اوراس کے کم عمر لڑکے کوامیروحاکم بنا کر جہاد جاری رکھا گیا۔ لیکن ان کے اعیان سلطنت کے ارکان بھی بہادرشاہ ظفرسے مختلف نہ تھے اورانگریز کے ساتھیوں کے ساتھ لشکر کشی کی صورت دغّادے کرشکست کاباعث بنے۔حضرت محل اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہاں سے شمالی ملک میں دریائے گومئی کے کنارے ایک گائوں میں اقامت گزیں ہوئیں۔یہاں اُمورانتظام رعایا اورافواج کے لئے ذمہ دار نواب احمد علی خاں کوبنایا۔ جب انگریز نے اس مقام (نواب گنج ضلع بارہ بنکی) کی طرف حملہ کیا تو یہ شخص فرار ہوگیا۔اس طرح جب انگریز نے مغربی گوشے کارُخ کیا تووہاں کاذمہ دار سردار بھی دغّادے گیا اورپیٹھ پھیرکربھاگ گیا۔

                حضرت احمداﷲ   نے اس موقع پر انگریزکامقابلہ کیا۔ یہاں آپ نے انگریز کوپہلے ہی حملے میں شکست دی مگر دوسرے حملے میں کافر زمیندار بلدیوسنگھ کے دھوکے کی وجہ سے پورا لشکر جام شہادت نوش کرگیا۔

                جہاد١٨٥٧ء میں ہزاروںمسلمانوں نے حصہ لیا اورخوش نصیبوں نے جام شہادت بھی نوش کیا۔بے شک نیکوکاروں کے لئے بہشت، حوریں اوراس سے بھی بڑھ کر نعمتیں ہیں۔ان میں سے بہت سے مسلمانوں کوتاریخ کے صفحات میں ہم نہیں دیکھ سکتے ہیں لیکن اس سے ان کے مقام پرکوئی فرق نہیں پڑے گا۔تاریخ میں مسلمانوں کی شخصیات(حضرت مہاجرمکّی، حضرت فضل حق خیرآبادی، مولانا شاہ احمد اﷲ مدراسی اورشیخ اکبر شاہ اورابوسعید وغیرہم)،جہاد ١٨٥٧ء کے حوالے سے قابل ذکر ہیں۔ان حضرات کے بارے میں چیدہ چیدہ حالات پیش ہیں۔

                مولانا شاہ احمد اﷲ مداراسی کاتعلق نواب خاندان سے تھا مگرآپ نے نوجوانی میں ہی اپنی نوابی کوخیرآباد کہ کرمسلمانوں کی قوت اورغلبہ اسلام کوبحال کرنے کے لئے ملک اوربیرون ممالک دورے گئے۔آپ نے آگرہ میں مجلس اصلاح بھی قائم کی۔ جو کہ آپ کی غیرموجودگی میں تحریک کی اصلاح کرتی تھی۔جہاد ١٨٥٧ سے قبل آپ کامقابلہ کمپنی کی فوج سے فیض آباد میں ہوا، جہاں آپ کوگرفتارکرلیاگیا۔ اسی دوران جہاد١٨٥٧ء شروع ہوا۔ آپ کومولانا سکندرشاہ آبادی کی سربراہی میں ٨ جون ١٨٥٧ء کوجیل سے رہاکروالیاگیا۔

                مولانا صاحب جیسے اوصاف والے حضرات کامقصد مادّی زندگی کی راحتوں سے زیادہ ابدی راحتوں کی تلاش ہوتی ہے۔مولانا کی شہادت رنجیدہ واقعات میں سب سے زیادہ اہم اورآخری واقع تھا۔اس کے بعدجہاد١٨٥٧ء ختم ہوگیا۔

                علامہ فضل حق خیرآبادی نے سب سے پہلے دہلی کی جامع مسجد میں انگریزوں کے خلاف جہاد کافتویٰ دیا، اس پر مفتی صدرالدین آزاد، مولوی فیض احمد بدایونی، ڈاکٹرمولوی وزیرخاں اوراکبرآبادی وغیرہ کے دستخط کرائے۔

                درحقیقت علامہ نے جہاد١٨٥٧ میں ہرطرح سے حصہ لیا،کیونکہ وہ اخلاص کے ساتھ یقین رکھتے تھے کہ انگریزوں (نصاریٰ) کی غلامی ہماری زندگی کے لئے زہر قاتل کا درجہ رکھتی ہے۔ جنرل بخت خاں مجاہدین کے سربراہ تھے۔لکھنؤ میں بیگم حضرت محل نے علم اٹھایا تھا اورعلامہ فضل حق دونوں جگہوں پر ان کے معتمدخاص تھے اوران کی کوششوں میںجوانگریزوں کے خلاف تھیں، شریک رہے۔

                سید مصطفیٰ علی جنگِ آزادی کی عظیم فہرست میں مولانا فضل حق کاتذکرہ یوں کرتے ہیں ہماری پہلی جنگ آزادی کے ہیروبِلاشُبہ، انگریزی اورسول افسران سے کسی طرح قابلیت اورحب وطن میں کم نہ تھے۔جنرل بخت خان، جنرل محمود خان، بیگم حضرت محل مولانا احمد اﷲ شاہ، سید لیاقت علی، مولانا فضل حق، خان بہادرخان، نانارائو، شہزادہ فیروزشاہ، اورمحمدعلی وغیرہ ھم مجاہدین کے لیڈرتھے،اوراپنی اپنی جگہ بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔(مضمون جنگ آزادی کی کہانی انگریزوں کی زبانی)

