ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری

            سب سے پہلی اور سب سے اصولی بات یہ ہے کہ کہ ہم ایک غیرفرقہ وارانہ اسلامی مذہبی سیاسی جماعت ہیں۔ ہم کسی مسلک کے نمایندہ نہیں اور ہمارے ہاں دیوبندی، بریلوی، شیعہ، سنی، اہل حدیث ،تمام حضرات کو یکساں توقیر اور تعظیم سے قبول کیا جاتا ہے۔ لیکن ہماری فکر میں مذہبی روایات اور اعتقادات کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ ہم دین کا کوئی سیکولر تصور پیش نہیں کرتے اور اسلامی نظام کے قیام کو محض مقاصدِ شریعہ کا ذریعہ گردانتے ہیں۔

            انہی معنوں میں مولانا مودودی بنیادی طور پر ایک مذہبی عالم دین تھے۔ آپ نہ غلام احمد پرویز تھے نہ شیح عبدہ۔ آپ حضرت شیخ المشائخ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی او رشیخ الہند حضرت اسیر مالٹا کے مخلص پیرو اور جانشین تھے کیونکہ حضرت شیخ المشائخ نے ساری زندگی مسالک میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی جستجو کی(آپ کا مقالہ ”  ہفت مسئلہ” اس کا ثبوت ہے) اور حضرت محمود حسن دیوبندی نے عملاً جہاد کی مذہبی فرضیت پر اصرار کیا۔ مولانا مودودی اشتراکِ مسالک اور فرضیت جہاد کے داعی ہی ہیں اور حضرت مہاجر مکی اور حضرت شیخ الہند کے کام کو آگے بڑھانے والے ہیں ،وہ کوئی سیکولر مفکر نہیں۔

            ہم انتخابات میں غلبہ اور تحفظ دین کے لیے حصہ لیتے ہیں۔ کسی اور مقصد کے لیے نہیں۔ لہٰذا ہماری یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ تمام مذہبی حلقوں کو اس پر قائل کریں کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے انتخابات میں حصہ لینا آج ایک ناگزیر عمل ہے۔ جو مذہبی افراد اور گروہ انتخابات میں غلبہ اور تحفظ دین کے لیے حصہ نہیں لیتے وہ عملاً سیکولر نظم ریاست کو تقویت پہنچاتے ہیں اور اس کی اقتداری بالادستی میں مزاحم نہیں ہوتے۔

            پاکستان میں مذہبی افراد کا سوادِ اعظم نظام ریاست میں اسلامی مداخلت کا قائل نہیں۔ ہماری سب سے بڑی عوامی اسلامی جماعتیں ـ دعوت اسلامی، تبلیغی جماعت، صوفیہ اور مدارس سے وابستہ حلقہـ اپنے غیر سیاسی ہونے پر اصرار کرتے ہیں اور انفرادی طور پر مذہبی افراد بڑے پیمانے پر سیکولر جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں۔

            ہمیں اس بات کا احساس نہیں کہ یہی کروڑوں مذہبی افراد اور تمام اسلامی سیاسی جماعتوں کی اصل constituency ہے اور انہی کی اسلامی عصبیت کو فروغ دے کر اور ان کی قومی اور طبقاتی عصبیت کو منہدم کر کے ہم انتخابات کو تحفظ اور غلبہ دین کی جدوجہد کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔

            لہٰذا دوسری اصولی بات یہ ہے کہ مذہبی غیرفرقہ وارانہ عصبیت کا فروغ ہماری بنیادی حکمت عملی (strategy) ہونا چاہیے۔ ٢٠٠٢ء میں جہاد افغانستان کی برکت سے ہم نے اسلامی عصبیت کو فروغ دے کر ہی نمایاں کامیابی حاصل کی اور اس سے پہلے اور اس کے بعد ہماری انتخابی ناکامیوں کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم عصبیت اسلامی کو اتحادِ مسالک سے سیاسی سطح پر وابستہ نہ کر سکے۔

            تیسرا بنیادی اصول یہ ہے کہ اسلامی عصبیت کو فروغ قلب کو مخاطب کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔ ذہن یا نفس کو مخاطب کر کے نہیں۔ یہ بات امام غزالی نے اپنی کئی تصانیف میں تفصیلی طور پر سمجھائی ہے۔ مذہبی عصبیت کو نفسانی اور طبقاتی عصبیت کے علی الرغم فروغ دینا ہے تو اسلامی جذباتیت کو مہمیز دینا لازم ہے۔ ہمیں مذہبی افراد اور گروہوں میں یہ احساس شدت سے پیدا کرنا ہے کہ ان کے انتخابی اور سیاسی عمل سے لاتعلقی کے نتیجہ میں پاکستان میں اسلامی تشخص شدید خطرہ میں ہے۔

            آج پاکستان میں اسلام شدید خطرہ میں ہے۔ یہ ایک بیّن حقیقت ہے محض نعرہ نہیں۔ پاکستانی سیاسی آدرشوں میں اسلام کو کلیتہً خارج کر دیا گیا ہے۔ معاشرہ کے اسلامی تشخص کا ہلکے سے ہلکا پرتو بھی ریاستی نظام میں موجود نہیں۔ مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف وغیرہ سب کی سب خالصتاً سیکولر جماعتیں ہیں۔ ریاستی مقتدرہ بیوروکریسی، عدلیہ، فوج اور میڈیا بھی خالصتاً سیکولر ہیں اور اپنی استعماری بنیادوں  (origions)کی غماز ہیں۔ ٢٠١٣ء کے انتخابات میں تمام اسلامی جماعتوںکا ایجنڈا سوشل ڈیموکریٹ آدرشوں کاچربہ تھا۔ کسی بھی اسلامی جماعت نے اسلامی شناخت کو عوامی تخاطب کا ذریعہ نہیں بنایا۔

            مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں خالصتاً اسلام دشمن حکومتیںثابت ہوئی ہیں۔ یہ امریکی استعمار کی کاسہ لیس حکومتیں ہیں اور اس کے اسلام دشمن ایجنڈے کو پاکستان میں نافذ کرنے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔

            ان حکومتوں نے شہید ناموسِ رسالت ممتاز قادری کا عدالتی قتل کیا۔ مساجد اور مدارس کی مکمل ناکہ بندی اور علما اور طلبہ کی تعذیب  (torture)کی ہمہ گیر مہم چلا رہی ہیں۔ یہ حکومتیں جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان کی کھلی غدار ہیں اور اپنی اس غداری پر فخر کرتی ہیں۔ کھربوں ڈالر کا بیرونی قرضہ لے کر نواز شریف نے پاکستانی معیشت کو عالمی سرمایہ دارانہ سودی معیشت کے ماتحت کر دیا ہے۔ سندھ کی حکومت فحاشی اور عریانی کو فروغ دے رہی ہے۔ سندھ کا چیف منسٹر سکولوں میں رقص کی محفلوں کا پشت پناہ ہے۔ سندھ کی حکومت غیرمسلموں کی قبولیت اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے، آج کوئی مسلم لیگی یا تحریک انصاف والا نفاذ شریعت کا نام تک نہیں لیتا۔

            سیکولر ازم کے معنی دہریت ہے۔ آج ہم پر دہریت حکومت کر رہی ہے۔ ہم اس دہریت کا مقابلہ ٢٠١٨ء میں ان شاء اللہ ضرور کریں گے۔ ٢٠١٨ء کا انتخابی ایجنڈا مندرجہ ذیل تین بنیادی اصولوں پر مرتب کیا جانا ضروری ہے:

            ١۔ مذہبی مسلکی اتحاد ائمہ مساجد کی قیادت میں

            ٢۔ مذہبی شناخت اور اسلامی عصبیت کا فروغ اور غلبہ

            ٣۔ استعمار سے مزاحمت

            اس ایجنڈا کی عملی تنفیذ کی حکمت عملی میں ان شاء اللہ آیندہ بیان کروں گا۔

                                                                                   

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked