ادریس اسماعیل-

انقلاب انگلستان کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یورپ کے مذہبی معاشروں کی تبدیلی کے عمل کا آغاز سب سے پہلے انگلستان ہی سے ہوا۔ کسی بھی عمل کو جانچنے کا پیمانہ جانچنے والے کی علمیت پر موقوف ہوتا ہے چناں چہ جب کوئی سیکولر شخص کسی انقلابی عمل کو جانچتا ہے تو اس کی تنقید مادی بنیادوں پر ہوتی ہے۔ وہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کو ترقی کا ایسا تتمہ (End) سمجھتا ہے جس کا قائم ہونا ہر صورت میں لازم اور فطری ہے۔چناں چہ اس کی نگاہ میں انقلاب کے برپا ہونے میں جو بھی عوامل تھے خواہ معاون ہو یا مخالف مثلاً جاگیر دار، کسان ، مزدور، بادشاہ، مذہبی طبقہ وغیرہ ان کو وہ ان مختلف طبقات کی کشمکش سے تعبیر کرتا ہے اور سرمایہ دارانہ انقلاب کا سب سے بنیادی محرک یعنی نفوس کا گناہوں خصوصاً حرص وہوس، بغض وحسد سے مغلوب ہو جانے کے عمل کونظراندازکرتاہے۔

انقلاب انگلستان کا بنیادی مقصد عبدیت کے مقابلے میں آزادی کا حصول تھا کیوں کہ جب کوئی مذہبی معاشرہ معاصی میں مبتلا ہوتا ہے اور اس کا سلسلہ طول پکڑجاتا ہے تو اخلاق خبیثہ آہستہ آہستہ مذہبی جواز کے نتیجے میں اخلاق حمیدہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ انگلستان میں بھی یہی عمل سولہویں صدی میں شروع ہوا۔ چناں چہ جیسے جیسے انگلستان کے معاشرے میں معاصی عام ہوتے گئے چرچ میں بھی بگاڑ پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ چرچ اور معاشرے کے اس بگاڑ کے ردعمل میں پیوریٹین(Puritan) تحریک شروع ہوئی جو ایک پروٹسٹنٹ(Protestant) تحریک تھی۔ اس تحریک کا بانی کرومویل تھا جو کہ خود بھی ایک کٹر مذہبی شخص تھا۔اس تحریک کا مقصد سرمایہ دارانہ عمل کے نتیجے میں پھیلنے والی خرابیوں اور بگاڑ کو روکنا تھا۔ لیکن چوں کہ یہ تحریک ایک (Revisionist)ترمیمیت پسند تحریک تھی اس لیے نیک نیتی سے ایک مذہبی حکومت چلانے کے باوجود وہ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی اقدار کو رد کرنے سے قاصر رہی۔ چناں چہ اس نے بڑے جابرانہ آمریت کے ذریعے عیسائی قوانین کو نافذ تو کیا لیکن ساتھ ساتھ سرمایہ دارانہ عمل کا مذہبی جواز بھی فراہم کیا۔ نتیجتاً مذہبی حکومت ہونے کے باوجود سرمایہ دارانہ عمل معاشرے میں تیزی سے مقبول عام ہوتا گیا۔ بالآخر خانہ جنگی کے نتیجے میں مذہبی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا گیا۔

(Puritan)تحریک کی ناکامی ایک اہم سبق کی نشان دہی کرتی ہے کہ اگر معاشرے سے سرمایہ دارانہ عمل کو کلیتاً ختم کرنا ہے تو مذہبی اقدار کا ہر سطح پر مکمل غلبے پر اصرار کرنا ضروری ہے۔ صرف (Shariah Constraint)(شرعی حد بندی) کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ یعنی غالب اور عملی نظام تو سرمایہ داری ہی رہے لیکن اس کی خرابیوں کو اسلامی قوانین کی حدبندیوں کے ذریعہ سے ختم کرنا… چناں چہ اگر سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی اقدار یعنی آزادی ، مساوات، ترقی، انسانی حقوق وغیرہ کو چیلنج نہ کیا جائے تو نہ کرومویل کی مذہبی حکومت سرمایہ دارانہ عمل کو روک سکی اور نہ آج ہم اسلام کو ایک آفاقی دین کے طور پر غالب کر سکتے ہیں۔

Glorious Revolution یعنی عظیم الشان انقلاب ہی وہ انقلاب ہے کہ جس کے نتیجے میں مذہبی انقلاب (Puritan Movement) رد ہوا۔ چناں چہ Marry اور William نے ایک جمہوری اور دستوری بادشاہت کی بنیاد رکھی جس کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ نظام کے مکمل غلبے کی طرف پیش رفت بڑھتی گئی۔ عبدیت کے بجائے آزادی، ہدایت کے بجائے مساوات، معرفت کے بجائے ترقی معاشرے کی بنیادی اقدار کے طور پر تسلیم کر لی گئیں۔

اگر ہم انگلستان میں سرمایہ دارانہ انقلاب کی جڑیں تلاش کرنے کی کوشش کریں تو اس میں سب سے پہلے تو خود عیسائیت کی بنیادی کمزوری نظر آتی ہے کہ ایسا مذہب جس نے یورپ کو صدیوں تک متاثر کیے رکھا۔ اسلام کے برعکس عیسائیت کے پاس کوئی واضح شریعت یعنی عیسوی سنت موجود نہیں تھی اس لیے روحانی ترقی اور معاشرتی اداروں کو مستحکم ہونے کے باوجود جب یورپ میں استعماری دور کا آغاز ہوا تو باہر کی دنیا میں منظم لوٹ مار سے انگلستان کا تقریباً ہر گھر کا کوئی نہ کوئی فرد مستفید ہوا۔ اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر قتل وغارت گری ہوئی اور باہر کی دنیا سے حرص وحسد معاشرے میں وبا کی طرح پھیلنا شروع ہو گئی۔انہی اوصاف خبیثہ کو قرآن نے تکاثر کہا ہے۔ تکاثر وہ عمل ہے جو بذات خود مقصود ہوتا ہے یعنی بڑھوتری برائے بڑھوتری ہی ہر عمل کا مقصد بن جاتا ہے۔ چناں چہ جیسے جیسے معاشرہ میں افراد کے نفوس میں تبدیلی آنے لگی ویسے ویسے مختلف جہتوں اور طبقات میں کشمکش شروع ہو گئی۔ سرمائے کی بڑھوتری کی راہ میں جس قسم کی رکاوٹیں تھیں ان کے خلاف شعوری یا غیر شعوری، منظم یا غیر منظم جدوجہد اور کوششیں ہونے لگیں۔ پرانی مذہبی علمیت کے مقابلے میںدہریت پسندفلسفیوں نے نئے کافرانہ عقائد پیش کیے جن میں خدا کے بجائے لاالہ الا الانسان کا کلمہ پیش کیا ۔ گناہوں (حرص وحسد) کو لازمی، معقول اور فطرت کے عین مطابق قرار دیا گیا۔ نتیجتاً دنیاوی علوم یعنی سائنسی علوم کی حیثیت مستحکم ہونے لگی۔

قدیم مذہبی طبقوں اور اداروں میں کشمکش شروع ہو گئی۔ اکثر نقاد سرمایہ دارانہ انقلاب کو طبقاتی کشمکش کے تناظرمیںدیکھتے ہیں، لیکن اگر گہرائی سے اس انقلاب کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتے ہیں کہ جب حرص وحسد معاشرے میں عام ہوجاتے ہیں اور معاشرہ اپنے اعمال میںمذہبی علمیت کے بجائے سائنسی علوم کو فیصل ماننے لگتا ہے تو پھر ہر طبقہ خواہ وہ مزدور ہو یا کارخانے دار، کسان ہو یا جاگیردار، امیر ہو یا غریب غرض تمام طبقوں کے عمل کا محرک حرص وحسد ہو جاتا ہے۔چناں چہ انقلابی عمل میں مختلف طبقوں کے فیصلہ کن کردار کا تعین کرنا ایک مہمل عمل بن جاتا ہے، کیوں کہ تمام طبقے ایک ہی سمت میں اپنے اپنے مخصوص اغراض کے لیے سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ جس طبقے کے پاس ان مخصوص حالات میں قوت اوراس کے استعمال کے مواقع ہوتے ہیں وہ اقتدار میں آ جاتا ہے۔مثلاً انگلستان کا انقلاب فرانس کے برعکس کم کشت وخون کے ساتھ آیا کیوں کہ سرمایہ دارانہ عمل انگلستان میں صدیوں پہلے شروع ہو گیا تھا۔ چناں چہ جاگیردار اور اشرافیہ طبقوں نے تجارت اور صنعتوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے مقابلے میں صرف بادشاہ پر تکیہ کرنے کے بجائے زراعت کو سرمایہ دارانہ تجارتی بنیادوں پر مستحکم کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔

انگلستان میں کسانوں کی صدیوں سے مشترکہ زمینوں پر زراعت کرنے کی روایت تھی جو کسی کی ملکیت نہیں ہوتی تھیں بلکہ چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں پر مشتمل زمینوں پر کسانوں کے خاندان اپنے مویشیوں کے ساتھ گزر بسر کرتے تھے۔ چناں چہ انکلوژرتحریک  (Enclosure Movement) کے عنوان سے جاگیردار اور اشرافیہ نے مشترکہ زمینوں سے کسانوں کو بے دخل کرنا شروع کر دیا۔ ابتدا میںکسانوں نے مزاحمت کی کوششیں کیں لیکن کسانوں کی جدوجہد منظم نہ ہو سکی اور رفتہ رفتہ وہ مختلف اقسام کے مزدوروں میں تبدیل ہو گئے اور جو لوگ اپنے آپ کو سرمایہ دارارنہ نظام کی خدمت کے لیے مجبور نہ کر پائے وہ اپاہج اور بیمار لوگوں کے قصبوں میں رہنے کے لیے چھوڑ دیے گئے۔

زراعت کے قدیم ادارے کو (Enclosure Movement) کے ذریعے ختم کرنے اور کسانوں کو بے دخل کرنے کی منظم جدوجہد قانونی اور جمہوری عمل کے نتیجے میں مکمل ہوئی جس میں جبر اور مراعات کا ایک ایسا توازن قائم رکھنے کی کوشش کی گئی کہ کسی قومی ردعمل کا امکان کم سے کم رہ جائے۔ جہاں تک بادشاہت کا معاملہ رہا، انگلستان میں باوجود بہت اہم ادارہ ہونے کے وہ  اپنے آپ کو انتظامی حوالوں سے منظم نہ کر سکی اور دیہی علاقوں پر اپنا اثر ورسوخ قائم رکھنا اس کے لیے مشکل سے مشکل تر ثابت ہوتا رہا۔ جو لوگ بادشاہ کے اثرات کو کم کرنے کے باعث بنے وہ وہی جاگیردار اور کاشتکار تھے جو سرمایہ دارانہ ذہنیت سے مغلوب تھے اور چوں کہ انگلستان میں پارلیمانی جمہوریت کی بنیاد بہت پہلے ہی رکھ دی گئی تھی، اس لیے بادشاہت پہلے ہی سے ایک کمزور ادارہ ثابت ہوئی۔ بالآخر اسی پارلیمانی جمہوریت نے انگلستان کے سیاسی نظام میں اپنی گرفت مضبوط کرلی اور سرمایہ دارانہ نظام کے قیام میں کلیدی ادارے کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی۔