مولانافضل حق خیر آبادی نے جہاد١٨٥٧ء میںمردانہ وارحصہ لیا۔دہلی میں جنرل بخت خان بھی شریک رہے۔لکھنئو میں حضرت محل کے کورٹ کے ممبررہے۔جب انگریز کو فتح ہوئی تو٣٠ جون١٨٥٩ء کوگرفتار ہوئے اور٢٠اگست ١٨٦١ء میں کالا پانی میں انتقال فرماگئے۔

اثرات:

                بنیادی طورپر ہمیں اس تحریر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مخلص لوگوں کو دھوکے میں رکھ کر مفاد پرستوں اور منافقین نے اس جہادی تحریک کونقصان پہنچایا، جس کا خمیازہ انہیں دنیا اورآخرت میں مل کے ہی رہے گا۔اس کے علاوہ تحریک کی ناکامی کی وجہ معاشی یا حربی سازوسامان کی قلت نہ تھی بلکہ تحریک کامنظم نہ ہونا اور ایک شہر سے دوسرے شہر میں باقائدہ تعلق کی کمی، نیزٹیکنالوجی کے استعمال کی کمی بھی تھی۔ اسی وجہ سے جب فوج نے بغاوت کی وہ میرٹھ اور دہلی کی طرف چلی توٹیلیگراف کے تارنہ کاٹے گئے، اس طرح بغاوت کی انگریز کوخبرہوگئی اور اس نے مؤثراقدامات کئے۔ علاوہ ازیں عوام میں تحریک جہاد کی قبولیت کی کمی تھی۔ جس کی بنیادی وجہ روحانی تربیت اورمعاشرتی صف بندی کی کمی رہی۔ لہٰذا جب انگریزوں نے کامیابی حاصل کی توقتل عام کے ذریعے مزاحمت کوختم کرکے مسلمانوں کوناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔دوسری جانب مغربی تہذیب کوغالب کرنے کے لئے جواقدامات کئے گئے اس میں سرسیدنے نہایت اہم اور بنیادی کردار اداکیا۔

                جہاد١٨٥٧ء میں مسلمانوں کوبظاہرناکامی کے بعد انگریزوں اورمسلمانوں کواپنے ساتھ ملانے یعنی Reconciliation پر آمادہ کرنے کے لئے سر سید نے رسالہ اسباب بغاوت ہند نکالاہے۔ بنیادی طورپر سرسید مغربی تہذیب ہی کو انسانی تہذیب کی معراج سمجھتا ہے اوراصلی اسلام تہذیب مغرب ہی کو سمجھتا ہے اورچاہتا ہے کہ مسلمان بحیثیت قوم مغربی تہذیب کو اپنا لیں۔اسی لئے ایک طرف وہ انگریز کو١٨٥٧ء کے جہاد کے متعلق بتاتاہے کہ اس جنگ میں ایک عام مسلمان شریک تھا نہ اس تحریک کاکوئی تعلق ترکی،ایران یا کسی صورت روس سے تھا، نہ یہ مقامی لوگوں کی سازش تھی اور نہ ہی لوگ انگریزی حکومت کے مخالف تھے۔بلکہ در حقیقت عوام تو انگریزی حکومت چاہتے ہیں، کیونکہ امن وامان اورترقی اسی صورت میں ممکن ہے۔لیکن اس کے لئے انگریز حکومت کوچاہئے کہ وہ اپنی کچھ خامیوں کو دور کرے مثلاً عیسائیت کی تبلیغ(سرسید عیسائیت کا مخالف تھا، آگے ذکر آئے گا) رفاہ عامہ کے کام زیادہ کئے جائیں، لوگوں سے میل جول بڑھایا جائے، ایڈمنسٹریشن کی خامیاںدور کی جائیں اورساتھ ہی لیجسلیٹوکونسل میں نمائندگی دی جائے۔

درحقیقت انگریزوں نے مسلمانوں میں ایسے حاشیہ پردازوں کوپروجیکٹ کیا، جوکہ انگریزی تہذیب کی برتری کے قائل تھے اورچاہتے تھے کہ مسلمان بھی بحیثیت قوم انگریزی تہذیب کاحصہ بن جائیںاوراسلام کوبحیثیت تہذیب کے رد کردیں اورفلاح وبہبودہی مقصد اولیٰ ٹھہرے۔ اسی وجہ سے تمام کوششیں اس بات پر صرف کی گئیں کہ مسلمان ان مادی ترقیوں کوحاصل کرنے میں کیوںکر ناکام رہے جو اُس وقت کی ترقی یافتہ(انگریزی)تہذیب حاصل کرچکی تھی۔جب کہ مسلمانوں کی کامیابی کامعیار اُخروی کامیابی ہے نہ کہ دنیاوی ترقی اورفلاح و بہبودیہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں شوق شہادت اورجذبہ جہاد قائم ہے۔

                انگریزاس بات سے بخوبی واقف تھا لہٰذا اسنے مسلمانوں میں سے ہی ایسے لوگوں کاانتخاب کیا جنہوں نے اپنی تمام تر کوششیں اس بات پر صرف کردیں کہ  دورجہادختم ہوچکا ہے اوراس کے لئے سعی کرنا اپنے آپ کوہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔یا جہاد کوایک حکمت عملی کے طورپرترک کردینا چاہئے اور صرف وہی اصول اپنائیں جن سے مادّی ترقی حاصل ہوسکتی ہو۔اسی بنیاد پراقوام سے مقابلہ یا ساتھ دیتے ہوئے فنافی الدنیا ہوجائیں۔

نکل کرخانقاہوں سے اداکررسمِ شبیری:

                برصغیرپاک وہند کی تاریخ اس بات پرگواہ ہے کہ اہل سنت والجماعت نے جہاں کہیں فکری کجروی دیکھی وہاں اس کے خلاف آواز بلند کی یہ آواز نہ صرف منبرومحراب سے بلند ہوئی وہیں ان بزرگان دین وملّت نے طاغوت مسلمانوں کے سواد اعظم کے خلاف جہاد بقلم کے ساتھ ساتھ جہاد بالسیف کوبھی بہ احسن وخوبی نبھایا، جس کے سرخیل حضرت مجدّد الف ثانی، شیخ عبدالحق محدث دہلوی ہیں۔اسی آواز کوبلند کرتے ہوئے ہمیں مغلوں کے آخری دورمیں انگریزوں کے ابتدائی عروج میں حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اورآپ کے تلامینہ صف اول میں نظرآتے ہیں۔ ان بزرگوں نے زندگی کے علمی اورعملی گوشوں کو علم وعرفان سے منورکیا ان کی کاوشوں نے ہمیں سکھایاکہ میدان کارزارمیں اﷲ کے لئے جینے مرنے کے کیا طریقے ہیں اورعلمی سطح پر طاغوت کامقابلہ کرنے کے لئے کس قسم کے ہتھیاروں کی طرایق اور اسلوب کی ضرورت پڑتی ہے لیکن صدافسوس کہ آج جب امریکن طاغوت نہ صرف ہماری معاشرت، معیشت اورریاست کواپنے نرغے میں لے چکا ہے لیکن اس کے خلاف جولوگ ان اسلاف کی سنت کے امین تھے بالخصوص بریلوی مکتب فکراس سے کوسوں دور نظرآتاہے ذیل میں ان چندبزرگوں کے احوال مختصراًبیان کئے جاتے ہیں جنہوں نے ١٨٥٧کے جہادمیں عظیم الشان علمی اورعملی کارنامہ ہائے انجام دیئے۔

                دراصل ان بزرگوں کے حالات پر ان کی کاوشوں سے پردہ اٹھانانیز ان سے استفادہ کرنا اس لئے ضروری ہے کہ فی زمانہ بریلوی مکتبہ فکرمیں علمی اورعملی جہاد جیسی گراں مایہ اقدار کی کمی ہوتی جارہی ہے ان بزرگوں کے احوال سے پردہ اٹھانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہماری اخلاق اورروحانی زندگی میںجوٹھہرائوپیداہوگیا ہے اس میں بالیدگی پیداہو۔

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی:

                حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی کاجب ١٧٦٣ء میں انتقال ہواتوآپ کے سب سے بڑے فرزندحضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی جن کی عمر اس وقت صرف سترہ سال تھی آپ اس کم عمری میں ولی الٰہی تحریک کے سرخیل ٹھہرے نیز آپ نے جہاد کے ساتھ ساتھ فقہ حنفی کی ترویج واشاعت میں آپ کومجدّد وقت کی حیثیت حاصل ہے آپ کے وقت میں سارے ہندوستان میں علم الحدیث اوراصول فقہہ کے کوئی استاد ایسا نہ تھاجو شاہ عبدالعزیز کاشاگردنہ ہوجوعلماء حضرت شاہ عبدالعزیز کی تربیت گاہ سے نکل کرجہاد سیف قلم کے آفتاب و مہتاب بنے ان کی فہرست بہت طویل ہے صرف چند ناموں کا ذکر درج ذیل میں کیاجاتا ہے  یہ وہ بزرگ ہیں جن کا١٨٥٧ء کے جہادسے براہ راست یا بلا واسطہ تعلق رہاہے۔

1)            مولانارشید الدین صاحب دہلوی

2)            مولانا مفتی صدرالدین دہلوی

3)            مولانا مفتی الٰہی بخش کاند دہلوی

4)            حضرت شاہ غلام علی

5)            مولانا فضل الحق خیرآبادی

6)            حضرت مہاجرمکّی 

7)            حضرت مولانا علی نقی خان

                 حضرت شاہ عبدالعزیز کی ذات والا صفات نے ١٨٥٧ء کے جہاد کے شروع ہونے سے پچاس برس قبل ہی انگریز کی نیت اور اس کے طاغوت کوبھانپ لیا تھا اس سلسلے میں آپ نے مغل سلطنت کے انگریز کے زیراثرآنے کے بعد١٨٠٦ء میں ہندوستان کے دارالحراب ہونے کافتویٰ صادر فرمایا یہ فتویٰ ناصرف ١٨٥٧ء کے جہاد بلکہ برصغیرمیں کفروطاغوت کے خلاف جوبھی جہادی راستہ اپناجائے گااس کے لئے ایک سند کی حیثیت رکھتاہے۔

فتویٰ کامتن عیسائی افسران کاحکم احکام شرع پرغالب ہے اوران کا حکم بے ڈھڑک جاری ہے نصاریٰ کے حکم کے جاری اورنافذ ہونے کامطلب یہ ہے کہ ملک داری، انتظام رطیبت، خراج، عشرومال گزاری، اموال تجارت مقدمات کاتصفیہ جرائم کی سزا وغیرہ میں نصاریٰ بطورخودمختار حاکم کے ان کوغلبہ حاصل ہے۔ہندوستانیوں کو ان کے بارے میں کوئی دخل نہیں بے شک نماز،جمعہ، اذان، ذبیحہ جیسے اسلام کے چنداحکامات میں وہ روکاوٹ نہیں ڈالتے لیکن جوچیز مذہب کی جڑ ہے یعنی آزادی کے ساتھ اسلامی شعار کابجالانا وہ قطعاًبے حقیقت اورپامال ہے چنانچہ بے تکلف مسجدوں کو مسمارکردیتے ہیں آنے جانے پرپابندی عائدکرتے ہیں دلّی سے کلکتہ تک انگریز کی عمل داری قائم ہے بے شک کچھ دائیں بائیں مثلاً حیدرآباد، لکھنؤ ، رام پور وغیرہ نے انگریز کی فرمانروائی اوراطاعت قبول کرلی ہے ان ریاستوں میں انگریزکے احکامات جاری نہیں ہوتے مگراس سے پورے ملک کے دارالحرب ہونے پرکوئی اثرنہیں پڑتا ہم دیکھتے ہیں کہ مذہب کااحترام ختم ہوچکا ہے آزادیاں سلب کرلی گئی ہیں لہٰذا ہرمحب وطن کافرض ہے کہ اس اجنبی طاقت کے خلاف اعلان جنگ (جہاد) کر دے اور جب تک اس فرنگی طاقت کو ملک بدر نہ کردے اس ملک یعنی ہندوستان میں زندہ رہنا اپنے لئے حرام جانے” شاہ صاحب نے نہ صرف فتویٰ جہاد دیا بلکہ اس کے لئے عملی قیادت کوذمہ داری بھی سونپی اس سلسلے میں انہوں نے مولانا محمد اسحٰق، مولانا شاہ محمد یعقوب، مفتی رشیدالدین خان، مفتی صدرالدین، مولانا حسن علی، مولانا سید حسین احمد ملیح آبادی اورمولانا عبدالغنی کوجہاد ی ذمہ داریاں تفویض فرمائیں۔آپ نے اس سلسلے میں بیعت طریقت کے ساتھ ساتھ بیعت جہاد کیلئے بھی حکم صادر فرمایا۔شاہ عبدالعزیز سے تربیت پاکرنہ صرف آپ کے داعی اطراف ہند میں پھیلے بلکہ اس کی گونج بلاداسلامیہ تک پھیل گئی شاہ عبدالعزیز نے اپنے اسلاف کی پیروی کرتے ہوئے کبھی بھی حکمران وقت  کواپنے پاس نہیں آنے دیا آپ کے علمی دبدبے کایہ عالم تھا کہ بادشاہ اورامرء کی ہمت بھی نہ پڑتی تھی کہ وہ آپ کے لئے کچھ ھدیہ اورتحفہ بھی پیش کرسکیں کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کی پیش کش استفنا کے ساتھ واپس کردی جائے گی یہی وجہ ہے کہ آپ کے تلامزہ، عقیدت مند، مریدیں اورعلماء شان فقیری کے ساتھ علم اورعرفان کے ساتھ ساتھ جہادکے بلندمرتبے پرنظرآتے ہیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب انگریزکے برق رفتاراقتدارکوپھیلتے ہوئے دیکھ کر آپ نے ہندوستان کودارالحراب قراردیا۔آپ نے اپنے فتووں میں انگریزکے ظلم وستم کے خلاف مسلمانوں اورہندوئوں کے ساتھ جوسلوک روارکھا جارہا تھا اس کے خلاف آوازبلندکی کیونکہ شاہ صاحب انگریزوں کے مظالم سے نہ صرف مسلمانوں کوبلکہ ہندوئوں کو بھی انگریزوں کے جورستم سے بچانا چاہتے تھے۔ چنانچہ شاہ صاحب نے حضرت شاہ ولی اﷲ کی تعلیمات کی روشنی میں انقلابی جہادی پروگرام تشکیل دینے کے لئے دوجماعتیں تشکیل دیں پہلی جماعت میں سیداحمدبریلوی، شاہ محمداسماعیل دہلوی وغیرہم کے نام نظرآتے ہیں ان کاکام یہ تھا کہ یہ پورے ہندوستان کادورہ کرکے روح جہادبیدار کریں،رضا کاربھرتی کریں، فوجی تربیت کا بندوبست کریں، سامان حرب وحزب کی ترسیل کابندوبست کریں، دیگرممالک سے تعلقات پیداکرنے  میں اورباضابطہ جنگ کابندوبست کریں۔ایک دوسری جماعت جو آپ نے تشکیل فرمائی اس جماعت میں مولانا شاہ محمداسحاق محدث دہلوی، مولانا شاہ محمدیعقوب محدث دہلوی، شاہ محمدموسیٰ محدث دہلوی، مفتی رشیدالدین خان، مفتی صدرالدین، مولاناحسن علی، مولانا عبدالغنی وغیرھم شامل تھے۔ اس جماعت کی ذمہ داری یہ تھی کہ مرکزکوسنبھالیں نفوذکی تعلیم وتربیت شاہ ولی اﷲ  کے دیئے ہوئے خاکے کے مطابق کریں۔بیت طریقت کے ساتھ ساتھ بیت جہاد کوبھی جاری وساری کریں۔ لیکن بدقسمتی سے یہ دونوں جماعتیں باہم سیروشکرنہ ہوسکیں اوران کے مابین علمی اورعملی نزاع پیداہوگیا۔بلاآخربریلوی دیوبندی تفریق پرختم ہواآپس کی نااتفاقی کی بناء پرشاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے گھرانے سے بہت سے لوگ مثلاًشاہ محمدیعقوب، شاہ محمداسحٰق وغیرہم مکہ معظمہ ہجرت کرگئے۔

خانقاہ شاہ غلام علی:

                شاہ غلام علی کی خانقاہ سے شاہ ولی اﷲ کے گھرانے کی ایک روحانی نسبت تھی جوآگے کی طرف چلتے ہوئے حضرت مجدد الف ثانی تک پہنچتی ہے اسی خانوادے کے چشم وچراغ شاہ احمدسعید شاہ محمد سعیدنقشبندی  ہیں جنہوں نے  جہاد١٨٥٧ء میں اہم کردارادا کیا اور خود بھی بہ نفس نفیس اس میں شامل رہے اورعملی طورپر جہاد میں حصہ لیاشاہ غلام علی کی خانقاہ کے ساتھ شاہ کلیم اﷲ جہاں آبادی کابھی مدرسہ تھا ان دونوںخانقاہوں اورمدارس کی وجہ شہرت علم الکلم ،علم حدیث،علم ھندسہ اوراجتہاد میں کمال حاصل تھا۔یہاں دوردور سے تشنگان علم اپنی پیاس بجھانے آتے تھے ان خانقاہوں کی خاص جدوجہد کامحور صرف یہ تھا کہ ہندوستان میں اسلام پھیلے اورلوگ اسلام قبول کریں ان دونوں خانقاہوں کو١٨٥٧ء کے جہاد کے بعد انگریزوں نے نہ صرف منہدم کردیابلکہ یہاں کی آبادی کوبھی صفحہ ہستی سے مٹادیا۔دہلی کی ایک تیسری خانقاہ کے لوگ بھی اس جہادمیں بہ نفس نفیس شریک ہوئے اس کانام خانقاہ بوعلی قلندرہے یہاں کے خادمین نے عملی طورپر مجاہدین کی مدد کی جس کی پاداش میں اس درسگاہ کوبھی انگریزمفسدین نے نقصان پہنچایا۔

جنرل محمد بخت خان:

                جنرل محمدبخت خان پہلے پہل انگریز سرکار کی فوج کاایک اعلیٰ منصب دارتھا اوریہ وہ پہلا جرنیل تھا جس کوانگریزوں نے اہم منصب پرفائزکیاتھا۔جرنل محمدبخت خاں مولانا سرفرازعلی خان کے ہاتھ پر بیعت تھا نیز جرنل محمدبخت خان کاتعلق حافط رحمت خان، روھیلا شہیدسے بھی تھا وہ جانتا تھا کہ حافظ صاحب کوانگریزوں نے کس طرح سازش کے تحت شہید کیاچنانچہ جرنل محمدبخت خان انگریزی فوج کی ملازمت کوچھوڑکردہلی تشریف لائے اورعلماء کوفتویٰ جہاد کے لئے تیارکیا جس پر اس وقت جیدعلماء اکرام اورصوفیہ عظام نے دستخط سبت فرمائے ان میں سے چند کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں۔

                فقیر احمد سعید، اورمحمدسعید،مفتی اکرم الدین،مفتی محمدرحمت علی خان، مولوی سعیدالدین، مولوی عنایت علی خان وغیرہم۔

علامہ فضل الحق خیرآبادی:

                ١٨٥٧ء کے انقلاب (جہاد)سے پہلے دہلی کی علمی اورادبی فضاپرچار ہستیاںغالب تھیں، مولانا فضل حق خیرآبادی، مفتی صدرالدین آزادہ، مرزا غالب اورحکیم مومن خان مومن، ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں علامہ فضل حق کے کردار کے متعلق ان کی قیدوشہادت تاریخ کے طالب علم سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے مولانا فضل حق خیرآبادی عالم اجل فاضل بے بدل حامی شروع وفقہاًاصول جامہ معقول اورمنقول میں بدطولا رکھتے تھے۔ اساتذہ وقت آپ کی شاگردی کوفخرجانتے تھے، مولانا کے علم فلسفے اورادب میں مقام اولیٰ پر فائزتھا اوردہلی میں آپ عہدجلیلہ پرفائز رہے،١٨٥٧ء کے جہادمیں علمی اورعملی طورپرشرکت کی بناپر انگریز نے آپ کوقید کرکے جزیرہ انڈیمان کالے پانی کی سزا دی آپ مسلکی لحاظ سے بریلوی اوربدایوں کے علماء کے سرخیل بعض جزیرہ انڈیمان میں آپ نے20اگست 1861میں انتقال فرمایا، کہا جاتا ہے کہ مولانا فضل الحق خیرآبادی نے دہلی کی جامع مسجد بعد نماز جمعہ انگریزوں کے خلاف فتویٰ پڑھ کرسنایا تومخالف علماء کے لئے باعث تشویش بنالیکن اس فتویٰ پر مفتی صدرالدین آزادہ اوراپنے وقت کے دوسرے جید علماء کے دستخط سبت تھے اس کانماز جمعہ کے بعدپڑھ کرسنایا جانا اورشائع ہونا تھا کہ جدوجہد آزادی نے ایک نیازورپکڑا اوراقتدارسے انگریزی گرفت کمزورپڑنے لگی اورجگہ جگہ انگریز کے چھکے چھوٹ گئے،مولانا فضل الحق کے ساتھ دوسرا بڑا نام دلآور جنگ مولوی احمد شاہ مدراسی کانام آتاہے آپ بہت پہلے سے عیسائی مشینریوں اورایسٹ انڈیا کمپنی کے اقتدارکے خلاف علماء اورصوفیا میں سرگرمیاں پیداکرتے رہے اورآپ مختلف والیاں ریاست کوانگریز اقتدارکے خلاف بغاوت پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے علامہ فضل الحق کی کتاب الثورہ الہندیہ اس وقت کے حالات اورواقعات کاخوفناک منظرسامنے آجاتاہے اورانگریز کے خوفناک عزائم کاپتہ چلتا ہے کہ کس طرح وہ ہندوستان کی رعایہ کے گلے میںدائمی غلامی اورنصرانیت کاپٹہ ڈالنے کی کوششیں جاری تھیں، احمد اﷲ شاہ مدراسی اورعلامہ فضل حق کے مطابق اعلان جہاد اورعملی اقدام اس وقت کی بروقت ضرورت تھی اوروہ یہ سمجھتے تھے کہ انگریزکی غلامی ملت اسلامیہ ہندکے لئے زہرقاتل کادرجہ رکھتی ہے اس لئے علامہ فضل الحق نے مقدوربھراپنے اضطراب کااظہارکیا اورانگریز کوزک پہنچانے کے لئے مختلف عملی اقدامات کئے علامہ لکھنئو میں١٨٥٧ء کے جہاد کوفروغ دینے کے لئے حضرت محل کے مشیر اوراس کے کورٹ کے

ممبربھی رہے آپ کی دوسری کتاب قصائدفتنہ الہندیہ، الثورةالہندیہ تاریخی ہونے کے ساتھ ساتھ ادب کابھی شاہکار یہ رسالے اورقصیدے جہاد١٨٥٧ء کے حالات کے نہایت قابل قدرماخذہیں۔

                سیدمصطفیٰ علی بریلوی جنگ آزادی کے عظیم رہنمائوں کی فہرست میں مولانا فضل الحق کاذکریوں کرتے ہیں۔

                ہماری پہلی جنگ آزادی کے ہیرو بلاشبہ انگریزی فوجی اورسول افسران سے یہ کسی طرح قابلیت اورحب الوطنی میں کم نہیں تھے۔جنرل بخت خان، جنرل محمود خان، بیگم حضرت محل، مولانا احمد اﷲ شاہ، سید لیاقت علی، مولانا فضل حق، خان بہادر خان، نانارائو، تانتیا ٹوپی، فیروزشاہ، جھانسی کی رانی، محمد علی خان عرف جیمی گرین وغیرہ مجاہدین کے لیڈر تھے اوراپنی اپنی جگہ بڑی بڑی خوبیوں کے لوگ تھے۔نیز علامہ فضل الحق خیرآبادی قلمی جہادمیں بھی اپنے اسلاف کانمونہ تھے آپ نے قلمی جہاد کرتے ہوئے اپنے مخالف علماء پر دلائل قاہرہ کے ذریعے اپنی علمیت کاسکہ بٹھا دیا اس سلسلے میں آپ کی کتاب امتناع النظیراپنا ثانی نہیں رکھتی یہ کتاب مسئلہ امکان کذب اورامکان نظیرکے بطلان پرلکھی گئی۔ علامہ فضل الحق خیرآبادی تمام عمرعشق نبویۖ سے سرشاررہے اوراپنے قائدحضورۖ کی مدح سرائی کرتے رہے اورآپ اپنی دنیاوی اورضروری تمنائوں کی برآوری کے لئے ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کواپنی امیدوں کامرکز سمجھتے رہے۔اس سلسلے میں آپ کی کتاب الروض المجدد دیکھی جاسکتی ہے۔

جنرل محمد بخت خان:

                ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی کے تذکرے میں جنرل محمد بخت خان کی تدابیر جنگی کارنامے ہمت اورشجاعت کی داستان سنہرے حروفوں سے لکھی جائے گی۔ جنرل محمد بخت خان مولانا احمد اﷲ شاہ مدراسی علامہ فضل الحق خیرآبادی اورمولانا صدرالدین آزادہ کے دست؟ راست کے طورپر کام کرتے رہے۔جنرل بخت خان جہاد کمیٹی کے ایک اہم ترین رکن تھے آپ نے مولانا سیدقربان علی شاہ جے پوری اورمحراب شاہ قلندرسے عقیدت رکھتے تھے انہی بزرگان دین اوراولیاء اﷲ کی ایماء پر آپ جہاد میں سرگرم حصہ لیتے رہے جنرل بخت خان کی ذہانت اورجنگی لیاقت کاڈنکا بریلی سے دہلی لکھنئو سے شاہ جہاں پور تک گونجتارہا۔آپ نے مجاہدین کی کمک کے ساتھ مالی طورپربھی بادشاہ کے خزانے میں جمع کیا جنرل بخت خاں میں جنگی اورانتظامی دونوں قسم کی صلاحیتیںموجودتھیں بخت خان کی شخصیت میں دو باتیں جمع تھیں۔اوّلاً وہ روھیلا پٹھان تھا جن کی شجاعت اورجانبازی کاساراہندوستان معترف رہا۔دوسرے وہ تحمل مزاجی شائستگی اورشرافت کا مرقہ تھا اس میں فوجی لیاقت اوردانائی کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی اسی وجہ سے وہ انگریزی توپ خانے کاجرنیل بھی رہا اپنی حمیت کی بناپر وہ انگریزفوج سے بغاوت کرکے

مجاہدین سے آملا اوراپنی بہادری اورتدبر سے مجاہدین کی حوصلہ افزائی کرتا رہا سقوط دہلی کے بعد وہ بہادر شاہ ظفر پرزوردیتا رہا کہ وہ دہلی سے نکل کر کہیں اورچلا جائے اورمجاہدین کی سرپرستی کرتا رہے لیکن شہزادہ بیگمات اورانگریز کے بہی خواہوں نے بادشاہ کوایسا کرنے سے روکے رکھا۔ جنرل محمدبخت خان حافظ رحمت خان شہید کاتسلسل تھا اس بنا پروہ ایک معرکے سے نکل کردوسرے معرکے کومنضبط کرتا رہا وہ کبھی انگریزوں کے ہاتھ نہ آیا اورسقوط لکھنئو کے بعد وہ نیپال کی ترائیوں میںہمیشہ کے لئے روپوش ہوگیا۔

مولانا صدر الدین آزادہ:

                مولانا اپنے وقت کے جےّدتریں علماء میں شمارہوتے تھے آپ کاعلمی ادبی مرتبہ اپنے وقت کے گنے چنے لوگوں میں شمارہوتا تھا، اسی وجہ سے آپ کو بادشاہ وقت نے صدرصدروی کے عہدے پر فائزکیا ہواتھا، دقیق مسائل آپ کے سامنے پیش کئے جاتے  وہ آپ فقہ، حدیث اورتفسیر کی روشنی میں حل فرمادیا کرتے تھے،آپ کی دوسری بڑی خوبی یہ تھی کہ آپ اﷲ تعالیٰ کی شان اورذات رسولۖ کے متعلق کوئی ادنیٰ سی بھی بات سننے کوروادار نہیں ہوتے تھے جب بھی انگریز کی ایماء پر عظمت رسولۖ اوراﷲ کی شان کے خلاف جب بھی کوئی کارستانی عمل میں آئی تو آپ نے فوراًہی قلم ممبرسے اورعملی طورپران فتنوں کے خلاف ببانگ دھل آواز بلندکی۔ جنرل محمدبخت خان کی دھلی آمد اورعلامہ فضل الحق خیرآبادی کی نیا بت کے نتیجے میں جنگ آزادی١٨٥٧ء کافتویٰ جہادآپ نے مرتب فرمایااوراسپر دستخط کئے۔ فتویٰ جہاد کے مرتبین اوراس پرعملی شرکت کی بناپرآپ کوگرفتارکیاگیا جائیداد ضبط کرلی گئیں آپ کے مدرسے کومنہدم کردیاگیا نہایت بیش قیمت آپ کاکتب خانہ جس میں اسلاف کی بے بہا گرانقدرکتب موجودتھیں جوہمارا علمی خزانہ تھا انگریزنے اس کوضبط کرلیا مولانا صدراﷲ آزادہ کی رہائی کے بعدکتب خانے کے حصول کے لئے کی گئی سعی رائیگاں گئیں اس کے غم میں آپ ١٨٧٠ عیسوی میں انتقال فرماگئے۔

مفتی عنایت احمد کاکوروی:

                مفتی عنایت احمدکاکوروی نے بریلی کی انگریزوں سے آزادی کے بعد زمام کارخان بہادر خان کے سپرد کی آپ خان بہار خان کے مشیر رہے اورجنرل بخت خان کے ہم رکاب ہوکرانگریزوں سے لڑتے رہے مولانا احمد اﷲ شاہ مدراسی شہیدرحمت اﷲعلیہ نے علماء کی جوجہاد کمیٹی بنائی تھی آپ اس کے رکن تھے جہاد١٨٥٧ء کی شرکت کی وجہ سے آپ گرفتار ہوئے، انگریزوں نے آپ پر یہ الزام لگایا کہ فتویٰ جہاد کی تشہیر میں آپ نے اہم کردار اداکیا انگریزوں کے خلاف لوگوں کوابھارتے رہے، انگریزوں کے قتل میں شریک رہے۔اس بنا پر آپ کو علامہ فضل الحق خیرآبادی کے ساتھ کالے پانی کی سزا دی گئی آپ کوجزیرہ انڈیمان بھیج دیا گیا وہاں آپ پانچ سال قیدرہے ١٨٦١ عیسوی میں وہاں سے رہائی ملی واپس گھرپہنچ کرآپ نے حج بیت اﷲ کی نیت کی اورسفر حجاز کے

دوران جدہ کے قریب ان کا جہاز زیرزمین چٹان سے ٹکرایا اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے اس حادثے کے نتیجے میں آپ اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔

حضرت مولانا احمداﷲ شاہ شہید:

                مولانا احمداﷲ شاہ ایک بلندمرتبہ عالم دین اور صاحب اجازت بزرگ تھے آپ سیدقربان علی شاہ جہان پوری کے مریدتھے اوخرقہ خلافت پیرسحراب شاہ قلندر سے پایا تھا آپ انہی کی ایماء پربیعت جہادلیاکرتے تھے ١٨٥٧ کے جہاد کے سلسلے میں آپ نے ایک جہاد کمیٹی بنائی تھی جس کے سرخیل علامہ فضل الحق خیرآبادی مفتی عنایت احمدکاکوروی، مولانا رضا علی خان بریلوی اورمولانا فیض احمد بدایونی تھے اس کمیٹی نے ١٨٥٧ کی جنگ میں عدیم النظیرکارنامے انجام دیئے فتویٰ جہاد مرتب کیا اس کی تشہیر کی انگریز کے خلاف لوگوں کویہ بتایا کہ اس کے ہندوستان سے نکل جانے کی صورت میں ان کوکیا فوائد حاصل ہوں گے اورانگریز کے قدم جمانے کی صورت میں ان کوکن مصائب کاسامنا کرنا پڑے گا۔مولانا احمداللہ شاہ مدراسی رحمت اﷲ نے ١٨٥٧ کے جہاد میں عدیم النظیر جنگی کارنامے سرانجام دیئے۔ آپ نے فنی مہارت کے ساتھ انگریزوں کے مایہ ناز اورپختہ کار جرنیل کوپے درپے شکستیں دیں ان کی جنگی منصوبوں کوخاک میں ملایا آپ کے کارنامے ١٨٥٧ کے جہاد کے ضمن میں سنہرے حروفوں سے لکھے جانے کے مترادف ہے۔

                بریلی پرانگریزوں کے دوبارہ قبضہ کرنے پر آپ باقی مجاہدین کے ساتھ بریلی سے نکل آئے اس کے بعد آپ شاہجہاں پور پہنچے آپ کی تیز نظروں نے یہ بات جان لی کہ انگریز پورے لائو لشکر کے ساتھ بریلی پر حملہ آور ہوا ہے اور شاہجہاں پور میں بہت تھوڑی سی فوج چھوڑآیا ہے اس کے بعد انہوں نے شاہ جہاں پور پہنچ کرقلیل مجاہدین کو اس طرح ترتیب دیا کہ انگریزفوج کو شاہ جہاں پور میں ذلت آمیز شکست سے دوچارکیا انگریز کے ایک مایہ ناز جرنیل ہیل کوسخت حزیمت اٹھانی پڑی دوآبہ میں اب لڑائی کارنگ یہ ہوگیا کہ انگریز جرنیل اودھ کوفتح کرتے تھے تومولوی احمد شاہ صاحب روہیل کھنڈ پرقبضہ جمالیتے تھے انگریز روہیل کھنڈ کو واپس لیتا تھا تو مولانا صاحب اودھ کو فتح کرلیتے تھے مولانا احمد شاہ صاحب نے اپنی جنگی تدابیر اورمہارت کی بناپرانگریز کے حوصلوں کوشل کرکے رکھ دیا تھا چنانچہ انگریز نے اپنی فطری چالاکی اورعیاری کے ذریعے اس بے مثل مجاہدسے پیچھا چھڑانے کے لئے غداری کے ناپاک منصوبے کوبروئے کار لانے کی ٹھان لی۔چنانچہ انگریز نے ”پاون” نامی ایک ہندو راجہ سے ساز باز کی جس نے 50ہزارروپے انعام پانے کی لالچ میں ١٨٥٧ کے عدیم النظیرجرنیل کودھوکے سے شہید کرادیا۔انگریز جرنیل مولانا کی تدابیر کے معترف تھے ان کا ایک جرنیل یرمی لیسن شاہ صاحب کے متعلق لکھتا  ہے کہ ”مولوی صاحب کے عموماًحملے بالکل اچھوتے ہوتے تھے یوں لگتا تھا جیسے کوئی یورپ کامدبرجرنل لڑ رہاہے”۔مولانا احمد شاہ

صاحب کی شہادت کاعلم ہونے پرہومزنے پُرمسرت طو رپرکہا کہ ”شمالی ہندوستان میں ہمارا  سب سے بڑادشمن سب سے خطرناک انقلابی ختم ہوگیا۔”

مولانا رضا علی خان بریلوی:

                ١٨٥٧ء کے جہاد کے وقت مولانا رضا علی خاں کی عمر48برس تھی آپ نے مجاہدین کے ساتھ مل کربریلی میںانگریزوں کو شکست دی اورخان بہادر خان کومنصب اقتدارپربٹھایا اوران کے مشیراورسرپرست بن کرمجاہدانہ امورانجام دیتے رہے۔جنرل بخت خان اوراحمد اﷲ شاہ مدراسی کی ہدایت کے مطابق خان بہادرخان کبھی مولانا رضا علی خان کی ہدایت کے بغیرکوئی اقدام نہیں کرتے تھے آپ ایک مجاہد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک متجّر عالم دین بھی تھے آپ کاانتقال ١٨٦٥ء میں ہوا۔

مولانا نقی علی خان:

                آپ مولانا رضا علی خان کے فرزندتھے آپ کا شمار جہاد کمیٹی کے ایک رکن کے طورپر کیاجاتاہے آپ خان بہادر خان کے دست راست بن کرکام کرتے رہے۔ مولانانقی علی خان بریلوی کی ڈیوٹی یہ تھی کہ وہ مجاہدین کے لئے سامان رسد کاانتظام کریں مشہورمغربی مفکرھنڈاسن(Handesson)  کے متعلق لکھتا ہے کہ مولوی نہایت جری اوربہادر تھا بریلی میں اس کے معتقد ین کی ایک بڑی تعدادتھی وہ نہایت مہارت سے انگریزفوج سے شب خون مارا کرتا تھا اس کے جلومیں ہمیشہ گھڑسواروں کی ایک بڑی فوج رہتی تھی جس کی بناپرانگریزفوج ان سے ہمیشہ خوف زدہ رہتی تھی مولانا نقی علی خان ایک مجاہد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑے عالم دین کی بھی حیثیت رکھتے ہیں آپ نے عشق رسولۖ میں سرشارہوکر کئی شاندارکتب تصنیف کیں اس دورمیں انگریزی کی ایماء سے کچھ لوگ جویہ کوشش کررہے تھے کہ حضورۖ کوعام لوگوں کی صف میں لاکھڑا کریں اورمسلمانوں کی گراںبہادولت عشق رسولۖ کوعام لوگوں کے دلوں میں محوکردیاجائے آپ نے اس مضموم سازش کااپنے قلم سے بھرپورمقابلہ کیا اوراپنی تصانیف کے ذریعے ان سازشوں کاپردہ چاک کردیا۔

                ان حضرات کے علاوہ مولانا معین الدین اجمیری، مولانا ارشادحسین رامپوری،مولانا ہدایت الرسول، مولانا رحمت اﷲ کیرانوی، مولانا امام بخش صہبائی، مولانا تراب علی خواجہ، مفتی ریاض الدین، مولانا غلام جیلانی، مولانا ڈاکٹر وزیرخان اکبرآبادی، مفتی انعام اﷲ خان، مولانا سرفرازعلی شاہجہان پوری، مولانا لیاقت علی الہٰ آبادی، مولانا اعتقاد علی بیگ، مولانا نورالحسن، مولانا رضی الدین بدایوانی اوردیگر سیکڑوں علمائے دین نے  جہاد ١٨٥٧ء میںسرگرم حصہ لیا۔بعض میدان جنگ میں مارے گئے توبعض کوگولی کانشانہ بنایاگیا۔کتنے ہی تھے جوپھانسی پرلٹکائے گئے اورکئی حضرات کوبعبوردریائے شعورکی سزا دی گئی۔