انقلاب انگلستان کے نتیجے میں فرد، معاشرہ اور ریاست تینوں سطح پر عقائد اور اعمال میں کفر کا نظام غالب آگیا۔ لاالہ الا اللہ کی بجائے لاالہ الا الانسان کے عقیدے کی بنیاد پر ادارے اور تعلقات استوار ہو گئے اور بڑھوتری برائے بڑھوتری کا نظریہ تمام اعمال کا محرک بن گیا۔ ہر قسم کے تعلقات خواہ وہ ذاتی ہو ں یا معاشرتی یا پھر ریاستی سب کے سب Marketize ہو گئے … فرد Individualism (انفرادیت پسندی) کا شکار ہو گیا۔ خاندان اور برادریاں ٹوٹ پھوٹ گئیں۔ مذہبی معاشرہ سول سائٹی میں تبدیل ہو گیا یعنی افراد محبت اور صلہ رحمی کے بجائے اغراض کی بنیاد پر ایک دوسرے سے تعلقات قائم کرنے لگے اور ریاست ایک جمہوری اور دستوری ریاست بن گئی۔یورپی انقلابات کے مطالعہ  میں جو عمومی اورسطحی تجزیہ سامنے آتاہے وہ یہ ہے کہ یہ انقلابات بادشاہت اورچرچ کے خلاف آئے۔بادشاہ مطلق العنان ہوتاتھااوروہ عوام پر ظلم کرتا اورپادری اس ظلم میں اس کا ساتھ دیتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ عیسائیت کی رجعت پسندی اورسائنس کے خلاف اس کا غیرعلمی اورمتعصب رویے کابہت شدومد سے ذکرکیاجاتاہے اسی طرح پادریوں کی اخلاقی گراوٹ، کرپشن اورباشاہ کے اقتدار کوجواز فراہم کرنا وہ سنگین جرم تھے جن کی وجہ سے عوام میں بغاوت پھوٹ پڑی اور صدیوں پرانا نظام اقتدارختم ہوکر عوام کی حکومت قائم ہوئی۔ظاہر ہے یہ تجزیہ انقلاب کے محض ایک ناقص پہلو کی وضاحت کرتاہے اوراس کے نتیجے میں یورپ کے سرمایہ دارانہ انقلاب کا تجربہ بڑی حد تک مثبت نظرآتاہے۔

یورپ کے سرمایہ دارانہ انقلابات کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان کے نتیجے میں  مادی ترقی کے جو امکانات نظر آئے جس طرح عمومی طورپرمعیار زندگی بلندہوئی،زندگی گزارنے کے لئے جوسہولیات میسرآئیں،انسانی حقوق کے ضمن میںجوآزادیاں ملیں اورسرمایہ کو بڑھانے کے جو مواقع میسر آئے اس نے کافروں کومتاثرکرنے کے بعد اسلامی دنیا کو بھی بڑی حد تک اس نظام کواختیارکرنے پرآمادہ کرلیا۔

چنانچہ سرمایہ دارانہ انقلابات نے جس طرح رہے سہے مذہبی معاشروں کویورپ میں تباہ کرکے کھلی شیطٰنیت اورآزادی کورواج دیا اس کی نظیرتاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔ بنیادی طورپر یورپی انقلابات کو جس طرح ان کے لادین اور مذہب بیزارفلسفیوں نے جواز فراہم کیا آج اسی طرح دنیامیں بھی مذہب کے خلاف جنگ جاری ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان انقلابات کے مختلف پہلوئوں کو سمجھا جائے انقلابی جدوجہد کے نتیجے میں جس طرح فرد،معاشرہ اورریاست تبدیلی کے عمل سے گزرتی ہے اس پر گہری نظررکھی جائے کیونکہ حاضروموجودتہذیب کے جبر سے باہر نکلنا (جبکہ اس کی چکا چوند اوراس کی ترقی کا کوئی ثانی نہ ہو) انقلابی جدوجہد کرنے والوں کے لئے مشکل ترین کام ہے۔چنانچہ یورپی انقلاب کا مطالعہ ہم پر اس بات کو واضح کرتا ہے کہ کس طرح سے مذہبی فردایک آزاد فرد(Human) میں تبدیل ہوتاہے اورایک مذہبی معاشرہ کس طرح سے سول سوسائٹی (Civil Society) میں تبدیل ہوا، اورسرمایہ دارانہ انقلاب نے کس طرح پوری تہذیب کو ”لا الٰہ اِلا الانسان” کے کلمہ کے تحت کامیابی سے جمع کرلیا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked